بھارت میں تین طلاقوں پر پابندی کیوں نہیں؟

دیپتی ورما

deepti

تین طلاق یا طلاق بدعت اسلام میں طلاق دینے کے آٹھ مختلف طریقوں میں سے ایک ہے۔ البتہ بھارتی مسلمانوں کے عقائد کے بر عکس یہ طریقہ طلاق قران کے مطابق نہیں ہے بلکہ یہ طریقہ حضور ﷺ کے گزر جانے کے بعد اموی خلافت کے دوران ہجری کیلنڈر کی دوسری صدی میں حنفی مسلک کے مطابق رائج ہوا۔ ایک بڑی غلط فہمی جو آج کے دور میں مسلمانوں میں پائی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ ایک مسلمان تین بار طلاق کا لفظ اپنی بیوی کو کہہ دے تو اس کی شادی مکمل طور پر ختم ہو جاتی ہے۔ لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ اصل میں اسلامی طریقہ یہ ہے کہ ایک شخص اپنی بیوی کو طلاق دینے کے تین ماہ بعد تک واپس رجوع کر سکتا ہے اور اپنے اہل خانہ سے صلح صفائی کر کے اپنی شادی کو جاری رکھ سکتا ہے۔

یہ غلط فہمی محمد ﷺ کے دوران زندگی میں موجود نہیں تھی اور نہ ہی اس کا قرآن میں کہیں ذکر ہے لیکن بعد میں مردانہ معاشرے کو پروان چڑھانے کے لیے یہ طریقہ اختیار کیا گیا۔ یہ بات بہت اہمیت کی مالک ہے کہ جہاں پاکستان اور بنگلہ دیش سمیت 22 اسلامی ممالک میں تین طلاق پر پابندی عائد کر دی گئی ہے وہاں بھارت میں آج بھی یہ طریقہ استعمال کیا جاتا ہے اور اسے اسلامی قانون تصور کیا جاتا ہے۔ صدمہ، ٹارچر اور تکلیف سے بھرا تین طلاق کا طریقہ آج بھی بھارتی مسلمان مذہب کے نام پر استعمال کرتے ہیں ۔

ind

اس طریقے کا سہارا لینے والے مسلمان نہ صرف اخلاقیات سے عاری ہوتے ہیں بلکہ صلح اور امن میں بھی یقین نہیں رکھتے۔ وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ طلاق کو انسانی عزت، صنفی عدل، ذاتی عدل و مساوات وار طبعی اخلاقیات کو دیکھتے ہوئے پرکھا جانا چاہیے۔ طلاق بدعت نہ صرف ایک خاتون کو جذباتی طور پر توڑ کر رکھ دیتی ہے بلکہ اسے مالی اور سماجی لحاظ سے بھی کمزور کر دیتی ہے۔

اس حقیقت کے باوجود کہ خواتین کو مذہب کے ذریعے انسانی حقوق دیے گئے ہیں، بھارت کی مسلمان خواتین آج بھی تین طلاق کے بوجھ کو برداشت کرنے پر مجبور ہیں جو سپریشن، ظلم، زیادتی کی علامت ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی طرف سے تین طلاق پر پابندی کے خلاف کھڑے ہونے کا فیصلہ نہ صرف خواتین کے انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے بلکہ قرآنی تعلیمات کی بھی ان تعلیمات کی بے حرمتی ہے جو خواتین کو انسانی حقوق کی ضمانت دیتی ہیں۔ شاید اے آئی ایم پی ایل بی یہ بھول رہی ہے کہ وہ مسلم خواتین کے حقوق چھین رہی ہے جو انہیں ان کے مذہب کی طرف سے دیے گئے ہیں۔

اسلام پہلا مذہب ہے جس نے عورت کو ایک خاص مقام دیا۔ قران میں دی گئی اسلامی تعلیمات کے مطابق خواتین آزاد اور خود مختار ہیں۔ بہت بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ ایسا لگتا ہے اے آئی ایم پی ایل بی جہالت کا مظاہرہ کر رہے ہیں یا ایک شتر مرغ جیسا رویہ اختیار کیے ہوئے ہے اور اپنے سر چھپانے کےلیے غیر اسلامی تعلیمات کا استعمال کر رہی ہے۔

یہ بات بہت افسوسناک ہے کہ جہاں دنیا بھر کے ممالک نے کئی سال قبل تین طلاق پر پابندی عائد کر رکھی ہے، ترکی نے 1926 میں، مصر نے 1929، نیونیزیا میں 1956، پاکستان میں 1961 میں پابندی لگائی لیکن بھارت میں آج تک اس پر پابندی نہیں لگائی جا سکی۔ سیکولر اور پروگریسو ملک ہونے کے باوجود اور مساوات اور عدل کا پرچار کرنے والے بھارت میں اے آئی ایم پی ایل بی نے ٹراڈیشن کے نام سے یہ رٹ لگا رکھی ہے کہ تین طلاق ایک مقدس مذہبی معاملہ ہے اور بھارتی مسلم خواتین کے تحفظ کا ضامن ہے۔

اسی وجہ سے ایک وقت میں ہی تین طلاق دے ڈالنے کا رواج بھارت میں بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔کچھ لوگ آج بھی یقین رکھتے ہیں کہ بیوی کو طلاق دینے کا بہترین طریقہ طلاق بدعت ہی ہے۔ انڈیا ٹوڈے کی ایک رپورٹ کے مطابق مطلقہ بھارتی خواتین میں سے 65.9فیصد عورتوں کو زبانی طلاق دی گئی ہے۔ پچھلے چند سالوں میں موبائل میسیج، ای میل اور وٹس ایپ کے زریعے طلاق دینے کا طریقہ اکثر اختیار کیا جاتا رہا ہے۔ بھارتی خواتین کے لیے یہ طریقہ بہت تکلیف دہ ہے کیونکہ ان کے لیے اچانک اپنے آپ کو اور بچوں کو سنبھالنا اتنا آسان نہیں ہوتا۔

البتہ اگرچہ زیادہ تر مسلم خواتین تین طلاق پر پابندی کا مطالبہ کر رہی ہیں اس کے باوجود اے آئی ایم پی ایل بی نے ٹال مٹول کی پالیسی اپنا رکھی ہے اور پوری مسلم کمیونٹی کو ایک مخمصے میں مبتلا کر رکھا ہے۔

بہت سی چیزوں کو دیکھتے ہوئے الہ آباد ہائی کورٹ نے دسمبر 2016 میں تین طلاق کو غیر آئینی اور ظالمانہ چیز قرار دیا تھا۔30 مارچ 2017 کو سپریم کورٹ نے بھی اعلان کیا کہ پانچ ججز پر مشتمل بینچ تین طلاق کے معاملے کی سماعت کرے گا اور اس کیس میں تین اسلامی قوانین یعنی تین طلاق، حلالہ اور متعدد شادیوں کو ملکی آئین کی روشنی میں پرکھا جائے گا۔

جب سپریم کورٹ نے اعلان کیا کہ صنفی مساوات اور خواتین کی عزت و وقار پر سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا تو اے آئی ایم پی ایل بی کا دعوی تھا کہ ٹرپل طلاق کے خلاف کوئی بھی اقدام ان کی مذہبی آزادی پر قدغن لگانے کے برابر ہو گا۔انہوں نے سپریم کورٹ کو خبر دار کیا کہ مسلمانوں کے مذہبی معاملات سے چھیڑ چھاڑ نہ کی جائے کیونکہ ان کا تعلق عدلیہ سے نہیں ہے۔

اب چونکہ اے آئی ایم پی ایل بی مسلمانوں کی مذہبی رہنما تنظیم تسلیم کی جاتی ہے اور انڈیا کے مسلمانوں کے سامنے جواب دہ ہے اس لیے اس تنظیم کو چاہیے کہ فوری طور پر اپنی انا اور جہالت ترک کر کے مسئلے کے حل میں اپنا کردار ادا کرے۔

وقت آ گیا ہے کہ اے آئی ایم پی ایل بی مسلم پرسنل لاء کو کوڈیفائی کرے اور اپنے قوانین کا سرچشمہ قران کریم کو قرار دیتے ہوئے باقی تمام مفادات اور غلط فہمیوں کو نظر انداز کرنے کا فیصلہ کرے۔ انہیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ طلاق بدعت کو قرآن کی حمایت حاصل نہیں ہے۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ تین طلاق قران کو بدلنے کے مترادف ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *