کیاعدلیہ ناکام ہوچکی ہے؟

yasir-latif-hamdani

ایک معروف پاکستانی صحافی کی طرف سے لکھےگئے آرٹیکل جو انٹرنیشنل نیو یارک ٹائمز میں شائع ہو ا تھا کے پاکستانی ایڈیشن میں ملی ٹینٹ کمانڈر احسان اللہ احسان کے بارے معلومات کو حذف کیا گیا ہے۔ انٹرنیٹ پر موجود کسی چیز کو سینسر کرنا تقریبا ناممکن ہے۔ مجھے یقین ہے کہ زیادہ تر لوگ ایسے مواد کو پڑھتے ہیں جسے سینسر کیا گیا ہو۔ ایک ریڈر کی حیثیت سے مجھے اس سینسر شدہ حصے میں ایسا کچھ دکھائی نہیں دیا جو میرے علم میں نہ ہو۔ لیکن شاید کوئی شخص تھا جسے لگا کہ اگر یہ معلومات پاکستانیوں تک پہنچی تو یہ ان کے لیے خطرناک ہو سکتی ہیں۔

مجھے حیرانی اس بات کی ہے کہ بین الاقوامی اخبارات کے مواد کو اس ملک میں سینسر کرنے کے فیصلے کون کرتا ہے۔ کیا یہ لوکل پرنٹ کرنے والے کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنے ملک کی صرف مثبت اشیا کو ظاہر کرے؟ یا یہ کوئی ڈیپارٹمنٹ ہے جو رات گئے یہ فیصلے کرتا ہے؟ جو بھی ہو مجھے نہیں لگتا کہ اس شخص یا ادارے کو اندازہ بھی ہوا ہوگا کہ اس تازہ ترین سینسر شپ سے ہمارے ملک کا دنیا کے سامنے مذاق بن کر رہ گیا ہے۔ تھیوری کے مطابق پاکستان ایک جمہوری ملک ہے جہاں ہر شخص کو اظہار رائے کی آزادی اور معلومات حاصل کرنے کا حق حاصل ہے۔

پاکستان ایک ریاست کی حیثیت سے انٹرنیشنل کوویننٹ آن سول اینڈ پولیٹیکل رائٹس کا بھی حصہ ہے۔ اس لیے پاکستان اپنے آئین اور بین الاقوامی قانون کے مطابق اس چیز کا پابند ہے کہ اپنے شہریوں کو یہ بنیادی حقوق دلوائے۔ مجھے نہیں لگتا کہ ہمارے جینئس حضرات جو مواد کی سینسر شپ کا بیڑہ اٹھائے ہوئے ہیں نے کبھی ان قوانین کا مطالعہ کیا ہے جو پاکستان کو ان معاملات اور حقوق کی فراہمی کا پابند بناتے ہیں۔ بدقسمتی سے پاکستان میں حقوق کو وسعت دینے کی بجائے قدغن لگائی جاتی ہے۔ آئین کے آرٹیکل 19 کے مطابق ہر پاکستانی شہری کو اظہار رائے کا حق حاصل ہے لیکن اس آئینی شق کے تحت اس حق کو محدود کرنے کی عادت کا دفاع کیا جاتا ہے۔

یہی معاملہ آرٹیکل 20 کا بھی ہے جس کے مطابق ہر شخص کو مذہبی آزادی حاصل ہے اور اسے اخلاقیات اور قوانین کی پابندی کرنی ہو گی۔ لیکن ظہیر الدین بمقابلہ ریاست 1993 ایس سی ایم آر 1718 کے تاریخی فیصلہ میں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ کیسے ایک شخص کی مذہبی آزادی سلب کی گئی اور پھر اس عمل کا دفاع کیا گیا اور اس مقصد کےلئے کاپی رائٹ لا٫ کا استعمال کیا گیا۔ بارہا ہم نے دیکھا کہ عدالت اس ملک کے شہریوں کے آزادی سے ملک میں رہنے کے حقوق کے راستے میں رکاوٹ کھڑی کرتی آئی ہے۔ ججز مختلف شخصیات کو صادق اور امین قرار دینے یا نہ دینے کے معاملات میں فیصلے کرتے ہیں لیکن بنیادی حقوق کے نفاذ کے لیے اپنی خدمات دینے سے قاصر ہیں اور ایسے قوانین اور معاملات کی تشریح نہیں کرتے جو پاکستانی معاشرے کو ایک ترقی یافتہ معاشرہ بنا سکتے ہیں۔

جسٹس ایم آر کیانی کا دو ر گیا۔ ہمارا آئین ایسی ظلمت زدہ صبح بن گیا ہے جس کے بارے میں حبیب جالب نے ہمیں خبردار کیا تھا۔ اس کی بجائے ہماری عدلیہ کے کچھ سیکشن ویلنٹائن ڈے پر پابندی اور عوام کے سر عام قتل کی وکالت میں مصرو ف ہیں۔ جہاں تک ہجوم کے تشدد سے مارے جانے کاتعلق ہے، مشعل کی موت کے بعد کوئی ایسا ہفتہ نہیں گزرا جس میں ایک گرو نہ کسی شخص کو توہین مذہب کے الزام میں تشدد کا نشانہ نہ بنایا ہو۔ کیا آئین کا آرٹیکل جو ہر شہری کو جینے کا حق دیتا ہے منسوخ کر دیا گیا ہے؟ ہر شہری کی جان، مال اور عزت کا تحفظ یقینی بنانا کس ادارے کی ذمہ داری ہے؟

وزارت داخلہ کی ویب سائٹ پر لکھا ہے: ہمارا مقصد اسلامی جمہوریہ پاکستان کو ایسا ملک بنانا ہے جہاں قانون کی حکمرانی ہو، ہر پاکستانی اپنے آپ کو محفوظ تصور کرتا ہو ، اپنے مذہب ، ثقافت، تہذیب ، رسم و رواج پر آزادی سے عمل پیرا ہو، ہر گروپ، طبقہ اور صوبہ سے تعلق رکھنے والا پاکستانی دوسرے شہریوں کے کلچر، ثقافت اور مذہبی جذبات کا احترام کرے، اور ہر غیر ملکی کو پر خلوص طریقے سے پاکستان میں خوش آمدید کہا جائے اور اسے عدم تحفظ کا احساس نہ ہو۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ اس بیان میں کہیں بھی بنیادی حقوق کا ذکر نہیں ہے۔ جہاں تک مذہبی عقائد کا تعلق ہے، صرف اکثریت کے مذہبی عقائد کو ترجیح دی جاتی ہے اور ان عقائد کی تشریح کا حق بھی صرف مولوی طبقہ کو دیا گیا ہے۔

ان لوگوں کو بھول جائیے جو غیر مسلم ہیں اور انہیں اس ملک میں پرایا تصور کیا جاتا ہے ۔ میں تو یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہمارے ہاں حقوق کی برابری کے بلند و بانگ دعووں کے باوجود یہ صورت حال پیدا ہو چکی ہے کہ غیر مسلموں کو اس ملک کا شہری تک تسلیم کیے جانے پر بھی شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں۔

میری رائے میں کھیل عدلیہ کے ہاتھ میں ہے جو اس ریاست کا سب سے اہم ستون ہے۔ عدلیہ کا فرض ہے کہ شہریوں کے حقوق کے تحفظ اور دفاع کے لیے سینہ تان کر کھڑی ہو جائے۔ عدلیہ کا ہی فرض ہے کہ غیر مسلم شہریوں کے حقوق کا تحفظ کرے اور اکثریت کو اقلیت کے حقوق سلب کرنے سے روکے۔ عدلیہ ہی وہ ادارہ ہے جو عام آدمی کو تحفظ کا یقین دلاتا ہے۔ ہماری عدلیہ ہی قانون سازی اور اختیار کو قابل احتساب بنانے میں ناکام ہو چکی ہے۔ آج کل ہماری عدلیہ ایک پاگل پن کی حامل ریاست اور فاشسٹ معاشرے کے لیے ربڑ سٹمپ کی حیثیت اختیار کر چکی ہے اور اس کا کام محروم، کمزور اور بے بس لوگوں کے حقوق کو سلب کرنے میں اداروں کی معاونت کرنا ہے۔ ہم ان بڑے اور طاقتور لوگوں سے صرف اپیل ہی کر سکتے ہیں کہ وہ انصاف کریں اور اس مقصد کے لیے ابھی سے کوشش شروع کریں قبل اس کے کہ دیر ہو جائے۔پاکستان ہاتھوں سے نکلا جا رہا ہے۔ مؤرخ لکھے گا کہ ہماری عدلیہ کی وجہ سے ہمارا ملک ہاتھ سے نکل گیا۔

http://dailytimes.com.pk/opinion/08-May-17/defenseless-rights

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *