کنٹونمنٹ ایریا میں بھی خوش اخلاقی کی ضرورت ہے

شوکت قدیر

shaukat qadir

 کنٹونمنٹس کا نظریہ عالمگیر ہے اور جب سے فوجیں بننا شروع ہوئی ہیں تب سے چلتا آ رہا ہے لیکن چونکہ ہم نے برطانوی طریقہ ورثے میں حاصل کیا ہے اس لیے میں اسی طریقہ پر قائم رہتے ہوئے اس وسعت دینے کا حامی ہوں۔ ملٹری گیریژن اتنے ہی پرانے ہیں جتنی جتنا کہ جنگ۔ دنیا کی تاریخ میں ہمیشہ حملہ آور اور دفاع کرنے والے ممالک نے اپنے ذرائع کا تحفظ کیا ہے۔ ہر ملک میں اپنی افواج کو خبر دار کرنے، تاخیر کے بارے میں بتانے، خطرہ کی گھنٹی بجانے اور اس طرح کے دوسرے اہم مقاصد کو دیکھتے ہوئے گیریژن تعمیر کیے جاتے تھے۔

سائز چاہے جو بھی ہو، ہر گیریژن کو ایک محفوظ پنا ہ گاہ کی شکل دی جاتی تھی اور اسے زیادہ عرصہ کے لیے قابل استعمال بنایا جاتا تھا۔ کئی گیریژن کئی دہائیوں تک اپنی جگہ موجود رہے۔ نتیجتا ملٹری گیریژن کی سپورٹ کے لیے سویلین کینٹونمنٹ کی ضرورت محسوس کی گئی۔ یہاں رہنے والوں کو کُک، سویپر، سٹاف، نماز کی جگہ، اپنے مہمانوں کے ٹھہرانے کی سہولیات اور دوسری چیزوں کی ضرورت فطری تھی۔ بچوں کی تعلیم بھی ضروری تھی اور انہیں نہ صرف ملٹری ٹریننگ بلکہ آرٹس اور سائنس کی تعلیم کے مواقع بھی مہیا کرنا ضروری تھا۔

ڈاکٹرز اور نرسز کی اہمیت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا تھا۔ اس طرح کا کمپوزٹ گیریژن ملٹری کینٹونمنٹ کہلاتا تھا اور آج بھی ایسا ہی ہے۔ چونکہ گیریژن میں عوام اور خاص طور پر سویلین کی تعداد بڑھنے لگی تو وہاں کچھ ملازمتوں کی بھی گنجائش نکلنے لگی جس سے علاقائی لوگ فیضیاب ہو سکتے تھے۔ معاشی مواقع بھی بڑھنے لگے۔ لوکل تاجروں نے دکانیں بنائیں اور اکثر ان گیزیژن کا چکر لگانا شروع کیا جہاں انہیں بہت توجہ اور احترام ملتا تھا۔ ماضی میں ملٹری گیزیژن کو ہمیشہ خوش دلی سے قبول کیا جاتا تھا کیونکہ اس کا مقصد جنگ کے دوران امن اور خوشحالی کو یقینی بنانا تھا۔

اس سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ گیریژن میں ملنے والی تعلیمی اور طبعی سہولیات عام شہروں میں دستیاب سہولیات کے مقابلے میں بہت بہتر ہوتی تھیں اور علاقہ کے امیر اور پر عزم لوگ ان سے بھر پور فائدہ حاصل کر سکتے تھے۔ یہ بتانے کی ضرورت ہی نہیں ہونی چاہیے کہ جنگ کے دوران گیزیژن کے آ س پاس کے علاقے تباہ و برباد کر دیے جاتے۔ لیکن امن اور خوشحالی کی خواہش باہر کے لوگوں کو گیریژن کی طرف کھینچ لاتی تھی۔ آج بھی یہی صورتحال ہے بس کچھ چیزوں میں تھوڑا فرق واقع ہو گیا ہے۔ ملٹری کنٹونمنٹ لازمی طور پر جنگ کے دوران حملوں یا دفاع کا اصل ذریعہ نہیں ہوتیں۔

زیادہ تر کنٹونمنٹ پر امن جگہیں ہوتی ہیں لیکن ایسی جگہ پر تعمیر کی جاتی ہیں جہاں سے فوجی جوانوں کو اکٹھا کر کے اپنی پوزیشن کے بارے میں مطلع کیا جا سکے۔ کراچی، حید ر آباد، ملتان، لاہور، پشاور جیسی کچھ کنٹونمنٹ شہری آبادی سے الگ محفوظ جگہ پر تعمیر کی گئی تھیں۔ کچھ دوسرے کنٹونمنٹ جن میں راولپنڈی کنٹونمنٹ شامل ہے بعد میں بہ بڑے شہروں کی شکل اختار کر گئے۔ جب راولپنڈی کو برٹش ناردرن کمانڈ کے ہیڈ کوارٹرز کے لیے مختص کیا گیا تو یہ شہر اتنا زیادہ اہمیت کا حامل نہیں تھا۔ اس کنٹونمنٹ کے قیام کا مقصدبرٹش انڈیا کا روسی فوجوں کے خلاف دفاع کرنا اور پشتون اور دوسرے تشدد پسند قبائل سے نبرد آزما ہونا تھا۔ اس گیریژن کی سپورٹ کے لیے دی رائل ائیر فورس کا ہیڈ کوارٹر ایک قریبی گاؤں چکلالہ میں واقع تھا۔ آج چکلالہ راولپنڈی کے توسیعی منصوبے کا حصہ قرار دیا جاتا ہے۔

1975 میں جب ذو الفقار علی بھٹو کے دور میں بلوچستان کی علیحدگی پسند تحریک شروع ہوئی، تب خضدار کے علاقے کو ایک اور کنٹونمنٹ کی تعمیر کے لیے مختص کیا گیا۔ میرے یونٹ 6 فرنٹیئر ریجمنٹ نے پہلا ملٹری بیرک تعمیر کیا۔

بلوچستان کے معیار کے مطابق آج یہ سب سے زیادہ پھیلتا ہوا شہر ہے اور اسے بلوچستان کا دل کہا جاتا ہے۔ یہاں بہت سے کالجز، یونیورسٹیاں اورہسپتال موجود ہیں اور اسے ڈسٹریکٹ ہیڈ کوارٹرز کا درجہ حاصل ہے۔ انہیں دنوں اندرون سندھ میں پنوں عاقل شہر کی ترقی پر کام شروع ہوا۔ لیکن خضدار کنٹونمنٹ جسے ایک لوکل ظالم سردار کی حمایت حاصل تھی کی تعمیر کے برعکس سندھی وڈیروں نے اس پراجیکٹ میں مخالفت کی تھی۔

سندھ میں ایک عام شہری کی رائے کا پتہ لگانا بہت اہمیت کا حامل ہے۔ جب پنوں عاقل کی بنیاد رکھی جا رہی تھی تو پہلے سویلین طالب علم جو ملٹری سکول میں داخل ہوئے وہ وہاں کے ایلیٹ خاندانوں سے تعلق رکھتے تھے۔ آج یہ شہر بھی اندرون سندھ کا بہت اہم شہر بن چکا ہے جہاں سکول، کالج اور یونیورسٹیاں موجود ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ دوسرے صحافی بھی بلوچستان میں جا کر عوام اور خاص طور پر غریب عوام کی رائے حاصل کریں۔اگرچہ ان میں سے کچھ اپنے سرداروں کے زیر اثر سچ بتانے سے گزیر کر سکتے ہیں لیکن ناراضگی کی وجوہات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے وہاں کی اکثریت آ پ کو پورے دل سے خوش آمدید کہے گی۔

میں اپنی بات دہرائے دیتا ہوں۔ بلوچوں کی بہت سی شکایات درست ہیں چاہے وہ پاکستانی فوج سے ہوں یا حکومت سے۔ پاکستان کے قیام سے آج تک ان کو اچھے طریقے سے برتاو نہیں کیا گیا۔یہاں تک کہ دوسرے پسماندہ علاقوں کے لوگوں کے مقابلے میں بھی بلوچوں سے بہت برا سلوک کیا گیا۔ پچھلے چند سالوں میں فوج اور ایجنسیوں کی طرف سے بلوچستان کے شہریوں کو ظلم و جبر کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ پچھلے دہائی سے حکومت نے بلوچوں کے ساتھ صلح کی جو کوششیں کیں وہ کسی طرح بھی کافی نہیں ہیں اور وہ ماضی کی زیادتیوں کے ازالہ کے حوالے سے تو بلکل نہ ہونے کے برابر ہیں۔

مجھے یہ اعتراف کرنا ہو گا کہ جب میں آخری بار تقریبا 6 سال قبل اندرون بلوچستان گیا اور کنٹونمنٹس کے آس پاس کے لوگوں سے گفتگو کی تو بہت سے لوگوں نے فوجی اہلکاروں کی طرف سے بد تمیزی اور ہٹ دھرمی کے رویہ کی شکایت کی۔ اس بات کی تردید کرنا بے فائدہ ہو گا کہ ملک کی فوج میں سپاہیوں کے سپاہی حضرات کے علاوہ فوج کا پورا ادارہ پاکستان کے کسی بھی دوسرے ادارے کی طرح ایلیٹ طبقہ کا حمایتی ہے۔ اس اعتراف کے باوجود کوئی بھی کنٹونمنٹ جو کہیں بھی واقع ہو، اس کا مقصد وہاں کے لوگوں کو امن اور خوشحالی کا ماحول فراہم کرنا ہونا چاہیے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *