آپ مقدر سے نہیں لڑ سکتے

Photo-Javed-ch-sb-1

اسرائیلات میں درج ہے‘ حضرت موسیٰ  ؑ نے ایک دن اللہ تعالیٰ سے عرض کیا ’’یا باری تعالیٰ کیا آپ کو کبھی ہنسی آتی ہے‘‘ اللہ تعالیٰ نے جواب دیا ’’ہاں موسیٰ آتی ہے‘‘ حضرت موسیٰ  ؑ نے عرض کیا ’’آپ کو کب کب ہنسی آتی ہے‘‘ اللہ تعالیٰ نے جواب دیا ’’اے موسیٰ مجھے دو مواقع پر بہت ہنسی آتی ہے‘ ایک‘ میں نے جب کسی شخص کو کوئی چیز عنایت کی ہوئی ہو اور پوری دنیا مل کر اس سے وہ چیز چھیننا چاہتی ہو تو مجھے بہت ہنسی آتی ہے اور دو‘ میں جب کسی شخص کو کوئی چیز نہ دینا چاہوں اور پوری دنیا مل کر اس شخص کو وہ چیز دینا چاہتی ہو تو مجھے اس وقت بھی بہت ہنسی آتی ہے‘‘۔

میرا خیال ہے یہ واقعہ میاں نواز شریف اور عمران خان دونوں کو پڑھنا بھی چاہیے اور اس حقیقت کو دل سے تسلیم بھی کر لینا چاہیے‘ میاں نواز شریف کو اگر اللہ تعالیٰ حکمران دیکھنا چاہتا ہے تو پھر لاکھ کمیشن بن جائیں‘ لاکھ جے آئی ٹی بنا دی جائیں‘ لاکھ بینچ بن جائیں اور خواہ نعیم الحق کو چیف جسٹس اور فواد چوہدری کو آرمی چیف بنا دیا جائے تو بھی میاں نواز شریف کو کوئی طاقت اقتدار سے نہیں ہٹا سکے گی اور میاں نواز شریف نے اگر جانا ہے‘ اللہ تعالیٰ نے اگر انھیں ہٹانے کا فیصلہ کر لیا ہے تو پھر قطری آئیں یا سعودی‘ چین ان کی حمایت میں میدان میں کود پڑے یاپھر ڈونلڈ ٹرمپ اور پیوٹن دونوں ان کے پیچھے کھڑے ہو جائیں یہ فارغ ہو کر رہیں گے‘ یہ ہر صورت جائیں گے اور دنیا کی کوئی طاقت انھیں بچا نہیں سکے گی‘ اسی طرح اگر اللہ تعالیٰ عمران خان کو اقتدار میں دیکھنا چاہتا ہے تو میاں نواز شریف خواہ پورے ملک کے ووٹ لے لیں۔

پاکستان کا ہر ووٹر خواہ شیر پر مہر لگا دے اور خواہ خواجہ سعد رفیق کو چیف جسٹس‘ دانیال عزیز کوآرمی چیف اور طلال چوہدری کو چیف الیکشن کمشنر بنا دیا جائے تو بھی عمران خان پاکستان کے اگلے وزیراعظم ہوں گے اور اگر عمران خان کے سیاسی کیریئر نے یہاں پر ختم ہونا ہے تو پھر خواہ لوکل اسٹیبلشمنٹ ہو یا انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ ہو اور خواہ پوری مسلم لیگ ن بشمول چوہدری نثار‘ خواجہ آصف اور اسحاق ڈار پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہو جائے عمران خان وزیراعظم نہیں بن سکیں گے‘ ہمیں یہ ماننا ہو گا پوری کائنات اللہ تعالیٰ کے کرم‘ اللہ کے رحم کی محتاج ہے‘ ہم میں سے کوئی شخص اس کے حکم‘ اس کی رضا کی سرتابی نہیں کر سکتا‘ ہماری ایک ایک سانس اس کی مرضی کی محتاج ہے۔

اس کی مرضی ہے تو ہمارے پھیپھڑے اوپر سے نیچے ہو رہے ہیں‘ اس نے نظر پھیر لی تو پانی بھی زہر بن گیا‘ یہ بھی موت کا ذریعہ بن گیا چنانچہ میاں نواز شریف ہوں یا عمران خان ہوں دونوں کو اللہ کی رضا کو تسلیم بھی کرنا ہو گا اور اس کے سامنے سر بھی نگوں کرنا ہو گا‘ گونواز گو اور رو عمران رو کے نعروں سے کام نہیں چلے گا‘ شیر شیر اور گیدڑ گیدڑ کرنے سے بھی معاملہ نہیں بنے گا‘ یہ قسمت‘ یہ اللہ کے کرم کے معاملے ہیں اور یہ معاملے صرف اور صرف اللہ کی ذات پر منحصر ہیں چنانچہ آپ اللہ کی رضا کو تسلیم کریں اور کام کرتے چلے جائیں‘ قدرت راستے بناتی چلی جائے گی۔

ہمیں یہ بھی ماننا ہو گا میاں نواز شریف سردست خوش نصیب شخص ہیں‘ قدرت انھیں ہمیشہ مکھن کے بال کی طرح مشکلات سے نکال لیتی ہے‘ آپ کو یقین نہ آئے تو آپ تحقیق کرکے دیکھ لیں‘ وہ تمام لوگ جو ماضی میں ان کے راستے کی رکاوٹ بنے‘ وہ آج کہاں ہیں؟ آپ کو اللہ کی رضا سمجھتے دیر نہیں لگے گی‘ آپ ان مسائل‘ ان مشکلات اور ان رکاوٹوں کا تجزیہ بھی کر لیجیے جو میاں نواز شریف کے سامنے آئیں اور وہ عین وقت پر چپ چاپ ان کے راستے سے ہٹ گئیں‘ میاں نواز شریف ہمیشہ بند گلی میں داخل ہوئے‘ ان کا ہر بند گلی سے نکلنا ناممکن دکھائی دیا لیکن یہ جوں ہی گلی کے آخری سرے پر پہنچے دیوار میں دروازہ بن گیا اور یہ چلتے چلتے اس دروازے سے باہر نکل گئے‘ یہ دو بار اقتدار سے نکالے گئے‘ یہ دونوں بار زیادہ قوت کے ساتھ واپس آئے اور یہ خاندان سمیت ملک بدر کر دیے گئے لیکن یہ زیادہ تگڑے ہو کر واپس آئے یہاں تک کہ ان کو فارغ کرنے والے ایک ایک کر کے خود فارغ ہوتے چلے گئے لیکن یہ قائم رہے۔

محترمہ بے نظیر بھٹو اور آصف علی زرداری ان کے لیے ’’ٹف ٹائم‘‘ ثابت ہو سکتے تھے لیکن محترمہ دنیا سے رخصت ہو گئیں اور آصف علی زرداری پرفارمنس کے ہاتھوں مار کھا گئے اور اب عمران خان میاں نواز شریف کے سامنے ’’رئیل اپوزیشن‘‘ ہیں لیکن یہ بھی ہر میدان میں مار کھا رہے ہیں‘ یہ کیا ثابت کرتا ہے؟ یہ ثابت کرتا ہے اللہ تعالیٰ کی رحمت میاں نواز شریف کے ساتھ ہے اور یہ رحمت جب تک ان کا ساتھ دے گی یہ بحرانوں سے نکلتے چلے جائیں گے‘ اللہ تعالیٰ نے جس دن انھیں اپنی رحمت کے سائے سے محروم کر دیا یہ اس دن اپنے ہی مزار کا بدنصیب دیا بن جائیں گے‘ اس دن ان کے اپنے بھی ان کا ساتھ چھوڑ جائیں گے‘ اس دن میاں شہباز شریف ہوں یا پھر مریم نواز شریف سب ان کے خلاف صف آراء ہو جائیں گے لیکن جب تک وہ وقت نہیں آتا میاں نواز شریف کے مخالفین اس وقت تک خود کو ہلکان کرتے رہیں گے۔

میں وقت گزرنے کے ساتھ ایک دوسری حقیقت پر بھی پہنچتا جا رہا ہوں‘ پاکستان کے دو بڑے مسئلے ہیں‘ انفرااسٹرکچر اور اداروں کا استحکام‘ ہم دنیا کے ان چند ملکوں میں شمار ہوتے ہیں جن میں آج 2017ء میں بھی سڑکیں‘ پل‘ ریلوے لائین‘ ائیرپورٹس‘ ڈیمز‘ گیس پائپ لائنز‘ اسپتال‘ اسکول‘ پبلک ٹرانسپورٹ اور بجلی کی ٹرانسمیشن لائنیں مکمل نہیں ہیں‘ ہم ترقی میں ہمیشہ یورپ‘ امریکا اور مشرق بعید کے ملکوں کی مثال دیتے ہیں‘ یہ ملک ترقی یافتہ کیوں ہیں؟ کیونکہ انھوں نے وہ سارا انفرااسٹرکچر آج سے دو سال پہلے مکمل کر لیا تھا جس کے لیے ہم آج کوشش کر رہے ہیں چنانچہ یہ اب اپنے بجٹ کا زیادہ حصہ انسانی ترقی اور اداروں کی مضبوطی پر خرچ کرتے ہیں جب کہ ہم آج بھی کالاباغ‘ میٹرو بس‘ موٹرویز اور ہائی ویز پر لڑ رہے ہیں‘ دوسرا ہمارے ادارے بہت کمزور ہیں‘ آپ تعلیمی نظام کو دیکھ لیجیے‘ آپ مریضوں اور اسپتالوں کی حالت بھی ملاحظہ کر لیجیے۔

آپ دوسرے سرکاری ادارے بھی دیکھ لیجیے‘ آپ کو ان میں جان نظر نہیں آئے گی اور یہ حقیقت ہے اداروں کے استحکام اور انفرااسٹرکچر کے بغیر کوئی ملک ترقی نہیں کرسکتا‘ قوموں کو معاشرے کے دونوں سروں پر کام کی ضرورت ہوتی ہے‘ میاں نواز شریف اور عمران خان دونوں کا فلسفہ مختلف ہے‘ میاں نواز شریف انفرااسٹرکچر پر فوکس کرتے ہیں جب کہ عمران خان ادارے بنانا چاہتے ہیں‘ یہ پولیس ریفارمز‘ تعلیم کا نظام‘ صحت ‘ انصاف ‘احتساب اور میرٹ کو اہمیت دیتے ہیں‘ یہ دونوں لیڈر اس وقت میدان میں ہیں‘ یہ دونوں ایک دوسرے کو سکھا رہے ہیں‘ میاں نواز شریف انفرااسٹرکچر پر توجہ دے رہے ہیں اور عمران خان ان کی توجہ اداروں کی طرف مبذول کرا رہے ہیں‘ عمران خان کے پی کے میں ادارے بنا رہے ہیں اور میاں نواز شریف انھیں انفرااسٹرکچر ڈویلپ کرنے کی ترغیب دے رہے ہیں‘ یہ دونوں کوششیں کامیاب ہو رہی ہیں‘ میاں نواز شریف اب اسلام آباد کے اسکولوں کی حالت تبدیل کر رہے ہیں‘ یہ ملک کی تمام ڈویژنوں میں بڑے اسپتال بھی تعمیر کرا رہے ہیں‘ یہ پولیس فورس کو بھی ٹھیک کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

یہ اداروں میں بھی میرٹ لا رہے ہیں اور یہ اداروں کو خود مختاری بھی دیتے چلے جا رہے ہیں جب کہ دوسری طرف عمران خان اب انفرااسٹرکچر کو سیریس لے رہے ہیں‘ یہ پشاور میں میٹرو بنا رہے ہیں اور یہ سڑکیں‘ ڈیمز اور صفائی ستھرائی کی اسکیمیں بھی لے کر آ رہے ہیں لہٰذا یہ دونوں ایک دوسرے پر دباؤ ہیں‘ یہ دباؤ ایک ’’کمبی نیشن‘‘ ہے‘ یہ کمبی نیشن بڑا خوبصورت ہے اور یہ کمبی نیشن بالآخر قوم کی ترقی اور خوشحالی میں اہم کردار ادا کرے گا‘ میں جب بھی عمران خان اور میاں نواز شریف دونوں کو دیکھتا ہوں تو مجھے پاکستان کا مستقبل روشن دکھائی دیتا ہے‘ یہ پاکستان کے اچھے دن ہیں جو ملک کے دونوں لیڈروں کی صورت میں نظر آ رہے ہیں‘ آپ اگر کسی دن 2013ء سے 2017ء تک ملک کے چار سالوں کا تجزیہ کریں تو آپ کو ایک اور تبدیلی بھی نظر آئے گی‘ آپ کو ملک کے مقتدر ادارے بھی اپنی سمت درست کرتے دکھائی دیں گے‘ آپ 2013ء کا الیکشن کمیشن دیکھیں‘ آپ 2013ء کی سپریم کورٹ پر بھی نظر دوڑائیں اور آپ 2013ء میں فوج کا فلسفہ بھی دیکھیں‘ آپ کو ان چار برسوں میں ان تینوں اداروں کی سوچ میں فرق دکھائی دے گا‘ یہ ادارے بھی اب اپنی صفیں درست کر رہے ہیں‘ یہ بھی آپ کو نظام کی درست سمت تعین کرتے نظر آئیں گے‘ آپ کو اب پاکستان کے عوام بھی اکٹھے ہوتے اور ملک کے لیے سوچتے ہوئے دکھائی دیں گے چنانچہ میں سمجھتا ہوں خرابی کے اس غلغلے میں اچھائی کے بے شمار نئے اور اچھوتے پہلو نکل رہے ہیں‘ یہ پہلو جب پک کر جوان ہو ں گے تو ملک واقعی ترقی اور استحکام کی شاہراہ پر آ جائے گا۔

میاں نواز شریف اور عمران خان یہ دونوں بے شک ایک دوسرے سے لڑتے رہیں‘ یہ بے شک میدان سیاست کو میدان جنگ بنا دیں لیکن یہ اتنا ضرور یاد رکھیں یہ دنیا میں سب سے لڑ سکتے ہیں لیکن یہ اپنے مقدر اور اللہ تعالیٰ کی منشاء سے نہیں لڑ سکتے‘ اللہ اور اللہ کی مرضی بہرحال سپریم ہوتی ہے اور یہ سپریم رہے گی‘کون آگے جائے گا اور کس نے پسپا ہونا ہے یہ فیصلہ بہرحال اللہ کی ذات ہی کرے گی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *