عقائد اور اجتماعی دانش

ڈاکٹر انوار احمد کی وال سے 

Dr.anwar ahmed

انہوں نے کہا کہ یہ ملک ستائیسویں رمضان کی رات وجود میں آیا،یہ کبھی نہیں ٹوٹ سکتا،انہوں نے کہا کہ قبروں میں لیٹے سارے برگزیدہ لوگ پاکستان کی بھارت پر فتح کی دعا مانگ رہے ہیں،مشرقی پاکستان کے وزیر تعلیم نے کہا کہ ہم لال قلعے پر جھنڈا لہرائیں گے،سب نے بتایا کہ چھٹاامریکی بحری بیڑا خلیج بنگال کے قریب پہنچ گیا ہے اور پاکستان کے دوست چین نے اپنی افواج کو تیار رہنے کا حکم دیا ہے،جنرل نیازی نے کہا کہ بھارتی ٹینک میری چھاتی سے گذر کر ہی ڈھاکہ میں داخل ہوں گے،پھر سولہ دسمبر 1971 کی سہ پہر ریڈوپاکستان نے ایک سرد خصوصی نشریہ میں کہا"آج مقامی کمانڈروں کے سمجھوتے کے بعد بھارتی فوجیں ڈھاکہ شہر میں داخل ہو گئیں" پھر صدیق سالک اور مسعود مفتی نے لکھا کہ وزیر تعلیم موصوف نے تو چودہ دسمبر کو ہی ڈھاکہ کے نیوٹرل زون میں پناہ لے لی تھی۔اس وقت بھارت،ایران اور افغانستان ایک زبان بول رہے ہیں،امریکی ہماری بے بسی پر مسکرا رہے ہیں،گراں خواب چینی ہماری جنگ نہیں لڑیں گے ہماری قیادت کو ہی نہیں قوم کو بھی خطابت کی نہیں تدبر کی ضرورت ہے،اجتماعی دانش کی،جو پارلیمنٹ کے جاگتے رہنے سے بازیاب ہو سکتی ہے

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *