یہ لاشہ کس کا ہے؟

محمد بلال خان کی وال سے 

muhammad bilal khan

یہ خاک و خون میں لت پت لاشہ کسی بینک ڈکیت کا نہیں، کسی خودکش بمبار کا نہیں، کسی بھارتی ایجنٹ کا بھی نہیں، اسے کسی جعلی پولیس مقابلے میں ہتھکڑیوں اور بیڑوں سمیت بھی نہیں مارا گیا۔۔۔۔۔ اس کی لاش بھی "نامعلوم" نہیں، اس کی "شناخت" بھی ہو چکی ہے، اس کا سر ملا ہی نہیں، جسم بھی سلامت پڑا ہوا ہے۔۔۔۔ اسے پہچاننے سے کسی نے انکار نہیں کیا بلکہ باپ لاشے پہ تڑپ کر جیتے جی مرچکا ہے۔۔۔۔ اس کی کمر اس کے سامنے توڑی گئی ہے۔۔۔۔ اس کی کائنات اس کی دیکھتی آنکھوں کے آگے اجاڑی گئی ہے۔۔۔۔۔۔ نہ تو یہ لاشہ کراچی یا پنجاب کے کسی عقوبت خانے کے عقبی جگہ کا منظر ہے، نہ ہی مظفر گڑھ کی سرزمین۔۔۔۔ یہ مردان ہیں، یہ پختونوں کی سرزمین ہے۔۔۔ جہاں کچھ دن پہلے "انسانیت" قتل ہوگئی تھی۔۔۔ جہاں "باچا خان" کے نظرئیے کی موت ہوئی تھی۔۔۔۔ وہی مردان جہاں پر برطانوی بی بی سی سے لیکر ہر چھوٹے اور بڑے بی اور سی نے چار سو بیسی کی۔۔۔۔ اس خون پہ ہنگامہ شہرہ آفاق ہوا۔۔۔۔ آج تک انسانیت مافیا کے ماتم کی موم بتی گل نہیں ہوئی۔۔۔ ابھی بھی ان کی مارکیٹ میں منجن بک رہا ہے۔۔۔۔ شاید کچھ دن پہلے مردان میں ہونے والا خون اس لئے بھی سب کو یاد ہے کہ مقتول کلین شیو بھی تھا۔ "مسٹر" بھی تھا۔۔۔۔ اور یونیورسٹی کا "سٹوڈنٹ" بھی۔۔۔۔ مگر آج کا یہ خاک و خون لاشہ کس کا ہے ۔۔۔؟؟ کوئی انسانیت مافیا کا علمبردار بتا سکتا ہے۔۔۔؟ کسی موم بتیوں والی آنٹی کو اس کا نام بھی آتا ہے۔۔۔؟؟lash-2

کسی شاہزیب خانزادے نے منہ بسورتے ہوئے اس ظلم پر الفاظ چبائے۔۔۔۔؟؟ کسی بھی اینکر کے آنسو بہے۔۔۔؟؟ کسی بھاتی بھرکم مفتی میدان میں آیا۔۔۔۔کو شہادت کا سرٹیفیکیٹ حافظ بلال کو جاری کرسکے۔۔۔۔؟؟ارے کیوں بہیں گے بھئی۔۔۔؟؟ کیونکہ یہ مشال نہیں ہے۔۔۔۔ بلال ہے۔۔۔ یہ مسٹر نہیں ہے ۔۔۔ مُلّا ہے۔۔۔۔ یہ "سٹوڈنٹ" نہیں۔۔۔۔ "طالب علم " کہلاتا ہے۔۔۔۔ یہ گریجویٹ نہیں۔۔۔ حافظ ہے۔۔۔۔ یہ کلین شیو نہیں۔۔۔ داڑھی اور ٹوپی والا ہے۔۔۔۔ اس کی جیب میں سگریٹ نہیں ۔۔۔۔ مسواک ہے۔۔۔۔ اس نے پینٹ شرٹ نہیں پہنی۔۔۔ شلوار قمیض میں ملبوس ہے۔۔۔۔ زمین وہی ۔۔۔۔ خون بھی سرخ۔۔۔۔ گولی بھی اسی بارود کی۔۔۔۔۔ مگر چلانے والا کوئی "مذہبی جنونی" نہیں۔۔۔۔ باوردی اور قانونی ہے۔۔۔۔ اسے کسی ہجوم نے نہیں۔۔۔۔۔ فردِ معلوم نے قتل کیا۔۔۔۔ اسے گستاخ کہہ کر نہیں،۔۔۔۔ "دہشتگرد" کہہ کر قتل کیا۔۔۔۔ اس پر توہینِ نبوتﷺ کا الزام نہیں۔۔۔۔۔ سینے پہ ختم نبوتﷺ کا بیچ سجا ہوا تھا۔۔۔۔۔ اس کے باپ کے روبرو اس کا سینہ چھلنی کردیا۔۔۔۔۔ اس کے باپ نے تین دن بعد"صبر" کی ایکٹنگ کرتے ہوئے کہانی نہیں تراشی۔۔۔ عین اس وقت کہ جب گولی چلائی جارہی تھی کہ میرا بیٹا ذہنی معذور ہے، اس لئے سڑک پہ بھاگ رہا ہے۔۔۔۔ کالی وردی والا کالا اسے دہشتگرد کہہ کر لپکا۔۔۔۔ صرف "شک" کی بنیاد پر دہشتگرد قرار دیا۔۔۔ اس لئے کہ اس کا حلیہ "دہشتگردوں کی نرسریوں" (مدارس ) میں پڑھنے والوں جیسا تھا۔۔۔۔ بیچ سڑک کے بندوق کا دہانہ کھول دیا۔۔۔۔ اور ایک ہنستا بستا گھرانہ اجاڑ دیا۔۔۔۔ مگر قانون ابھی سورہا ہے۔۔۔۔۔ ابھی آئی جی صلاح الدین محسود کو خبر نہیں ہوئی کہ جے آئی ٹی کا اعلان کرے اور اپنی پولیس میں موجود وردی پہنے ہوئے اس قاتل دہشتگرد کو بے گناہ کے قتل پر تختہ دار تک پہنچائے۔۔۔۔ ابھی عمران خان، پرویز خٹک، مریم نواز، شیریں مزاری وغیرہ کو اب تک ٹوئٹر پہ خبر نہیں ہوئی کہ اس ظلم کیخلاف مذمتی ٹویٹ آئے۔۔۔۔اور پارلیمنٹ میں منکرِ قرآن مشال کیلئے فاتحہ پڑھنے والوں کو بھی خبر نہیں ہوئی۔۔۔۔۔ ابھی ہمارے "سوموٹو" لینے والے "قاضی القضا" کو بھی بے خبری ہے۔۔۔۔ شاید کسی کو خبر نہ ہو۔۔۔۔ لیکن ! اُسے ضرور خبر ہے، جسے تپتی ریت پہ تڑپتے بلال حبشیؓ کی خبر تھی۔۔۔۔ !! اُسے آج تپتی دھوپ میں خاک و خون میں لتھڑے ہوئے حافظ بلال مردانوی کی بھی خبر ہے۔۔۔۔!!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *