حکومت کا نیوز لیکس نوٹیفکیشن کے بارے میں بڑا فیصلہ!

Image result for ‫نواز نثار ملاقات‬‎

وزیراعظم نواز شریف کی سربراہی میں قومی اہمیت کے حامل معاملات بالخصوص گزشتہ سال اکتوبر میں ڈان میں شائع ہونے والی خبر کی انکوائری کمیٹی کے مندرجات کو عام کرنے کے حوالے سے وفاقی وزرا سمیت قریبی ساتھیوں سے صلاح مشورہ کے لیے ایک اور اجلاس منعقد ہوا۔ ذرائع کے مطابق اجلاس کئی گھنٹوں تک جاری رہا تاہم وزیراعظم ہاؤس کی جانب سے کوئی اعلامیہ جاری نہیں ہوا۔

خیال رہے کہ یہ اجلاس اطلاعات کے مطابق چیف آف آرمی اسٹار جنرل قمر جاوید باجوہ کے ساتھ وزیراعظم کی ملاقات کے تین روز بعد منعقد ہوا ہے۔ وزارت داخلہ کے ذرائع نے تصدیق کی کہ وزیرداخلہ چوہدری نثار نے 5 سے زائد گھنٹے وزیراعظم کے ساتھ گزارے اور اسی لیے انھوں نے نیشنل ڈیٹابیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کے مرکز میں طے ایک تقریب میں شرکت کو بھی منسوخ کردیا تھا۔

وزارت داخلہ کے عہدیداروں نے یہاں تک کہا تھا کہ وزیرداخلہ 3:45 پر نادرا کے مرکز پر میڈیا سے بات چیت کریں گے لیکن بعد میں صحافیوں کو کہا گیا کہ چوہدری نثار کی مصروفیات کے باعث تقریب منسوخ ہوگئی ہے۔ نجی ٹی وی چینل کے مطابق وفاقی حکومت نے ڈان رپورٹ کی انکوائری کے حوالے سے 29 اپریل کو وزیراعظم کے خصوصی مشیر اور وزارت اطلاعات کے سنیئر عہدیدار کو ہٹانے کے لیے جاری ہونے والے احکامات کے علاوہ 'وقتی طور پر' کوئی نیا نوٹی فیکیشن جاری نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ذرائع کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ وزیراعظم کے ساتھ ان کے قریبی ساتھیوں اور حکومت کے سینیئروزرا کے ایک اجلاس میں کیا گیا۔ انھوں نے مزید لوگوں کے ساتھ 'مشاورت' کے لیے ایک اور اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع نے کہا کہ 'آج کا اجلاس ایک مشاورتی عمل تھا اور اس حوالے سے مزید لوگوں کے ساتھ ملاقات متوقع ہے'۔

اس اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ وزیراعظم ہاؤس کی جانب سے گزشتہ ماہ جاری ہونے والے احکامات کافی ہیں اور انکوائری کمیٹی کی سفارشات کے حوالے سے کوئی جز باقی نہیں رہا جس کی نوٹی فیکیشن میں وضاحت نہ کی گئی ہو۔ 29 اپریل کو خارجہ امور کے خصوصی مشیر سید طارق فاطمی اور پرنسپل انفارمیشن افسر راؤ تحسین علی کو برخاست کرنے کے احکامات جاری ہوئے تھے۔

جس کے فوری بعد پاک فوج کے تعلقاتا عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) میجر جنرل آصف غفور نے سوشل میڈیا میں نوٹی فیکیسن کو 'نامکمل' قرار دیتے ہوئے اس کو 'مسترد' کردیا تھا۔ اس صورت حال کے چند گھنٹوں کے بعد چوہدری نثار نے کہا تھا کہ حتمی نوٹی فیکیشن وزارت داخلہ کی جانب سے جاری ہوگا اور وہ انکوائری کمیٹی 'بلیک اینڈ وائٹ سفارشات' کی روشنی میں ہوگا۔ تاہم منگل کو ہونے والے اجلاس میں تجویز دی گئی کہ اس حوالے سے مستقبل قریب میں عام ہونے کے لیے کچھ نہیں رہا۔

نیوز چینل کے ذرائع کے مطابق 'اجلاس کے شرکا نے ٹویٹ کے ذریعے وزیراعظم ہاؤس کے نوٹی فیکیشن کو رد کرنے پر تحفظات کا اظہار کیا'۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ 'فی الوقت سفارشات کو جاری نہیں کیا جائے گا اسی طرح شرکا نے کہا کہ اگر کسی کو حکومت کے فیصلے سے کوئی تحفظات ہیں تو وہ معمول کے طریقہ کار کے مطابق متعلقہ ذرائع سے آگاہ کرے'۔

قبل ازیں وزیراعظم نے 29 اپریل کے دوران لاہور میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس بلایا تھا جہاں اطلاعات کے مطابق حکومت کے سینیئر اراکین کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ میڈیا کو جاری گئی انکوائری رپورٹ کے حوالے سے حکومت اور فوج کے درمیان غلط فہمیوں کو دور کریں :-

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *