محبت کی معراج 

 جیا زبیری

Image result for allah

انسان کیا ہے اشرف المخلوقات. جسے اللہ نے تمام مخلوق سے افضل قرارا دیا ہے۔ کیوں؟ کیونکہ ہمیں اللہ نے دماغ عطا کیا ہے سوچنے کے لیے۔ کوئی اس کا استعمال زیادہ کرتا ہے کوئی کم اور کوئی سرے سے کرتا ہی نہیں۔ اس اللہ نے تو ایک چیز سب انسانوں میں یکساں تقسیم کی۔ وہ ہے محبت۔ محبت کی معراج کیا ہے؟ محبوب کی پسند نا پسند کے مطابق خود کو ڈھال لینا اور ہم کیا کرتے ہیں۔۔۔ اس پالنہار کی مخلوق کی دل آزاری، جو اپنے ایک بندے سے ستر ماؤں جتنا پیار کرتا ہے۔ آپ ایک ماں کے نظریے سے دیکھیے اس کی اولاد کو آپ ذرا ڈپٹ کر بلاؤ گے تو وہ آپ سے لڑنے کو آئے گی اور کہے گی کہ آپ ہوتے کون ہیں میرے بچے کو کچھ کہنے والے۔ وہ صرف ایک ماں کا پیار ہے ذرا سوچیے اس رب کعبہ کو کتنا برا لگتا ہو گا جو ستر ماؤں سے زیادہ چاہتا ہے اپنی مخلوق کوکہ جب آپ اس کے بندے کی دل آزاری کرتے ہوں گے۔ داڑھی کیا ہے، سنتِ نبوی صلی للہ علیہ وسلم۔ کوئی رکھتا ہے اور کوئی نہیں۔ لیکن ہم انسان ہیں نا۔ ہم ظاہری حلیے پر ریجھ جاتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ جس کی داڑھی ہے وہ بہت نمازی پرہیزگار ہے اور جس کی نہیں ہے، ضروری تو نہیں ایسا ہی ہو۔ یہ بھی تو ممکن ہے کہ ایک داڑھی والا مرد پانچ تو کیا ایک وقت کی بھی نماز نہ پڑھتا ہو۔ کسی کے چہرے پر تو نہیں لکھا ہوتا ۔ یہ تو خالصتاََ اللہ اور اس کے بندے کا معاملہ ہے۔ اگر کوئی مرد برسوں رکھی داڑھی منڈوا دیتا ہے چاہے اس کا کوئی مسلہ ہو۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اسے نبی پاک صلی للہ علیہ وسلم سے محبت نہیں۔ اور ہم اس بندے کا جینا حرام کر دیتے ہیں۔ ایسے مواقع پہ ہر انسان کے اندر کا مفتی جاگ جاتا ہے اور فتوے جاری کرنا شروع کر دیے جاتے ہیں۔ ہمارا بس چلے تو ہم نعوذ باللہ اس بندے کو دائرہ اسلام سے ہی خارج کر دیں۔ اور پھر ہم دعوے کرتے ہیں کہ ہم اللہ سے بہت محبت کرتے ہیں۔ یہ ہے ہماری محبت!!! کسی سے ذرا سی بھی غلطی ہو جائے ہماری زبانیں زہر اگلنے لگ جاتی ہیں۔ اپنی زبان کی تیز دھار نوک سے اس انسان کی دس لوگوں میں خوب بے عزتی کرتے ہیں۔ ایک عورت جو نقاب پہنتی تھی پہلے لیکن اسے سانس کی بیماری نے آ لیا اب وہ نقاب نہیں کرپاتی تو یہ اس کا اللہ کے ساتھ معاملہ ہے ۔ لیکن ہم جو انسان ہیں نا، ہمیں استہزاء اڑانے کا بہت لطف آتا ہے۔ نجانے ہمیں کس بات کا زعم ہے کس بات کی اتنی اکڑ ہے۔ اللہ کہتا ہے سب انسان برابر ہیں کسی کو کسی پر برتری حاصل نہیں سوائے پرہیزگاری کے۔ اور ہم کیا کرتے ہیں لوگوں کو ظاہری حلیے کی بنا پر اہمیت دیتے ہیں۔ جو غریب ہے اسے فرش پر بٹھاتے ہیں چاہے اللہ کی بارگاہ میں وہ بندہ تخت نشین ہو۔ خدارا لوگوں کو ان کی ظاہری حالتوں پر اہمیت دینا چھوڑ دیں۔ محبت کی معراج کو چھونا ہے تو اس رب کعبہ کے ہر حکم پر بلا تامل عمل کرنا ہے۔ اس بات کو اچھی طرح ذہن نشین کر لیں کہ ہر انسان اپنے اچھے برے عمل کا اللہ کو خود جوابدہ ہے آپ نے اپنے عمل کا جواب دینا ہے۔ خدارا اپنی زبان سے دوسروں کی دل آزاری کرنا چھوڑ دیں۔ یہ وہ گناہ ہے جس کے بارے میں خود اللہ فرماتا ہے کہ میں تب تک معاف نہیں کروں گا جب تک میرا بندہ معاف نہ کردے۔ اپنے عمل کو سدھار لیں سب صحیح ہو جائے گا۔ یقین جانیے ہم اس خالقِ دوجہان کی اجازت کے بغیر ایک تنکا بھی ادھر سے ادھر نہیں کر سکتے۔ ہم اتنی سکت ہی نہیں رکھتے۔ اپنے ایمان کو مضبوط کریں۔ ہم اس اللہ کے بغیر کچھ بھی نہیں ہیں۔ یہ اس پاک ذات کا کرم ہے ہم پر کہ وہ ہمارے بیش بہا گناہوں کے سبب بھی ہمیں عطا کر رہا ہے۔ یہ اس خالقِ بزرگ و برتر کی بڑائی ہے ۔جس کی محبت کی کوئی انتہا نہیں۔ وہ پھر بھی اپنے بندوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔ یہ ہے محبت کی معراج جو اس رب کو اپنی مخلوق سے ہے، جو اس محبت کی معراج کو پہنچا ولی کہلایا.

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *