خیبرپختونخواہ میں کرپشن ملاحظہ ہو

ابن نیاز

ibn niaz

گذشتہ دنوں ڈی سی مانسہرہ نے ضلعی افسران کے ایک مشترکہ اجلاس میں اکاؤنٹس افسر مانسہرہ کی دھلائی کر دی۔ حق تو یہ تھا کہ حق ادا نہ ہوا۔ خالی دھلائی سے اس محکمہ میں کچھ فرق نہیں پڑھنے والا۔ کیونکہ ان کے ہونٹوں پر فکس ریٹس کا خون لگ چکا ہے۔ ہمسایہ بھارت کی ایک فلم کا ایک سین نظروں سے گزرا تھا جس میں ہیرو کسی کا موٹرسائیکل اڑاتا ہے اور تھانے پہنچ جاتا ہے. وہاں اس کو ایک ریٹ لسٹ تھما دی جاتی ہے کہ فلاں فلاں جرم کا اتنا ریٹ ہے۔ جرم بتاکر اتنی رقم. جمع کرا دے اور سفید سلپ وصول کر لے. تو اس اکاؤنٹس آفس میں بھی ایک لسٹ بنی ہوئی ہے۔ اگر رقم کا معاملہ ہے تو رقم کا دس سے بیس فیصد کلرک یا متعلقہ بابو کو پیشگی دیں گے تو آپ کے کاغذات پر کاروائی ہو گی. اگر آپ کو کوئی سرکاری کاغذ کی کاپی چاہیے جیسے تنخواہ کی سلپ، پرسنل فائل کو اپ ڈیٹ کرنا تو ہزار سے پانچ ہزار روپے کا ریٹ مقرر ہے۔ کیا ان کو اللہ سے ڈر نہیں لگتا۔ ان کو دوزخ کی آگ سے ڈر نہیں لگتا۔ ان کو قبر کے عذاب سے، کسی غریب، بے بس، مجبور، لاچار کی آہ سے ڈر نہیں لگتا۔مجھے ذاتی طور پر یہ تجربہ ہو چکا ہے. ایک بار مجھے ایک لاسٹ پے سرٹیفکیٹ بنانا تھا۔ پہلے تو متعلقہ بابو ہی نہ ملے کہ متعلقہ بابو ہی مجھے دوسرے ملازمین کے پاس بھیج رہا تھا۔ جب کہ میں اسے کہہ بھی رہا تھا کہ مجھے اس کے بارے میں ہی بتایا گیا ہے۔ خیر تین چار افراد کی ایک دوسرے کی طرف رہنمائی کرتی انگلیوں کا یا الفاظ کا پیچھا کرتے ہوئی پھر اسی بابو کے پاس پہنچا۔ احسان جتاتے ہوئے کہنے لگا کہ اس کا کام تو نہیں لیکن پھر بھی بنا دیتا ہے۔ حالانکہ کرنا کیا تھا، کمپیوٹر پر پرسنل کوڈ ڈالنا تھا تو جو گزشتہ تنخواہ جاری ہوئی تھی، وہ سامنے آجانی تھی اور اس کا پرنٹ لے لینا تھا۔ . کوئی منٹوں کا کام بھی نہیں تھا۔ اس بابو کو بمشکل پندرہ سیکنڈ لگے۔ دستخط کرکے مہر لگوانے کے لیے سامنے چھوٹے بابو کے پاس بھجوا دیا۔ مہر کہاں لگانی ہے، کہاں لگانی ہے کہتا رہا اور میری طرف دیکھتے ہوئے ہاتھ میں مہر کو پھیرتا رہا۔ میں نے اسے ہاتھ رکھ کر بتایا کہ یہ دستخط اور مہر لکھا ہوا ہے، یہاں لگاؤ۔ مجھے معلوم ہے کہاں لگانی۔ تو لگاؤ نا ۔ بھائی صاحب، مہر سیاہی سے گیلی کرنی پڑتی ہے اور اس کی سیاہی سوکھ گئی ہے۔ کیا مطلب سٹیمپ پیڈ نہیں کیا (جب کہ مطلب میں بہت اچھی طرح سمجھ گیا تھا)؟ ہے لیکن اس کی سیاہی کے لیے نوٹ چاہییں۔ اوہ! تو اس طرح منہ کھولو نا۔ مجھے بڑا غصہ آیا۔ میں نے ہامی نہ بھری. تو اس نے بنا کچھ بات کیے مہر دراز میں رکھ دی کاغذ اٹھا کر اس طرف رکھ دیا اور توجہ کمپیوٹر کی طرف کر دی۔ میں نے اسے اپنی طرف متوجہ کیا. تو ایک نظر دیکھ کر پھر کمپیوٹر پر ایویں کام کرنے لگا۔ میں نے کرسی کھینچی اور بیٹھ گیا. تب تک میں کھڑا تھا. موبائل نکالا. وٹس ایپ کھولا جس طرح کسی جو کوئی فائل بھیجتے ہیں، اس طرح کی اداکاری کی۔ چند سیکنڈ بعد اپنے ایک کزن کا نمبر ڈائل کیا اورجیسے ہی رابطہ ہوا تو میں نے کہنا شروع کر دیا کہ جدون صاحب، ابھی آپ کو ایک وائس ریکارڈنگ ٹیکسٹ کی ہے۔ ذرا اس کو بنیاد بنا کر کل کے اخبار میں ایک خبر لگا دیں۔ بڑے بابو کا نام فلاں ہے اور چھوٹے کا۔۔۔ میں نے بات روک کر اس بابو سے اس کا نام پوچھا تو کہنے لگا کس لیے۔ کس کو بتا رہے ہیں؟ میں نے کہا کہ اخبار والے کو تاکہ کل اس کا نام بڑا بڑا اخبارات کی زینت بنے۔ کل اگر الیکشن میں کھڑا ہو تو اس کی پہلے سے ہی عوام الناس میں جان پہچان ہو۔ یہ کیا بات ہوئی۔ آپ اخبار والے کو کیوں بتا رہے ہیں؟ بھائی کیا کریں، مجبوری ہے۔ میں تو چلو کچھ نہ کچھ ادا کر ہی سکتا ہوں، لیکن کتنے غریب لوگ بھی آتے ہوں گے، مجبور لاچار بھی آتے ہوں گے ، تو آپ تو ان کی کھال تک ادھیڑ دیتے ہوں گے۔ بتائیں اپنا نام۔۔خیر اس نے اپنا نام کیا بتانا تھا، اپنے سینئر کو پکار لیا کہ سر جی، یہ تو کسی اخبار والے کو بتا رہا ہے۔ اس وقت تک میرا کزن اتنی گفتگو سے ساری بات سمجھ چکا تھا۔ پھر میں نے کال کاٹ کر دوبارہ اس سے مخاطب ہوا۔ اس کا سینئر اس کو بلا کر کچھ اس کو سمجھا رہا تھا۔ پھر وہ واپس اپنی کرسی پر آیا ، مہر نکالی اور میرے کاغذ پر لگا کرمجھے پکڑا دیا۔ اس کے بعد میں نے اپنا پریس کارڈ اس کے سامنے رکھا کہ ان کی یہ حرکتیں ٹھیک نہیں ہیں۔ اپنے آپ کو سدھار لیں۔
یہ ساری بات لکھنے کا میرا مقصد یہ ہے کہ مانسہرہ کااکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ ہو یا کسی دوسرے شہر کا، سب ہی کا آوے کا آوا بگڑا ہوا ہے۔ ہر کوئی اپنے آپ کو باون گزا سمجھتا ہے، عوام چاہے رلتی پھرے۔ مانسہرہ کا صرف اکاؤنٹس کا محکمہ ہی نہیں، آپ صحت کے محکمہ میں چلے جائیں، آپ ایکسائز کو دیکھ لیں، واٹر اینڈ سینیٹیشن کے محکمہ کو دیکھ لیں، آپ کی بات تک سننے کے روا نہیں، کہاں آپ کا مسلہ حل کریں گے۔ مانسہرہ کے میجر ایوب روڈ کے اختتام پر ایک بڑی ٹینکی بنائی گئی۔ جہاں تک اس ٹینکی سے پانی کی رسائی دینی تھی،وہاں تک پائپ بچھا دیے۔ سب سے ایک سال یا چھ ماہ کا پانی کا بل اکٹھا لیا۔ شروع کے چند دن، دن کہا ہے، ہفتے نہیں، تو پانی روزنہ کی بنیاد پر آتا رہا۔ پھر ہر تیسرے دن ، پھر ہفتے میں ایک دن۔پھر درمیان میں ہر پندرھویں دن تک مہیا کیا جاتا رہا۔پھر ہفتے میں ایک دن کر دیا،لیکن پانی کی مقدار یا دباؤ اتنا ہی ہوتا تھا کہ نلکے کے نیچے اگر لوٹا رکھا جائے تو اس کو بھرنے میں بھی دو منٹ لگا دیتا تھا۔ اور اسی رفتار پر یہ گھنٹہ سے کم ہوتے ہوتے آدھ گھنٹہ رہ گیا۔واٹر اینڈ سینیٹیشن والوں سے بات کی تو آئیں بائیں شائیں کرنے لگے۔ یہ آرڈر حکومت کی طرف سے ہے، ضلعی انتظامیہ کا حکم نامہ ہے وغیرہ وغیرہ۔ سرکاری پانی آتا نہیں، لیکن بل پورے سال کا لے رکھا ہے۔ کوئی بتائے کہ ہم بتلائیں کیا۔ ایک وفد گیا ان کے پاس تو ان کو کورا جواب دے دیا۔ کے پی کے میں پی ٹی آئی کی حکومت ہے۔ دوسرے صوبوں کے لوگ کہتے ہیں کہ پی ٹی آئی نے اپنے صوبے میں بہت کام کیا ہے۔ جب مجھ سے پوچھا جاتا ہے تو میں کہتا ہوں کہ پہلی بات تو یہ کے کسی بھی صوبائی حکومت کے لیے پورا صوبہ صرف صوبائی دارالحکومت ہوتا ہے۔ اسی طرح اگر کچھ کام ہوا بھی ہے تو پشاور میں ہی ہوا ہے۔ اگر کوئی ترقیاتی کام نظر آرہے ہیں تو اے این پی کے دورِ حکومت میں جاری کیے گئے کاموں پر اپنی تختی لگا دی ہے۔ اور نعرہ ہے کہ پی ٹی آئی نے کام کیا ہے۔افسوس صد افسوس، نہ کرپشن ختم ہوئی ، نہ کوئی کام ہوا۔ پشاور میں اگر کسی محکمے میں گھپلے نہیں ہو رہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ پورے کے پی کے میں بہترین کام ہو رہا ہے۔ اگر ٹیچرز کی حاضری کو یقینی بنانے کے لیے مانیٹرنگ ٹیمیں مقرر کر دی ہیں یا بائیو میٹرک سسٹم لگا دیا ہے تو کیا فائدہ۔ اگر وہی ٹیچر صحیح نہ پڑھائیں بچوں کو حاضری کے باوجودتو اس حاضری کا کیا فائدہ۔ کیا کرپشن یا پیدا گیری صرف پیسے کی ہی ہوتی ہے؟ کام چوری کرنا تو سب سے بڑی پیدا گیری ہے۔ لیکن انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ پورے پاکستان کا حال تو برا ہے ہی ، لیکن نئے پاکستان کا نعرہ لگانے والے پی ٹی آئی والوں کی آنکھوں کے نیچے سے گزرنے والے ہاتھی نظر نہیں آرہے لیکن دوسروں کے گینڈے نظر آرہے ہیں۔ میں حلفاً کہتا ہوں کہ اگر جناب عمران خان وزیر اعظم کا پیچھا کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے صوبے میں پشاور کے علاوہ بھی باقی شہروں میں کاموں کو سرانجام دیتے۔ کرپشن ختم کرتے، کرپشن کرنے والوں کا احتساب کرکے ان کو گھر بھجواتے۔ ان کی جگہ پر کوئی ایماندار، دیانت دار افراد جو بہت پھر رہے ہیں، کو بھرتی کرتے۔نئے کارخانے لگاتے، نیا روزگار پیدا کرتے تو پھر ۲۰۱۸ کے الیکشن میں دھڑلے سے حصہ لے سکتے تھے۔ لیکن اب وہ کیا منہ لے کر اپنے ووٹرز کے پاس جائیں گے۔ ویسے بھی پی ٹی آئی والے ابھی سے الیکشن مہم پر لگے ہوئے ہیں۔ تب ہی کبھی ایک پارٹی کو تو کبھی دوسری پارٹی کو آڑھے ہاتھوں لے رہے ہیں۔ اور جو خود ان کے بغل میں کرپشن مافیا بیٹھا ہوا ہے ، اس کی ان کوخبر نہیں۔ ہے نا کمال کی بات۔ ان کرپشن مافیاکو جن کا ذکر پہلی سطر سے آخر تک کیا ہے، کیا کوئی اللہ کا نیک بندہ، جس کو اللہ سے ڈر لگتا ہو، جو خشیت الٰہی کا معترف ہو، کوئی منصف بندہ آکر ختم کرے گا۔ ؟؟؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *