ٹویٹ کی واپسی

سید بدر سعید کی وال سے

syed badar saeed

ڈان لیکس کی خبر تھی ۔منتخب سول قائد نے وردی والے افسر کو ڈانٹ پلائی ۔ ایک اخبار نے خبر لگائی تو شور مچ گیا ۔ کہا یہ جا رہا تھا کہ خبر فراہم کس نے کی یعنی دیگر الفاظ میں یہ خبر درست تھی کہ سیاسی قیادت نے فوجی قیادت کی کلاس لگائی ہے ۔۔۔۔۔ تجزیہ نگاروں نے آسمان سر پر اٹھا لیا کہ بس اب حکومت گئی کہ اب گئی ۔ سوال یہ تھا کہ اگر حکومت جانی ہوتی تو فوجی قیادت ڈانٹ سنتی ہی کیوں اور سیاسی قیادت ایسی حرکت کرتی ہی کیوں ؟؟؟؟ سیاسی قیادت کی ڈانٹ کا مطلب تو کچھ اور بنتا ہے اگلے مرحلے میں انکوائری رپورٹ گئی ۔ ایک ٹویٹ آ گیا اور رپورٹ مسترد کر دی گئی ۔ تجزیہ نگاروں نے پھر شور مچایا کہ بس اب سرکار گئی کہ اب گئی،،ہائے ہائے کا شور اٹھا اور کہرام مچ گیا -سیاسی اور فوجی قیادت میں ملاقات ہوئی اور فوجی قیادت نے ٹویٹ واپس لے لیا ۔۔۔ اب کی بار کا معلوم نہیں کہ ڈانٹ پلائی گئی یا نہیں لیکن ٹویٹ واپس لینا بہت کچھ واضح کر رہا ہے۔
سر منظر نامہ بدل چکا ہے ۔ قبول کر لیں تو آسانی ہو گی ورنہ خوامخواہ رات 8 سے 111 خواہشات کو تجزیہ بنا کر پیش کرتے رہیں گے اور اپنا بھی بلڈپریشر بڑھاتے رہیں گے فوجی قیادت کو اپنی ذمہ داریوں اور دائرہ کار کا بخوبی علم ہے ۔ بطور ادارہ وہ بہترین کام کر رہا ہے ۔ اسے اپنی خواہشات کے پیچھے چلانے کی سوچ رکھنے والے محض اپنا بلڈ پریشر بڑھاتے جا رہے ہیں!!!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *