ڈان لیکس کا اختتام

احمد خیال

ahmed khayal

چھ مہینے سے چلنے والے ڈان لیکس ڈرامے کا آج ڈراپ سین ہو گیا،آئی ایس پی آر نے کمیشن کی رپورٹ پر حکومت کی طرف سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے ردعمل میں پیش کردہ ٹویٹ واپس لے لیا،جس میں حکومتی نوٹیفکیشن کو مسترد کر دیا گیا تھا،آئی ایس پی آر کی آج کی پریس ریلیز میں وزیراعظم کی اتھارٹی کو تسلیم کرنے کیساتھ ساتھ پیدا ہونے والی غلط فہمیوں کی وجہ سےاداروں کے آمنے سامنے کھڑا ہونے پر اظہار تاسف بھی کیا گیا،پچھلے کچھ روز میں وزیراعظم اور آرمی چیف کی تواتر سے ملاقاتیں ہوں یا چوہدری نثار علی خان کی چھ روز میں وزیراعظم سے چھ میٹنگز، ڈان لیکس کے اشو کو سیٹل کرنے میں معاون ثابت ہوئیں، شنید ہے کہ آرمی چیف جنرل باجوہ پر کور کمانڈرز اور دیگر ساتھیوں کا بہت دباو تھا کہ اس کیس کو منطقی انجام تک پہنچنا چاہیئے، لیکن شاید آرمی نے بارڈرز  اور ملک کی نازک صورتحال کو سامنے رکھتے ہوئے وسیع تر ملکی مفاد میں اپنے قدم پیچھے ہٹا لیئے، خبر یہ بھی ہے کہ وزیراعظم اور ان کے رفقا نے سول سپرمیسی کے لئیے فوج کے سامنےکھڑا ہونے کا ارادہ کر لیا تھا، اگر گورنمنٹ ڈان لیکس کی رپورٹ شائع نہیں کرتی جس میں ایک دو  انتہائی اہم شخصیات کے نام شامل ہیں اور صرف پہلے ٹوٹیفکیشن یا ترمیم شدہ ٹوٹیفکیشن سے کام چلایا جاتا ہے تو یہ حکومت کی بہت بڑی کامیابی تصور کی جائے گی، یہ صورتحال یقینی طور پر پانامہ کیس میں بننے والی جے آئی ٹی پر بھی اثر انداز ہو گی،وہ حکومت جس نے ماڈل ٹاون سانحہ پر جسٹس باقر نجفی کی رپورٹ کو منظر عام پر نہیں آنے دیا،وہ حکومت جس نے جسٹس فائز عیسی کی وزیر داخلہ کے حوالےسے پیش کردہ رپورٹ کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا ،وہ حکومت جس نے ڈان لیکس پر فوج کو پیچھے دھکیل دیا،وہ حکومت کیا جے آئی ٹی پر اثر انداز نہیں ہوگی میں یہ سوال آپ پر چھوڑتا ہوں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *