حکمت یار کی واپسی اور درپیش مسائل

asghar khan askari

حزب اسلامی کے سربراہ اور سابق وزیر اعظم حکمت یار گل بدین دو عشروں کی جلا وطنی کے بعد افغانستان واپس پہنچ چکے ہیں۔اپنے ملک واپسی کے فوری بعد انھوں نے سیاسی سرگر میوں کا آغاز بھی کیا ہے۔پہلے انھوں نے صوبہ لغمان میں عوامی اجتماع سے خطاب کیا۔اس کے بعد جلال آباد میں جلسہ کیا۔بعد میں صدارتی محل میں افغان صدرڈاکٹر اشرف غنی اور دوسرے حکومتی عہدے داروں سے ملاقات کی۔کابل کے غازی گر اؤنڈ میں بھی اپنے سیاسی قوت کا مظاہرہ کیا۔حکمت یار کے بارے میں افغانستان میں دو طر ح کی رائے پائی جا تی ہے۔ایک نقطہ نظر یہ ہے کہ وہ ایک مد بر سیاسی رہنما ہے۔دوسری رائے ان کے بارے میں یہ پائی جاتی ہے کہ وہ پاکستان کے زیر اثر ہے۔تیسری رائے حکمت یار کے بارے میں افغانستان میں کام کر نے والی غیر سرکاری تنظیموں اور امریکہ کا بھی ہے۔ ان دونوں نے حکمت یار کو ’’کابل کے قصاب ‘‘ کا لقب دیا ہو ا ہے۔کیا واقعی حکمت یار افغانوں کا مسیحا ہے؟کیا حکمت یار پا کستان کا ایجنٹ ہے؟ کیا حکمت یار کا بل کا قصائی ہے؟ فی الحال ہم ان سوالات کے جوابات چھوڑ دیتے ہیں۔اس لئے کہ ان تینوں سوالوں کا جواب ما ضی سے وابستہ ہے۔مو جودہ حالات میں اس کا تذکرہ کر نا ایسا ہے ،جیسے کسی کے زخموں پر نمک چھڑکنا ۔حکمت یار کی واپسی کے بعد ان کو کن مسائل کا سامنا ہے۔ ہم ان کا ایک مختصر سا جائزہ لیتے ہیں۔حکمت یار چونکہ ایک سیاسی رہنما ہے۔اس لئے ان کا سب سے بڑا مسئلہ اپنی سیاسی جماعت کو منظم کر نا ہے۔سوال یہ ہے کہ لغمان،جلال آباد اور کابل کے بعد حکمت یار ملک کے دوسرے صوبوں میں جا کر سیاسی اجتماعات کر سکیں گے؟کیا وہ پو رے ملک میں اپنی سیاسی جما عت کو منظم کر پا ئیں گے؟ اگر حکمت یار پورے ملک میں حزب اسلامی کو فعال کر نے میں کامیاب ہو جاتے ہیں ،تو یہ افغانستان کی گز شتہ چا ر عشروں میں کسی سیاسی رہنما کی پہلی کامیابی ہو گی کہ وہ پورے ملک میں اپنی سیاسی جما عت کو فعال کر نے میں کا میاب ہوا ہو۔

Image result

اگر حکمت یار ایسا کر نے میں کا میاب ہو جاتے ہیں ،تو اس سے افغانستان میں سیاسی جما عتوں کے قیا م کا آغاز ہو سکتا ہے۔جو افغانستان کی عوام کے لئے ایک بہت بڑی خوش خبری ہو گی۔حکمت یار کے لئے ایک مشکل مو جودہ حکومت کے ساتھ اپنے تعلقات کوخوش گوار رکھنا بھی ہے۔اس لئے کہ جب وہ عوام میں جا ئیں گے۔ سیاسی اجتماعات سے خطاب کریں گے،تو حکومت پر تنقید ضرور کر یں گے۔اب سوال یہ ہے کہ کیا حکمت یار توازن بر قرار رکھ سکیں گے؟اس کے ساتھ حکمت یار کو ایک اور بھی مشکل کا سامنا ہو سکتا ہے۔وہ ہے افغان طالبان کے ساتھ معا ملات کو طے کرنا۔کیا افغان طالبان ان کو اجازت دیں گے،کہ وہ پورے ملک کا دورہ کر یں؟کیا وہ ان کو سیاسی جماعت کو منظم کر نے کی اجازت دیں گے؟کیا حکمت یا ر افغان طالبان کو حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لئے آمادہ کر سکیں گے؟کیا حکمت یار آنے والے صدارتی انتخابات میں طالبان کی حمایت حا صل کر نے میں کا میاب ہو جا ئیں گے؟ افغان طالبان کے حوالے سے یہ وہ مشکلات ہیں، جس کا مستقبل قریب میں حکمت یار کو سامنا کر نا پڑ سکتا ہے۔اس لئے کہ حکومت کے بعد افغان طالبان ایک اہم فریق ہے۔ان کے ساتھ معاملات کو حل کئے بغیر افغانستان میں قیام امن یا سیاسی معاملات کو آگے بڑھانا مشکل دکھائی دے رہا ہے۔حکمت یار چونکہ سیاسی راہبر کے طور پر ابھر رہے ہیں، اس لئے ان کو افغانستان میں مو جود کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور داعش کے بارے میں بھی واضح اعلان کر نا پڑے گا۔کیا حکمت یار کا لعدم تحریک طالبان پاکستان پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کر تے ہو ئے ان کو پاکستان میں کارروائیاں کر نے سے منع کر سکیں گے؟اگر حکمت یار ایسا کر نے میں کامیاب ہو جاتے ہیں،تو یہ ان کی بہت بڑی کا میابی ہو گی۔اس لئے کہ پا کستان بار بار افغان حکومت سے مطا لبہ کر چکا ہے ،کہ وہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے خلاف کارروائی کر یں لیکن اس مطا لبے پر عملی طور پر عمل نہیں کیا جارہاہے۔ داعش بھی افغانستان کے لئے ایک خطرہ ہے ۔کیا داعش کے جنگجو حکمت یار کے وعظ و نصیحت سے ہتھیار ڈال کر قومی دھار ے میں شامل ہو جا ئیں گے؟ اس کے بارے میں ابھی کچھ کہنا قبل از وقت گا، اس لئے کہ حکمت یار کی واپسی کے بعد داعش نے ان کے بارے میں کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔ حکمت یار کے لئے ایک اہم چیلنج روس،چین ،ایران،ہندوستان اور پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو نئے سرے سے استوار کر نا بھی ہے۔روس کے خلاف وہ دس سال تک لڑیں ہیں۔کیا روس حکمت یار کو قبول کر نے پر آما دہ ہو جائے گا؟کیا وہ چین اور ایران کی حمایت حاصل کر نے میں کا میاب ہو جائیں گے؟حکمت یار کے لئے سب سے بڑا مسئلہ ہندوستان اور پا کستان کے درمیان تعلقات میں توازن قائم رکھنا ہے۔اب سوال یہ ہے کہ کیا حکمت یار ان دونوں ممالک کو راضی کر نے میں کا میاب ہو جا ئیں گے؟حکمت یار کی واپسی سے ان کے لئے ایک مسئلہ افغان وار لارڈز بھی ہے۔کیا وہ رشید دوستم،ڈاکٹر عبداللہ اور استاذ سیاف کی حمایت حا صل کر نے میں کا میاب ہو جا ئیں گے؟کیا رشید دوستم، ڈاکٹر عبداللہ اور استاذسیاف حکمت یار کی قیادت میں کا م کر نے پر راضی ہو جائیں گے؟ اگر حکمت یار ایسا کر نے میں کا میاب ہو جاتے ہیں ،تو اندرونی سیاسی محاذ پر ان کی یہ سب سے بڑی کا میابی ہو گی۔ اس لئے کہ مو جودہ حالات میں افغانستان کو سیاسی استحکام کی ضرورت ہے۔اگر حکمت یار ملک میں سیاسی استحکام لا نے میں کا میاب ہو جاتے ہیں،تو ممکن ہے کہ افغانستان میں ایک نئے دور کا آغاز ہو۔آئندہ صدارتی انتخابات میں تمام سیاسی جماعتوں کی طر ف سے مشترکہ امیدوار ہو نا ،حکمت یار کی وہ کا میابی ہے کہ جس کے لئے وہ 20سالہ جلا وطنی ختم کر کے افغانستان واپس لو ٹے ہیں۔لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ حکمت یار ان مسائل پر قابو پا لیں جس کا تذکر ہ ہم نے پہلے کیا ہے۔اس لئے کہ مو جودہ حکومت کے ساتھ تعلقات کو بہتر رکھنا ،افغان طالبان کو مذاکرات پر آمادہ کرنا اور ان کو سیاسی دھار ے میں شامل کر نا ایک مشکل کا م ہے۔اس طر ح افغانستان کے تمام پڑوسی ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات بھی ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔رہی بات کالعدم تحریک طالبان اور داعش کی تو وہ بھی ایک درد سر ہے،اب دیکھنا یہ ہے کہ حکمت یاران کے ساتھ معاملات کس طر ح طے کر تے ہیں۔رشیددوستم،ڈاکٹر عبداللہ اور استاذ سیاف بھی ایک حقیقت ہے،ان کو سنبھالنا حکمت یار کی سیاسی بصیرت کا بڑا امتحان ہے۔ممکن ہے کہ گز شتہ 20 سالوں میں حکمت یار کو ئی منصوبہ بندی کر کے آیا ہو۔لیکن اس بات کا ان کو خا ص طورپر خیال رکھنا ہو گا ،کہ آج کا افغانستان 20 سال پہلے والے افغانستان سے کئی حوالوں سے مختلف ہے۔خاص طور پر نوجوان طبقے کو اپنے ساتھ ملا نے کے لئے ان کو ٹھوس اقدامات کر نے ہو نگے۔

loading...

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *