پروفیشنلزم

Afshan Huma

میں نے  2004 میں  یونیورسٹی آف لنڈن کا جو پہلا کورس پڑھا وہ تھا فاؤنڈیشنز آف پروفیشنلزم۔ کسی بھی شعبہ سے تعلق رکھنے والے لوگ مختلف سطحوں پر ہوتے ہوئے اپنا کام سر انجام دیتے ہیں۔ کسی بھی شعبہ کی بلندیوں پر پہینچنے والے افراد وہی ہوتے ہیں جو پروفیشنلزم کو سمجھتے اور اس کی اقدار کا خیال رکھتے ہیں۔ اس تفریق کی مثال میں عام ٹیکسی ڈرائیور اور میٹرو کیب کے ڈرائیور میں دیکھتی ہوں؛ اس کا چلتا پھرتا ثبوت میں ٹریفک پولیس کے اس اہلکار میں جو اپنی موٹر سائیکل کے سہارے کھڑا رہ کر چار گھنٹے گزار دیتا ہے اور موٹر وے پولیس میں دیکھتی ہوں۔ اس کا تجربہ مجھے ایک فوجی ادارے، ایک این جی او، ایک بین اللقوامی کارپوریٹ اور ایک سرکاری ادارے کے ساتھ کام کرتے ہوئے بھی ہو چکا ہے۔ ہم میں سے بہت سے لوگ صرف سسٹم کو برا سمجھتے ہیں اور اپنا تجزیہ نہیں کر پاتے۔

 وہ کیا عناصر ہیں جو ایل عام اہلکار یا کارندے کو ایک پروفیشنل سے مختلف بناتے ہیں۔ سب سے پہلے ہے کام کی لگن۔ وہ لوگ جو اعلی افسران سے ملنے والے کام کو پورا کر کے سمجھتے ہیں کہ انہوں نے فرض ادا کر دیا وہ یقینا" صحیح سمجھتے ہیں۔ لیکن انہیں کے بربار میں وہ لوگ بھی بستے ہیں جو کام کو فرض نہیں شوق سمجھ کر کرتے ہیں۔ ان کے لیے کام ایک خوشی کا زریعہ بن جاتا ہے۔ ان کے کام سے حاصل ہونے والے نتائج ان کے لیے کسی کی شاباش سے زیادہ اہمیت کے حامل ہوتے ہیں اور اگر وہ بھرپور نتائج حاصل نہ کر پائیں تو وہ داد بھی قبول نہیں کرتے۔ ان کے اھداف بڑے واضح اور خود ساختہ ہوتے ہیں۔ وہ اپنی ٹائم لائن اور ٹارگٹ خود بناتے اور ان پر کاربند رہتے ہیں۔ ایسے افراد کام ملنے کا انتظار نہیں کرتے بلکہ وہ خود اپنے ادارے اور شعبہ کی ضروریات کی جانچ کرتے اور اپنے لیے کام پیدا کرتے ہیں۔

دوسرا اہم عنصر ہےوقت کا بہترین استعمال۔ نوکری پیشہ افراد صبح سویرے اٹھتے اور اپنے دفاتر یا کام پر جا پہنچتے ہیں۔ ان کے خیال میں وقت پر کام پر پہنچ جانا ہی کافی ہے اور اگر دن کا مقررہ حصہ کام پر گزار لیا جائے تو بس فرض پورا ہو جاتا ہے۔ پروفیشنلز اپنے کام کو مقررہ وقت میں پورا کرتے اور اس بات پر مطمئن ہوتے ہیں کہ انہوں نے جتنا وقت کام کو دیا وہ پروڈکٹو تھا یعنی اس سے سیر حاصل نتائج بھی لیے۔ صرف وقت گزاری نہیں بلکہ وقت کا بہترین استعمال۔ پروفیشنلزم یہ نہیں سکھاتا کہ ہم اپنی ذاتی زندگی کا وقت بھی کام پر سرف کریں بلکہ پروفیشنلزم یہ سکھاتا ہے کہ ہم کام کا وقت کیسے بہتر طور پر ستعمال کریں اور اس میں کسی قسم کی ڈنڈی نہ ماریں۔ نہ اس ڈنڈی کو مزہبی لبادہ اوڑھانے کہ کوشش کریں۔ کیونکہ ماہ رمضان کی آمد ہے اور میں نے اکثر لوگوں کو کام کے اوقات میں مذہبی امور سر انجام دیتے دیکھا ہے حالانکہ ہمارے ہاں نماز کی بریک اور رمضان کریم میں ویسے ہی جلدی چھٹی کا رواج قائم ہے۔

تیسرا اہم عنصر ہے پروفیشنل تعلیم اور تربیت۔ جب ہم ایک شعبہ میں کام شروع کر دیتے ہیں تو اس بات کا ادراک ہمیں پہلے دن ہی سے ہونا شروع ہو جاتا ہے کہ ہم کیا کیا نہیں جانتے اور ہمیں کس جگہ مزید تعلیم و تربیت درکار ہے۔ ایک طریقہ واردات تو یہ ہے کہ میں کم علمی ہی سے کام چلا لوں اور بیس سال تک کسی کو یہ پتہ نا چلنے دوں کہ میں کس قدر نالائق ہوں۔ دوسرا اور پروفیشنل طریقہ یہ ہے کہ میرے علم میں جو بھی کمی ہے میں اسے پورا کروں۔ وقت کے ساتھ میرے شعبہ میں ہونے والی تحقیق میرے زیر مطلعہ رہے اور میں ایسی تربیتی ورکشاپس سیمینارز اور کانفرنسز میں شرکت کرتی رہوں جن سے میرے علم اور مہا رتوں کو پروان چڑھنے میں مدد ملے۔ مجھے ایسی تعلیمی مجلسوں میں جانے کے لیے اپنے ادارے کی طرف سے نامزدگی کا انتظار نہیں کرنا بلکہ از خود ادارے کو یہ باور کروانا ہے کہ کب اور کہاں میری شمولیت اور شرکت ضروری ہے۔

پروفیشنلزم کا ایک بنیادے اصول ہے اپنے شعبہ اور اپنے ادارے سے وفاداری۔ ہمارے ہاں وفادری کا پہلو صرف رومانوی کہانیوں ہی میں ملتا ہے۔ میرے والد صاحب ایک محاورہ استعمال کرتے ہیں ۔۔۔"جیڑھے ایتھے پیڑے او لاہور وی پیڑے" یعنی جو یہاں برائی کرتا ہے وہ ہر جگہ برائی ہی پر آمادہ رہتا ہے۔ اگر آپ اپنے کام ، شعبہ اور ادارے سے وفادار نہیں تو میرے خیال میں آپ کو شدید ضرورت ہے کہ آپ اپنے آپ پر اکیلے میں بیٹھ کر غور کریں۔ آئینہ سامنے رکھ لیں تو اور بھی اچھا اثر ہو گا۔ اس بات سے قطعہ نظر کہ آپ کس شعبہ اور ادارے سے منسلک ہیں یہ ایک انسانی رویہ ہے جس کو بنیادی اقدار میں ہی گنا جانا چاہئے۔ آپ جہاں سے کماتے ہیں اس شعبہ کو اور اس ادارے کو اپنا مانئے۔ اگر آپ اپنے دفتر، اپنی ٹیکسی یا اپنے کمرہ جماعت سے انسیت محسوس نہیں کرتے تو آج ہی نظر ثانی کر ڈالئے۔ شاید آپ کی وفاداری کہیں اور ہے اور آپ کام کہیں اور کر رہے ہیں۔ اپنے لئے وہی شعبہ منتخب کیجئے جس سے آپ کو لگائو ہے۔ ورنہ بقو ل کین رابنسن آپ ساری زندگی استعمال کر بیٹھیں گے اور حاصل وصول کچھ خاص نہ ہو گا۔ یاد رہے کہ بینک بیلنس کو پروفیشنلزم میں عام گنا جاتا ہے۔ خاص ہے آپ کا نام، مقام اور پروفائل جو آپ کے شعبہ میں جانا مان جائے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *