جگنو محسن کے پاس "خبرناک" کی میزبانی کیسے آئی؟

ابو دانیال 
Image result for jugnu mohsin in khabarnaak
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ آفتاب اقبال بھانڈکلچر کو’’ نیشلائزڈ ‘‘ کرانے کے تنہا ذمہ دار ہیں ۔ حسب حال، خبرناک ، سیاسی تھیٹر ، مذاق رات ، خبر داراور اس قبیل کے تمام وکھری ٹائپ کے شوز۔۔۔۔ یہ سب ’’ بدعات ‘‘انھی کے ذہن رسا کی ایجادات ہیں ۔ معلوم نہیں کہ وہ اس معاملے میں ’ہابیل‘ قرار دیے جانے کے مستحق ہیں یا ’قابیل‘ ، بہرکیف وہ اس ٹرینڈ کو اپنے گلے کا ہار ہی سمجھتے ہیں ۔ اس بات پر دو آراء نہیں کہ یہ تمام شوز اپنے اپنے میڈیا ہاؤسز کے سب سے کامیاب اور بڑے کماؤ پوت رہے ہیں ۔اس لیے جب دنیا نیوز سے آفتاب اقبال علیحدہ ہوئے تو یہ موضوع ایک عرصہ زیر بحث رہا کہ حسب حال کے طوطے کی جان سہیل احمد میں تھی یا آفتاب اقبال میں لیکن یہ سوال بھی ایک معمہ بن گیا کیونکہ ایک طرف خبرناک کی صورت میں پاکستان کی تاریخ کا کامیاب ترین شو سامنے آیا تو دوسری طرف حسب حال کی مقبولیت میں کوئی خاص کمی واقع نہ ہوئی۔ واقفان حال جانتے ہیں علی میر کے آنے سے قبل خبر ناک پر سوالیہ نشان تھا لیکن پھر اس کا گراف اوپر ہی اوپر جاتا رہا۔ یوں یہ سلسلہ اس وقت رکا جب آفتاب اقبال نے شو سے علیحدہ ہونے کا فیصلہ کیا اور انتظامیہ نے انھیں روکنے کے بجائے الوداعی مصافحے کے لیے ہاتھ بڑھا دیا۔ یہ اس بات کا اعلان تھا کہ علی میر کی موجودگی میں شو کو کوئی خطرہ نہیں اور بانی اینکر کی کمی پوری کی جاسکتی ہے ۔ اور یوں نعیم بخاری کی شکل میں بظاہر یوں محسوس ہوا کہ ایک مناسب متبادل مل گیا ہے ۔ مگر بہت جلد ایک اہم بات کا ادراک ہوا۔ وہ یہ کہ نعیم بخاری تو ہواکے گھوڑے پر سوار ہوکر آتے ہیں۔ آفتاب جس قدر شو کو وقت دیتے تھے وہ ان سے جڑے بہت سے مسائل پر حاوی تھا۔ لیکن اس سے قبل کہ شو ناکامی کی طرف جاتا، شو کے ایگزیکٹو پروڈیوسر ذیشان حسین سامنے آئے ۔ انھوں نے نعیم بخاری کی موجودگی اور پھر ان کی علیحدگی کے بعد شو کو کامیابیوں کی نئی بلندیوں پر فائز کر دیا ۔ عائشہ جہاں زیب کی شکل میں انھوں نے ایک نئے چہرے کو بطور اینکر متعارف کرایا اور اپنی ٹیم سہیل شیخ ، علی قریشی،نعمان علی اور دوسرے کولیگزکے ساتھ مل کر اسے کامیاب اینکر ثابت کر دیا۔ چند ماہ پہلے جب راوی شو کی تاریخ میں چَین چَین لکھ رہا تھا ،عائشہ جہاں زیب ہر طرف سے شاباش وصول کر رہی تھیں، انتظامیہ نے ایک نئے ایڈونچر کا فیصلہ کیا ۔ یہ فیصلہ اس آگہی کا ایک مرتبہ پھر اظہار ہے کہ خبرناک کے طوطے کی جان علی میر اور اس کے ہمراہ کامیڈین کے گروپ اور ٹیم ورک میں ہے ۔ اس گروپ کی انرجی سے پرانے ماڈل کی گاڑی سے رومانس کا رسک لیا جا سکتا ہے ۔ بلا شبہ جگنو محسن ایک شناسا چہرہ ہیں، اقتدار کی غلام گردشوں کا گہرا شعور، وسیع تجربہ اور بہت ساری ایگزیکٹو یادیں ان کا عظیم سرمایہ ہیں ۔ مزید یہ کہ وہ نجم سیٹھی کی نصف بہتر ہیں ، سیاسی عزائم بھی رکھتی ہیں ، حکمران پارٹی سے اب قریبی تعلق بھی ہے ، عمران اینڈ کمپنی پر دل و جان سے فریفتہ آنٹیوں اور نوجوان نسل کو کوئی نیا ٹرینڈ بھی دے سکتی ہیں ۔ لیکن ۔۔لیکن ۔۔۔لیکن ۔۔۔ وہ نہ آفتاب اقبال ہیں نہ نعیم بخاری اور نہ عائشہ جہاں زیب ۔انھیں شو کی روایت کے ساتھ چلنے میں مشکل پیش آسکتی ہے ۔ان کا مزاج یقیناً بھانڈ شناسا نہیں ، وہ اپنے مزاج میں یقیناً ایک خوش مزاج اور بذلہ سنج خاتون ہیں لیکن وہ ’تیرا منہ ایسا، اس کا منہ ویسا ‘قسم کی کامیڈی کی عادی نہیں لگتیں ۔اگر انھوں نے یہ ایڈونچر اپنی پسند سے اختیار کیا ہے اور جیسا کہ قرائن نظر آتے ہیں کہ ایسا ہی ہے تو گمان غالب ہے کہ اپنے آپ کو اس عمر میں مشکل میں ڈالا ہے ۔ اس بڑے چیلنج کو البتہ وہ ایک نئے انداز سے ڈیل کر سکتی ہیں ۔ اس کے لیے جاری روایت کو توڑ کر ایک نئی روایت کی داغ بیل ڈالنی ہو گی ۔وہ مذاق اڑانے کی روایت کو مذاق کرنے میں’ بلا شبہ‘ بدل سکتی ہیں ۔اس بہت بڑے چیلنج کے لیے انھیں مشورے اور تجاویز دی جاسکتی ہیں،لیکن رواں ہفتے کے تمام شوزکو دیکھتے ہوئے لگتا ہے کہ یہ شو اپنی تاریخ کے سب سے بڑے بحران سے گزر نے والا ہے ۔ابھی تک کی اطلاعات کے مطابقjugno ناظرین نے اس تبدیلی کو پسند نہیں کیا ۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے پہلے پہل ایسا ہی ہوتا ہے ۔ اگر ناظرین کی دل چسپی برقرار رہی تو وہ اس تبدیلی کے بھی عادی ہو جائیں گے ۔لیکن اس کے لیے علی میر اور اس کے ہمراہ کامیڈین کو کیا کیا پاپڑ بیلنے پڑیں گے، یہ تو وقت ہی بتلائے گا۔ ابھی تک تو شو کی ٹیم اپنی زندگی کے لیے رمضان المبارک میں خصوصی ’’دعاؤں ‘‘ کے منصوبے بنا رہی ہے ۔ شاید اس کے لیے وہ مولانا طارق جمیل سے بھی رابطہ کریں ۔ آخر سینکڑوں لوگوں کے روزگار کا معاملہ ہے!
ایک اندر کی خبر یہ بھی ہے کہ رمضان المبارک کے کچھ شوایڈوانس میں ریکارڈز ہو چکے ہیں اور اس کی میزبانی عائشہ جہان زیب ہی نے کی ہے ۔ اگر ان شوز کو پسند کیا گیا اور دونوں کا تقابلی جائزہ اس انداز میں کر لیا گیا کہ ریٹنگ کامعرکہ کس نے جیتا ہے اور ناظرین کا فیڈ بیک کیا ہے تو پھر کیا یوٹرن ہو گا ؟انصاف تو یہی ہے لیکن کیا یہ انصاف ہونے دیا جائے گا ؟ یہ ایک مشکل سوال ہے !

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *