سگ آزاد

سید محسن علی

syed mohsin ali

آئے روز اخبارات میں جرائم ، دہشت گردی اور سیاست کی بری خبروں کے ساتھ ساتھ سگ گزیدی کے واقعات کی خبریں بھی باقاعدگی سے نظر آتی ہیں۔ آج کے ترقی یافتہ دور میں جب انسان کا طرز زندگی روز بروز جدید دنیا سے ہم آہنگ ہو رہا ہے اور دنیا کے ممالک ترقی کی دوڑ میں ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کی جستجو میں محو ہیں تو ہمارے ہاں لوگوں کے اپنے علاقوں میں کتامار مہم نہ ہونے پراحتجاج کرانے کی بھی خبریں منظر عام پر ہیں۔ ماضی میں کتوں کے کاٹنے پر چودہ انجکشن لگتے تھے لیکن اب اس کا علاج قدرے آسان ہے بشرطیکہ اسپتالوں میں عوام کے لیے مطلوبہ ادویات اور ویکسین
دستیاب ہوں جن کی کچھ عرصہ قبل سندھ کے اسپتالوں میں عدم دستیابی کی بازگشت بھی سنی گئی تھی۔جہاں تک کتے کی بات ہے تو کتا ایک نہایت وفا دار جانور ہے اسی وفاداری کے پیش نظر مشرق ہو یا مغرب اسے معاشرتی سطح پر اہم مقام حاصل ہوتا ہے۔ پچھلے دنوں ایک دلچسپ اشتہار بھی نظروں سے گزرا۔
کتوں کی شاندار لڑائی
چودھری بھولا بمقابلہ فیقا گجر
بروز جمعہ، حویلی گراؤنڈ
اس دن اندازہ ہوا کے ہمارے لوگ انسان تو انسان ، کتوں کو بھی لڑتا ہوا دیکھ کر کتنا محظوظ ہوتے ہیں۔اس اعلیٰ معیار کے کھیل کے لئے صاحب ذوق ان کتوں کی پرورش میں کوئی کوتاہی نہیں برتتے ۔انکے ناز نخرے اٹھانے کے علاوہ ان کی ماہانہ خوراک میں وہ غذائیں شامل ہوتی ہیں جو ایک غریب آدمی کو عمر بھر میسر نہیں ہوتیں ہاں لیکن کسی غریب کی معمولی سی کوتاہی پر اکثر و بیشتر یہی بااثر افراد اس پر اپنے کتے چھوڑنے میں دیر نہیں کرتے۔اگر مغرب کی بات کریں تو وہاں کتے کو گھر کے ایک فرد کی سی حیثیت اور حقوق حاصل ہوتے ہیں۔ اس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کے گوریاں اپنے مردوں سے زیادہ پیار اور عزت اپنے کتوں کی کرتی ہیں لیکن ہمارے ملک میں بھی اشرافیہ اورسیاستدانوں کے کتوں کے ٹھاٹھ باٹ دیکھ کر اندازہ کیا جاسکتا ہے کے ان کی نظروں میں بھی عوام سے زیادہ اہمیت انکے پالتوجانوروں کی ہی ہوتی ہے۔

dog

خیر بات ہورہی تھی آوارہ کتوں کی جو بڑی تعداد میں گلی محلوں میں کھلے عام دندناتے پھرتے ہیں یہ بھلےڈرپوک ہوتے ہیں لیکن ان میں سے اکثر بیماریوں کا شکار ہوکر پاگل ہوجاتے ہیں اور کسی کو بھی کاٹ لیتے ہیں عموما بدقسمتی سے زیادہ تر معصوم بچے ہی انکی زد میں آجاتے ہیں۔ ان کتوں کو مارنے کے لیے کتا مار مہم بھی کی جاتی ہے جو عموما سال میں ایک یا دو بار ہوتی ہے لیکن اسکے باوجود آوارہ کتوں کے کاٹنے کے واقعات تواتر کے ساتھ پیش آتے رہتے ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے موجودہ نظام ناکافی یا درست طریقہ کار کے تحت نہ ہونے کی بنا پر نامناسب ہے ، لیکن بدقسمتی سے کچھ علاقے تو ایسے بھی ہیں جہاں سالوں گزر جانے کے باوجودضلعی و میونسپل اور ٹاؤن کمیٹیوں کی جانب سے کتا مار مہم کرائی ہی نہیں جاتیں اور وہاں کتا مارنے کے بجائے ڈنڈی مارنے کو ترجیح دی جاتی ہے اور عوام چند لمحوں کے لیے دہشتگردی ، لوڈ شیڈنگ، بیروزگاری جیسی آزمائشوں کو فراموش کرکے ان اقدامات پر غور کرنے لگتا ہے کےگلی محلے میں جابجا پھرتے آوارہ کتوں سے خود کو اور بچوں کو کیسے محفوظ رکھے۔
حیرت کی بات یہ ہے کے آئے روز اس قسم کے واقعات متواقع ہونے کے باوجود کوئی متعلقہ ادارہ زمہ داری قبول نہیں کرتا نہ ہی کبھی سنجیدگی سے کوشش کی جاتی ہے کے مستقبل میں اس قسم کے واقعات رونما نہ ہوں اور نہ ہی اس قسم کی خبروں پر کبھی اعلی حکومتی سطح سے زمہ داروں کے خلاف کوئی ایکشن لیا جاتا ہے ہاں یہ ضرور ہے کے جب اس طرح کے واقعات کی خبریں میڈیا کی زینت بن جائیں تو وقتی ایکشن لے لیا جاتا ہے۔ افسوس تو اس بات پر ہوتاہے کے بنیادی سہولتوں سے محروم ایک معاشرے میں جب عوام کتا مار مہم کے لیے احتجاج کرنے لگیں تو کیا وہ انسانوں کا معاشرہ کہلائے گا۔

loading...

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *