نابغہ روزگارعطاء الحق قاسمی

nasir malik

  حقیقی عظیم لوگوں کی دیگر کئی خوبیوں میں سے ایک خوبی یہ بھی ہوتی ہے کہ وہ اپنے آس پاس کے لوگوں میں یہ احساس پیدا کرتے ہیں کہ وہ بھی انہی کی طرح عظیم ہیں۔ وہ اپنے شعبے میں نئے آنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور پورے خلوص کے ساتھ ان کی بہترین راہنمائی کرتے ہیں۔ عہد حاضر کے عظیم مزاح نگار اور مقبول ترین کالم نگار عطا ء الحق قاسمی صاحب میں دوسری کئی خوبیوں کے علاوہ یہ خصوصیت بدرجہ اتم موجود ہے۔مولانا روم ایک جگہ فرماتے ہیں کہ انسانوں میں رہتے ہوئے انسانوں کی تلاش ایک مسئلہ ہے جو ہم سب کو درپیش ہے۔ عطاء الحق قاسمی اسی تلاش کا گوہرِ مقصود ہے۔
آجکل ہمارے ہاں مجموعی طور پر ادب اور خصوصاً صحافتی ادب کسی قدر ذوال کا شکار ہے۔کلاسیکیت معدوم ہو رہی ہے۔اخبارات میں شائع زیادہ تر کالموں میں علمی و ادبی رنگ پھیکا نظر آتا ہے اور اس کی جگہ سیاسی رپورٹنگ اور سطحی معلومات زیادہ نظر آتی ہیں۔ ایسے میں قاسمی صاحب اعلیٰ ادبی اور تخلیقی کالم لکھ رہے ہیں۔ میدانِ ادب میں وہ اک لالہ صحرائی کی مانند سب سے مختلف بھی ہیں اور سب سے معتبر بھی ! اُن کی تحریر بہترین ادبی معیار کے ساتھ کلاسیکی ٹچ لئے ہوتی ہے۔قاسمی صاحب کے کئی حوالے ہیں اور ہر حوالہ اتنا شاندار ہے کہ اس کا بیان گویا ایک کتاب کا متقاضی ہے۔سب سے معروف و مقبول حوالہ ان کی کالم نویسی ہے۔عرصہ پچاس سال سے زیادہ ہو چلا انہوں نے قارئین کے ذوق کی نا صرف تسکین کی ہے بلکہ اس کی تربیت بھی کی ہے۔کالم نویسی میں انہوں نے کئی اختراعات اور نئے انداز متعارف کروائے جنہیں بعد ازاں بہت سے کالم نویسوں نے اختیار کیا اور کامیاب ٹھہرے۔اکثر کالم لکھتے ہیں اور ہر کالم ایسا کہ قاری دوسرا بھول جائے۔بے تحاشا لکھنے کے باوجود شگفتگی ماند نہیں پڑتی۔مزاح نگاری کے امام جناب یوسفیؔ صاحب نے درست فرمایا کہ قاسمی صاحب اتنا لکھتے ہیں لیکن تازگی نہیں جاتی۔ان کی شاعری بھی ایک معتبر حوالہ ہے۔ ان کے کئی اشعار زبان زدِ عام ہیں۔ان کا ایک نعتیہ شعر ان کے بھر پور عشقِ رسولﷺکو ظاہر کرتا ہے۔اس فقیر کی رائے میں وہ اگر اور کچھ بھی نہ لکھتے تو بھی یہ شعر ان کو زندہ رکھنے کے لئے کافی تھا :
تو نے کچھ بھی تو دیکھنے نہ دیا
اے مری چشمِ تر مدینے میں
استادِ محترم جناب قاسمی صاحب بے حد قابلِ قدر رویے کے حامل، وسیع دستر خوان رکھنے والے ایک شفیق اور محبتی انسان ہیں۔ صلہ رحمی میں آپ قابلِ رشک کردار کے مالک ہیں۔رشتہ داروں کو ساتھ لے کر چلنا اور سنبھالنا کوئی ان سے سیکھے۔ان سے ملنے والے اس خوشگوار ’’ الجھن ‘‘ میں مبتلا رہتے ہیں کہ یہ ادیب بڑے ہیں یا انسان۔ان کی دلکش تحریروں اور ان کے اعلیٰ انسانی اوصاف نے انہیں مجموعی طور پر ایک بے حد محبوب شخصیت بنا رکھا ہے۔ قاسمی صاحب کی شخصیت اور فن میں ہمیں بُعد نظر نہیں آتا۔ ان کی شخصیت کا اعجاز ان کی تحریر میں در آیا ہے ۔ چنانچہ ان کی صحبت میسّر آئے یا تحریر‘ مزا ہمیشہ ایک سا ہی آتا ہے۔ان کی صحبت اور گفتگو میں ایسا سحر ہے کہ گھنٹوں بیت جائیں گے آپ کو احساس تک نہیں ہو گا۔فقیر سید وجیہہ الدین ، ’’ روزگارِ فقیر ‘‘ میں علامہ اقبال کے بارے میں لکھتے ہیں۔’’ ڈاکٹر صاحب کی ذات سے کبھی کسی دوست کو کوئی رنج نہیں پہنچا۔۔ ان کا ہر ملنے والا یہی سمجھتا کہ ڈاکٹر صاحب مجھ پر زیادہ کرم فرماتے ہیں۔‘‘ قاسمی صاحب اقبال کو اپنا مرشد کہتے ہیں اور مرشد کی ادائیں ان میں بعینہ موجود ہیں ۔ وہ احباب کی محفلیں سجاتے ہیں اور پھر نازک آبگینوں کی طرح ان کا خیال کرتے ہیں ۔ ان کی دل شکنی انہیں منظور نہیں۔ اور ہر کوئی یہی خیال کرتا ہے کہ قاسمی صاحب اس پر زیادہ مہربان ہیں۔
قاسمی صاحب نو آموز ادیبوں کی انگلی پکڑتے ہیں۔ انہیں چلنے کا حوصلہ دیتے اور طریقہ بتاتے ہیں۔کئی برس پہلے جب میں ان سے پہلی دفعہ ’’ معاصر ‘‘ والے دفتر میں ملا تو میں نے انہیں اپنا چودہ صفحات کا طویل مزاحیہ مضمون دکھایا۔میرا خیال تھا کہ وہ ایک دو صفحے ہی پڑھیں گے لیکن انہوں نے کمال شفقت سے نہ صرف پورا مضمون پڑھا بلکہ درمیان میں رک کر میرے کئی جملوں پر داد بھی دی۔بعد ازاں انہوں نے اسی مضمون کے دو صفحات پر مبنی کالم لکھا اور اس ناچیز کی تحسین فرمائی۔ دشتِ ادب میں ایک نووارد کی ایسی پزیرائی جس اعلیٰ ظرفی کی متقاضی ہے وہ ہما شما کو نصیب نہیں ہوتی۔
قاسمی صاحب ایسی نابغہ شخصیات کسی بھی قوم کا سرمایہ ہوتی ہیں۔ستم ظریفی یہ ہے کہ چند کم ظرف لوگ انہیں ہدفِ تنقید بناتے ہوئے ان پر عہدوں کے حصول اور مفاد پرستی کا الزام لگاتے ہیں۔یہ بے ذوق لوگ شاید نہیں جانتے کہ عظیم ادیب اور شعراء حضرات ان عہدوں اور رتبوں سے بہت بلند ہوتے ہیں۔ ماضی میں کتنے ہی اہم عہدوں پر مختلف لوگ متمکن رہے لیکن آج کسی کو کچھ یاد نہیں۔دوسری طرف جو عہدے عظیم ا لمرتبت ادبی شخصیات کوسونپے گئے وہ انہی کے ساتھ امر ہوگئے۔ پطرس بخاری کا تعارف ان کے شاندار مضامین ہیں ناکہ ان کا اقوامِ متحدہ کا مندوب مقرر ہونا۔کوئی بتلائے کہ کیا فیض ؔ صاحب اس بنا پر مقبول ہیں کہ وہ نیشنل آرٹس کونسل کے سربراہ رہے ہیں؟یہ عہدے ،مرتبے ا ور اعزازات ایسی شخصیات کے عزت و وقار میں اضافے کا باعث نہیں بنتے بلکہ ان اعزازات وغیرہ کی اپنی قدروقیمت اور عوامی پہچان بڑھ جاتی ہے۔آج ہم اگر لینن پرائز کو جانتے ہیں تو محض اس لئے کہ یہ ہمارے فیضؔ صاحب کو ملا تھا۔کیا خیال ہے اگر اقبال کو سر کا خطاب نہ ملا ہوتا تو ان کے موجودہ مقام و مرتبے میں کچھ کمی ہوتی ؟ قاسمی صاحب کا اصل عہدہ ان کا قلم ہے۔البتہ جن شعبوں میں انہیں کام کرنے کا موقع ملا ہے انہوں نے شاندار اور یادگار خدمات انجام دی ہیں۔بطور سفیر ان کی کارکردگی ہر لحاظ سے قابلِ تحسین رہی ہے۔سفارتکاری کے دوران ان کا ہر عمل ارضِ پاک سے گہری محبت اور خلوص کو ظاہر کرتا ہے۔اور بطور چئیر مین الحمرا آرٹس کونسل تو انہوں نے تاریخی کارنامے انجام دئیے۔انہوں نے چار مرتبہ لاجواب اور عدیم المثال عالمی علمی و ادبی کانفرنسز کا انعقاد کر کے علم و ادب کے ساتھ اپنی گہری وابستگی کا حق ادا کر دیا۔ مذید براں ان کانفرنسز کا انعقاد ان کی بے پناہ انتظامی خوبیوں کا بھی اظہار ہے۔
قاسمی صاحب بلا شبہ ایکLegendary ادیب اور کالم نگار ہیں۔یوسفی صاحب نے ایک دفعہ قاسمی صاحب کو بتایا تھاکہ جب کبھی کچھ بھی لکھنے کو دل نہ چاہ رہا ہو تو میں ان کی ( قاسمی صاحب ) تحریریں پڑھ کر لکھنے کے لئے تحریک حاصل کرتا ہوں۔یاد رہے یہ وہ یوسفی ہیں جن کے متعلق بجا طور پر کہا گیا کہ ہم مزاح کے عہدِ یوسفی میں زندہ ہیں۔ناصر کاظمی نے انتظار حسین کے بارے میں کہا تھا کہ یہ مردہ لمحوں میں جان ڈا ل دیتا ہے۔ہم استاد محترم جناب قاسمی صاحب کے بارے میں کہیں گے کہ آپ اپنی شگفتہ نگاری سے مردہ دلوں میں جان ڈال دیتے ہیں۔آپ کی تحریریں ہزاروں، لاکھوں لوگوں کے لبوں پر بے ساختہ مسکراہٹ اور دل و دماغ میں خوشگوار احساس پیدا کرنے کا باعث بنتی ہیں۔اردو ادب کے حوالے سے ایسی یگانہ روزگار شخصیت آجکل ہمیں کہیں اور نظر نہیں آتی۔فرازؔ کا شعر یاد آتا ہے۔
تیرے ہوتے ہوئے محفل میں جلاتے ہیں چراغ
لوگ کیا سادہ ہیں سورج کو دکھاتے ہیں چراغ

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *