پاکستان کے ایک اور بڑے بینک کے اعلی عہدیدار کیسے چوری کرتے رہے؟حیران کن انکشاف!

32جعلسازوں کے نام ایف آئی اے کے سپرد،اینٹی سائبرکرائم یونٹ بنالیا،پریس کانفرنس
۔ فوٹو: فائل

اسلام آباد -سیکیورٹیز اینڈ ایکس چینج کمیشن آف پاکستان نے مبینہ طور پر ان سائیڈرٹریڈرنگ میں ملوث ایک اور بڑے بینک کے ملازمین کے خلاف فوجداری مقدمہ دائر کر دیا ہے۔ ایس ای سی پی کی جانب سے جاری کردہ معلومات کے مطابق کپیٹل مارکیٹ میں شفافیت قائم کرنے کے لیے ان سائیڈرٹریڈرز کے خلاف کارروائی کو آگے بڑھاتے ہوئے کمیشن نے ایک اور بڑے بینک کے ملازمین کے خلاف کراچی کی عدالت میں فوجداری مقدمہ دائر کرادیا ہے، بینک کے 3اعلیٰ افسران، اپنے رشتے داروں اور اسٹاک بروکرز کے ساتھ مل کر ان سائیڈر ٹریڈنگ میں ملوث پائے گئے۔

ایس ای سی پی کے مطابق ایک افسر ہیڈ آف ٹریژری تھا جبکہ دوسرا کیپٹل مارکیٹ کا ڈیلر اور تیسرا بینک کا فنانشل انالسٹ ہے، یہ تینوں بینک کے کپیٹل مارکیٹ سے متعلقہ معاملات کے لیے ذمے دار تھے، بینک میں اپنے عہدوں اور ذمے داریوں کے باعث ان کی بینک کی سرمایہ کاری سے متعلق حساس معلومات تک رسائی تھی اور پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں حصص کی خرید و فروخت کے فیصلوں کا بھی پہلے سے علم ہوتا تھا۔

ایس ای سی پی نے ملوث افراد کے خلاف کراچی کی عدالت میں فوجداری مقدمہ کردیا۔ فوٹو: فائل

علاوہ ازیں مذکورہ ملازمین نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے بینک کی حساس معلومات 2 بروکرزکے گاہکوں کو فراہم کیں جن سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انہوں نے ان سائیڈر ٹریڈنگ کی، اس طرح بینک کی جانب سے حصص کی خرید و فروخت کیلیے جاری کیے جانے والے آڈرز پر ان افراد نے فرنٹ رننگ کی اور ناجائز منافع کمایا، فرنٹ رننگ میں ملوث بروکر ہاؤسز کے صارفین نے بینک کی معلومات پیشگی ملنے پر کھل کر ٹریڈنگ کی جبکہ اس غیر قانونی ٹریڈنگ کی سرگرمی سے اس گروہ کے تمام افراد نے بڑے پیمانے پر نفع کمایا اور بینک کو کافی نقصان پہنچایا گیا، ان افراد نے سیکیورٹیز ایکٹ کی ان سائیڈر ٹریڈنگ سے متعلق شقوں کی خلاف ورزی کی :-

loading...

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *