گھر تو اپنا ہے

Seemi Kiran

میں ٹی وی پر ٹاک شوز دیکھنے کی غلطی کر ہی لوں تو دیکھتی ہوں کہ وہ اپنے اپنے میڈیا چینلز کی وابستگی کے حساب سے "حسب توفیق اور حسب استطاعت" کسی نہ کسی سیاستدان کی مٹی پلید کر رہے ہوتے ہیں !

کہیں عمران خان کی حماقتیں اور پلٹنیاں زیر بحث ہیں !

کہیں شہباز شریف کی دھلائی ہو رہی ہے !

اور کہیں نواز شریف زیر عتاب ہے !

کہیں مریم بی بی کے قصے ہیں اور خوب ہیں !

کہیں زرداری کی ہضم کی جا چکی اور کچھ نگلی اگلی پیپلز پارٹی کے تذکرے ہیں ! کہیں بلاول کے بھٹو ہونے پہ بحث ہے !

ان تذکروں کو دیکھ کر لگتا ہے کہ صرف اور صرف یہ سیاستدان ہے جو دنیا میں ابلیس کا روپ لے کر پیدا ہوا ہے !

ہمارے ملک میں جتنی گندگی ، غلاضت اور کرپشن ہے اسکا اصل سرغنہ یہی سیاستدان ہے !

سیاستدان نہیں کم بخت کچرے کا ڈبہ ہے !

جس کے پاس سے گزرتے بھی بو آتی ہے !

سو ہر کوئی اس کچرے کے ڈبے میں حسب توفیق اضافہ کرتا چلا جاتا ہے !

معاً ٹی وی ڈرامہ چلنا شروع ہو جاتا ہے ، یہ بھی ایک کم بخت ، بد بخت سیاستدان کے گرد گھومتا ہے جو کسی پرانے راجا کی طرح مطلق العنان ہے ! بدکار ہے ہر قسم کی حرام کاری میں ملوث ہے !

مگر جونہی اسے خبر ملتی ہے کہ الیکشن سر پر ہیں اور اسکے کسی اسکینڈل کی خبر یا بھنک میڈیا سے ہوتی ہوئی عوام تک پہنچ جائے گی تو اسکے ہاتھوں کے تمام طوطے اڑ جاتے ہیں !

اسکی پھرتیاں ملاحظہ کرنے کے قابل ہیں !

اور وہ کچھ ریوڑیاں دینے کے مصداق ہی سہی " کچھ دینے اور کرنے پہ" خود کو مجبور پاتا ہے !

بس دوستو ! یہی وہ فلیشنگ پوائنٹ تھا جو اس کالم کا محرک بنا !

تسلیم سرخم کہ سیاست دان واقعی گندا ہے !

کرپٹ ہے !

کرپشن کی انتہا ہو چکی !

ہمیں اسکی کرپشن کی نشاندہی کرنی چاہیے !

اسے ہماری ریاست ، ہمارے اثاثوں اور ہمارے دئیے ٹیکسز کو لوٹنے کا کوئی حق نہیں !

اسکے اصل وارث ہم ہیں !

مگر سوال یہ ضرور بنتا ہے کہ کیا کرپٹ صرف سیاستدان ہے ؟

کیا یہ صرف سیاستدان ہیں جو ابلیس کے روپ میں پیدا ہوا تھا ؟

کہانی ، ڈرامہ ، شو یوں کیوں نہیں ہوتا کہ ایک تھا جنرل ، ایک تھا کرنل جو بہت کرپٹ تھا ۔۔۔۔۔ یا پھر ایک تھا چیف جسٹس ، جج جس نے غبن ، رشوت اور عدلیہ کے وقار کا سودا بہت سستا کیا !

ایک تھا میڈیا چینل جو بک گیا ۔۔۔۔۔ ویسے ایک دوسرے کی ضد میں یہ کام ۔۔۔۔۔۔ نیک کام میڈیا چینلز انجام دینے لگے ہیں !

یہ شر کا بیج بھی انکے باہمی اتحاد میں کس نے بویا

کون نہیں جانتا ؟! ورنہ انکا ایکا و اتحاد قابل رشک تھا !

خیر ہر فرعونیت کو جھکانے کو موسیٰ کسی نہ کسی صورت اپنی عصا کے ساتھ نمودار ہو ہی جایا کرتا ہے !

تو خیر کہانی تو کسی بھی طرح ہو سکتی ہے !

ایک تھا صحافی جو صحافی کم ۔۔۔۔۔ گینگسٹر تھا ۔۔۔۔۔ ایجنسز کا ٹاؤٹ تھا ۔۔۔۔۔ وغیرہ وغیرہ !

ایک تھا بزنس ٹائیکون جسکی رسائی کوہ قاف تک تھی ، جنات و پریاں اسکے مطیع تھیں !

سو وہ قتل  بھی کرتا تھا تو کرامات ہی کرتا تھا ۔۔۔۔

وغیرہ وغیرہ ! حالیہ بحریہ ٹاؤن سانحہ پہ کیا عمدہ ڈرامہ کہانی بنتی ہے!

کہانی کسی بھی طرح ہو سکتی ہے !

بہت سی کہانیاں ہیں کرپشن کی !

مگر لے دے کے پکڑا کون جاتا ہے ، یہ آپکا اور میرا سیاستدان !

حکومت کرنے کے شوق میں سب کے پھیلائے گند کو قبول کرکے شاہی سواری پہ سوار ہو جاتا ہے !

ہمارے جوتے کھاتا ہے !

گالیاں سنتا ہے !

سننی چاہئیے بھی !

ہمیں لوٹو گے تو ہم گالیاں بھی نہ دیں !

جوتے ، ٹماٹر اور گندے انڈے مار کر اپنا غصہ بھی ٹھنڈا نہ کریں !

ہم غصے پہ آتے ہیں تو سیاستدان کی ماں ، بہن ، بیٹی تک ایک کرکے رکھ دیتے ہیں !

وہ ہماری جو کرتا ہے ، وہ ہمیں معاف نہیں کرتا ! ہم کیوں کریں !

مگر دوستو ذرا ایک پل کو سوچئے ۔۔۔۔۔ چھوڑئیے وہ کفن چور والا لطیفہ تو آپ نے سن ہی رکھا ہوگا ۔۔۔۔

یہ نہ ہو پہلے کفن چور کے قصے سن کر ، پراپیگینڈہ سن سن کر ہم کسی غیر منتخب شدہ یا امپورٹڈ کسی اور برانڈ کے اس سے بھی بڑے کفن چور کو خود پہ مسلط کر بیٹھیں اور اسکے بعد آہیں بھریں !

کہ یہ ہمارے ساتھ کیا ہوا ؟! ہاتھ ہو گیا تو !

یہ تو ہمارا مردہ خراب کرکے ہمیں رونے کی اجازت بھی نہیں دیتا !

اس سے تو بہت اچھا ہمارا پہلا کفن چور تھا وہ کم از کم کفن چوری کرتا تھا ، مردہ تو خراب نہیں کرتا تھا !

اور جو ہمارے ہتھے کبھی چڑھ جاتا تو ہماری گالیاں بھی کھا لیتا تھا ! کبھی منہ پر کالک ملنے ، جوتا مارنے میں بھی کامیاب ہو جاتے تھے !

مانا ! اس سیاستدان نے بہت گند پھیلا رکھا ہے !

مگر صاحبو ! اسکے اردگرد جو "فرشتے" ہیں وہ یقین کیجئے اس سے بہت زیادہ گندے ہیں !

بحث صرف یہ ہے کہ انکی گندگی کو زیر بحث لانے کی اجازت کیوں نہیں ؟!

سیاستدان کی ٹانگ گھسیٹئے ضرور گھسیٹئے ۔۔۔۔۔ اسکی اصلاح کے لیے ضروری ہے مگر اس کھیت کو مت اجاڑیے جہاں یہ فصل پیدا ہوگی !

سیاستدان کو پنپنے ، پھولنے اور اپنے انتخاب کی طاقت سے سہما کر رکھیے !

اپنے چناؤ کی غلطی کسی اور کے کندھے پہ مت ڈالیے !

اور گر یہ سوال کھڑا ہوتا ہے کہ ہمارے پاس چناؤ کے لیے آپشن ہی کیا ہے تو پھر اس سوال کا جواب ڈھونڈیے کہ ستر برسوں میں کیوں اور کس وجہ سے مضبوط سیاسی ڈھانچہ کھڑا نہیں ہو سکا جہاں خود بخود لیڈر پیدا ہوتے !

اس صاحب نے بہت غلطیاں کی ہیں جسکے باعث اسکی جورو اس سے باغی و خود مختار ہو کر جانے کہاں کہاں ناجائز بچے جن چکی ہے !

اور یہ وہ مسئلہ نہیں ہے کہ ۔۔۔۔۔ کی جورو نے خصم کیا برا کیا ، چھوڑ دیا اور برا کیا !

مسئلہ یہ ہے کہ صاحب کی کن حرکات نے یا کن اسباب نے جورو کو یہ شہ دہ اور اتنی دی کہ وہ بہت سے ناجائز بچوں کو جنم دے چکی ہے !

جن کو نہ مانتی ہے اور نہ مار سکتی ہے !

اور مسئلہ یہ ہے کہ آخرکار آپ کو اپنے سیاسی عمل کو اتنا مضبوط کرنا ہوگا کہ صاحب اپنے کرتوتوں کا جائزہ لے کر جورو کو سدھار سکیں !

صاحب اور جورو دونوں کے سدھار ہی میں آپکے گھر کی بقا ہے کیونکہ گھر تو آخر اپنا ہے !

اپنی آنکھیں کھولیے ، اپنے اردگرد افواہوں اور خبرمیں تمیز کرنا سیکھئے!

اپنے چنائو کی اہمیت اور حق کو بھی پہچانئے!

سیاست دان ہی نہیں۔۔۔۔۔اردگرد پھیلی ہر گندگی پہ آپ کی نظر ہونی چاہیے!

یہی سیاسی ، عصری اور اجتماعی شعور کا تقاضہ ہے کیونکہ یہ گھر آپ کا، میرا اور ہم سب کا ہے۔۔۔۔گھر تو اپنا ہے!!!

 

loading...

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *