کیا بادشاہ بھی جہاز اڑاتے ہیں؟

سپیشل رپورٹ

Prince William piloting an air ambulance

21 سال تک نیدر لینڈ کے بادشاہ نے دو مرتبہ ماہانہ کو پائلٹ کے فرائض سر انجام دیے ۔ یہ راز انہوں نے آج ایک نیدر لینڈ کے اخبار کی انتظامیہ کے سامنے ظاہر کیا۔ ولیم الیگزینڈر نے اپنی شاہی کرسی 2013 میں خالی کر دی لیکن پائلٹ کی نوکری ابھی جاری ہے۔ انہوں نے دی ٹیلیگراف کے سامنے پرجوش انداز میں بتایا کہ وہ جہاز اڑانے کے بہت شوقین ہیں۔ ان کا ارادہ ہے کہ وہ اس شعبے سے الگ نہیں ہوں گے اور بوئنگ 737 کی تربیت حاصل کریں گے۔ اب تک ولیم الیگزینڈر فوکر طیارے میں کو پائلٹ کے فرائض سر انجام دے چکے ہیں ۔ ملک کے بادشاہ بننے سے قبل وہ پائلٹ لائسنس برقرار رکھنے کے لیے گیسٹ پائلٹ کی حیثیت سے خدمات سر انجام دیتے رہے ہیں۔

جو چیز کلیر نہیں تھی وہ یہ تھی کہ وہ پیسنجر فلائٹس کے کو پائلٹ کی حیثیت سے کام کر رہے تھے اور ابھی ایک ماہ قبل وہ ملک کے بادشاہ تھے۔وہ اکثر کے ایل ایم کیپٹین مارٹن پٹمین کے ساتھ کو پائلٹ کے فرائض سر انجام دیتے تھے۔ پچھلے ماہ ہالینڈ حکومت نے بتایا کہ انہوں نے فوکر 70 ائیر کرافٹ حکومت اور کے ایل ایم سٹی ہاپر نامی کمپنی کے لیے اڑایا۔ اور اس سال وہ 737 فلائٹ اڑائیں گے۔ ولیم الیگزینڈر نے ایک بار کہا تھا کہ اگر وہ شاہی محل میں پیدا ہوتے تو انہیں جہاز اڑانے کا شوق نہ ہوتا ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ نئے جہاز میں بھی پائلٹ کے فرائض سر انجام دینے کا سلسلہ جاری رکھنا چاہتے ہیں۔

A KLM Fokker 70

انہوں نے دی ٹیلیگراف سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے کبھی مسافروں سے بات کرتے ہوئے اپنا نام نہیں بتایا اور لوگ انہیں فلائٹ کی وردی میں ملبوس دیکھ کر پہچان نہیں پاتے تھے۔ البتہ کچھ مسافروں نے ان کی آواز پہچان لی تھی۔اس معاملے میں بہترین چیز یہ تھی کہ وہ یہ اعلان کیا کرتے کہ مسافوں کو کیپٹن اور عملے کی طرف سے خوش آمدید کہا جاتا ہے۔ اس وجہ سے انہیں اپنا نام ظاہر کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی تھی۔ 2001 کے امریکہ میں حملے سے قبل عوام کو معلوم پڑ جاتا تھا کہ پائلٹ کون ہے لیکن اس بڑے حادثہ کے بعد کیبن کا دروازہ بند رکھا جاتا ہے اور مسافر کا پائلٹ سے کوئی رابطہ نہیں ہوتا۔

ہالینڈ کے بادشاہ کو جہاز اڑانے کا شوق اپنی ماں بیٹرکس کی خواہش پر پیدا ہوا۔ ان کی ماں 2013 میں ملک کی ملکہ تھیں۔ ولیم بہت سے رائل پائلٹس میں سے ایک ہیں ۔ دوسرے بڑے شاہی پائلٹس میں مندرجہ ذیل افراد شامل تھے:

سلطان آف برونائی جنہوں نے بوئنگ 747 میں پائلٹ کے فرائض سر انجام دیے

پرنس ولیم نے آر اے ایف ائیر ایمبولینس سروس کی نوکری اسی سال چھوڑی

پرنس ہیری نے افغانستان میں اپاچی ہیلی کاپٹر کے کو پائلٹ کے فرائض سر انجام دیے

جورڈن کے کنگ عبداللہ ایک تربیت یافتہ پائلٹ ہیں

اپنے انٹرویو میں کنگ ولیم الیگزینڈر کو پائلٹ کی حیثیت سے اپنے مستقبل کے بارے میں بہت پرجوش نظر آئے۔ انہوں نے کہا: ایک ہی دن میں بہت سے ممالک کی طرف ہوائی سفر بہت مزیدار ہوتا ہے۔ زیادہ مسافر اور فاصلہ ہو تو اور بھی مزہ آتا ہے۔ 737 پر ٹریننگ کا بنیادی مقصد یہی تجربہ حاصل کرنا تھا۔کنگ نے وضاحت کی کہ ان کے لیے سب سے اہم چیز ایک مشغلہ حاصل کرنا تھا جس پر وہ پوری توجہ دے سکیں اور جہاز اڑانا ان کے لیے سب سے زیادہ پر سکون چیز تھی۔ آپ کے پاس ایک جہاز ہے، مسافر ہیں اور عملہ ہے تو آپ ان سب کے ذمہ دار ہیں۔ آپ اپنے مسائل کو ساتھ زمین پر نہیں لا سکتے۔ وہاں آپ کچھ دیر کے لیے سوئچ آف کر کے کسی دوسری چیز کی طرف توجہ مبذول کر سکتے ہیں۔

loading...

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *