بجٹ آمد۔ دعوے بھی وہی حالت بھی وہی

khalid mehmood rasool

سالانہ بجٹ کب آئے گا، اس کا اندازہ یوں تو کیلنڈر سے ہو جاتا ہے لیکن اس کے کچھ آثار کیلنڈر دیکھنے کی زحمت سے بھی بچا لیتے ہیں۔ بجٹ کی آمد سے قبل دو انتہائی شناسا معمولات شروع ہو جاتے ہیں، حکومتی دعوے اور کاروباری تنظیموں کی داد فریاد۔ حکومتی وزراء کا لبِ لباب یہ ہوتا ہے کہ اس سال ریکارڈ بنانے والوں کو دگنا کام کرنا پڑے گا کیونکہ گذشتہ سال کے تمام ریکارڈ ٹوٹنے والے ہیں۔ شرح نمو، افراطِ زر، محاصل کی وصولیابی، ترقیاتی بجٹ وغیرہ وغیرہ میں ریکارڈ اضافہ؛ اتنا کہ مخالفین کے مونہہ بند اور زبانیں گنگ ہو جائیں گی۔ خوشحالی کے ایک چھوڑ درجنوں باب کھلنے والے ہیں۔
دوسری طرف اخبارات میں مختلف کاروباری تنظیموں کے نمایاں اشتہارات جن میں با تصویر داد فریاد ہوتی ہے۔ ہر تنظیم کے اپنے مسائل ہوتے ہیں لیکن عموماٌ معاملہ ’انداز ہو بہو تیری آوازِ پاء کا تھا ‘ والا ہوتا ہے۔ مخصوص مسائل کا ذکر اپنی جگہ لیکن انداز تقریباٌ ایک سا ہی ہوتا ہے ؛ تنظیم ہذا وزیر اعظم کے اقبال کی سربلندی کے لیے ضبح شام دعا گو رہتی ہے ۔ حضور کے تخت کی سلامتی کی متمنی ہے لیکن اس کے باوجود حضور کے تخت کے نیچے ان کا دھڑن تختہ ہو رہا ہے۔ حضور کو فرصت ہو تو خود نظر جھکا کر مظلوموں کا احوال ملاحظہ فرمائیں اور اگر مصروفیت اجازت نہ دے تو متعلقہ وزیر با تدبیر کو حکم فرماویں کہ فدیوں کی درخواست پر غور فرماویں اور مطالبات کی منظوری کا پروانہ فوراٌ جاری فرماویں۔ اگر حضور اور ان کے وزیر باتدبیر عین انہی دنوں یہ داد رسی نہ کرسکیں تو سمجھ لیں کہ ہمارا شعبہ بالکل بیٹھ جائے گا اور خلق خدا بے روزگار ہو جائے گی۔ اب حضور جانیں اور حضور کے وزراء باتدبیر، ہمارا ذمہ اب توش پوش۔
وزیر خزانہ کا ارشاد ہے کہ شرح نمو گذشتہ سال سے کہیں زائد ہے۔ کوئی نیا ٹیکس لگائے جانے کا ارادہ نہیں بلکہ اس سال ترقیاتی بجٹ کا حجم تاریخی ہو گا۔ بیرونی سرمایہ کاری کا رنگ چوکھا نہ سہی کچھ کچھ تو آنے لگا ہے۔ وزیر اعظم نے وزارت خزانہ کے لیے ایک مشیر برائے ریونیو بھی مقر ر کر رکھے ہیں۔ ڈیلی ایکسپریس کی ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ روز اسلام آباد میں ان کی سربراہی میں ایک اجلاس ہوا جس میں 10 ہزار ارب روپے مالیت کی بلیک اکونومی کو قومی دھارے میں لانے کا فیصلہ کیا گیا۔ کیسے؟ تفصیل اس اجمال کی کچھ یوں ہے کہ موصوف نے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں بلیک اکونومی کو قومی دھارے میں لانے کے لیے ایک تین سالہ سٹریٹجی پیپر کی منظوری دی۔ جس کے تحت پہلا کام یہ کیا کہ ایک کمیٹی قائم کر دی گئی جو اس پیپر کی سفارشات پر علم درآمد کے لیے اقدامات تجویز کرے گی۔ بس اِ دھر اِس کمیٹی کی سفارشات آئیں ادھر بلیک اکونومی کے خلاف اقدامات کی یلغار شروع۔ البتہ اس دوران کمیٹی نے کچھ بجٹ تجاویز کو حتمی شکل بھی دی۔ نان فائلر کے لیے ٹیکس کی شرح مزید بڑھا دی جائے گی تاکہ مجبور ہو کر وہ ٹیکس فائل کرنے پر تیا ر ہو جائے۔ مزید یہ کہ ایف بی آر نے دس لاکھ ایسے افراد کا سراغ لگا لیا ہے جو خوشحالی کے گلچھرے اڑا رہے ہیں اور سرکار کو ایک پھوٹی کوڑی بھی دینے کو تیا ر نہیں۔ بس اب ان کی خیر نہیں، حکومت ان کی دہلیز پر پہنچی کہ پہنچی!
ہماری ذاتی معیشت ہمیشہ سے گراؤنڈ پر ہی رہی ہے لیکن کچھ دوستوں کی دیکھا دیکھی چند ہزار روپے ضرور انڈر گراؤنڈ ر کھے ہیں، اس لیے رپورٹ کا ابتدائی حصہ پڑھتے ہوئے لرزاں ہوئے کہ حکومت کہیں دھم سے انڈر گراؤنڈ اکونومی کو گراؤنڈ ہی نہ کر دے اور یوں ہمارے چند ہزاری سرمایہ کاری کو خطرات لاحق ہوں لیکن پوری رپورٹ پڑھی تو تشفی ہوئی۔ ایک تو یہ کہ حکومت کے ابھی تک یہ یقین ہے کہ بلیک اکونومی سے مستفید لوگوں کو دستاویزی شکل میں لانے کی مناسب ترغیب نہیں دی گئی۔ اس لیے اس بجٹ میں ان کی ترغیب کے لیے کچھ ریلیف دیا جائے گا تاکہ لوگ ڈاکومینٹیشن کی طرف راغب ہوں۔ اس کے ساتھ ہی انفورسمنٹ کے اقدامات کی بھی مزید سخت کیا جائے گا اور نان فائلرز کے خلاف گھیرا تنگ کیا جائے گا۔ گھیرا ڈالنے کے لیے ایف بی آر نے دس لاکھ نان فائلرز کی تفصیلات اکٹھی کر لی ہیں۔ فی الحال حکومت کے ترکش میں یہی تیر تھا جس کی نشاندہی کر دی باقی کے تیروں کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔ وہ جانے اس کا کام۔ اب اس سے زیادہ بندہ کیا کرے!
پاکستان کی معیشت میں ٹیکس گذاری کا رجحان تمام تر کوششوں کے باوجود پنپ نہیں سکا۔ ماضی کی تمام حکومتوں نے اپنے تئیں بلیک اکونومی کو دستاویزی معمول پر لانے کی کوشش کی۔مجموعی ٹیکس جی ڈی پی کی شرح نو دس فی صد سے نہ بڑھ سکی۔ یہ شرح اس خطے میں بھی سب سے کم ہے اور دنیا میں بھی۔ کم و بیش ہر حکومت نے بلیک اکونومی کو دستاویز ی معمول میں لانے کے لیے ٹیکس ایمنسٹی اور کالے دھن کو سفید کرنے کے اسکیمیں متعارف کروائیں اور ساتھ ہی سنگین نتائج کی وارننگ بھی دی لیکن نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات۔ بلیک اکونومی کا حجم وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتا گیا۔ کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ اب بلیک اکونومی فارمل اکونومی کا ساٹھ فی صد کے لگ بھگ ہے۔ موجودہ حکومت نے گذشتہ چار سال میں انتہائی بلند بانگ دعووں کے ساتھ دو ایمنسٹی اسکیمیں متعارف کروائیں۔ دونوں اسکیموں کا حشر پہلی اسکیموں سے مختلف نہ تھا۔ حکومت نے خاموشی سے دونوں اسکیموں کی تہہ کر رکھے طاق پر رکھ دیا۔ اب یہ شہرہ ہے کہ ایف بی آر کے پاس ایسے دس لاکھ لوگوں کا ڈیٹا ہے جو اپنے وسائل سے کہیں زیادہ پر تعیش زندگی گذار رہے ہیں۔ ان کے بچے مہنگے اسکولوں میں پڑھ رہے ہیں، نئی نئی گاڑیوں کے مالک ہیں، فارن ٹریول بھی اکثر کرتے ہیں۔ اب حکومت کا ان دس لاکھ پرتکیہ ہے کہ بقول مشیر با تدبیر انہیں ترغیب دِلا کر ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔ ۔۔ کون مر نہ جائے اس سادگی پر !
معیشت کے بنیادی ڈھانچے کے خدوخال پر دنیا بھر کے تجربات کے بعداتفاق رائے ہے۔ سالانہ شرح نمو، ٹیکس جی ڈی پی تناسب، بجٹ خسارہ، سالانہ معاشی اثاثہ جات ( Fixed assets formation) کی بڑھوتری، مجموعی بچتیں، افراطِ زر کی شرح، امپورٹ ایکسپورٹ کا میزانیہ ، زر مبادلہ کے ذخائر وغیرہ۔ دو اڑھائی فی صد سالانہ افزائش آبادی والے ملک میں کم از کم سالانہ شرح نمو چھ سات فیصد ہو تو ایک معقول معاشی ترقی ممکن ہے لیکن پاکستان گزشتہ کئی سالوں سے تین ساڑھے تین فی صد میں اٹک کر رہ گیا ہے۔ البتہ گذشتہ سال یہ شرح چار فی صد سے اوپر گئی۔۔ پڑھے لکھے نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح بہت زیادہ ہے۔ اعدادوشمار گواہ ہیں کہ بیرونی قرضوں میں بدستور اضافہ ہوا ہے بلکہ موجودہ حکومت کو زرِ مبادلہ کے ذخائر کو برقرار رکھنے کے لیے بھی بیرونی قرضوں کا سہارا لینا پڑا۔ برآمدات میں مسلسل کمی جبکہ درآمدات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ سالہا سال سے سب سے بڑا سہارا بیرون ملک ترسیلات کا رہا جس کا حجم بھی اب کم ہور ہا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی معیشتیں خود مشکل میں ہیں۔
معیشت کے استحکام کے عمومی پیمانوں سے دیکھیں تو پاکستان کی معیشت میں وہ بنیادی چیلنجز آج بھی ہیں جو دس بیس بلکہ تیس سال پہلے تھے، بیس سال پہلے تھے ۔ کرپشن اور بد انتظامی نے وسائل کی لوٹ کھسوٹ کو معمول بنا دیا ہے۔ معیشت کے دستاویزی معمول میں سرمایہ کاری سے گریز کا رجحان پھل پھول بھی رہا ہے اور محفوظ بھی ہے۔ پراپرٹی میں منافع کاروبار سے کہیں زیادہ ہے اور ٹیکس کا جنجھٹ بھی نہیں، یہاں نہیں تو دوبئی میں پیسہ لگائیں، پیسہ باہر لے جانا اتنا ہی آسان جتنا موبائل فون کا بل بھرنا۔ اسٹاک ایکسچینج میں ہزاروں ارب روپے کا اضافہ ہو چکا مگر کیپیٹل گین ٹیکس کی شکل میں حکومت کے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں آیا۔ اس سب کے باوجود حکومت نئے بجٹ میں بلیک اکونومی کو کچھ ریلیف دے کر آزمانا چاہتی ہے تو اسکی مرضی، حکمران جو ٹھہرے !
حکومتی دعوے بلند بانگ سہی مگر کیا کریں، دِل ہے کہ مانتا ہی نہیں! ستر سالوں میں ٹیکس گذاروں کی تعداد اگر بمشکل دس لاکھ ہے تو فقط ایک سال میں ایف بی آ ر نئے دس لاکھ نان فائلر کو ترغیب دلا کر فائلر بنا لے گا ، اللہ کرے ایسا معجزہ ہو سکے۔ بلیک اکونومی کو دستاویزی معمول میں لانے کے لیے ابھی اگر ایک اور کمیٹی کو اقدامات تجویز کرنا ہیں تو ان دعووں پہ کیا اعتبار کریں۔ ہاں الیکشن کا سال ہے، اس کے لیے حکومت نے ترقیاتی بجٹ میں کم از کم 25 % اضافے کا فیصلہ کیا ہے۔ سو دعووں کے دور خوب چلیں گے، سو اسی کو انجوئے کرتے ہیں، معیشت کی بنیادیں جانیں اور وزیر خزانہ!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *