پیر واکی ٹاکی سرکار

mehmood-asghar-chaudhry

چالیس سال لگے ”ڈبہ پیر“ کا فراڈ پکڑے جانے میں۔حکومت برطانیہ نے اس پر چالیس لاکھ پاﺅنڈ کے فراڈ کا کیس بنایا جس میں منی لانڈرنگ اور ٹیکس چوری کو بنیاد بنایا گیا ہے گزشتہ سال حکومت برطانیہ نے اسے ، اس کی بیوی اور بیٹی سمیت 10افراد کو مجموعی طور پر 52سال قید کی سزا سنائی تھی ۔اس نے سینکڑوں مریدین بنا ئے اور وہ برطانیہ میں ہی 54مکانوں کا مالک بھی بن بیٹھا۔یونیک دربار سنٹر کے نام پر اس نے ایک درگاہ بنائی ہوئی تھی ، جہاں لوگ نذرانے چڑھاتے ۔سالانہ سال عرس مناتے ، نامور علما ءوشاعراس میں شرکت کرتے تھے۔اسے کبھی کسی نے نماز پڑھتے نہیں دیکھا تھا ،چیلوں کے مطابق پیر صاحب اپنی نمازیں بغداد اور مسجد نبوی میںادا کرتے تھے ۔ لوگوں کو اولادیں دینے کا دعویٰ کرنا،عبادت گزاری کے تمغے دینااور جنت کی بشارت دیتے ہوئے مریدکے سینے پر جنتی کا تمغہ لگادینا ان کی نمایاں خصوصیات تھیں ۔ ایک مریدکے انتقال پر جنازہ پڑھنے سے پہلے ان کے”سیکرٹری” نے بتایا کہ پیر صاحب بغداد گئے ہوئے ہیں بس وہ واپس آتے ہی ہونگے۔ کچھ دیر کے بعد پیر صاحب جلوہ افروز ہوئے توان کے سر اور داڑھی میں ریت پڑی ہوئی تھی۔مسلمانوں کے علاوہ ہندو اور سکھ بھی اس کے پاس آتے تھے ۔محبوب اختر عرف پیر پندایمان نے یہ سب کچھ اس ملک میں بیٹھ کر کیا جسے ماضی میں ولایت کہا جاتا تھا ۔ پرانے زمانے میں اگر کوئی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا چاہتا تھا تو وہ برطانیہ چلا جاتا اورلوگ کہتے کہ وہ ولایت چلا گیا ہے ۔ اسی ولایت میں رہنے والے ایشین باشندوں کی ولایت ،علم ، عرفان اور آگہی کی صورت حال یہ ہے کہ اس پیر کو ملنے کی فیس 100پاﺅنڈ فی گھنٹہ تھی اور اگر کسی کو ایمرجنسی میں ضروری ملنا ہو تو پھر وہ 150پاﺅنڈارجنٹ فیس لیکر ایڈجسٹ کرلیتا تھا ۔

تحقیقات سے یہ عقدہ کھلا کہ پیر صاحب کی ساری روحانی آگہی اصل میں واکی ٹاکی سسٹم میں پوشیدہ تھی ۔ان کا طریقہ واردات بہت ہی دلچسپ اور جدید نوعیت کا تھا ان کے پاس جب کوئی شخص اپنی پریشانی لے کر جاتا توانہیں گراﺅنڈ فلور پربیٹھک میں بٹھایا جاتا اور پیر صاحب کا کوئی مقرب خلیفہ اس سے سوال و جواب کرنا شروع کردیتا ۔ اس کمرے میں واکی ٹاکی ٹرانسمیٹرموجود ہوتا تھا اس لئے پیر صاحب اوپر والے کمرے میں بیٹھ کر ہی اس کی ساری گفتگو سن لیتے تھے بعد میں جب وہ شخص اوپر کمرے میں بیٹھے ہوئے پیر صاحب کے پاس پہنچتا تووہ سائل کو دیکھتے ہی کہتا کہ اچھا تو آپ کے یہ پریشانی ہے۔ ملاقاتی قدموں میں گر جاتا بس پھر کیا تھا وہ اپنی دولت پیر صاحب کے قدموں میں نچھاور کر دیتا ۔ یاد رہے کہ حکومت برطانیہ نے انہیں منی لانڈرنگ اور ٹیکس چوری کے جرم میں سزا دی ہے ۔روحانیت اور مذہبی بنیادوں پر نہیں اس کے مریدین کا کہنا ہے کہ ان کے پاس ساری دولت مریدین کی جانب سے دیا ہوا تحفہ ہے-

یہ خبر پڑھ کر قبلہ شفیق بٹ صاحب کامیسج آیا۔پوچھنے لگے چوہدری صاحب اگر اس بزنس میں اتنا فائدہ ہے تو پھر یہ طریقہ اپناتے ہوئے ہم پیر کیوں نہیں بن سکتے ؟۔میں نے کہااس لئے کہ ہمارا علم ”علم نافع “نہیں ہے۔ہمارا علم ابھی معرفت کے اس مقام تک نہیں پہنچا کہ ہم پیر بن سکیں ۔بٹ صاحب تو ویسے عمر کی اس دہلیز پر پہنچ چکے ہیں جہاں میں اور وہ اکٹھے بیٹھے ہو ں تو لوگ انہیں مجھ سے” پیر“سمجھیں گے لیکن معرفت والی سرکار ، کرنی والی سرکار بننے کے لئے بڑی ریاضت کی ضرورت ہے ۔چیمہ صاحب پوچھنے لگے کہ کسی اصلی پیر کو جانتے ہیں میں نے کہاجو ”پیر “ اتوار کے بعد آتا ہے اسے میں بڑے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ وہ اصلی ہے باقیوں کے بارے مجھے علم نہیں پوچھنے لگے اور اصلی مرید کون سا ہوتا ہے میں نے کہا سب سے زیادہ عقیدت والا مرید رن مرید ہی ہو سکتا ہے-

شفیق بٹ صاحب کہنے لگے یار کسی سیانے بابا جی سے پوچھوکہ ہم پیر کیسے بن سکتے ہیں ؟بابا جی کہنے لگے پتر ”پیرواکی ٹاکی بننا کوئی آسان کام نہیں ہے “اس کے لئے ”بے نیاز“ ہونا پڑتا ہے میں نے تجسس سے پوچھا کس چیز سے ؟۔دنیا داری ،خود غرضی ، لالچ یاپھر حب جاہ سے ۔۔۔؟باباجی مسکرائے اور کہنے لگے میں ولی بننے کی بات نہیں کر رہا۔ تم نے ڈبہ پیر بننے کی معلومات مانگی ہیںتو سنو اگر پیری مریدی کو بزنس بنا نا چاہتے ہو تو تمہیں بے نیاز ہونا پڑے گا، مریدوں کی پریشانیوں سے، ان کی مالی حیثیت سے اوران پرپڑی ذمہ داریوں کے بوجھ سے ، اگر تم دولت کمانے والا پیر بننا چاہتے ہو تو تمہیں صر ف اپنا پیٹ دیکھنا ہوگا، ان کی بیماریوں کو” نظر لگناکہنا ، ان کی دنیاوی پریشانیوں کو” جادو کا اثر“ کہنا ، ان کی مصیبتوں کو ”جنوں کی کارستانی “قرار دینا ۔ان کی کم عقلی ، اندھی تقلید اور ضعیف العتقادی کا فائدہ اٹھانا ۔انہیں فتوی دیناکہ دولت قبر کا عذاب اور دنیا کتے کی ہڈی کی طرح ہے لیکن خود وہی مال لیکر اپنی جیب میں ڈال لینا ۔ لوگوں کو لالچ ، طمع اور حرص کے خلاف درس دینا لیکن اپنی نظر ان کی جیب پر رکھنا ، اپنا علاج دنیا کے قابل ترین ڈاکٹروںسے کروانا اور ان کو تعویذ گنڈاتھما دینا ، خود دنیا کی قیمتی ترین سواریوں پر سفر کرنا اور انہیں قناعت کا درس دینا ۔ اپنے بچے امریکہ کینیڈا اور یورپ کی اعلی ٰترین درسگاہوں میں ڈالنا او ر انہیں کہنا کہ صرف پاکی پلیدی کا علم کافی ہوتا ہے اپنی جیب میں غیرملکی پاسپورٹ ڈال لینا اورا نہیں کہنا کہ سارا مغرب تمہارا دشمن ہے-

میں نے عرض کی ” لیکن اب مرید سیانے ہوگئے ہیں اب وہ اپنی جیب ڈھیلی نہیں کرتے،سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع ابلاغ نے انہیں شاطر بنا دیا ہے ۔دولت کمانے اور ماڈرن پیر بننے کا کوئی ایسا طریقہ بتائیں کہ جس میں کسی کو شک بھی نہ ہو اور ہمارا دھندہ بھی چلتا رہے باباجی گہری سوچ میں پڑگئے اور کہنے لگے ”ٹرسٹ ۔۔۔۔“میں نے کہا ”لوگ ٹرسٹ ہی تو نہیں کرتے “ کہنے لگے ”مورکھ پوری بات تو سنا کرو۔۔غور سے سنو ایک ٹرسٹ بناﺅ ،کوئی ویلفیئر تنظیم رجسٹرکرواﺅ اور اپنے فالورز کوکہوکہ میرے لئے تمہاری ایک پائی بھی حرام ہے خود رقم کو ہاتھ نہ لگاﺅالبتہ مریدین کو کہوکہ وہ تمہارے ٹرسٹ یا تمہاری تنظیم کی ممبر شپ لے لیں۔ لوگوںکو فلاحی منصوبوں کے جھانسے دو ، کسی افریقی ملک کا نام لو جو تمہارے مریدین نے کبھی خواب میں بھی نہ سنا ہویا پھر کسی جنگ زدہ اسلامی ملک کا نام لو کہ وہاں کہ بچوں کی داد رسی کرنی ہے یا پھر پاکستان کے کسی دیہات میں درس بنانے کا اعلان کرو ، اس سے تمہار ا بھی بزنس چل پڑے گا اور ساتھ ساتھ نیک نامی بھی ملنا شروع ہوجائے گی لیکن یاد رکھنا اپنی اس تنظیم میں کبھی بھی اسلامی شورائیت یا مغربی جمہوریت جیسی تنظیم سازی نہ کر بیٹھنا۔ خود کو اس تحریک کا سرپرست بنا لینا۔ بنیادی عہدوں پر اپنے بھائیوں دوستوں یا کسی فیملی ممبران کوبٹھا دینا اور خاص طور پر فنانس سیکرٹری کا عہدہ اپنے بیٹوں کو دینا ۔ فنڈنگ کا سارا حساب اپنے پاس رکھنا ۔ ویسے تو کسی مرید کی کبھی جرات نہیں ہوتی کہ وہ تم سے حساب کتاب مانگے لیکن اگر کبھی کوئی ایسا کرنے کی کوشش کرے تو اس ملحد ، گستاخ یا گمراہ قرار دیکر نشان عبرت بنادینا ۔یورپی ممالک میں اپنی تنظیم کو چیرٹی رجسٹر کرانا تاکہ ٹیکس کی بچت کے علاوہ دیگر فنڈز بھی مل سکیں ۔

باباجی سنجید ہ ہوگئے کہنے لگے لیکن سوچ لو کہ ایسی دولت کا محل صرف کسی کی مجبوری ، بے بسی اور بھولے پن کی قبر پرہی تعمیر ہوسکتا ہے کیا تم اتنے بے پرواہ اور بے نیاز ہو سکتے ہو ، اتنا بڑا جگرہے تمہارا ،اتنی بے اعتنائی برت سکتے ہو ، اتنے ظالم ہو سکتے ہو ، میں نے کہا نہیں،بالکل نہیں۔۔۔ ۔بابا جی کہنے لگے یاد رکھو فرمان الہی ہے کہ” میری آیات کو قلیل قیمت میں مت بیچو اور مجھ سے ہی ڈرو“۔ میں نے پوچھا لوگ کہتے ہیں کہ سب پیر جعلی ہوتے ہیں ،اصلی صرف وہی ہے جو پکڑا نہ جائے باباجی مسکرائے اور کہنے لگے ”جعلی “کا لفظ صرف اسی کے لئے استعمال ہو سکتا ہے جس کا ”اصل “کبھی موجود رہا ہو۔ علی ہجویری سے لیکر معین الدین چشتی اجمیری تک اور بایزید بسطامی سے لیکر فرید الدین گنج شکر تک اولیا ءاللہ کا ایک پورا سلسلہ ہے جس سے لاکھوں لوگوں نے رشدو ہدایت پائی میں نے پوچھا کہ اصلی پیر کی پہچان کیا ؟ کہنے لگے جس کے ظا ہر و باطن میں کوئی فرق نہ ہو اور جس کا کوئی عمل شریعت کے خلاف نہ ہو-

loading...

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *