کیا پڑھیں اور کیا نہیں ؟

razia syed

جون ایلیا نے کہا تھا کہ بہت سے لوگوں کو پڑھنا چاہیے لیکن وہ لکھ رہے ہیں ، یہ جملہ مجھے تب یاد آیا جب کل مجھے ایک شخص کی بات پر بہت حیرت ہوئی جب انھوں نے ایک متنازعہ تحریر کا ذکر کیا اور کہا کہ واللہ کیا واہیاتی لکھ دی کیا چول مار دی فلاں صاحبہ کی تحریر پڑھ کر میری تو طبعیت مکدر ہو گئی ، زیادہ غصہ مجھے اس بات پر آیا کہ انھوں نے مجھے بھی اس تحریر کو پڑھنے کا مشورہ دیا
۔ خیر بات آئی گئی ہوگئی لیکن یہ بات مجھ پر بہت سی سوچوں کا در وا کر گئی ۔ میں یہ سوچنے پر مجبور ہو گئی کہ آج کل کی نوجوان نسل کس سمت کی جانب چلی جا رہی ہے کہ انھیں اس بات کا احساس ہی نہیں رہا کہ کیا پڑھنا چاہیے اور کیا نہیں ؟
یہ صورتحال بالکل اسی طرح ہے کہ جیسے کہا جاتا ہے کہ خدا گنجے کو ناخن نہ دے وہ خود کو ہی زخمی کر لے گا کے مصداق پہلی بات تو یہ ہے کہ آج کل ہر شخص خود کو لکھاری منوانے پر اڑا ہوا ہے اور جو چاہے لکھ رہا ہے ،قلم بالکل ایک خطرناک ہتھیار بن کر رہ گیا ہے اب بہت سی ایسی ویب سایٹس آگئی ہیں جن پر غلط اور مبہم تحقیق شائع ہو رہی ہیں اور کسی قسم کا کوئی حدود و توازن نہیں ۔۔
دوسری جانب ہمارا ایک پڑھا لکھا جاہل طبقہ ہے جو ہر سطحی اور متنازعہ تحریروں کی چکا چوند سے متاثر ہو کر ایسے موسمی لکھاریوں کی شہرت میں اضافہ کر رہا ہے ۔
اسکی پہلی وجہ تو یہ ہے کہ ایسے قاری بالکل فارغ ہیں اور کوئی کام جھام نہیں بس جو چیز ان کے سامنے آرہی ہے وہ اسے پڑھتے جا رہے ہیں ، دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ ان کی گھر سے تربیت نہیں ہوئی کہ انھیں کم ازکم یہ بتایا جائے کہ کیا چیز پڑھنی چاہیے اور کیا نہیں ؟
مان لیا کہ کئی لکھنے والے ایسے ہیں جو اپنی روش سے کبھی باز نہیں آتے اور ایسی تحریریں لکھتے ہیں جو ادب کے شایان شان نہیں ، لیکن ایسے قارئین جو ایسی تحریروں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں ان کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے ؟

loading...

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *