کیا 12 سالہ لڑکی جنسی تعلقات پر راضی ہوسکتی ہے؟

انیقہ چوہان

aneeqa-chohan

ایک جوان عمر بچی جس کی عمر 12 سال سے زیا دہ نہیں ہے ہسپتال میں بے ہوش پڑی ہے۔ اسے اس کے والدین اپنے باس کے گھر سے سے اٹھا کر لائے ہیں اور ہسپتال پہنچنے سے قبل کئی بار بیہوش ہوئی ہے۔ ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ لڑکی پر جنسی تشدد ہوا ہے۔ جب میں اپنےد وست کے ساتھ بیٹھی اپنے فون پر یہ خبر پڑھ رہی تھی، تو میں نے مایوسی میں اپنے بالوں پر ہاتھ پھیرا۔ دوست نے پوچھا کہ کیا ہوا ہے۔ میں نے اسے کہانی خود پڑھنے کا کہا۔ اس نے اپنا سر ہلایا اور کہا کہ آج کے دور میں اتنے زیادہ عصمت دری کے واقعات پیش آ رہے ہیں۔ اس کی یہ بات تو ٹھیک تھی کہ عصمت دری کے واقعات بہت زیادہ ہیں لیکن پورا سچ یہ ہے کہ عصمت دری کے واقعات ایک عرصہ سے سامنے آ رہے ہیں اور یہ صرف موجودہ زمانے تک محدود نہیں ہے۔ ہمارے جیسے قدامت پسند اور ٹراڈیشنل معاشرے میں متنازعہ معاملات کو قالین کے نیچے دبا دیا جاتا ہے اور انہیں قابل غور ہی نہیں سمجھا جاتا ۔ ابھی کچھ عرصہ قبل یہ چیز دیکھنے کو ملی ہے کہ عصمت دری جیسے واقعات اب سوشل میڈیا اور ویب سائٹس کے ذریعے سامنے لائے جاتے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں اب معاملے کو دبانے کی روش دم توڑ رہی ہے اور اب ہم ایک گھناونے سچ سے واقف ہو رہے ہیں۔ 5 سال قبل، یعنی 2012 میں ریپ کیسز کو میڈیا میں بلکل اہمیت نہیں دی جاتی تھی اور نہ ہی عوام ایسے معاملات پر بحث و مباحثہ کی ہمت کر پاتے تھے۔ یہ نظریہ بہت ہی سادہ اور نا انصافی پر مبنی تھا۔ ہمیشہ مظلوم کو ہی گناہ گار سمجھا جاتا تھا اور مجرم کو کوئی گناہ گار قرار نہیں دیتا تھا۔ لیکن 2012 میں فزیو تھیراپی کی طالبہ پر جنسی حملہ ہونے کے بعد دنیا بھر میں اشتعال دیکھنے کو ملا اور ہر طرف سے سخت تنقید کی گئی۔ خواتین سڑکوں پر آئیں اور اپنے غصے اور احتجاج کا اظہار کیا اور مجرم کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا۔ اس وقت سے ریپ کیسز کو نظر انداز کرنا ناممکن نہ سہی مشکل ضرور ہو گیا ہے۔

برطانیہ میں یہ چیز تو واضح ہے کہ ریپ کو جرم قرار دیا جاتا ہے۔ یہاں کہ عوام یہ یقین رکھتے ہیں کہ جنسی حملے ظلم اور بربریت کی مثال ہیں ۔ چاہے لڑکی ریپ کرنے والے لڑکے سے تعلقات میں ملوث ہو تو بھی لڑکی کی مرضی کے بغیر جنسی تعلقات کو ریپ اور جرم ہی سمجھا جاتا ہے۔ ایک برطانوی ایشیائی لڑکی نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر مجھے بتایا کہ جب وہ ٹین ایجر تھی اسے کئی بار جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ چونکہ اس کا تعلق ایشیا سے تھا اس لیے وہ خوفزدہ تھی کہ اسے اپنے خاندان اور معاشرے کی طرف سے سخت رد عمل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ البتہ اس نے اتنی ہمت ضرور دکھائی کہ اپنے خاندان کو واقعہ کے بارے میں بتا دے ۔ اس کے خاندان نے اس کی مدد کی اور اسے ہمت دی کہ وہ پولیس میں جا کر شکایت درج کرے۔ پولیس نے اس کی شکایت پر ایکشن لیا اور حملہ آور کے خلاف کاروائی کی گئی۔

البتہ دنیا کے دوسرے کونے میں، کئی میلوں کے فاصلے پر کہانی بلکل مختلف ہے۔خاص طور پر پاکستان میں ریپ کے بارے میں عوام اور معاشرے کا ری ایکشن بہت مختلف ہوتا ہے۔ ایک ریپ کا نشانہ بننے والی لڑکی کو چار گواہ پیش کرنے ہوتے ہیں جنہوں نے ریپ کے عمل کو خود اپنی آنکھوں سے دیکھا ہو تبھی اس واقعہ کو ریپ قرار دیا جا سکتا ہے۔ ریپ کا شکار ہونے والی خاتون اگر چار گواہ پیش نہ کر سکے تو اسے مجرم قرار دیا جاتا ہے اور غیر قانونی طور پر جنسی تعلق قائم کرنے یعنی زنا کی سزا دی جاتی ہے۔ میں نے ایسی ہی ایک سٹوری کا فالو اپ پڑھا جس میں بتایا گیا کہ ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ اس بارہ سالہ بچی کی مرضی شامل تھی۔ کیا ایک بارہ سالہ لڑکی جنسی تعلقات کے لیے رضا مندی ظاہر کر سکتی ہے؟ کیا اس عمر کی لڑکی کو جنسی تعلقات کا کوئی علم بھی ہوتا ہے۔ اس ملک کا ریپ کے بارے میں رد عمل یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ معاشرہ کس قدر مردانہ قوت کے نیچے دبا ہوا ہے۔ مردوں کو سارے فیصلے کرنے کا حق ہے اور خواتین کوکسی معاملے میں رائے دینے کی آزادی بھی نہیں ہے۔ کتنی بری بات ہے کہ مظلوم کو گناہ گار قرار دے دیا جاتا ہے اور گنا ہ گار کھلے عام دندناتا پھرتا ہے اور کسی بھی وقت کسی دوسری خاتون کو اپنا نشانہ بنا سکتا ہے۔ جس بنیاد پر یہ معاشرہ قائم ہے اسی میں تمام اختیارات صرف مردوں کے ہاتھ میں دے دیے گئے ہیں اور خواتین کو ان کے حقوق سے محروم رکھا گیا ہے۔

ایک اور لڑکی نے مجھے بتایا کہ اسے اس کے اپنے شوہر نے چھ ماہ تک جنسی تشدد کا نشانہ بنایا اور اسے اندازہ بھی نہیں تھا کہ یہ اس کے ساتھ ظلم ہو رہا تھا۔اس کا کہنا تھا کہ اسکے خاوند نے اسے بہت دبا اور ڈرا دھمکا کر جنسی تعلقات پر مجبور کیا۔ اپنے شوہر کی طاقت کے خوف سے اسے وہ کرنا پڑا جو وہ کرنا نہیں چاہتی تھی۔

یہ معاملہ صاف ظاہر کرتا ہے کہ ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ اگرچہ ہم 21ویں صدی میں داخل ہو چکے ہیں اور یہ کہہ سکتے ہیں کہ دنیا خواتین کےلیے اب بہت بہتر ہو چکی ہے لیکن سچ اس سے بہت مختلف ہے۔ ہمیں ابھی معاشرے کو اور سوچنے کے طریقے کو بدلنا ہے۔ اس کا مطلب معاشرے کو چیلنج کرنا اور سوچنے اور عمل کے طریقے کو بدلنے کی جدو جہد کرنا ہے۔ بہت سے ایسے واقعات ہیں جو کئی سال سے وقوع پذیر ہو رہے ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ انہیں جائز اور درست سمجھ لیا جائے۔

ہر انسان کو حق حاصل ہے کہ وہ پر امن اور خوشگوار زندگی گزارے اور اسے عزت اور احترام کے ساتھ زندگی گزارنے کا موقع ملے لیکن بہت سی خواتین کو اس حق سے محروم کر دیا جاتا ہے۔ اگر ہم اپنے حقوق کےلیے خود نہیں لڑیں گے تو کوئی اور ہمارے لیے نہیں لڑنے والا۔ جیسے ایک نسل نے مل کر کوشش کی اور ٹی بی کا علاج دریافت کر لیا۔ اور موجودہ نسل نے کینسر کا حل ڈھونڈ لیا ہے۔ ایک سابقہ نسل نے خواتین کے حقوق کےلیے جنگ لڑی اور انہیں ووٹ کا حق دلایا جب کہ موجود ہ نسل نوکری اور تنخواہ کے معاملے میں خواتین کے حقوق کے لیے نبر د آزما ہے۔

معاشرے کو چیلنج کرنا یا اپنے حقوق کے لیے لڑنا آسان نہیں ہوتا لیکن یہ ایک شخص کا کام بھی نہیں ہے۔ تبدیلی صرف تب آ سکتی ہے جب ہر کوئی پورے جوش اور جذبہ سے حالات کو بدلنے کےلیے میدان میں اترنے کےلیے تیار ہو جائے۔ اب سمندر کو ہی دیکھ لیجیے ۔ ایک قطرہ بلکل کوئی معنی نہیں رکھتا ۔ یہ انسان کی انگلی کو بھی مکمل طور پر تر نہیں کر سکتا۔ لیکن لاکھوں اربوں قطرے ملکر کہانی کا رخ بدل سکتے ہیں۔ لاکھوں قطرے مل کر ایک جہا ز کو ڈبو سکتے ہیں۔

ہم کوشش کر کے اس دنیا اور معاشرے کو ایک بہتر جگہ بنا سکتے ہیں اور اپنی آنے والی نسلوں کے تحفظ کو یقینی بنا سکتے ہیں۔ آئیے ہم ایسے نظام کے قیام کو یقینی بنائیں جس کے ذریعہ لوگ ایک بہتر اور محفوظ زندگی گزار سکیں۔ لیکن اس کے لیے سب سے ضروری چیز تبدیلی کےلیے فوری طور پر فیصلہ کرنا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *