فیروز خان نون سے گوادر جمخانہ تک !

Muhammad-saeed-azhar

پاکستان پیپلز پارٹی کے تاریخ ساز دانشور طارق خورشید نے بلوچستان کے حوالے سے ایک مجلس آرائی میں شرکت کی دعوت دی، پاکستان کا ذرہ ذرہ قلب و جاں کا نغمہ اس کی دھرتی میں اپنی ذات کی ساری آرزوئیں اور خوشبوئیں سمٹے ہوئے ہے، معلوم نہیں جب کبھی بھی اور کہیں سے بھی ’’بلوچستان‘‘ کا کسی بھی نوعیت کا کوئی بھی سندیسہ ملے ایک وجدانی پیغام رسانی کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ یادوں کے جھکڑ پوری شخصیت کو اپنے گردابوں میں جکڑ لیتے ہیں، ایسا لگتا ہے چار جہتوں کے بجائے شش جہات کی وادیوں میں چھپی داستانیں یادداشت کی دیواروں پر متشکل ہو رہی ہیں، طارق خورشید کے اس اہتمام میں جتنا وقت بھی گزرا جذب و انجذاب کے ایسے ہی لمحات کی شدتوں کا سزا وار تھا۔
صحافت کے شب و روز، سیاست کے نشیب و فراز اور پاکستان کی صبحوں شاموں میں جب کبھی ایوب خاں، نوروز خان، اس کے بیٹے سردار خیر بخش مری، نواب اکبر بگٹی، عطاء اللہ مینگل، غوث بخش بزنجو، خدائے نور، ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ، نبی بخش زہری، پہاڑوں پہ ہجرتوں کے نوحوں کی صدائیں، گولیوں کی بوچھاڑ، گمشدوں کے قصے، فراریوں کے مافی ناموں کی دستاویز اور تصاویر، کوئی ایک منظر نہیں، منظر نامے کا ایک سمندر ہے، بس جب بلوچستان کا ذکر آئےذہن کے ساتھ ہمیشہ ان واقعات کا نہ ختم ہونے والا تسلسل وابستہ ہو جاتا ہے جس کے آخری سرے پر ایک عام پاکستانی کے لئے نہ ختم ہونے والے غم و کرب کا اندراج ہو چکا!
احمد اقبال بلوچ اس نشست کے مہمان خصوصی تھے، مہمان خصوصی ہونا اپنی جگہ، حقیقتاً انہوں نے بلوچستان کے لئے پوشیدہ ذہنی مدوجزر کی دنیائوں میں ایک بامعنی اتھل پتھل پیدا کر دی، ’’جی ہاں، میں بلوچ ہوں‘‘کے عنوان سے شائع شدہ ان کے شعری مجموعے کے چند اشعار ملاحظہ فرمایئے؎
میں بہت ہی نفیس انسان ہوں
میں قدیم مہر گڑھ کا باشندہ ہوں
میں عظیم ثقافت کا ورثہ ہوں
میں بڑی تہذیب کا حصہ ہوں
جی ہاں میں بلوچ ہوں
جی ہاں میں بلوچ ہوں
اور ’’کس نے کتنے مارے‘‘ کی غزل کے دو اشعار تو کسی حالت میں نظر سے اوجھل نہ ہونے پائیں؎
میں نے تم سے کبھی نہیں پوچھا ہے
کیا تم نے ہی سب کو مارا ہے
یہ بحث نہیں کس نے کتنے مارے ہیں
باشعور باخبر ہیں کس نے کیوں مارا ہے
اور؎
طویل ہیں تجھ سے مراسم مگر حاصل ہے مختصر
شطرنج کے دونوں اطراف تو خود کھیل رہا ہے
اجنبیت کیسی مدت سے تو مجھ سے ہے آشنا
احمدؔ سینے پہ تیرے چلائے تیر گن رہا ہے!
چنانچہ احمد اقبال بلوچ سے گفتگو کے آغاز میں ہی ان سے عرض کیا گیا:’’ہم آپ کو تہہ دل سے خوش آمدید کہتے ہیں، سب شرکائے مجلس اس استقبال میں خاکسار سے کہیں زیادہ آگے ہیں، خاکسار کے جذبات میں بس بلوچستان پاکستان کا ایک ایسا رومانس ہے جس کے حسن اور محسن دونوں زمانے کی لوح محفوظ ہیں ہم جیسوں کو اداسی بھری محبت کا اسیر کرتے رہیں گے، پاکستان کی گزری سات دہائیوں میں سے تقریباً چھ دہائیوں میں آپ کے ساتھ جو ہوا، یقین کر لو پاکستان کا عام آدمی اس وقوع میں شامل نہیں، ہم نو روز خان سے لے کر فراریوں کے معافی ناموں کی دستاویز تک محض ایک تماشائی ہیں، ہاں! ہمارے دیدہ و دل آپ کے لئے فرش راہ ہیں، طارق خورشید نے نیکی کی، ایک بلوچ کے ساتھ کچھ وقت گزارنے کی پاکیزہ سرشاری کا موقع ملا، ہم سب کی جانب سے آپ دنیا جہان کی عزت و احترام اور پیار و مودت کا خزینہ قبول فرمائیں!
اور اس تقریب کا پس منظر سی پیک سے ابھرتے سورج کی شعاعوں میں جنوبی ایشیا کے خطے میں انسانیت کے نئے دور کے آغاز کی سرگرمیوں کے ان چند ابواب سے تھا جس کے تخلیق کار اور لکھاری خود احمد اقبال بلوچ ہیں۔ بلوچستان کے شہر گوادر جس کے علامتی بیانیے کے موجودہ اظہاریے کے مطابق گزشتہ ایک دہائی میں بین الاقوامی معاشی جغرافیے میں جوہری تبدیلیا ںوقوع پذیر ہوئی ہیں، نئی معاشی گزر گاہیں اور ذرائع آمدورفت نے دنیا بھر کی توجہ حاصل کر لی ہے، ان میں ایک کلیدی گہرے پانیوں کی بندرگاہ بلوچستان کا شہر گوادر ہے‘‘ تو احمد اقبال بلوچ اس گوادر شہر میں ’’جمخانہ کلب‘‘کے قیام کا یادگار باب رقم کرنے جا رہے ہیں!
گوادر کی بھی عجیب واقعاتی حساسیت ہے جس سے خیالات اور نظریات کا دریا بہنے لگتا ہے، ایسا دریا جس میں بلوچ عوام کے حقوق، لہو اور مظلومیت ساتھ ہی بہنے لگتے ہیں، بعینہٖ گوادر کی ایک سب سے مرکزی پاکستانی حساسیت اس کی ایک پاکستانی سیاستدان فیروز خان نون کی کوششوں سے پاکستان میں شمولیت کی سچائی ہے، گویا پاکستان بنایا ایک وکیل سیاستدان نے اور گوادر بھی حاصل کیا ایک سیاستدان نے، وہ گوادر جو آج جنوبی ایشیا میں انسانیت کے ایک نئے دور کا آغاز تو ہے ہی، بین الاقوامی خطوں کے عالمی نین نقشے پر ناگزیر تبدیلیوں کے ناگزیر اثرات مرتب کرنے جا رہا ہے، کیا ’’پاکستان ایک سپر پاور بنے گا‘‘ کی ستارہ شناسی واقعی ایک معروضی امکانی حقیقت بن سکتی ہے؟ سیاستدان کی یاد اس ملک میں قومی سیاست اور قومی سیاستدانوں کی اس منصوبہ بند تذلیل کے پس پردہ کرداروں کے باعث آئی جن کرداروں نے نہ ملک بنایا، نہ گوادر جیسے ناقابل فراموش قومی عروج کے انمٹ کارنامے انجام دیئے، صرف قومی سیاست کے مقدس ادارے کی بے عزتی اور کردار کشی کے کبیرہ گناہ کے ارتکاب میں زندگیاں گزار دیں، اب بھی بدنصیب اس گناہگارانہ کاروبار میں مصروف ہیں!
سی پیک منصوبہ، ’’ون بیلٹ ون روڈ منصوبے‘‘ کا ایک جزو ہے، گوادر کی بندرگاہ پاکستان کی دھرتی پہ اس منصوبے کی روح، بنیاد اور مرکز کہی جا سکتی ہے، ’’جمخانہ کلب‘‘ کا قیام سرمایہ دار کے ذاتی جاہ و جلال کے بجائے جدید دور کے جدید تقاضوں سے منسلک اقتصادی تہذیب کا ایک سلسلہ ہے، جسے جدید ایئر پورٹ، بائی پاسز، موٹر ویز، سی پیک سے ہزاروں افراد کو براہ راست روزگار اور لاکھوں افراد کی معیشت کو بالواسطہ تقویت کو ایک طرف رکھ دیں، اصلاً یہ پاکستان کے قومی مستقبل کو ایسے مستقبل کی طرف لے جانے کے سفر کی شروعات ہیں جن کے ارتقا میں پاکستان کی قدامت پرستی کا انسداد بھی شامل ہے، اقتصادی تہذیب کی یلغار میں وہ تمام تصورات جو اسٹیبلشمنٹس، مذہبی طبقات، فیڈول لارڈ، سرداران قبائل اور رجعت پسند مڈل کلاس نے شرافت اخلاق اور مذہب کی خود ساختہ مثلث میں قائم کر کے انسانوں کی زندگی کو عملاً اپنی ذاتی ذاتی طبائع، انانیت اور طرز زندگی کا غلام ٹھہرا دیا، سی پیک کی مرکزی علامت ’’گوادر‘‘ سے پیدا شدہ ترقی انسانی ارتقاء میں رکاوٹ ایسے تمام سیاہ ابواب کا اختتامیہ لکھ دے گی۔
احمد اقبال بلوچ کراچی سے ایک ماہنامہ بھی شائع کرتے ہیں، ان کی قومی اپروچ کی جھلکیاں ان کے وژنری ہونے کی غماز ہیں، ان کا ماہنامہ کا نام بھی وژنری ہے، 1988میں ایک غیر ملکی دانشور جوزف ناتے کا حوالہ دیتے ہوئے احمد اقبال بلوچ بتاتے ہیں۔ ’’1988میں جوزف ناتے نے کہا تھا کہ وہ دن چلے گئےکہ گولی ماری اور پہاڑ پر چڑھ گئے۔ جوزف نے عالمی سیاست اور عالمی تعلقات کو ایک نیا موضوع دیا جس کا نام تھا ’’سافٹ پاور‘‘، اس کے مطابق وہ دور ختم ہو گیا جب آپ بارود سے بھرے ٹینک لے کر کسی ملک کی سرحد پر پہنچیں گے، آپ کی فوج صف آرا ہو گی اور دھاڑتی ہوئی یلغار لائن کو عبور کرے گی اور ملک فتح ہو جائے گا۔ اب کامیابی اور ناکامی کا فیصلہ جنگی جہاز کی گھن گرج، ٹینک، بارود اور میگزین میں گولیوں اور بارڈر پاور کے جبری طریقوں سے نہیں بلکہ سافٹ پاور کے ترغیبی انداز سے ہو گا۔‘‘
نہیں معلوم ’’مسلح جبر‘‘ کے بجائے ’’سافٹ ویز کے ترغیبی انداز‘‘ کا سچ جہاں احمد اقبال بلوچ پہنچانا چاہتے ہیں وہ پہنچے گا یا نہیں، بہرحال واقعہ ایسا ہی ہے، لگتا ہے پاکستان سمیت دنیا بھر کی اسٹیبلشمنٹس بالآخر ’’گولی‘‘ کے بجائے ’’علم‘‘ کے آگے سرنگوں ہو جائیں گی!
پاکستان کے شہر گوادر سے اقتصادی تہذیب کی جدوجہد میں جمخانہ کلب کے قیام اور دیگر معاشی حرکیات کے محرک احمد اقبال بلوچ کو اس مجلس میں حفیظ اللہ نیازی، لطیف چوہدری، حفیظ خان، عدیم ہارون،اشرف شریف اور سائوتھ ایشیا کالمسٹ کونسل کے جنرل سیکرٹری ضمیر آفاقی نے اپنے جذبوں اور محبتوں کی ساعتوں میں اونر شپ دی۔ طارق خورشید ویل ڈن! بلوچستان یاد کراتے رہا کرو!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *