22 مئی 22 قتل

image1.PNG

سلمان عبیدی کی عمر 22سال تھی۔اس نے 22مئی کی رات 22بج کر تینتیس منٹ پر مانچسٹر میں ایک بہت بڑے میوزک کنسرٹ میں خود کش حملہ کیا اس حملہ کے نتیجے میں 22برطانوی شہری ہلاک اور 60افراد زخمی ہوئے ۔ ڈاکٹروں کے مطابق بعض زخمیوں کی حالت بہت نازک ہے اور و ہ زندگی و موت کی جنگ لڑ رہے ہیں ۔ سلمان عبیدی کی اپنی پیدائش بھی اسی شہر میں ہوئی تھی جسے اس نے آنسوﺅں کا تحفہ دے دیا ہے مقام حیرت ہے کہ جس شہرمیں سلمان نے خود جنم لیا اسی کا امن تباہ کرنے کی اس نے سازش کیسے تیار کر لی جس شہر نے اس کے والدین کو پناہ دی ، انہیں روزگار دیا ، جس شہر نے اسے ابتدائی تعلیم سے لیکر کالج ، یونیورسٹی تک پہنچایا، جس شہر میں اس نے اپنی پہلی نوکری اور اپنی پہلی تنخواہ حاصل کی، اسی شہر کے نہتے بچوں اور نوجوانوں کو موت اور ان کے والدین کوزندگی بھر کی اذیت اور کرب دینے میں اس نے ذرا بھی تامل نہ کیا۔
سلمان عبیدی کے والدین کا تعلق لیبیا سے تھا۔ وہ وہاں سے جان بچا کر برطانیہ آئے تھے۔ برطانیہ نے انہیں پناہ دی اور ا سی ملک میں ان کے چاربچے پیدا ہوئے جن میں سلمان اس کے دو بھائی اور ایک بہن شامل ہیں ۔ اس کے والدین مذہبی رحجان رکھنے والے ہیں۔ اس کے والد مانچسٹر کی ڈڈزبری مسجد میں اذان بھی دیا کرتے تھے ۔ سلمان عبیدی نے خود کش حملہ کے لئے وہ جگہ منتخب کی جہاں وہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو جان لینے کا سبب بن سکتا تھا ۔مانچسٹر آرینا میں ایک امریکی گلوکارہ کا موسیقی کا کنسرٹ تھا ۔ گلوکارہ آریانا گرینڈے کی اپنی عمر بھی صرف تئیس سال ہے ۔وہ برطانیہ میں ٹین ایجر لڑکیوں میں بہت مقبول ہے ۔ا س لئے ا سکے کنسرٹ میں کم وبیش بیس ہزار لوگ شامل تھے جن میں کثیر تعداد دس سے بیس بائیس سال کے نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں اور ان کے والدین کی تھی ، میوزک شو ختم ہوا تو لوگ باہر نکلنے والے تھے عین اسی وقت یہ نوجوان بھیڑ میں داخل ہوا اور بم دھماکہ کر دیا ۔ یہ دھماکہ اتنے زور کا تھا کہ ایک عینی شاہد کے مطابق وہ اپنی جگہ سے تیس فٹ دور جا کر گرا ۔ اس کنسرٹ میں زیادہ تعداد میں بچے اور نوجوان لڑکے لڑکیاں شامل تھے ا س لئے ایک عجیب آہ و بکا کا عالم تھا بچے والدین کے لئے اور والدین بچوں کو پکار رہے تھے ۔اسی لئے ہلاک ہونے والوں میں بھی 12بچے شامل ہیں جن کی عمریں 16سال سے کم ہے اور ایک ہلاک ہونے والی بچی کی عمرتو صرف 8سال ہے دنیا بھر کے عالمی راہنماﺅں نے اس حملے کو بزدلانہ فعل قرار دیااور کیوں نہ قرار دیں کیونکہ چھپ کر نہتے لوگوں پر حملہ کرنے والا چوہا تو ہوسکتا ہے مجاہدکبھی نہیں ہوسکتا
مانچسٹرشہر کے باسیوں نے اتنا تکلیف دہ اور دل دہلا دینا والا سانحہ سہہ لیا ۔ اس کی وجہ اس شہر کا ملٹی کلچرل ہونا ہے۔ مانچسٹر، نیویارک اور پیرس کے بعد دنیا کا تیسرا بڑا بین الثقافتی شہر ہے صرف پانچ لاکھ کی آبادی والے شہر میں دو سو سے زائد زبانیں بولی جاتی ہیں۔اس کی وجہ دنیا بھر سے اس شہر میں آئے ہوئے امیگرنٹ ہیں ۔ایک تحقیق کے مطابق اس شہر کے پچاس فیصد لوگ کم از کم دو زبانیں بول سکتے ہیں ۔ اسی شہر میں ایشین کمونٹی کا تناسب نو سے دس فیصد ہے اس شہر کی انہی خوبیوں نے اس میں قربانی ایثار اور ایک دوسرے کی مدد کا جذبہ پیدا کر دیا اسی لئے جب یہ سانحہ رونما ہوا تو اس کے باسیوں نے اخوت اور بھائی چارے کی وہ مثالیں رقم کر دیں جو دیگر یورپی شہریوں میں نظر نہیں آتیں
مانچسٹر ارینامیں دھماکہ ہوا تو لوگ اپنے موبائل فون اور پرس تک گنوا کر باہر کو بھاگے ، پولیس اور ایمبولینسیں تو زخمیوں کی مدد کو پہنچی لیکن ہزاروں کی تعدا د میں موجودتماشائیوں کے پاس نہ رابطے کا کوئی طریقہ تھا اور نہ ہی پیسے ۔ایسے میں اس علاقہ میں کام کرنے والے ایشین پاکستانی ٹیکسی ڈرائیوروں نے بھگدڑ سے پریشان بھاگنے والوں کی مدد میں سب سے پہلے ہراول دستے کا کام کیا وہ انہیں بلا معاوضہ نہ صرف ان کی منزل تک پہنچاتے رہے بلکہ انہیں اپنے فون تک مہیا کئے جن سے وہ اپنے پیاروں سے رابطہ کرسکے مانچسٹر کے ہسپتالوں میں کام کرنے والے صحت کے عملہ میں بھی بہت سے ایشین افراد شامل ہیں جو اس دن اپنی ڈیوٹی کے اوقات بھول گئے اور رات دیر تک زخمیوں کی مرہم پٹی میں مشغول رہے صبح ہوتے ہسپتالوں میں خون دینے والوں کی قطاریں لگ گئیں ۔شہر کی مختلف مساجد، چرچز اور گردواروں نے لوگوں کو مدد فراہم کرنے کے لئے اپنے سنٹرز کے دروازے کھول دئے اور دہشت گردوں کو پیغام پہنچا دیا کہ آپ ہمیں تقسیم نہیں کر سکتے اس شہر میں نفرت نہیں جیت سکتی یہی وجہ تھی کہ جب سوشل میڈیا پر مسلمانوں کے خلاف پراپیگنڈ ہ شروع ہوا تو اسے کامیابی نہ مل سکی حتیٰ کہ شہر کے مئیر اینڈی برنیم کو کہنا پڑا کہ جس طرح ان کی پارٹی کی ممبر ”جو کوکس “کوقتل کرنے والا گورا ساری سفید فام نسل کی نمائندگی نہیں کرتا تھا اسی طرح سلمان عبیدی بھی مسلمانوں کی نمائندگی نہیں کرتا۔
باوجود اس کے کہ چند اکا دکا واقعات میں مساجد کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی ہے مجموعی طور پر یہ شہر اس واقعہ کی بنا پر مسلمانوں سے نفرت کرتا نظر نہیں آتا لیکن اس کے باوجود کچھ سوالات ہیں جو برطانیہ میں موجود مسلمان والدین کو اپنے آپ سے ضرور کرنا ہوں گے کہ ان کی تربیت میں کہاں کمی رہ گئی ہے کہ ان کی اولادیں نہ صرف دین اسلام کی بدنامی کا باعث بن رہی ہیں بلکہ یورپ بھر میں بسنے والے دیگرمسلمانوں کے لئے بھی مصیبت کا باعث بن رہی ہیں ۔برطانیہ میں اس سے پہلے جولائی 2005ءمیں خود کش حملے ہوئے تھے اور ان حملوں میں بھی تین ایسے مسلمان نوجوان شامل تھے جو برطانیہ میں ہی پیدا ہوئے تھے ۔اور اب بارہ سال بعد جو خود کش حملہ آور سامنے آیا ہے وہ بھی ایک مسلمان ہے اور اس کی پیدائش بھی برطانیہ کی ہی ہے ۔وزیر اعظم ٹیریسا مئی کے مطابق خطرہ ابھی ٹلا نہیں ہے کیونکہ حکومتی اداروں کے مطابق یہ کسی ایک نوجوان کا انفرادی عمل نہیں ہوسکتا بلکہ ان کا کوئی پورا نیٹ ورک ہوسکتا ہے-

Image result for manchester attackدہشت گردوں کا نیٹ ورک گرفتار کرنے میں حکومتی ادارے تو اپنا کام کر رہے ہیں لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ برطانیہ میں رہنے والے مسلمان نوجوانوں کے رحجانات انتہا پسندی کی طرف راغب کیوں ہیں ؟یہ سوال صرف برطانوی حکومت کے لئے ہی نہیں بلکہ یہاں پر موجود مسلمانوں کے لئے بھی اہم ہیں سال 2015ءمیں ایک برطانوی مسلم فیملی کے بارہ افرادشام منتقل ہوگئے تھے اور داعش کی اسلامی خلافت کے مہمان بنے اس فیملی میں 75سال کے بزرگ اور ان کی بیوی، بیٹیاں ، بیٹے اور پوتے بھی شامل تھے جن میں ایک ننھے ”مجاہد “کی عمرتو صرف ایک سال تھی اسی طرح سلمان عبیدی کے بارے میں بھی انٹیلی جینس ایجنسیوں کا خیال ہے کہ وہ بھی شام میں رہ کرآیا تھا اور داعش سے رابطے میں تھے یاد رہے کہ حملے کے فوراً بعد داعش نے اس کی ذمہ داری بھی قبول کر لی تھی اسی طرح ان چند سال میں مختلف برطانوی نوجوان مجاہد بننے کے شوق میں اور بہت سی برطانوی مسلمان لڑکیاں بھی جہادیوں سے نکاح کے سلسلے میں برطانیہ سے شام منتقل ہوئی ہیں ۔
اسلام برطانیہ میں دوسرا بڑا مذہب ہے ایک اندازے کے مطابق برطانیہ میں دوہزار کے قریب مساجد ہیں۔ برطانیہ میں رہنے والے علما ءکرام کا فرض بنتا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داری کا احساس کریں ان کے واعظ میں کیا کمی رہ گئی ہے کہ یہاں کا نوجوان انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے ان شیطانوں کے ہاتھ چڑھ گئے جو نفرت کے بیوپاری ہیں ، جن کا پسندیدہ رنگ خون کا رنگ ہے ، جن کا مشغلہ انسانی کھوپڑیوں سے فٹ بال کھیلنا ہے ، جو خون آشام بھیڑئیے آٹھ سال کے معصوم بچوں کوجان لینے سے بھی نہیں کتراتے ۔ بحیثیت مسلمان ہم کب تک سازشی تھیوریوں کے بہانے کے پیچھے چھپیں گے جان لیں کہ کہیں نہ کہیں اپنے گھر میں بھی کچھ خامیاں ہیں مان لیں کہ تربیت میں کہیں نہ کہیں کمی ضرور رہ گئی ہے سنبھل جایئے اس سے پہلے کہ یورپ ، برطانیہ میں اور دنیا بھر میں اپنا تعارف کراتے وقت کوئی نوجوان شرمندہ ہونا شروع ہوجائے ۔ میرا مذہب تو پڑوسیوں پر جان چھڑکنے کی بات کرتا ہے یہ پڑوسیوں کی جان لینے والے میری مذہب کا تعارف نہیں بن سکتے ، مجھے تو راستے پر پڑے معمولی پتھر بھی ہٹانے کی تعلیم دی گئی تھی یہ راہ گیروں پر بم گرانے والے کون ہیں مجھے تو پانی ضائع کرنے سے بھی منع کیا گیا ہے یہ خون بہانے والے کون سی مخلوق ہیں میرے کریم نبی ﷺ تو ایک بوڑھے یہودی کا رستہ کاٹ کر نہیں گزرتے کہ ا سے تکلیف نہ پہنچے ۔سنبھل جائیے کہ بوڑھے والدین سے ان کی اولادیں چھیننے والے کہیں میری پہچان نہ بن جائیں ۔۔۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *