وقت نہیں ہے۔۔۔

Afshan Huma

کچھ عرصہ پہلے مجھے ٹائم مینیجمنٹ پر لیکچر دینے کے لیے بلایا گیا۔ میں نے لیکچر کی تیاری کے دوران نہ صرف کچھ جانے مانے سکالرز کی تحاریر کا مطالعہ کیا بلکہ کچھ آن لاِئن ٹولز بھی ڈھونڈے جو میں اپنے سننے والوں سے شئر کر سکوں۔ ان میں سے ایک آن لائن ایپ جو مجھے بے حد پسند ہے وہ ہے موسیقی پر مبنی فوکس ایٹ ول۔ اس میں مختلف دھنیں بجتی ہیں جو کام کرنے کی سپیڈ بڑھاتی اور ذہن کو تھکنے بھی نہیں دیتیں۔  اس لیکچر کی تیاری کا ایک پہلو یہ بھی رہا کہ میں دیکھوں میرے آس پاس کے لوگ ذیادہ تر کن سرگرمیوں میں مصروف رہتے ہیں اور ان کے پاس وقت کی کمی کیوں ہے۔ سب سے پہلے تو یہ کہ چوبیس گھنٹوں میں سے اگر دفرتی یا کام کے اوقات کے علاوہ دیکھا جائے تو مختلف افراد کے پاس ایک دن میں بارہ سے سولہ گھنٹے ہوتے ہیں۔ پاکستان میں مڈل کلاس میں بھی ایک کام سے زیادہ کا بہت کم رجحان پایا جاتا ہے۔ ویسے میرے والد نے میرے سامنے تین سے پانچ مختلف کام کیے اور انہیں بخوبی نبھایا بھی اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے چار سالہ طبیہ کونسل کا کورس بھی نہ صرف مکمل کیا بلکہ اس میں نمایاں کامیابی حاصل کی۔

تو بات ہو رہی تھی وقت کی کمی کی۔ یہ بڑے مزے کی بات ہے کہ ہمارے آس پاس وہ لوگ بھی ہیں جو انہی چوبیس گھنٹوں میں ہر طرح کا کام کر ڈالتے ہیں اور وہ بھی ہیں جو کچھ نہیں کرتے اور کمال کرتے ہیں۔ کام کے اوقات کار میں بے کار رہنے والے لوگ اپنی جگہ اور کام سے واپسی کے بعد اکثر لوگوں کا خیال ہوتا ہے کہ اب تو وہ تھک چکے ہیں اور اسی تھکان کو دور کرنے میں وہ چار چھ گھنٹے گزارتے ہیں پھر کہیں جا کر نیند کا وقت آتا ہے۔ میرا ذاتی تجربہ اور ما ہرین کی رائے ہے کہ اگر کام سے آ کر آدھ گھنٹے سے ایک گھنٹہ تک بھی آنکھیں موندھ کر آرام کر لیا جائے تو آپ دوبارہ چاک و چوبند ہو جاتے ہیں۔ لیکن اگر آپ خود کو اس انتظار میں بٹھائے رکھیں کہ رات تک سونا نہیں اور آپ دماغی طور پر تھکان بھی محسوس کر رہے ہوں تو تمام وقت بے کار میں ضائع ہی ہوتا ہے۔

وہ لوگ جو کہتے ہیں جاب کے ساتھ تعلیم حاصل کرنا نا ممکن ہے ان کی خدمت میں عرض ہے کہ  وہ اپنے اندر موجود اہلیتوں سے نا واقف ہیں۔ خدا نے انسان کو بہترین ارادی قوت عطا کی ہے وہ چاہے تو کیا نہیں کر سکتا۔ آنے والے وقت میں کوئی جاب بھی ایسی نہ رہے گی جس میں آپ مسلسل تعلیم کے بغیر چل پائیں۔ وقت کے ساتھ ہر شعبہ میں آنے والی مستقل اور تیز تر تبدیلی ہم سے تقاضہ کرتی ہے کہ ہم کسی بھی شعبہ میں رہتے ہوئے خود کو مسلسل تحصیل علم کے عمل میں مشغول رکھیں۔ وقت کی قید صرف ان لوگوں کو پابند کرتی ہے جو بہ یک وقت دو تین مختلف راستے اپناتے ہیں لیکن اگر انسان اپنے احداف اور مختلف کاموں کو جوڑے رکھے تو ایک ہی وقت میں بہت سے کام ایک ساتھ بھی کیے جاسکتے ہیں۔ یا کم از کم ایک کام کرتے ہوئے اس سے حاصل ہونے والا تجربہ دوسرے کام میں آسانی دے سکتا ہے۔

اکثر لوگوں کو یہ بھی کہتے سنا ہے کہ ان کے پاس دوستوں سے ملنے کا وقت نہیں رہتا۔ میرے خیال میں ہمارے دوست یا تو وہ لوگ ہوتے ہیں جن سے ہم نے بہت سالوں کی وابستگی رکھتے  ہیں یا وہ لوگ جن سے ہماری سوچ ملتی ہے۔ دوسری قسم کے دوست مجھے ہر دور اور ہر جگہ پر میسر رہے اور ان سے ملنے کے لیے مجھے اضافی وقت کبھی درکار نہیں رہا۔ میں روزمرہ کے کام بھی انہیں کے ساتھ کرتی ہوں اور لنچ بریک پر بھی ان ہی کا ساتھ ہوتا ہے۔۔۔ ہم کانفرنسزاور میٹنگزپر بھی اکٹھے جاتے ہیں اور یوں سفر بھی ایک ساتھ کرنے کا موقع ملتا رہتا ہے۔ یہ اس لیے ممکن ہے کہ میں دوستوں کو کہیں دور دراز تلاش نہیں کرتی، وہ میرے آس پاس رہنے والے لوگ ہیں اور انہیں کی بدولت میں اپنے تمام کار ہائے زندگی بھرپور طریقے سے نبھا رہی ہوں۔ ہاں اگر کام پر لوگوں سے میری نہ بنتی ہو تو مجھے جان لینا چاہئے کہ کمی وقت کی نہیں اخلاقیات کی بھی ہو سکتی ہے

فیملی اور رشتہ دار اپنی جگہ وقت چاہتے ہیں لیکن میرے خیال میں ہم میں سے اکثر لوگ اس بات سے متفق ہوں گے کہ ان کے ساتھ کوالٹی ٹائم آج کی مصروف زندگی میں صرف ویک اینڈ پر ہی گزارا جاتا ہے۔ بچے سکول کالج جاتے ہیں، کام پر جانے والے لوگ جب گھر آتے ہیں تو یا تو ٹی وی دیکھتے ہیں یا کھانا کھاتے ہیں۔ ویسے ہمارے گھرانے کا بہت دیر تک اصول رہا کہ رات کا کھانا سب ایک ساتھ کھاتے تھے۔ کھانے کی میز پر ہی ہنسیمذاق ہوتا ،جھگڑا ہوتا اور جب تک سلجھ نہ جاتا کوئی میز نہ چھوڑتا۔ ایک اور امر جس کی شدید کمی پائی جا رہی ہے وہ ہے ان ڈور اور آئوٹ ڈور گیمز۔ ہمارے والد گرمیوں کی چھٹیوں میں ہمیں علی الصبح لیاقت باغ لے جاتے ہم وہاں کھیلتے کودتے اور سورج کی گرمی سے پہلے ہی گھر لوٹ آتے۔ شام میں لڈو، شطرنج یا کیرم بورڈ کھیلا جاتا جس میں والدہ بھی شامل ہوتیں۔ اس کے لیے بہت ذیادہ نہیں دو گھنٹے بھی کافی ہوتے ہیں۔ ایک ویک اینڈ ماموں کے ہاں جاتے، ایک ویک اینڈ تایا کے، اور ایک بار گھر سے باہر کھانا ضرور کھاتے۔ کیا آج بھی یہ سب ممکن نہیں؟

غرض یہ کہ وقت کی کمی مسئلہ نہیں ہے؛ ہمارے رویے مسئلہ ہیں۔ کوشش کیجئے تو زندگی اتنی مشکل نہیں۔ اپنے آس پاس کے لوگوں کے ساتھ وقت گزارئے کل جب یہ نہ ہوئے تو احساس ہو گا کہ جب وقت تھا تو خیال نہ آیا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *