فاسٹنگ یا ڈائٹنگ

mehmood-asghar-chaudhry

دوپہر کے ساڑھے بار ہ بج چکے تھے مارکو دفتر کا دروازہ بند کررہا تھا کہ ایک نوجوان ہانپتا ہوااندر داخل ہوگیا ، وہ پسینے میں شرابور تھااس کی سانس پھولی ہوئی تھی وہ جوزف کے ٹیبل پرکم وبیش گر ہی گیااور اکھڑی ہوئی سانس سے التجا کرنے لگا کہ اس کی فائل چیک کرلیں اس کا ویزہ ختم ہونے والاتھا۔ آ زاد سنگھ نے پانی کی فریج کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پوچھا پانی پیو گے اس نے انکا ر میں سر ہلا دیاکہنے لگاکہ اس کاروزہ ہے ۔وہ تیونس کا مسلمان تھاجوزف اس کی حالت دیکھ کر پوچھنے لگااتنی گرمی میں روزہ کیوں رکھتے ہو؟کہنے لگا میرا قصور یہ ہے کہ میں مسلمانوں کے ہاں پیدا ہوا ہوں میرے والدین بہت سخت ہیں وہ مجھے زبردستی روزہ رکھواتے ہیں لیکن مجھے پتہ نہیں کہ مسلمان روزہ کیوں رکھتے ہیں ؟اس کے لہجے میں شکایت کا عنصر تھا اس دن دفتر میں ہم سب ہی موجود تھے امیگریشن کے نئے قانون پر مجھے انہیں بریفنگ دینی تھے ۔جورجیا ، لوانا اور امابیلے نے کان کھڑے کر لیے ، سندیپ کوراور ماریا نے چہ مگویاں شروع کردیں ۔ ظہیرہ اور شوکری جو خودمراکشی مسلمان تھے اس نوجوان کی بات سن کر شرمندہ سے ہوگئے

میں اپنے لیکچرکے لئے سلائیڈز اور پاور پوائنٹ میں ا سکی پریزینٹیشن تیار کر رہا تھا ۔ وہ لڑکادفتر سے چلا گیا تو میں نے پروجیکٹر آن کیا ہی تھاکہ سارے کولیگزنے سوالوں کا تابڑ توڑ حملہ کردیا کہ مسلمان بہت ظالم ہیں بچوں پرسختی کرتے ہیں میں نے کلاس کا ماحول غیر سنجیدہ پایا تو ان سے پوچھا کیا معاملہ ہے؟ہماری باس امابیلے کہنے لگی کہ ہم جاننا چاہتے ہیں کہ مسلمان اپنے بچوں پر اتنا ظلم کیوں کرتے ہیں انہیں آزادی کیوں نہیں دیتے اتنی گرمی میں روزے کا کیا جواز ہے ؟میں نے عرض کی لیکن آج ہمارا موضوع تو کچھ اور ہے جورجیا کہنے لگی ہم شعبہ امیگریشن میں کام کرتے ہیں ہمیں دنیا بھر کی مختلف ثقافتوں کے بارے علم ہونا چاہیے لوانا کہنے لگی تمہیں اسے دیکھنا چاہئے تھا وہ ہانپ رہا تھا گرمی سے اس کی جان نکل رہی تھی ماریا کہنے لگی اتنی گرمی میں بغیر کھائے پئے رہنا عقلمندی نہیں دیوانگی ہے میں نے پر وجیکٹر آف کر دیا

میں نے کہا آپ کو پتہ ہونا چاہیے کہ روزہ ایک فطری عمل ہے جو صرف انسانوں میں ہی نہیں بلکہ حیوانوں اور درختوں میں بھی پایا جاتا ہے بییتی کہنے لگی یہ تم دور کی کوڑی لائے ہو میں نے پوچھا آپ لوگ جانتے ہیں ہائبرنیشن کسے کہتے ہیں ؟وہ متوجہ ہوئے تو میں نے کہا جن مہینوں میں برف باری ہوتی ہے ساری زمین برف سے ڈھک جاتی ہے تو ایسے جانور جو برفانی علاقوں میں رہتے ہیں انہیں کئی مہینوں تک خوردو ونوش کی کوئی چیز میسر نہیں آتی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ وہ جانوربھوک سے مرتے نہیں ہیں بلکہ ایسے اکثر جانور ، پرندے ، سانپ وغیرہ پہاڑوں کی غاروں میں چلے جاتے ہیں اور وہاں سو جاتے ہیں اس کو سائنس کی زبان میں ”ہائبر نیشن “کہتے ہیں یعنی سردی کے زمانے کی نیند یہ تمام جاندار کئی کئی مہینوں تک بغیر کھائے پئے زندہ رہتے ہیں

ماہرین کا خیال ہے کہ اس ”ہائبرنیشن “کے عمل سے ان جانوروں میں نئے سرے سے جوانی آتی ہے اسی طرح غاروں میں رہنے والے پرندے جب موسم بہار میں بیدار ہوتے ہیں تو ان کے پرانے پر جھڑ جاتے ہیں اور نئے پر نکل آتے ہیں جو توانا اور جاذب نظر ہوتے ہیں سانپ کے بارے میں تو آپ سب کو پتہ ہی ہے کہ اس کی پرانی کھال اتر جاتی ہے اور اسے نئی کھال اور نیا چمڑا ملتا ہے جس کی چمک انتہائی خوبصورت ہوتی ہے اور تحقیقات سے ہی پتہ چلا ہے کہ اسی موسم میں جانوروں میں افزائش نسل کی خواہش بیدار ہوتی ہے خوراک سے دوری ان میں نئی جوانی لاتی ہے

اسی طرح درختوں کے بارے میں تو آ پ یورپ میں رہنے والوں کو زیادہ پتہ ہونا چاہیے کہ برفباری کے موسم میں ان کے سارے پتے جھڑ جاتے ہیں انہیں کوئی پانی نہیں دیا جاتا کئی کئی مہینے ان کی گوڈی نہیں کی جاتی ان کو مروج آبپاشی اور دیکھ بھال کے عمل سے نہیں گزارا جاتا تو سیدھی سے بات ہے کہ ان مہینوں میں وہ ”فاسٹنگ “ یعنی روزہ کے عمل سے گزرتے ہیں اور اس عمل کے ختم ہونے کے بعد جو خوبصورتی پتوں پر آتی ہے وہ قابل دید ہوتی ہے ان کے پتوں ان کی شاخوں ان کی کونپلوں پر بھرپور جوانی آتی ہے ان پر پھول اگتے ہیں اور یہ سب ممکن ہوتا ہے ان کے ایک لمبے روزہ کے عمل کے نتیجے میں یہ میں نہیں کہہ رہا بلکہ فرانس کا ایک ڈاکٹر جوفرائے ہے جس نے اس پر ایک مکمل مقالہ لکھا ہے اور اس کے پاس ان سب مشاہدات کا ثبوت ہے اس کا کہنا ہے کہ اگر انسان بھی چاہتا ہے کہ وہ توانا ہوجائے اس کی جنسی و جسمانی قوت میں اضافہ ہوجائے تو اسے چاہیے کہ وہ روزہ رکھے اور مجھے بتاﺅ کہ دنیا کا کونسا مذہب ہے جس میں یہ روزہ کسی نہ کسی صورت میں موجود نہیں ہے پھر مسلمانوں پر ہی یہ الزام کیوں ؟ ست پال سنگھ کہنے لگا ہاں واقعی ہندو بھی برتھ رکھتے ہیں جوزف والکر کہنے لگا ہاں عیسائیوں میں بھی چالیس دن تک کا روزہ رکھنے کا رواج تھا۔

امابیلے کہنے لگی لیکن پھر بھی جس طرح عیسائیوں نے آسانیاں تلاش کر لی ہیں مسلمانوں کو بھی کچھ کمپرومائز کر ہی لینا چاہیے کیا کہتے ہومحمود ؟ میں نے پوچھا ”امابیلے مجھے یہ بتاﺅ کہ تم نے سگریٹ نوشی کی عادت چھوڑنے کے لئے کیا کیا ہے ؟ “کہنے لگی کہ میں نے ایک ہیلتھ سنٹر میں 3000یوروخرچ کئے ہیں اور انہوں نے خاص قسم کی دوائیوں سے مجھے سگریٹ نوشی سے نجات دلائی ہیں میں نے کہا تمہیں پتہ ہے کہ ہزاروں مسلمان اس مہینے کی برکت سے سگریٹ نوشی سے نجات حاصل کرلیتے ہیں بغیر تین ہزار یوروخرچ کئے سب نے ایک زور دار قہقہہ لگایاحیران ہوکر پوچھنے لگی تو کیا سگریٹ نوشی بھی منع ہے میں نے کہا بالکل منع ہے ۔

ماریا کہنے لگی لیکن گرمیوں میں سولہ سولہ گھنٹے تک نہ کھانا بہت مشکل کام ہے بابا ؟ میں نے کہا ”کیا آپ کو پتہ ہے کہ اس وقت صحت کے حوالے سے انسانوںکا سب سے بڑا مسئلہ کیا ہے ؟یورپین صحت کے اداروں کے مطابق یورپ میں پچاس فیصد سے زیادہ مردو خواتین کوموٹاپا کی بیماری ہے امریکہ میں یہ تناسب ایک تہائی ہے یعنی ہر دو میں سے ایک بچہ موٹا ہے برطانیہ کی پروفیسر ڈاکٹر ڈیم سیلی ڈیوس کا کہنا ہے کہ اگر عورتوں کو موٹاپے سے بچانا ہے تو موٹاپے کی بیماری کو نیشنل رسک کے طور پر لینا ہو گا اور اس مسئلہ کو بھی اتنی ہی اہمیت دینی ہوگی جتنی دہشت گردی یا سائبر کرائم کو دی دجاتی ہے خطرہ ہے کہ موٹی خواتین ایک بیمار نسل پیدا کریں گی اس وقت دنیا میں جتنے لوگ ، کولیسٹرول ، ذیا بیطس ، ہارٹ اٹیک ، بلڈ پریشر اور کینسر جیسی بیماریوں سے مر رہے ہیں اتنے بھوک سے نہیں مر رہے

میں نے کہا آج سے 14سو سال پہلے دنیا کے سب سے بڑے حکیم حضرت محمد ﷺ نے فرما دیا تھا ”کہ معدہ بیماری کاگھر ہے او ر پرہیز ہر دوا کی بنیاد ہے “ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ انسان کی اکثر توانائی نظام انہضام کی وجہ سے صرف ہوتی رہتی ہے جب ہم طویل مدت تک کھانا نہیں کھاتے تومعدہ کی فراغت ملتی ہے جسم میں موجود زہریلے اور فاسد مادے ختم ہونا شروع ہوجاتے ہیں روزہ کینسر، امراض قلب اور شریانوں کی بیماریوں سے بچاتا ہے اوراس سے انسانی جلد میں حیر ت انگیز نشوونما ہوتی ہے

جون کارلو کہنے لگا لیکن بیماروں ، بچوں اور حاملہ عورتوں کا کیا قصور ہے ؟ میں نے کہا تمہار ا کیا خیال ہے کہ اسلام جو دین فطرت ہونے کا دعوی ٰ دار ہے وہ اس موضوع کو تشنہ چھوڑ دے گا اللہ تعالی ٰ نے نابالغ بچوں اور بیماروں پر روزے فرض نہیں کئے اسی طرح مخصوص ایام میں عورتوں اور مسافروںکو اس میں چھوٹ دی ہے میں نے کہا تمہارا دعوی ٰ ہے کہ سیاست میں اسے آنا چاہیے جو عوام میں سے ہو ۔ٹریڈ یونین میں اسے لیتے ہوجوکسی فیکٹری میں مزدوری کر کے آیاہو ایسا کیوں کرتے ہو ؟اس لئے کہ وہ عوام کے اورمزدوروں کے مسائل جانتے ہیں بالکل اسی طرح ہمارا دین بھی ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ بھوک کو خود آزما کر دیکھو تب ہی تمہیں کسی بھوکے کی تکلیف کی سمجھ آئی گے اور تم ایک صحت مند معاشرہ بناﺅ گے جہاں دوسروں کے دکھ کو سمجھ سکوگے وہ کہنے لگابس کرو یار وروزے کے اتنے زیادہ فوائد نہ بتاﺅ یہ نہ ہو کہ کل سے ہم سب بھی روزہ رکھنا شروع کردیں سب نے ایک زور دار قہقہہ لگایا میں نے کہا سچ کہوں تو تم سب پہلے سے ہی روزہ رکھتے ہو اور ایک مہینہ نہیں بلکہ کئی مہینے تک رکھتے ہوصرف تم نے اسکونام مختلف دیا ہوا ہے وہ سارے کہنے لگا کونسانام ؟ میں نے کہا تم نے اسے ایک جدید نام دیا ہے اور وہ ہے ”ڈائٹنگ

برطانیہ و یورپ میں رہنے والے والدین اور خصوصی طور پر علما ءکو چاہیے کہ وہ یہاں پلنے والی نوجوان نسل کو سختی کی بجائے دلیل سے احکام الہی سمجھانے کی کوشش کریں-

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *