غزل اور کیلنڈر

انتظار حسین  Intizar

ہم نے ابھی پچھلے دنوں مطلب یہ کہ نئے سال کے آغاز کے ساتھ اس کا ذکر کرتے ہوئے نیشنل بک فائونڈیشن کی ایک جدت کا ذکر کیا تھا۔ نیا سال۔ نیا کیلنڈر۔ اس ادارے نے جدت طرازی اس رنگ سے کی کہ اپنے کیلنڈر کو غزل کیلنڈر کے نام سے شایع کیا۔ کیلنڈر کا جو ورق الٹو اس میں مہینے کے ساتھ غزل در غزل۔ اتنی غزلیں کہ مہینے اور مہینے کی تاریخیں غزلوں کے ہجوم میں گم ہو کر رہ گئیں۔ یا اللہ ایسے ایسے شاعر جن کے نام بھی ہم نے نہیں سنے تھے اب تک کہاں چھپے ہوئے تھے کہ اب نمودار ہوئے ہوں۔

اس پر ہمیں داد کے بہت خط آئے جیسے یہ کیلنڈر نیشنل بک فائونڈیشن نے نہیں‘ ہم نے چھاپا ہے۔ یہ سارے خط غزل گویوں کی طرف سے تھے۔ ہاں ایک غزل گو نے استفسار کیا تھا آپ کے اخبار نے بھی تو نئے سال کی خوشی میں کیلنڈر چھاپا ہو گا۔ پوچھنے کا مطلب یہ تھا کہ اگر ایسا واقعہ ہوا ہے تو اس کیلنڈر میں بھی غزلوں کا اہتمام کیا گیا ہو گا۔ ہم نے اس شاعر کو جواب دیا کہ اس برس تو نہیں مگر ممکن ہے کہ اگلے برس ہمارا اخبار نہیں تو اور کوئی اخبار اپنا غزل کیلنڈر چھاپ دے اور اس کیلنڈر میں ہمیں آپ کا کلام معجز بیان بھی پڑھنے کو مل جائے۔

بس اس کے ساتھ ہی ہمیں غزلوں کے مجموعے موصول ہونے شروع ہو گئے اس گزارش کے ساتھ کہ آپ اپنے کالم میں نئے سال کی بسم اللہ بنام شاعر خاکسار کے دیوان سے کرب تو وہ کیا خوب بسم اللہ ہو گی۔

اس مضمون کی تفصیلات تو بہت ہیں۔ ان تفصیلات کو سمیٹ کر اجمال میں منتقل کیا جائے تو وہ یوں ہے کہ غزل کی فصل اب کے موسم میں اتنی اچھی ہوئی ہے کہ ہر شاعر ابلا پڑ رہا ہے۔ غزل کے نام ذہن رسا نے کشتوں کے پشتے لگا دیے ہیں۔ ہمارے ذرایع اور وسائل تھوڑے ہیں۔ غزل وافر مقدار میں برآمد ہوئی ہے۔ اس کی کھپت کہاں ہو۔ ایک راہ تو نیشنل بک فائونڈیشن نے سمجھائی ہے۔ یعنی کہ ہر سال ادارے اور کمپنیاں جو اپنے اپنے کیلنڈر چھاپتی ہیں ان سب کو اگر غزل کیلنڈر بنا دیا جائے تو یہ ساری فصل  باسانی ان کیلنڈروں میں کھپ سکتی ہے۔ خربوزے کو دیکھ کر خربوزہ رنگ پکڑتا ہے۔کیا عجب ہے کہ 14ء اس طرح چڑھے کہ ہر کیلنڈر غزلیات سے لبالب بھرا نظر آئے۔

خیر 2014ء ابھی دور ہے۔ ابھی تو ہم نے 2015ء کی حدود میں قدم رکھا ہے۔ لیجیے ان حدود میں قدم رکھتے ہی ہمیں شاعری کے کتنے مجموعے موصول ہوگئے۔ سب سے بڑھ کر غزل کے۔

غزل کا ایک مجموعہ پاکٹ سائز کا ہے۔ ہم تو اسے ایک مجموعہ غزل سمجھے تھے۔ کھول کر دیکھا اور اندر کے صفحات کی سیر کی تو اس کے اندر غزل کے دو مجموعے اکٹھے ہو گئے ہیں۔ پہلے مجموعے کا عنوان ہے ’چاند رات… دیوان غزل دوسرے دیوان کا عنوان ہے ’ٹوٹتے خمار کا دن‘۔ دیباچہ نگار کا بیان ہے کہ ’’یہ برساتی نالوں کا دور ہے۔ یہ جلد ہی آپے سے باہر ہو جاتے ہیں‘‘۔ اور جلدی نابود بھی ہو جاتے ہیں۔ آگے فرماتے ہیں کہ ’’ماجد صدیقی کا شمار موسمی ندی نالوں کے بجائے ہمیشہ رہنے والے اور ایک وقار سے اپنا سفر جاری رکھنے والے دریائوں میں ہوتا ہے‘‘۔

لیکن اس سے بڑھ کر دعویٰ ان کے دوسرے دیباچہ نگار ڈاکٹر توصیف تبسم نے کیا ہے ’’ماجد صدیقی کے قدم امادہ کی زمین پر جمے ہوئے ہیں شعر اس کی بوطتیا میں محض تفریح کا ذریعہ نہیں۔ افلاطون کے سامنے اگر ایسی شاعری ہوتی تو اپنی مثال ریاست سے شاعروں کو جلاوطن کرنے کا حکم کبھی نہ دیتا‘‘۔

لیجیے یہاں تو افلاطون بھی لپیٹ میں آ گیا۔ کچھ چوک افلاطون سے ہوئی اور کچھ تھوڑی چوک ماجد صدیقی سے ہوئی۔ افلاطون نے بہت عجلت میں شاعروں کی جلاوطنی کا حکم جاری کیا تھا۔ ذرا تو سوچا ہوتا کہ ع

شاید آ جائے کوئی آبلہ پا میرے بعد

ادھر ماجد صدیقی نے پیدا ہونے میں لیت و لعل سے کام لیا۔ ان کی شاعری کا ظہور بہت دیر سے ہوا۔ افلاطون بہت پہلے اپنا فیصلہ سنا کر دنیا سے رخصت ہو چکا تھا۔

سوچا کہ یہاں تو افلاطون کو چیلنج کیا جا رہا ہے۔ ہم کیا بیچتے ہیں کہ اس شاعری کے بارے میں بات کریں۔ اس پاکٹ سائز مجموعہ کو ایک طرف رکھا۔ دوسرے مجموعہ پر نظر ڈالی۔ اس مجموعہ پر جون ایلیا نے رائے زنی کی ہوئی تھی۔ ہم ٹھٹھکے۔ جون ایلیا شاعر خوب‘ بلکہ بہت ہی خوب۔ مگر جب نثر میں بات کرتے ہیں تو یہاں وہ بھی افلاطونی شان سے بولتے ہیں۔ اس پر مت جائیے کہ انھوں نے مختصر بات کی ہے۔ یہ دیکھئے کہ انھوں نے دریا کو کوزے میں بند کیا ہے۔ مجموعہ کلام ہے سجاد حیدر شاہ کا۔ مجموعہ کا عنوان ہے وزیر زبان۔ جون ایلیا کا بیان ملاحظہ فرمائیے۔

’’میں جون ایلیا انتہائی وثوق کے ساتھ یہ کہنے پر مجبور ہوں کہ سجاد شاہ کی غزلوں میں تصوف کا رنگ بڑی آب و تاب کے ساتھ موجود ہے۔ اس کا قرآنی اور تاریخی علم اس کی شاعری سے عیاں ہے۔ یقیناً اس کے بعض اشعار مخصوص الہامی کیفیت کی عکاسی کرتے ہیں‘‘۔

جون ایلیا نے اتنے تیقن اور اتنے وثوق سے‘ سمجھئے کہ جیسا کہ خود انھوں نے کہا انتہائی وثوق سے سجاد حیدر شاہ کی شاعری پر‘ ان کے قرآنی علم پر اور ان کے تصوف پر بات کی ہے کہ آگے کچھ کہنے کے لیے چھوڑا ہی نہیں۔ ہاں تصوف کے حوالے پر ہمیں یاد آیا کہ خواجہ میر درد نے کچھ اس رنگ سے اپنی شاعری میں تصوف کا مضمون باندھا تھا کہ شاعر عاشقانہ رنگ میں شعر کہتے کہتے تصوف کے کوچے میں جا نکلے اور یہ مضمون اتنا عام ہوا کہ ایک بزرگ کو کہنا پڑا کہ تصوف برائے شعر گفتن خوب امت‘‘۔

شاید مولانا حالی نے شاید اس رنگ کو کاٹنے کے لیے نیچرل شاعری کا شوشہ چھوڑا تھا۔ مگر اس پر کاری ضرب ترقی پسند تحریک نے لگائی۔ کیا تصوف اور کیا حسن و عشق ایسے سب رجحانات کو یہ کہہ کر رد کر دیا کہ نہ گل و بلبل نہ مئے عرفان اب داررورسن کی بات ہو گی اور غم دوراں کی۔ بہر حال اس دور میں ان کے مجوزہ برانڈ کی شاعری خوب چلی۔ لیکن اب ہم پھر تصوف کا ذکر سن رہے ہیں۔ صوفی میوزک۔ اور پھر صوفی غزل۔ یہ رنگ بقول جون ایلیا ، سجاد حیدر شاہ کی شاعری میں خوب چمکا ہے۔ خود حیدر شاہ نے اشاروں اشاروں میں ہمیں سمجھایا کہ ذرا ایسے شعروں پر غور کیجیے کہ یہ کونسا مضمون باندھا ہے اور کونسا منظر دکھایا ہے ؎

در اقدس پہ عجب ایک سماں دیکھا ہے
میں نے تخلیق سے پہلے کا جہاں دیکھا ہے

ارے واہ سبحان اللہ
ہے پر مرغ تخیل کی رسائی تا کجا

قوت متخیلہ کی پرواز کہاں تک گئی ہے اور پھر ایسے شعر

ایک تو پردہ نوری کے ہے پیچھے نوری
ایک دیتا ہوا اقصٰی میں اذاں دیکھا ہے

اور پھر یہ مقطع

اس کا بنتا ہی نہیں کوئی تصور حیدر
جب سے میں نے ترے خالق کا مکاں دیکھا ہے

ایسے ہی شعروں نے جون ایلیا کو لوٹ لیا۔ ہم نے ان سے اشارہ لیا اور حیدر شاہ کی شاعری میں ایسی متصوفانہ شان دیکھ کر ان کے قائل ہو گئے۔ اس سے بڑھ کر ان کے دیباچہ کو پڑھ کر دنگ رہ گئے۔ ایک عالمانہ دیباچہ ہم نے خود جون ایلیا کے قلم سے نکلا ہوا پڑھا تھا۔ لگتا تھا کہ علم کا دریا بہہ رہا ہے۔ یا اب اس مجموعہ میں جس کا عنوان ’زیر زبان‘ ہے خود شاعر کا لکھا ہوا دیباچہ پڑھا۔ جب شاعر خود اپنی شاعری کے باب میں رواں ہو تو پھر قاری کو چاہیے کہ خود خاموش ہو جائے اور گوش ہوش سے شاعر کو سنے۔

ہاں لیجیے شاعر کے کچھ شعر سن لیجیے

گلابی پھول پر شبنم کا قطرہ
کوئی بار گراں تھا اوز میں تھا

رخ زیبا کی کیا تعریف ہوگی
مثال ارغواں تھا اور میں تھا

نشاں کشتی کے دریا میں نہیں تھے
کنارے بادیاں تھا اور میں تھا

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *