..... مہنگے پھلوں کا بائیکاٹ ختم

syed arif mustafa

.... شدید افسوس ہے اور سخت اضطراب بھی
مہنگائی پھر بال کھولے ہر دکان اور ٹھیلے پہ سو رہی ہے ۔۔۔۔
پھلوں کی تین روزہ بائیکاٹ مہم سے یار لوگوں نے مہنگائی کے خاتمے کی جو اجلی امیدیں باندھ لی تھیں وہ سب خاک میں مل گئیں کیونکہ آج مہم کے خاتمے کے اگلے ہی روز پھلوں کی قیمتیں پھر پہلے ہی کی بلند سطح پہ نظر آئیں - خربوزہ جو اس بائیکاٹ سے پہلے بھی اور دو روزوں کے بعد ہی 60 -70 روپے فی کلو سے 40 پہ آچکا تھا وہ اب بھی اسی قیمت میں دستیاب ہے جبکہ رمضان سے پہلے یہ 25 روپے کلو میں مل جاتا تھا - درمیانی کیلے اب بھی 120 روپے درجن میں ہی بک رہے ہیں اوردرجہ اؤل کا حال بھی حسب سابق ہے- درمیانی قسم کے ہرے پیلے سیبوں کا نرخ بدستور 200 روپے کلو ہی ہے جبکہ درجہ اؤل یا لال سرخ سیبوں کی قیمت نہ ہی پوچھیئے اسی طرح آم کی کیفیت ہے اور اس میں مطلق کوئی کمی نہیں آئی ہے اور عام قسم کا سندھڑی آم اب بھی کم ازکم 100 روپے کلو سے کم میں نہیں مل رہا ہے ،،، ویسے تو اس مہم کا دائرہ سارے ملک تک ہی پھیلا ہوا تھا لیکن میڈیا سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق لاہور والوں نے اس مہم میں کوئی خاص دلچسپی نہیں لی اور وہ سارے ملک سے پیچھے رہ گئے ،،،

میرا پھر سوال یہی ہے کہ آخر اس تین روزہ پھل بائیکاٹ مہم کا حاصل وصول کیا ہوا ،،، حاسدین اور ناقدین تو یقینناً اس کے حالیہ نتائج پہ مضحکہ اڑائیں گے ہی لیکن خود ہمیں بھی اس مہم کے اثرات و نتائج کا اپنے طور پہ تجزیہ کرنا چاہیئے ،،، عمملا یہ ہوا ہے کہ کچھ بھی نہیں ہوا ،،، میں نے آج گول مارکیٹ ناظم آباد کراچی کے پھل فروشوں سسے جو سروے کیا تو انکا یہ کہنا تھا کہ "جناب ایسی دس بائیکاٹ مہمات اور چلالیں ، اس وقت تک کوئی فرق نہیں پڑے گا جبتک کہ منڈی میں بیٹھے ہوئے ہول سیلرز اور اسٹاکسٹوں پہ ہاتھ نہیں ڈالا جائے گا "،،، وہ ڈھیروں ڈھیر مال لاکے ذخیرہ کرلیتے ہیں اور پھر یہ طاقتور لوگ اتنے بڑے بڑے گوداموں کے مالک ہیں کہ ایسی تین روزہ ہڑتال سے انکا کچھ بھی نہیں بگڑنا۔۔۔ ایک نہیں، وہ سب ٹھیلے والے یہی کہ رہے تھے کہ جناب ہم تو آج بھی اسی مہنگی قیمت پہ پھل فروخت کررہے ہیں کہ جس قیمت پہ بائیکاٹ سے پہلے بیچ رہے تھے کیونکہ ہمیں تو پیچھے سے ہول سیلر اسی اونچی قیمت پہ مال بیچ رہا ہے ،،، میرے قارئین یاد کریں کہ میں نے اسی نکتے کی بنیاد پہ اپنے پرسوں کے تجزیئے میں مارکیٹ سے اس اسٹاکسٹ مافیا کو اکھاڑ پھینکنے کی بات کی تھی اور اسکے لیئے انکے گوداموں کو بند کرکے سیل کردینے کی تجویز پیش کی تھی اور اس منڈی کی مرکزیت کو 6 اضلاع میں تقسیم کرکے اس مافیا کے شکنجے کو کھول دینے بلکہ توڑپھوڑ دینے کی تجویز بھی دی تھی- لیکن ان کاموں کے لیئے جس عزم و ہمت اور خلوص کی ضرورت ہے وہ حکومتی و انتظامی سطح پہ یکسر مفقود ہے

یہاں میں یہ حوصلہ بھی دلاتا چلوں کہ اب بھی صورتحال زیادہ نہیں بگڑی اور اب بھی اصلاح احوال ممکن ہے کیونکہ میں پھر یہ بات دہراؤں گا جیسا کہ میں نے اپنی گزشتہ پوسٹ میں لکھا تھا کہ قیمتوں میں کمی کتنی ہوئی تب بھی اعداد و شمار سے قطع نظر ، یہ عوامی قوت کی بیداری کا کامیاب آغاز ہے ،،، لیکن اس سے یہ ہرگز نہ سمجھ لیا جائے کہ کہ بس اتنا ہی کافی ہے ۔۔۔ بلکہ اب اگر اس مہم کی سوچ یا اسپرٹ کو صحیح طرح سے برقرار نہ رکھا گیا تو یہ معاملہ الٹا بھی پڑسکتا ہے اور یہ مہم عوام میں پہلے سے موجود مایوسی کی دھند بڑھانے اور تھوڑی بہت بندھی آس امید کے دیئے بھی بجھا ڈالنے کا باعث بن سکتی ہے - میں نے اپنی اسی پوسٹ میں پھلوں اور سبزیوں کی قیمتیں نارمل سطح پہ لانے کے لیئے اپنے ذاتی تجربات و مشاہدات کی روشنی میں اس مارکیٹ کے پورے میکنزم کا تفصیلی تجزیہ پیش کیا تھا اورمتعدد عملی تجاویز بھی پیش کی تھیں جنکا کسی نے کوئی خاص نوٹس نہیں لیا اور یوں لگا کہ جیسے لوگوں کو کسی پلاننگ اور منصوبہ بندی وغیرہ کے ساتھ کوئی لینا دینا ہی نہیں ہے - اسی طرح کل میں نے عید قرباں پہ قربانی کو سستا کرنے کی ضرورت سے متعلق مضمون لکھا تھا اور اس میں بھی بہت سی عملی تجاویز دی تھیں لیکن افسوس یہ ہے کہ اس جانب بھی کوئی خاطر خواہ دلچسپی نہیں دیکھی گئی - بہرحال اب جبکہ اس بائیکاٹ میہم نے منڈی مافیا پہ کوئی خاص اثر نہیں ڈالا ہے اب ہم شہریوں کو اس کے خلاف سرجوڑ کے غوروخوص کرنا چاہیئے اب ہمیں ہر علاقے میں اپنے رضاکار بھی بنانے ہونگے تاکہ وہ ان اجتماعی فیصلوں کو نافذ کرنے کے لیئے ذخیرہ اندوزوں اور حکومتی گریبانوں کو زبردست انداز میں جھنجھوڑسکیں
- arifm30@gmail.com

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *