ورلڈ لیڈرشپ سے امریکہ کی گریزپائی

khalid mehmood rasool

امریکی صدرڈونالڈ ٹرمپ اپنے پہلے نو روزہ غیر ملکی دورے پر نکلے تو توقع کے عین مطابق ایک دنیا کو حیران کر کے لوٹے۔ دورے کا آغاز سعودی عرب سے ہوا جس کی تفصیلات ہم سب کو ازبر ہیں۔ موصوف نیٹو ہید کوارٹر پہنچے تو لگی لپٹی رکھے بغیر سب اتحادیوں کو بھرے میڈیا کی موجودگی میں کھری کھری سنائیں کہ امریکہ نیٹو کا سارا بوجھ نہیں اٹھا سکتا۔ نیٹو کے اٹھائیس میں سے تئیس ممالک اپنے حصے سے کہیں کم وسائل نیٹو کو چلانے کے لئے دیتے ہیں۔ انہوں نے طنزاٌ نیٹو کے نئے تزئین شدہ ہیڈ کوارٹر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ، ہم نے تو تقاضا نہیں کیا تھا کہ اس کی تزئینِ نو پر ایک ارب ڈالر لگائیں لیکن یہ خوبصورت ضرور لگ رہا ہے۔
دنیا کی امیر ترین سات بڑی معیشتوں کے سربرہان کے اجلاس جی سیون میں بھی موصوف کچھ کھچے سے رہے۔ دیگر سربراہان کے ساتھ انہوں نے تجارت اور ماحولیات کے موضوع پر کھل کر اختلاف کیا۔ جرمنی کے ساتھ امریکہ کے تجارتی خسارے پر انہوں نے اپنے ایک ٹویٹ میں پہلے ہی اپنے خیالات کی زمین تیار رکھی تھی؛ جرمنی کے ساتھ ہمارا بہت بڑا تجارتی خسارہ ہے۔ اس پر مستزاد یہ نیٹو میں اپنا جائز حصہ بھی ادا نہیں کرتا۔ یہ امریکہ کے لئے نیک فال نہیں۔ یہ سب اب تبدیل ہو گا ! جرمن حکومت کا یہ موقف ہے کہ ان کی اشیاء بہتر کوالٹی کی ہیں اور مارکیٹ کی مسابقت میں صارفین انہیں خریدنا چاہتے ہیں۔ اب اس میں جرمنی کا کیا قصور ہے؟ لیکن امریکی صدر ٹرمپ کا گلہ بدستور ہے۔ اس پر جرمنی کی پختہ کار سیاست دان اینگلا مرکل کو بھی بر سرِعام جواب دینا پڑا : اب جرمنی اپنے روایتی اتحادی ملک امریکہ اور برطانیہ پر مزید بھروسہ نہیں کر سکتا۔ ہمیں بطور یورپی یونین اپنے مستقبل کے لئے خود ہی لڑنا ہو گا۔ بلکہ اس کے بعد انہوں نے اعلانیہ چین کے ساتھ تجارتی معاملات میں مزید قربت اور سرگرمی کا عندیہ بھی دے ڈالا۔
جی سیون کے اجلاس میں امریکی صدر نے واضح طور پر ماحولیات پر طے پانے والے عالمی معاہدے سے اپنے ملک کی علیحدگی کا اپنا ارادہ دہرایا۔ دیگر سربراہان نے انہیں باز رکھنے کے کوشش کی لیکن وہ نہ مانے۔ روانگی کے وقت اتنا ضرور کیا کہ فیصلہ فوری نہ سنایا بلکہ اگلے ہفتے پہ مؤخر کر دیا۔ گذشتہ ہفتے کے آخر پر بالآخر انہوں نے یہ فیصلہ سنا ہی ڈالا کہ امریکہ نے اقوامِ متحدہ کی سرکردگی میں طے پانے والے پیرس ماحولیات معاہدے سے علیحدہ ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ دنیا کی سیاست اور سفارت میں ایک پہلکہ مچ گیا۔ امریکہ کے اندر ڈیموکریٹ گورنرز، مئیرز اور کئی نمایاں عالمی کمپنیوں نے اس فیصلے کی شدید مخالفت کی اور دنیا کو باور کروایا کہ وہ اپنی اپنی ریاست، شہر اور کمپنی میں اس معاہدے کی ذمہ داریوں کے اہداف ضرور پورے کریں گے۔
ماحولیاتی تبدیلیاں دنیا کے سائنس دانوں کو عرصے سے پریشان کئے ہوئے ہیں۔ گذشتہ دو تین سو سال کی اندھا دھند صنعتی ترقی نے ماحول میں ایسی ایسی آلودگی پھیلائی ہے کہ الحفیظ الامان۔ صنعتوں سے خارج ہونے والی گیسوں سے دنیا کے ماحول کو اس قدر نقصان پہنچ چکا ہے کہ اگر دنیا کے ممالک نے مل کر اس کی تلافی نہ کی تو بڑھتے ہوئے درجہ ء حرارت سے سیلاب، بارشوں اور قحط کے ایسے حالات پیدا ہو سکتے ہیں کہ خوراک کا حصول انسانی نسل کے لئے مشکل ہو جائے گا۔ بڑھتے ہوئے درجہ ء حرارت سے گلیشئیرز کے پگھلنے سے سمندروں کی سطح بلند ہو کر کئی ملکوں کو نابود کر دے گی۔ اقوام متحدہ کی نگرانی میں تمام ممبر ممالک کے درمیان طویل مذاکرات کے بعد پیرس معاہدہ 2015 میں طے پایا۔ 195 ممالک نے اس پر دستخط کئے اور اب تک 148 ممالک اس کی باقاعدہ توثیق کر چکے ہیں۔
اپنی صدارتی مہم کے دوران ٹرمپ اس معاہدے کے خلاف رہے۔ ان کے خیال میں نقصان دہ گیسوں کی خیال آرائی کی وجہ سے امریکہ کی کوئلے کی صنعت ٹھپ ہو کر رہ گئی ہے جس سے لاکھوں لوگ بے روزگار ہو گئے۔ مزید یہ کہ کلین انرجی کے لئے امریکہ کے کاروباری اداروں کو بلا وجہ خاصی اضافی لاگت برداشت کرنا پڑ رہی ہے جبکہ اس دوران دنیا میں سب سے بڑے آلودگی کا باعث بننے والے ممالک پر ایسی کوئی خاص قدغنیں نہیں۔ سو گذشتہ ہفتے انہوں نے اس معاہدے سے علیحدگی کا اعلان کر دیا ہے۔ دنیا بھر میں شدید ردِ عمل ہوا لیکن زمیں جنبد نہ جنبد صدر ٹرمپ۔
عالمی منظر پر جنگِ عظیم دوم کے بعد امریکہ نے ایک سپر پاور اور ورلڈ لیڈر کا کردار سنبھالا۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد جاپان اور جرمنی کو مارشل پروگرام کے تحت پھر سے معاشی طور پر اپنے پاؤں پر کھڑا کیا اور ان کو فوجی طاقت سے دور رکھا۔ ان کے دفاع کی ذمہ داری اپنے ذمے لے لی۔اپنے اتحادیوں کے ساتھ اقوام متحدہ کا ادارہ کھڑا کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ ورلڈ بنک اور آئی ایم ایف کے ادارے قائم کرکے د نیا کی معیشت کو ایک نظم کے تحت مربوط کیا ۔ یورپ کو ایک مربوط یونین بنانے میں اس کی آشیر باد ہمیشہ رہی۔ نیٹو کی شکل میں یورپ کے ساتھ دفاعی اتحاد قائم کیا۔ روس کا شیرازہ بکھرنے کے بعد بھی نیٹو کو قائم اور فعال رکھا ۔ عالمی تجارت میں اپنی اور اپنے اتحادی ممالک کی دیرپا برتری کے لئے اسے ورلڈ ٹرید آرڈر کے تحت منظم کیا اور یوں ورلڈ ٹرید آرگنائزیشن کی داغ بیل ڈالی گئی۔ سوشلسٹ بلاک کے بکھرنے کے بعد عملاٌ دنیا یونی پولر ہو گئی۔ رہی سہی کسر گیار ستمبر کے واقعے نے پوری کر دی۔ اس عالمی نظام سے اختلاف یا ان ملکوں سے مخاصمت کا نتیجہ منظم معاشی اور سیاسی پابندیوں کی صورت میں ٹھونسا جانے لگا۔
کویت جنگ کے بعد عراق کی شدید معاشی اور سیاسی ناکہ بندی کی گئی۔ لاکھوں بچے غذائی قلت کے ہاتھوں موت کے مونہہ میں پہنچ گئے۔ ایک پوری نسل کی زندگی مفلوج ہو گئی لیکن یہ پابندیاں شدّومد سے بزور نافذ رکھی گئیں۔ ایران کو بھی ایسی ہی پابندیوں میں جکڑا گیا۔ ایران کو ایٹمی صلاحیت کے حصول کے الزام میں سالہا سال تک معاشی، مالیاتی، سفری اور سیاسی پابندیوں کا عذاب بھگتنا پڑا۔ حالیہ سالوں میں یوکرائن کے قضیے اور روس کی جانب سے کریمیا کو ضم کر لینے کے بعد روس پر بھی شدید معاشی اور تجارتی پابندیاں عائد کی گئیں جو تا حال جاری ہیں۔ تجارتی ، معاشی اور مالیاتی پابندیوں کا ایک ایسے مہلک ہتھیار کے طور استعمال ورلڈ آرڈر کے نظم کو برقرار رکھنے کا ایک آزمودہ معمول بن گیا ہے۔
امریکی اسٹیبلشمنٹ اور سیاسی ڈھانچے نے دنیا میں امریکہ کی تجارت، معیشت ، سیاست اور فوجی برتری میں بلا شرکت غیرے قیادت کے لئے گذشتہ ستّر سالوں سے مسلسل محنت اور ریاضت کی ہے۔ صدر ٹرمپ اس روایتی سیاسی ڈھانچے سے نہیں ابھرے۔ انہوں نے باہر سے آ کر اس نظام میں اپنے لئے جگہ بنائی۔ جن پر کشش نعروں کی بناء پر انہوں نے الیکشن جیتا اب وہ انہیں فوراٌ پورا کرکے اپنے ووٹرز کے سامنے سرخرو ہونا چاہتے ہیں۔ کچھ وعدوں سے تو مجبوراٌ وہ پیچھے ہٹ چکے لیکن ٌ سب سے پہلے امریکہ ٌ کے نام پر وہ کئی اقدامات اٹھا چکے ہیں۔ پیسیفک کے بارہ ممالک کے ساتھ تجارتی معاہدے سے علیحدگی کا اعلان انہوں نے آتے ہی کر دیا۔ یورپ کے ساتھ نئے تجارتی معاہدے پر مزید مذاکرات معطل ہیں۔ نیٹو ممالک کو انہوں نے وعدے کے مطابق آڑے ہاتھو ں لیا کہ اپنے اپنے حصے کے اخراجات اٹھائیں۔ تجارتی خسارے پر چین سے رویہ نرم کر لیا لیکن جرمنی کو خوب تنقید کا نشانہ بنایا۔ سات مسلم ممالک پر سفری پابندیوں کے لئے انہوں نے اب سپریم کورٹ سے دوبارہ درخواست کی ہے۔
گذشتہ چند ماہ سے تابڑ توڑ انداز میں صدر امریکہ کے ان اقدامات سے ماہرین حیران ہیں کہ آیا امریکہ اب عالمی قیادت سے گریزپا ہے۔ بی بی سی نے اس موضوع پر اپنی ایک رپورٹ کی سرخی کچھ یوں جمائی؛ امریکہ اب ورلڈ لیڈرشپ سے گریز اں ہے ۔ رپورٹ کے مطابق اپنے حلف برداری کی تقریر کے اعلان ٌ سب سے پہلے امریکہ ٌ پر وہ بدستور عمل پیرا ہیں۔ آخری معرکہ انہوں نے اپنے تمام اتحادیوں کی مخالفت کے باوجود یہ مارا کہ پیرس معاہدے سے علیحدگی اختیار کر لی۔ امریکہ کی مشہورِ زمانہ پرنسٹن یونی ورسٹی کے پالیٹکس اور انٹر نیشنل ریلیشنز کے پروفیسر جان آئیکنبیری نے اس پر نہایت علمی تبصرہ کچھ یوں کیا کہ ٹرمپ کے ارادے دوسری جنگِ عظیم کے بعد بڑی محنت سے بنائے گئے انٹرنیشنل سسٹم کے بالکل الٹ ہیں۔ پروفیسر جان کے خیال میں قدیم اور جدید زمانے کی بڑی طاقتوں کے بنائے ہوئے تمام نظم بالآخر زمیں بوس ہوئے۔ ایسے نظام عام طور پر حالات کے جبر سے اپنے انجام کو پہنچے لیکن کسی ایک ایسے نظم نے بھی خود کشی نہیں کی لیکن اب لگتا ہے کہ یہ خود کشی ہونے جا رہی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *