شعلہ  اورشبنم

mehmood-asghar-chaudhry

 لندن میں دو صومالین مسلمان عورتوں پر کیمیکل پاﺅ ڈر پھینکا گیا ہے ۔ان کے برقعے کھینچے گئے ہیں۔تمہیں کیا لگے ۔ تم اپنے دانشور کا تجزیہ پڑھو اور سر دھنو ۔تم رہتے لندن، پیرس اور روم میں ہو لیکن راہنمائی ان سے لو جو یہاں کی ثقافت سے نابلد اور تمہارے مسائل سے نا آشنا  جوچھ ہزار کلومیٹر دو ربیٹھ کر تجزیہ لکھتا ہے ۔ مانچسٹر میں 16سال کے مسلمان بچہ پر لائبریری میں چاقو سے حملہ کیا گیاہے ۔ایک مسجد کا دروازہ جلانے کی کوشش کی گئی ہے ۔ امریکہ میں ایک مسلمان عورت کو ایک انتہا پسند گورے سے بچاتے دو امن پسند گوروں نے جان دے دی ہے ۔ اٹلی میں دو نوجوانوں کی گھٹیا حرکت کے نتیجے میں سارا شہر احتجاجا ً اپنی قمیض اتار کر سڑک پر آگیا ہے۔ لندن میں ایک مسجد کے نمازیوں پر ایک گورا چھری سے حملہ آور ہوا ہے ۔ برطانیہ میں وارننگ جاری کی جارہی ہے کہ مسلمان نفرت انگریز جرائم کا شکار ہوسکتے ہیں ۔ اکیلے نہ نکلیں ۔ ڈرائیور کسی راہگیر کے لئے اپنی ونڈو کا شیشہ نیچے نہ کریں۔ان پر تیزاب پھینکا جا سکتا ہے ۔سوشل میڈیا پر گورے ویڈیو جاری کر رہے ہیں کہ وہ بھی مسجدوں پر حملہ کریں گے ۔جانتے ہوئے ایسا کیوں ہوا ہے کیونکہ مانچسٹر ہو یا لندن ، اٹلی ہو یاسویڈن ملزموں کے نام سلمان عبیدی ، خرم بٹ ،یوسف اور رضوان جیسے ہیں لیکن تمہیں کیا لگے تم تجزیہ پڑھو اور سر دھنو

پندرہ سال گزر گئے لیکن تمہارے دانشوروں کے تجزئیے نہیں بدلے۔ ”مسلمان دہشت گرد نہیں ہوسکتا “چلو مانا نہیں ہوسکتا لیکن باہر نکلو اور یہ ثابت بھی کرواپنے کردار سے اپنے احتجاج سے اور اپنے تعارف سے ۔لیکن تم ایسا نہیں کرو گے جانتے ہو کیوں؟کیونکہ تمہارا دانشور یہ بھی کہتا ہے ایسا کوئی واقعہ سرے سے ہوا ہی نہیں۔ وہ آٹھ سال کی بچے کی لاش دکھاتے ہیں تم کہتے ہو یہ ساراان کا اپنا ہی ڈرامہ ہے ”مگریشودہاکہتی تھی کی جھوٹے ہیں یہ سب لوگ تمام میرے شام کو سارے یو ں ہی کرتے ہیں بدنام “ تم مذمت بھی کرتے ہو لیکن وہ تمہاری مذمت کا اعتبار نہیں کرتے وہ کہتے ہیں کہ تم دل سے خوش ہوکیونکہ تم کسی مظاہرے میں نظر نہیں آتے ۔ان کی رسم مرنے والوں کے لئے شمع جلانا ہے لیکن تمہارا دانشور پتہ نہیں کہاں سے مسئلہ نکالتا ہے کہ موم بتی جلانا حرام ہے تم ان کی رسم کا مذاق اڑاتے ہو لیکن زخموں پر پھاہے نہیں رکھتے ۔جانتے ہو کیوں ؟ کیونکہ تمہار ا ہی دانشور بتاتا ہے کہ انہوں نے تمہارے لوگوں کے مرنے پر افسوس نہیں کیا تھا تو تم بھی نہ کرو ۔

 تمہارے لوگوں سے مراد دانشور کی نظر میں تمہارا ہمسایہ نہیں جس کے پڑوس میں تم رہتے ہو ، تمہارا کولیگ نہیں جس کے ساتھ تم کام پر سارا دن گزارتے ہو ، تمہارے بچے کی سکول ٹیچر نہیں جو بڑی محنت سے اسے پڑھا رہی ہے، تمہارے محلے کا ڈاکٹر نہیں جو بیماری میں تمہارا علاج کرتاہے تمہارا بس ڈرائیور نہیں جو روز تمہیں تمہاری منزل پر پہنچاتا ہے ۔ بلکہ دانشور کی نظر میں تمہارے لوگ وہ ہیں جو کسی چوتھے ملک میں کسی اپنی ہی برادری کی لگائی ہوئی آگ کا نشانہ بن رہے ہیں جانتے ہو ہرگاﺅں میں ایک نہ ایک شخص ایسا ضرور ہوتا ہے کہ اگر اس سے پوچھیں کہ فلاں کے گھر موت ہوگئی تو تم افسوس کے لئے ان کے گھر کیوں نہیں گئے تو وہ فوراً کہے گا”اس لئے کہ میری پھوپھو کے بیٹے کی سالی کے دیور کی بھانجی کی موت کا افسو س کرنے وہ لوگ نہیں آئے تھے اس لئے میں بھی نہیں جاﺅں گا “۔

تمہارا افلاطون دانشور یہ تجزیہ کر ے گا ان ممالک کی سیاسی پالیسیاں ہے جن کا انہیں خمیازہ بھگتنا پڑ رہا ہے ۔ مانا ایسا ہی ہوگا لیکن تمہیں اخلاقاًکسی روتے ہوئے کو چپ کرانا ہے یا مبصر بننا ہے ۔ اور سیاسی پالیسیاں سیاستدان بناتے ہیں یا تمہارے جیسے نہتے ، بے گناہ شہری ؟مانا تمہارے تجزیہ نگار کے سارے کے سارے تجزیے ٹھیک ہیں اور جو گتھیاں دنیا کی انٹیلی جینس ایجینسیوں سے بھی حل نہیں ہوتیں وہ متعلقہ دانشورنے بغیر کسی ثبوت ، بغیر کسی ذرائع کے، بحریہ ٹاﺅن میں چھ ہزار کلومیٹر دو ر بیٹھ کر قلبی نور سے دو دن کے اندر اندر حل کرلیں۔ایسے میں اگر کوئی ہمسائے کے غم میں شریک ہونے کی بات لکھے توتمہارے خیال میں اسے کافروں کی بڑی فکر ہے حالانکہ اگر غورکرو تواسے اپنوں کی فکر ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اس کے نتائج عام پر ُامن مسلمان کو ہی بھگتنا پڑیں گے۔

            جانتے ہو ہم کس نبی ﷺ کی امت ہیں جنہوں نے ہمیں معاشرے میں رہنے کے آداب سکھائے اپنی سیرت میں زندگی گزارنے کا کوئی ایساپہلو نہیں چھوڑا جو تشنہ ہو جب آپ ﷺ کی سیرت ہمارے سامنے ہے توہمیں کسی تجزیہ نگار کی ضرورت نہیں ہے۔آپ ﷺ نے جب اعلان نبوت کرنے کا ارادہ کیا توسب سے پہلے مکہ والوںکوکھانے پہ بلایا۔کھانے کے بعد آپ ﷺنے تمام حاضرین سے اپنے بارے میں رائے پوچھی تھی کہ اگر میں یہ کہوں کہ اس پہاڑ کے پیچھے سے ایک لشکر ہے جو تم لوگوں پر حملہ کرنے والا ہے تو کیا تم اس بات کا یقین کرلو گے؟ تمام شہر والوں نے کہا بے شک ہم آپ ﷺکی بات کا یقین کر لیں گے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ آپ نے کبھی جھوٹ نہیں بولا۔جانتے ہو لوگوں نے یہ جواب کیوں دیا کیونکہ آپ ﷺ کے شب و روز مکہ والوں کے سامنے تھے آپ ﷺ نے صرف غار حرا تک عبادات ہی نہیں کی تھیں بلکہ لوگوں کی امانتوںکی حفاظت اور تجارت و معاملات میں اپنے آپ کو سچا اور کھرا ثابت کیا تھا اسی طرح جب حضور نبی کریمﷺمکہ سے مدینہ ہجرت کی تو وہاں مختلف نظریات کے پیروکاروں سے بالکل الگ تھلگ ماحول نہیں اپنایا بلکہ وہاں پر موجو د یہودی ونصاریٰ سے معاہدہ کیا یہ آپ ﷺ کا حسن سلوک اور قائدانہ صلاحیتیں ہی تھیں جن سے متاثر ہو کر یثرب کو مدینہ بننے کا شرف حاصل ہوا

            کسی بھی دوسرے ملک جاکر وہاں پر موجود دوسرے مذاہب اور ثقافتوں کے ماننے والوں سے تعلق استوار کرنا سنت نبوی ﷺ سے ثابت ہے۔اگر تم بھی کسی ایسے ملک میں رہائش پذیر ہو جو تمہارا آبائی ملک نہیں تو تجزیہ نگاروں کی پیروی کرنے کی بجائے اپنے نبی محترم ﷺ کی پیروی کرو ۔ یورپ میں بصیرت رکھنے والے مسلمان اسکالرز مقامی کمیونٹی سے بہتر تعلقات استوار کرنے کے مختلف پراجیکٹ تشکیل دیتے رہتے ہیں ان میں سب سے اہم پراجیکٹ یہ ہے کہ وہ گاہے بگاہے اپنی مساجد میں اوپن ڈے کے نام سے دنوں کا اہتمام کرتے ہیں جس میں علاقہ میں رہنے والی مقامی کمونٹی کے تمام سیاسی و سماجی شعبہ جات کے افراد ، مقامی انتظامیہ کے عہدہ داران اور قانون نافذکرنے والے اداروں کے آفیسران اور میڈیا کواپنی مساجد میں بلاتے ہیں ۔ دنیا کے کسی بھی شعبے میں کھانے کی دعوت سے بہت اچھے نتائج حاصل کئے جا سکتے ہیں اگر ایسے پراجیکٹ رمضان کے دنوں میں افطاری کے وقت کئے جائیں توڈبل نتائج حاصل کئے جا سکتے ہیں۔ جب مقامی لوگ آپ کو ، آپ کی مسجد کو ، رمضان جیسی ایثار والی روایات کو قریب سے جان لیں گے ، جب آپ سے ان کا تعارف ہوجائے گاجب آپ کی عزت ان کے دل میں گھر کر جائے گی تو یقین مانیں مسلمانوں کے بارے ان کے تحفظات دور ہوجائیں گے پھر داعش ہو یا کوئی بھی ایسا جعلی گروہ جو اسلام کا نام لیکر اسے بدنام کرنے کی کوشش کررہا ہے وہ آ پ کا تعارف نہیں بنے گا آپ خود اپنا تعارف بنو گے۔ عام شہری کے رائے تبدیل کریں پھر دہشت گردی کی محض خبریں ان کی رائے تبدیل نہیں کر سکیں گی جب وہ آپ کے قریب ہوں گے تو وہ نہ ٓآ پ سے متعارف ہوں گے بلکہ اسلام کے بارے جاننے کی کوشش بھی کریں گے اپنے دلوں کے اور اپنی مساجد کے دروازے کم از کم سال میں ایک دن کے لئے سب لوگوں کے لئے کھول دیجئے یاد رکھیں جودلوں میں محبت کی گندم بوتا ہے اس کے لئے کبھی نفرت کا” جو“ نہیں اگتااور جونفرت کے شعلے پر محبت کی شبنم گراتا ہے وہ اس کی حدت کم کر سکتا ہے-

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *