میانوانی کی تحصیل عیسیٰ خیل کے کسانوں کی دہائی

kisan

سٹاک ہوم ( عارف کسانہ؍ نمائدہ خصوصی ) سویڈن کی یونیوسٹی کے ٹی ایچ کے پی ایچ ڈی سکالر عبداللہ خان نے کہا ہے کہ میانوالی کی تحصیل عیسی ٰ خیل کے نواحی قصبوں مہرشاہ والی، سمندوالہ اور جنتی والہ کے غریب عوام صوبائی وزیر آبپاشی پنجاب امانت اللہ خان شادی خیل اور انکے بھائی رکن قومی اسمبلی عبید اللہ خان شادی خیلکے ظلم کے ہاتھوں مجبور ہیں۔ان با اثرلوکوں نے اپنی اور اپنے رشتہ داروں کی زمینیں اور باغات بچانے کے لئے حکومت اور عوام کی آنکھوں میں دھول جھونک کر سیلابی نالے ‘‘ بڑوچ‘‘ کا پہلے سے منظور شدہ نقشہ تبدیل کر کے اس کا رخ آبادی والے قصبوں مہرشاہ والی، سمندوالہ اور جنتی والہ کی طرف کر دیا ہے۔ یاد رہے کہ کالاباغ سے لیکر عیسیٰ خیل تک تقریبا‘‘ چودہ ایسے برساتی سیلابی نالے گزرتے ہیں لیکن سوال یہ ااٹھتا ہے کہ یہ نالہ ہی کیوں انکی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ یہ با اثر افراد اپنے ذاتی مفادات کی خاطر غریب لوگوں کی جان و مال کے درپہ ہیں اور ان کو بے گھر اور انکی زمینوں کو بنجر بنا دینا چاہتے ہیں۔ حالانکہ پاکستان کے آئین کے مطابق اپنے مفادات کی خاطر کسی کی زمین ہتھیانا اورکسی کو بے گھرکرنا قانونی جرم ہے۔ چونکہ میانوالی کا یہ حلقہ عمران خان کی حمایت کرتا ہے اس لئے یہ دونوں بھائی ان لوگوں سے سیاسی انتقام لے رہے ہیں اورانہیں وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی بھی بھرپوحمایت حاصل ہے۔ مقامی انتظامیہ یہاں کے لوگوں کو دھمکیاں دے رہی ہے۔ محکمہ آبپاشی نے ان کسانوں کومارکیٹ کی قیمت سے دس گنا کم قیمت دینے کی تجویزدی ہے لیکن یہاں کے عوام نے اسے قبول کرنے سے صاف انکار کر دیا ہے جس پرعیسیٰ خیل کی انتظامیہ نے دھونس جما کر کہا ہے کہ یہ کام ہر صورت ہو کر رہے گا۔ یہاں کی عوام در بدر ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہے اور لوگوں نے سیکرٹری محکمہ آبپاشی، ڈی سی او میانوالی،چیف سیکرٹری پنجاب، چیف کمشنر سرگودھا اور چیف انجنیئرمحکمہ آبپاشی سرگودھا کو درخواستیں بھی ارسال کی ہیں لیکن اس کاکوئی خاطر خواہ نتیجہ نہیں نکلا۔ اس کے علاوہ وزیر اعلی ٰپنجاب کے شکایات سیل میں بھی لوگ اپنی شکایت درج کروا چکے ہیں۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کی مشیر بیگم ذکیہ شاہنواز خان صاحبہ نے کہا ہے کہ یہ شادی خیل برادران وزیر اعلیٰ پنجاب کے من پسندیدہ لوگوں میں سے ہیں اس لئے ان کے خلاف پنجاب حکومت کوئی قدم نہیں اٹھائے گی جب لوگوں نے خود وزیرآبپاشی امانت اللہ خان شادی خیل سے اس ظلم کی شکایت کی تو وہ بڑے رعب و دبدبے سے کہا کہ میرے باغ کے ایک پودے کی قیمت تمہارے گھروں سے زیادہ ہے۔۔ عبداللہ خان نے مزید کیا کہ بہت افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ حکومت کے نشے میں ہاتھی کیسے مست بیٹھے ہوے ہیں اور اتنی پست ذہنیت کے مالک غریب عوام کا خون چوس رہے ہیں اور کوئی پوچھنے والا نہیں۔ہر دور میں غریبوں کا استحسال جاری رہا۔ قبل ازیں بینظیر بھٹو کے دور حکومت میں میانوالی مکڑوال میں کھربوں مالیت کی سونا اگلتی کوئلے کی کانیں سستے داموں ہتھیا لی گئیں جبکہ مسلم لیگ ق کے دور میں بہت سی سرکاری زمینوں پرلیز کے نام پر قبضہ کیا اور کاروباری مراکز قائم کئے گئے۔یہاں کی مجبور عوام پاکستان، پاکستانی میڈیا ، اعلیٰ عدلیہ خصوصآ چیف جسٹس آف پاکستان اور پاکستان آرمی چیف سے یہ پر زور اپیل کرتی ہے کہ خدارا اس مسئلے کو حل کریں اور انصاف کے تقاضوں پر پورا اتریں جس کا آپ لوگوں نے حلف اٹھایا ہے۔ عوام نے عمران خان سے بھی مطالبہ کہا کہ وہ انصاف کے لئے آواز بلند کریں۔ یہاں کی عوام حکومت کو مزید خبردار کرتی ہے کہ دوران احتجاج کسی بھی جانی یا مالی نقصان کی ذمہ داریہ موجودہ حکومت ہو گی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *