رؤف کلاسرا بمقابلہ مبشرزیدی اورسیاست!

naeem-baloch1

برادرم عامر ہاشم خاکوانی کی فیس بک پر پوسٹ دیکھی ۔انھوں نے رؤف کلاسرا کی حمایت کا اعلان کیا ہے ۔ رؤف کلاسرا ایک صحافی ہیں لیکن کیا وہ معصوم عن الخطا ہیں ؟ اس سوال کا جواب ہمیں مبشر زیدی کی ٹویٹ سے مل جاتا ہے جس میں انھوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ معاملہ اتنا بھی صاف نہیں کہ رؤف کلاسرا دامن نچوڑیں تو فرشتے وضو کر لیں ۔چنانچہ کسی کی قبر میں لیٹنے کا اعلان نہیں کرنا چاہیے ۔ ویسے بھی برادرم خاکوانی کی اس تحریر کو پڑھ کر یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ انھوں نے یہ کالم اپنی تعریف میں لکھا ہے یا رؤف کلاسرا کی حمایت میں ۔اور اس کا اسلوب اس تعریف سے کسی حد تک ملتا جلتا ہے جو ایک تبلیغی بزرگ ایک نوجوان واعظ کے بیان سے پہلے اس کا تعارف کراتے ہوئے کہتے تھے ۔ وہ فرماتے کہ دین کی طرف آنے سے پہلے یہی نوجوان تھے جو پانچ وقت شراب پیتے تھے لیکن اب یہ پانچ وقت کی نماز کے بجائے آٹھ وقت کی نمازیں پڑھتے ہیں ۔ پہلے ان کی ہر رات عورتوں کے ساتھ زنا کرنے میں گزرتی تھی، اور اب تبلیغی کوششوں سے عبادت و ریاضت میں ، پہلے وہ ڈاکا ڈالنے کو ایک مشن کی طرح لیتے تھے اور اب تبلیغی چلوں کو دنیا کا عظیم کام سمجھتے ہیں ۔ آئیے ، اب ان کا بیان سنتے ہیں ۔ چنانچہ ایک دن اکتا کر وہ مبلغ بول اٹھے کہ بھئی کچھ خدا کا خوف کریں ، یہ آپ میری تعریف کر رہے ہیں یا میرے سیاہ ماضی کی تشہیر یا اپنی تبلیغ کی اثر انگیزی ! چنانچہ لگتا ہے کہ ایک دو مزید تعریفی کالموں کے بعد ہی محترم کلاسرا صاحب بول اٹھیں گے کہ خاکوانی صاحب یہ آپ مجھے لبرل ، دہریہ ، لفٹیہ وغیرہ قرار دے کر کیوں ’خا ک آلود ‘ کر رہے ہیں !
یہی معاملہ ہمیں سیاست میں نظر آتا ہے ۔ بعض دوست اس قدر جذباتی ہو جاتے ہیں وہ عمران خاں کو ’’رحمت اللہ علیہ ‘‘ ثابت کرنے پر تل جاتے ہیں - یہی رویے ہمیں اپنے سماج میں نظر آتے ہیں ۔ بعض دفعہ ہم کسی کی حمایت ’’حب علی ‘‘ کی وجہ سے نہیں بلکہ ‘‘ بغض معاویہ ‘‘ کی وجہ سے کرتے ہیں ۔یہاں بھی ہمیں یہی نظر آتا ہے ۔ بادئ نظر میں یہی لگتا ہے نوازشریف کی مخالفت میں زیادہ تر ہ شمشیر بکف رہنے کی ادا پر’پی ٹی آئیے ‘ رؤف کلاسرا کی پشت پرہوتے  ہیں ۔
المیہ یہ ہے کہ اس معاملے میں برصغیر کے لوگوں کا مزاج یہی ہے کہ وہ اپنے سیاسی اور مذہبی لیڈروں کویا فرشتہ قرار دیتے ہیں یا شیطان۔ یہ رویہ آپ کو شاید ہی ملے کہ آپ اپنے ممدوح کی غلطی کو غلطی تسلیم کرتے ہوئے اس کی حمایت کریں اور اس بات کو بھی مانیں کہ آپ جس سے اختلاف کرتے ہیں ، اس میں کوئی خوبی بھی ہو سکتی ہے ۔ یہی وجہ ہے ہم قائداعظم کے کسی فیصلے کو غلط ماننے کو تیار نہیں اور گاندھی یا مولانا ابوالکلام آزاد کی کسی دوراندیشی یا درست فیصلے کو تسلیم کرنے کو آمادہ نہیں ۔آپ بڑے بڑے دانشوروں کو دیکھیں ، جب بحث و تکرار پر آتے ہیں تو لگتا ہے کہ غلاظت کے ڈھیر پر کھڑے ہو گئے ہیں اور جو کچھ بھی ہاتھ میں آتا ہے مخالف پر پھینک رہے اور اس کی کوئی پروا نہیں کہ اس سے ان کا دامن گندا ہو رہا ہے یا ان کا دل آلودہ ! قومی سطح پر دیکھیں تو عمران خان کا طرز اپوزیشن آپ کو یہی نظر آ ئے گا اور یہ انھی کی روش نہیں ، الا ماشااللہ یہ ہماری وہ سیاسی روایت ہے جو تحریک پاکستان سے چلی آرہی ہے ۔
اگر ہماری کوئی علمی اور اخلاقی تہذیب ہوئی ہوتی تو کوئی وجہ نہ تھی کہ ہم نواز شریف کو یہ نہ سمجھا پاتے کہ ان چار حلقوں میں دوبارہ پولنگ کا مطالبہ مان لیجیے جو عمران خاں ان سے کر رہے ہیں ، یوں وہ سو جوتوں سے بچ جاتے اور سو پیاز کھانے سے بھی !
اگر ہم میںیہ خوبی ہوتی تو یقیناً ہم آمریت کی اندھی آند ھیوں سے گزرنے کے بعد اتنے با شعور ہو چکے ہتے کہ عمران خان کو یہ احساس دلانے میں کامیاب ہو جاتے کہ نواز شریف مخالفت کے جس گھوڑے پر وہ سوار ہیں، اس کو چابک کوئی اور مار رہا ہے ۔اور اس حقیقت کا اگرشعور ہو جائے تو آج ہم اس طرح کے جھگڑوں میں نہ پڑے ہوتے !

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *