تاریخ کا گمشدہ ہیرو کرنل احسان قادر

محمد عارف سومرو

muhammad arif somro

قیام پاکستان کے بعد جن شخصیات کوہم نے فراموش کردیا ان میں سب سے قابلِ ذکر اور نہایت اہم شخصیت کرنل احسان قادر کی بھی ہے جنہوں نے سبھاش چندر بوس کے ساتھی کے طورپر آزاد ہند فوج میں نہ صرف سرگرمی سے حصہ لیا بلکہ پاکستان کی آزادی کی خاطر بے پناہ قربانیاں دیں اور قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں، لیکن شاید بہت سے لوگ اور خاص کر نوجوا ن نسل کرنل احسان قادر کے نام سے بھی واقف نہ ہو گی۔ آج ہم نے تاریخ کے اس گمشدہ ہیرو کو مکمل طور پر فراموش کردیا ہے۔

کرنل احسان قادر برطانوی ہندوستان کے نامور وکیل، جج اور ماہنامہ جریدے مخزن کے مدیر شیخ عبد القادر کی پہلی اولاد تھے ۔ 1911ء میں جب شیخ عبد القادر لائل پور میں سرکاری وکیل کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے وہیں احسان قادر 12 ستمبر 1912ء میں پیدا ہوئے۔ 1919ء میں ان کے والد شیخ عبد القادر سرکاری فرائض سے دستبردار ہوکر واپس لاہور آگئے جہاں احسان قادر نے سینٹرل ماڈل اسکول سے ابتدائی تعلیم کا آغاز کیا۔ماں باپ کا لاڈلا ہونے کے باوجود وہ بلا کے ذہین اور ہوشیار تھے چنانچہ کامیابی سے تعلیمی مدارج طے کرتے ہوئے 1928ء میں انہوں نے مارٹن اسکول لاہور سے میٹرک کا امتحان نمایاں کامیابی کے ساتھ پاس کیا۔پھر گورنمنٹ کالج لاہور سے 1932ء میں گریجویشن مکمل کیا۔ ان کی تعلیمی کامیابیاں اتنی شاندار تھیں کہ اعلیٰ تعلیم کے لئے انہیں فوراً ہی کیمبرج یونیورسٹی میں داخلہ مل گیا۔ احسان قادر ابھی جانے کی تیاریوں میں مصروف تھے کہ ڈیرہ دھون میں فوجی اکیڈمی کا قیام عمل میں آیا اور فوج میں کمیشن کے لئے اشہارات شائع ہوئے۔ احسان قادر نے کیمبرج میں اعلیٰ تعلیم کے حصول پر فوج میں کمیشن کو ترجیح دی۔ یوں انہوں نے فوج میں کمیشن کے لئے درخواست دے دی اور احسان قادر منتخب کرلئے گئے۔فوجی تربیت کامیابی سے مکمل کرنے کے بعد ان کی پہلی پوسٹنگ سکندرآباد میں بطور سیکنڈ لیفٹیننٹ کے طور پرہوگئی۔ ان کے فوج کے ساتھیوں میں لیفٹیننٹ جنرل حبیب اللہ خٹک بھی شامل تھے جو بعدازاں رشتے میں جنرل ایوب خان کے سمدھی بنے۔

احسان قادر کی شادی دسمبر 1937ء میں ان کی قرابت دار شمس جہاں سے ہوئی۔ 1939ء میں دوسری عالمی جنگ کی ابتدا ہوئی تو انہیں انگریز فوج کے ساتھ ملایا کے محاذ پر بھیج دیا گیا، ملایا میں ان شریکِ حیات بھی ساتھ تھیں۔جہاں 1941ء تک خدمات انجام دینے کے بعد انگریز فوج سے ناتا توڑ کر غائب ہوگئے اورجنرل موہن سنگھ کی قیادت میں آزاد ہند فوج میں شامل ہوگئے۔ ملایا میں انگریز فوج کی ایک دستاویز کے مطابق جو انہوں نے بیگم احسان قادر کے نام جاری کی تھی، کیپٹن احسان قادر کو 7 جنوری 1942ء سے لاپتہ قرار دیا گیا تھا۔ آزاد ہند فوج میں شمولیت کے بعد احسان قادر نے سائیگاؤں میں جنرل موہن سنگھ کے قائم کردہ آزاد ہند ریڈیو کو چلانے کا کام سرانجام دیا۔ جاپانیوں کی جانب سے اپنے ساتھیوں کی سخت نگرانی اور ان سے توہین آمیز سلوک کی بنا پر جنرل موہن سنگھ نے دسمبر 1942ء میں آزاد ہند فوج کو توڑنے کا فیصلہ کرلیا جس کے سبب جنرل موہن سنگھ کو جاپانی افواج نے گرفتار کرکے سماٹرا کے شہر مدان میں نظر بند کردیا۔جنرل موہن سنگھ کی گرفتاری کے بعد آزاد ہند فوج عملاً ٹوٹ گئی، آزاد ہند فوج کے کاغذات اور اعزازی نشان جلا دئیے گئے۔ پہلی آزاد ہند فوج میں یہ صورتحال احسان قادر اور دوسرے افسروں کے لئے تشویشناک تھی۔ اگرچہ اس عمل سے تحریک کو نقصان پہنچا لیکن حالات جلد قابو میں آگئے اور راس بہاری بوس اس آزاد ہند فوج کے عارضی سربراہ مقرر ہوئے۔کچھ عرصے کے بعد سبھاش چندر بوس آبدوز کے ذریعے جرمنی سے ٹوکیو پہنچ گئے جہاں جاپانیوں نے ان کی بڑی آؤ بھگت کی اور وہ فوراً سنگاپور روانہ ہوئے جہاں انہوں نے آزاد ہند فوج کی تشکیلِ نو کی اور اس کی کمان سنبھالی، ساتھ ساتھ آزاد ہند حکومت کے قیام کا اعلان کیا، اپنے رفقا اور وزرا سے حلف لیا۔ احسان قادر نے سبھاش چندر بوس کے مشیر کے طور پر کام کیا۔ سبھاش چندر بوس کو احسان قادر پر بے پناہ اعتماد تھا اور ان کے ذمہ ایک انتہائی حساس اور نازک کام لگایا گیا۔ انہیں فرقہ ورانہ مسائل کے حل کرنے والی کمیٹی کا کنوینر مقرر کیا گیا جس کے تحت انہوں نے ایسے معقول و مناسب پروگرام مرتب کئے جو ہندو، مسلمان، سکھ اور عیسائی سب کے لئے قابل ہوتے تھے، ہندو مسلم اتحاد کی جو نادر مثال آزاد ہند فوج میں قائم ہوئی اس کی کامیابی کا سہرہ کرنل احسان قادر کے سر تھا۔ 1944ء کا نصف سال آزاد ہند افواج کے لئے کامیابیوں اور اہم سرگرمیوں کا زمانہ تھا۔بدقسمتی سے آزاد ہند افواج کو امپھال کے محاذ پرانگریز فوج کی جانب سے سخت مزاہمت کا سامنا کرنا پڑا جس کے سبب آزاد ہند فوج کی پیش قدمی رک گئی۔ دوسری طرف برما میں مون سون کی بارشوں کی وجہ سے آزاد ہند فوج کی رسد میں مشکلات آگئیں تھیں، ملیریا اور پیچش کی وجہ سے بہت سارے فوجیوں کو مانڈلے اور رنگون کی ہسپتالوں میں داخل کرنا پڑا۔ ان پے درپے مشکلات کی وجہ سے 24 ستمبر 1945ء میں آزاد ہند سرکار نے بالآخر اپنی فوج کو پیچھے ہٹنے کا حکم جاری کیا۔دوسری جانب امریکا نے جاپان کے دو شہروں ہیروشیما اور ناگاسا پرایٹم بم گرا دئیے جس کے سبب جاپان نے 15 اگست 1945ء میں ہتھیار ڈال دئیے۔جاپان کے ہتھیار ڈال دینے سے آزاد ہند فوج کو اپنی نقل و حرکت کو فی الحال ملتوی کردینا پڑا۔ 18 اگست 1945ء کو سبھاش چندر بوس فارموسا سے ڈائی رن جاتے ہوئے ہوائی جہاز کے حادثے میں پراسرار طور پر ہلاک ہوگئے۔ 1945ء کے اواخر تک آزاد ہند فوج مختلف محاذوں پر ہتھیار ڈال کرانگریزوں کی قید میں جاچکی تھی، کرنل احسان قادر اور ان کے ساتھیوں کو گرفتار کرلیا گیا۔ احسان قادر اپنے ساتھیوں کے ساتھ دہلی کے لال قلعے میں قید و بند کے ساتھ ساتھ برطانوی پولیس اور فوج کی ایذا رسانیوں سے بھی گزر رہے تھے۔ اسی اثنا میں کرنل حبیب الرحمان کو بھی قلعے میں لایا گیا جنہون نے سبھاش چندر بوس کی ہلاکت کی تصدیق کی۔ اس ضمن میں کئی روایتیں بیان کی جاتیں ہیں۔ ایک روایت کے مطابق کرنل احسان قادر سبھاش چندر بوس کی موت کا صدمہ نہ سہہ سکے اور ان کی دماغی حالت اچانک بگڑ گئی۔ دوسری روایت کے مطابق ذہنی اور جسمانی ایذارسانی کے سبب احسان قادر کی دماغی حالت خراب ہوئی۔ چنانچہ انہیں قلعے سے ہسپتال منتقل کردیا گیا۔ ملک بھر سے ان کے بہتر علاج معالجے، ان کی رہائی کے مطالبوں اور احتجاج کا سلسلہ جاری رہا۔ اپریل 1946ء میں احسان قادر اور ان کے ساتھیوں کی رہائی کے مطالبوں میں مزید شدت آگئی اور بالآخر 26 اپریل 1946ء میں مجبوراً انہیں رہا کردیا گیا۔

قیام پاکستان کے بعد انہیں سول ڈیفنس اکیڈمی کا کمانڈنٹ مقرر کیا گیا جہاں سے وہ 1967ء میں ریٹائر ہوگئے۔ رہائی کے بعد اور تقسیم ہند سے قبل وہ ایک سیاسی رہنما کے طور پر ابھرے تھے لیکن آزادی کا سورج طلوع ہوتے ہی وہ خود گمنامی کے اندھیروں میں ڈوب گئے۔ ایوب خان کے خلاف ایک بے ربط اور غیر منظم جدوجہد نے بھی انہیں اپنے اندر اور بھی تنہا کردیا تھا۔ کرنل احسان قادر 23 دسمبر 1969ء میں حرکتِ قلب بند ہو جانے کے سبب اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ افسوس کہ کرنل احسان قادر اور اس کے ساتھیوں کی زبردست قربانیوں کو، جو بالآخر آزادی کے حصول پر اختتام پذیر ہوئیں، جلد ہی فراموش کردیا گیا۔ یہ کالم اس شکوے کی یاد دہانی بھی ہے اور تاریخ کے ایک بھولے بسرے اور گم شدہ باب کی بازگشت بھی، جو آج ہماری کسی قومی ترجیح کا حصہ نہیں ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *