برطانیہ میں مقیم یورپی شہریوں کی بے یقینی

mehmood-asghar-chaudhry

                                برطانیہ میں رہائش پذیر تارکین وطن کی پریشانی کو صرف ایک لفظ میںبیان کیا جا سکتا ہے اور وہ لفظ ہے ”بے یقینی “۔ یہ بے یقینی کی کیفیت گزشتہ ایک سال سے جاری ہے جب برطانوی عوام نے ایک ریفرنڈم کے ذریعے یورپی یونین سے نکلنے کا ارادہ ظاہر کیا تھا صرف اسی ایک فیصلے کی بنا ءپر ایک برطانوی وزیراعظم کو اپنی کرسی سے ہاتھ دھونا پڑا اور دوسری وزیر اعظم کو اپنے کرسی مضبوط کرنے کے لئے ایک اور الیکشن کروانا پڑا لیکن اس کی کرسی مضبوط ہونے کی بجائے مزید کمزور ہوگئی اور اب وہ ایک مخلوط و کمزور حکومت کی وزیر اعظم بن کر سامنے آئی ہیں لیکن اس سب کے باوجود وہ ایک سال پہلے اپنے عوام کی جانب سے کئے گئے ریفرنڈم کے فیصلے کو پایہ تکمیل پہنچانے میں مشغول ہیں ۔

                بریگزیٹ کے معاشی و سیاسی نقصانات و فوائد تو ایک الگ بحث ہے لیکن سب سے بڑی بے یقینی کا سامناایک طرف ان تین ملین یورپی شہریوں کو ہے جو برطانیہ میں بسلسلہ روزگار رہائش پذیر ہیں اور دوسری جانب ان 1.2ملین برطانوی شہریوں کو بھی ہے جو یورپی یونین کے ممبر ممالک میں رہائش پذیر ہیں ۔ یہ بے یقینی ان کے مستقبل ، ان کے بچوں کی تعلیم ، ان کے صحت اور پنشن کے حوالے سے ہے ۔ یورپی یونین کے 27ممالک کے لیڈروں کا خیال ہے کہ برطانیہ کے یورپی یونین کے اخراج کے بعد بھی ان شہریوں کے حقوق میں کوئی فرق نہیں آنا چاہیے لیکن اگر برطانیہ اس بات کو من و عن تسلیم کرلیتا ہے تو پھر اتنا بڑا بکھیڑا جو اسی نعرہ پر کھڑا کیا گیا تھا کہ برطانیہ کو یورپی شہریوں سے نجات دلائی جائے گی اس کا مقصد فوت ختم ہو جا تا ہے ۔ برطانوی وزیر اعظم نے یورپی ہم منصبوں کو اپنی آفر تیار کر کے دی ہے جسے شروع میں تو جرمن چانسلر نے ”بہتر آغاز “ کانام دیا تھا لیکن اسی دن یورپ کے دیگر لیڈروں نے اس آفر کو غیر تسلی بخش قرار دے دیا تھا

                 ۔ آئیے جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ برطانوی وزیر اعظم ٹیریسا مئے نے یورپی شہریوں کے مستقبل کے حوالے سے یورپی لیڈروں کا کیا آفر دی تھی ۔ یاد رہے کہ ٹیریسا مئے نے خاص طور پر کہا ہے کہ یہ پیشکش صرف اسی صورت میں ہے جب یورپی ممالک بھی یونین میں رہائش پذیر برطانوی شہریوںکو ایسے ہی حقوق دینے پر رضامند ی ظاہر کرتے ہیں۔

                ٹیریسا مئے کی حکومت نے ایک 15صفحات کا پلان تیار کیا ہے جس کے اہم نکات یہ ہے

۔ بریگزیٹ کے بعد کسی بھی یورپی شہری کو جو برطانیہ میں مقیم ہے برطانیہ کو چھوڑنا نہیں پڑے گا لیکن چونکہ فری موومنٹ کا قانون ختم ہوجائے گا اس لئے برطانیہ میں موجود ہر یورپی شہری کو برطانیہ کاامیگریشن ”اسٹیٹس “ اپلائی کرنا پڑے گایعنی اس کے پاس حکومت برطانیہ کی کوئی ایسی دستاویز ضرور ہوگی جو وہ کسی بھی محکمہ کو دکھا سکے کہ وہ برطانیہ میں رہائش پذیر ہے یاد رہے کہ فی الحال برطانیہ میں رہنے والے یورپی شہری صرف اپنا پاسپورٹ دکھاتے ہیں جو بریگزیٹ کے بعد ناکافی ہوگا

۔ امیگریشن اسٹیٹس کا انحصار یورپی شہریوں کی برطانیہ میں قیام کے عرصہ پر ہوگا ۔ حکومت کی جانب سے ایک ”کٹ آف تاریخ“ کا اعلان کیا جا ئے گا جس کے تحت متعلقہ تاریخ سے پہلے جن یورپی شہریوں کو برطانیہ میں رہتے ہوئے پانچ سال کا عرصہ ہوچکا ہو گا وہ ”سیٹلیڈ اسٹیٹس “ کی درخواست دیں گے اور انہیں ایک ڈاکومنٹ جاری کیا جائے گا جس کا مطلب ہے کہ انہیں بریگزیٹ کے بعد بھی وہی حقوق حاصل ہوں گے جن سے وہ پہلے استفادہ حاصل کر رہے ہیں ان کے حقوق برطانوی شہریوں کے برابر ہوں گے ۔

۔ یہ کٹ آف تاریخ 29مارچ 2017ءسے 29مارچ2019ءکے درمیان میں کوئی بھی ہو سکتی ہے ابھی اس کا فیصلہ نہیں کیا گیا کہ کون سی تاریخ ہو گی ۔

۔ پانچ سال کی عرصہ میں یہ چیک کیا جائے گا کہ سائل اس عرصہ میں دو سال کے لئے برطانیہ سے باہر تو نہیں رہا ، یعنی اگر ایک شخص پچھلے دس سال سے برطانیہ میں مقیم ہے لیکن گزشتہ پانچ سال میں دو سال کے عرصہ سے زیادہ برطانیہ سے باہر رہا ہے تو وہ یہ حق کھو سکتا ہے کہ اسے یہ اسٹیٹس دیا جائے ۔

۔ جو خوش نصیب یہ مستقل رہائشی اجازت نامہ لینے میں کامیاب ہو جائیں گے ان کی پنشن ، صحت اور دیگر حکومتی بہبود محفوظ ہو جائیں گے یاد رہے کہ پانچ سال رہنے والوں کو خو د بخودیہ حقوق نہیں مل جائیں گے بلکہ انہیں متعلقہ امیگریشن اسٹیٹس لازمی اپلائی کرنا پڑے گا جن کے پاس پہلے سے ”پرماننٹ اسٹیٹس “ہے ان کو بھی نئے سرے سے اپلائی کرنا پڑے گا چاہے انہیں پانچ سال ہوبھی گئے ہیں

۔متعلقہ تاریخ کو جن شہریوں کو پانچ سال کا عرصہ نہیں ہوا ہو گا وہ عارضی طور پر برطانیہ میں رہ تو سکیں گے اور کام بھی کر سکیں گے لیکن اس دوران جب ان کے پانچ سال ہوجائیں گے تو وہ بھی مستقل رہائشی اجازت نامہ کے لئے درخواست دے سکیں گے

۔ جو لوگ متعلقہ تاریخ کے بعد اور بریگزیٹ سے پہلے برطانیہ میں داخل ہوں گے ان کے لئے مسئلہ ذرا گھمبیر ہے انہیں دو سال کا عرصہ دیا جائے گا جس میں انہیں حکومت سے رہائشی اجازت نامہ کی درخواست دینا پڑے گی یا پھر بریگزیٹ کے بعد ملک چھوڑنا پڑے گا اوررہائشی اجازت نامے کے لئے اس وقت حکومت کیا شرائط رکھے گی یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہے کیونکہ ابھی حکومت نے اس سلسلہ میں قانون سازی کی نہیں البتہ حکومت نے واضح کیا ہے کہ انہیں اس سلسلے میں کسی بھی قسم کی کوئی چھوٹ یا کوئی رعایت دینے کا ارادہ نہیںاور انہیں اس بات کی بھی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی کہ انہیں مستقبل میں ”سیٹیلڈ اسٹیٹس “دیا جائے یعنی اس بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ انہیں بھی یورپی یا برطانوی شہریوں کی طرح صحت تعلیم اور دیگر بینفیٹس کے حقوق حاصل ہوں گے

۔ جن لوگوں کو مستقل رہائش کی اجازت مل جائے گی ان کے فیملی ممبرز کے بارے کسی قسم کا قانون تبدیل کرنے کا حکومت ارادہ نہیں رکھتی ٹیریسا مئے نے کہا ہے کہ و ہ فیمیلز کو تقسیم یا جدا نہیں کرنا چاہتی لیکن ایسے شہری جو بریگزیٹ کے بعد برطانیہ کی امیگریشن لیں گے ان کی فیملی ممبران کے لئے آمدن وغیرہ کے نئے قوانین کا اطلاق ہوگا

۔جو لوگ کٹ آف تاریخ سے پہلے یوکے میں موجود ہوں گے ان کی پنشن صحت اور ان کے بچوں کی تعلیم کے لئے ملنے والے قرضہ جات کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے گا

 اب سوال یہ ہے کہ برطانیہ میں مقیم یورپی شہری کس تاریخ سے اپنے نئے امیگریشن اسٹیٹس کے لئے درخواست دے سکتے ہیں ۔ غالب گمان یہ ہے کہ سال 2018ءسے جب ایک دفعہ کٹ آف ڈیٹ طے ہوجاتی ہے تو برطانیہ میں مقیم یورپی شہریوں کو موقع دیا جائے گا کہ وہ اپنی درخواستیں بھیج سکیں گے تاکہ2019ءمیں بریگزیٹ ہونے سے پہلے وہ اپنی حیثیت قانونی بنا چکے ہوں ۔ جن یورپی شہریوں کے پاس پہلے سے ”پرماننٹ اسٹیٹس ہے وہ یہ نہ سمجھیں کہ انہیں اب مزید کسی ڈاکومنٹ کی ضرورت نہیں قانونی طورپر انہیں بھی نئے سرے سے اپلائی کرنا پڑے گا ۔

یاد رہے کہ متعلقہ نکات ابھی ٹیریسا مئے کی حکومت کا پلان ہے جو انہوں نے یورپی لیڈروں کو پیش کیا ہے ۔ برطانیہ میں ہی اپوزیشن لیڈر جیرمی کوربن نے اس پلان کو بے رحم قرار دیا ہے ۔ بہرحال یہ پلان برطانیہ میں اپنی رہائش پذیر یورپی شہریوں یا برطانیہ میں نئے آنیوالوں کے لئے حکومت کے مستقبل کے منصوبہ جات کا نقشہ ضرور کھینچتا ہے

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *