اے وطن پیارے وطن

مستنصر حسین تارڑMHT

میرے ساتھ مسئلہ ہے کہ بے شک میں نغموں، گیتوں، غزلوں اور سریلی آوازوں کا شیدائی ہوں، یہ مجھ پر اثر کرتے ہیں لیکن یہ کیا ہے کہ وطن کی شان میں گائے ہوئے گیت ہی میری روح کے نہاں خانوں میں اتر کر مجھے عجیب کیفیتوں سے سرشار کرتے ہیں۔۔۔ مہدی حسن کا ’اپنی جاں نذر کروں اپنی وفا پیش کروں‘، نور جہاں کے ’اے پتر ہٹاں تے نئیں ملدے‘ ، ’میرا سوہنا شہر قصور نیں‘ نسیم بیگم کا ’اے راہ حق کے شہیدو‘ نیرہ نور کا ’’وطن کی مٹی گواہ رہنا‘ وغیرہ لیکن ان میں ایک گیت ایسا ہے جسے میں جب بھی سنتا ہوں تو آنکھوں میں نمی اتر آتی ہے، میرے بدن کا ہر مسام ایک تتلی کی مانند پھڑپھڑانے لگتا ہے اور وہ امانت علی خان کا ’’اے وطن پیارے وطن پاک وطن‘۔۔۔ بہت عرصہ پہلے میں نے یوم آزادی کے موقع پر ٹیلی ویژن کے لیے ایک خصوصی کھیل ’’مہک‘‘ لکھا۔۔۔ جس میں محمد قوی خان اور فردوس جمال نے مرکزی کردار ادا کیے اور مرحوم قنبر علی شاہ نے اسے پروڈیوس کیا۔۔۔ وہ ایک معمولی سا ڈرامہ تھا جسے ’’اے وطن پیارے وطن‘‘ نے غیر معمولی کر دیا۔۔۔ ڈرامے کے آخر میں فردوس جمال اپنے کھیت کی مٹی مٹھی میں بھرتا ہے۔۔۔ اپنی مٹھی فضا میں بلند کرتا ہے اور اُس لمحے سورج ابھرتا ہے، وہ اپنی مٹھی کھولتا ہے تو اُس میں سے وطن کی مٹی گرنے لگتی ہے اور عین اُس لمحے امانت علی خان کا ’اے وطن پیارے وطن‘ شروع ہو جاتا ہے۔۔۔ وہ پورا گیت گونجتا رہتا ہے اور سورج کی پہلی شعاعوں کے پس منظر میں مٹی گرتی رہتی ہے اور ڈرامے کا انجام ہو جاتا ہے جیسا کہ میں عرض کر چکا ہو کہ ’’مہک‘‘ کوئی ایسا شاہکار ڈرامہ تو نہ تھا لیکن امانت علی خان کی پر درد آواز نے لوگوں کو رُلا دیا۔۔۔ ڈرامے کا اختتام ہوا تو مجھے پاکستان بھر سے ٹیلی فون آنے لگے۔۔۔ ان میں جہاں عام ناظر تھے وہاں ٹیلی ویژن کا ایک منجھا ہوا اداکار بھی تھا اور وہ رو رہا تھا۔۔۔ اُس کی ہچکی بندھی ہوئی تھی، ایک دو ادیب اور کچھ سیاستدان بھی تھے جو مجھے مبارکباد دے رہے تھے۔۔۔ یقین کیجیے اور میں کسر نفسی سے ہرگز کام نہیں لے رہا، میں پھر دوہراتا ہوں کہ وہ ایک عام سا ڈرامہ تھا، یہ امانت علی خان کی پُر سوز روح میں اتر جانے والی آواز تھی اور وطن کی مٹی سے عشق کی پکار تھی جس نے لوگوں پر اتنا گہرا اثر کیا۔
تو سوال یہ ہے کہ آخر یہ وطن کیا ہے۔ یہ مٹی سے محبت کیا ہے۔ ابر کیا ہے، ہوا کیا ہے، ویسے تو بلھے شاہ نے بھی کہا تھا کہ ہم سب ماٹی ہیں، ماٹی ہی سواری ہے اور اُس پر سوار بھی ماٹی کا ہے۔
سب لوگ آگاہ ہیں کہ دنیا کے سب سے خوبصورت ملک پاکستان کا کیا حشر ہو گیا ہے۔ اس کی تفصیل میں کیا جانا، کیسے ہر شے ہر ادارہ بکھرتا جا رہا ہے، کیسے تنگ نظری اور تعصب کی چڑیلیں ہمارے بدن سے چمٹ کر ہمارا خون چوس رہی ہیں تو مجھ سے بہت پریشان حال ملک کے مستقبل کے بارے میں خدشوں سے دوچار لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ۔۔۔ ایسا کیوں ہو گیا ہے تو میں صرف یہ کہتا ہوں کہ۔۔۔ اس لیے کہ ہم نے پاکستان سے محبت نہیں کی۔۔۔ اس سے پیار نہیں کیا، کبھی اپنی مٹی کو آنکھوں کا سرمہ نہیں بنایا۔ اسے نہ بوسہ دیا نہ ماتھے پر لگایا کہ ہم تو آگاہ ہی نہیں کہ اس ملک کا جغرافیہ کیا ہے۔ بلوچستان کہاں ہے، کیوں ہے اور وہاں جو لوگ ہیں اُن کا رہن سہن کیا ہے، بلکہ ہم تو اپنے وزیرستان، کوہاٹ، بنوں اور پارا چنار کو بھی نہیں جانتے۔ پارا چنار جو ایک ارضی جنت ہے جس کے مناظر میں برف آلود پہاڑ اور ہریاول کی وسیع القلب سر زمینیں ہیں۔ اور نہ ہی ہم اندرون سندھ کے صوفی مزاج سے واقف ہیں۔ ہم نے اس دھرتی کی قدر نہیں کی، اس سے کبھی پیار نہیں کیا۔ مجھے ایک صحافی نے سوال کیا کہ آپ نے پاکستان کے شمال کے بارے میں ایک درجن سے زیادہ سفرنامے تحریر کیے ہیں تو آپ کیوں اُس علاقے کی بلندیوں اور ویرانوں کے اسیر ہو گئے ہیں تو میں نے جواب میں کہا تھا کہ میں وہاں بار بار اللہ تعالیٰ کی قربت کی چاہت میں جاتا ہوں کہ وہاں نہ صرف جمال ہے بلکہ اُس کی ویرانیوں اور برفانی بلندیوں میں اُس کا جلال بھی کمال کرتا ہے۔ آپ جب تک اپنے محبوب کے نقش و نگار نہ دیکھیں، اُس کے حسن بے مثال کے پرتو نہ دیکھیں تو آپ کیسے اُس کے ساتھ عشق کر سکتے ہیں۔ تو ہم نے اپنے وطن کے محبوب کے نقش و نگار نہ دیکھے۔ اُس کے جلال اور جمال کی گواہی نہ دی، اس لیے ہم زوال آشنا ہوتے جا رہے ہیں۔
سوال کا ابھی تک میں جواب نہیں دے سکا کہ وطن کیا ہے؟
شیریں پاشا جس نے پاکستان ٹیلی ویژن کے لیے چند نہایت شاہکار دستاویزی فلمیں پروڈیوس کیں، وہ بلوچستان کے بارے میں ایک ڈاکومنٹری بنانے کے لیے اس کی ویرانیوں اور وسعتوں میں ایک مدت بھٹکتی پھریں۔ شیریں نے ایک گرم دن کی تپش میں ایک بے انت ویرانے میں اپنی جانب آتے ایک تنہا شخص کو دیکھا۔۔۔ وہ ایک بلوچ بوڑھا تھا، اُس کے گلے میں ایک سارنگی نما بلوچ ساز تھا، وہ قریب آیا تو شیریں نے پوچھا ’’بابا آپ کہاں سے آئے ہو؟‘‘ تو اس نے ہاتھ کے اشارے سے بتایا کہ وہاں سے۔۔۔ اور کدھر جا رہے ہو، تو اس نے مسکرا کر کہا، وہاں۔۔۔ شیریں نے سوال کیا کہ بابا جی آپ کا وطن کونسا ہے تو بلوچ نے دونوں ہاتھ بلند کرکے آس پاس لہراتے ہوئے کہا۔۔۔ یہ سب میرا وطن ہے۔
شیریں پاشا نے پوچھا۔۔۔ بابا جی آپ کو اس ویرانے میں تنہا سفر کرتے ہوئے ڈر نہیں لگتا تو بابا بلوچ اس کی نادانی پر مسکراتے ہوئے، اپنے ساز کو جھٹکتے ہوئے بولا ’’میں تنہا تو نہیں ہوں۔ میرا ساز میرے ساتھ ہے اور میرا وطن میرے ساتھ ہے‘‘۔ (جاری ہے)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *