وقت کرتا ہے پرورش برسوں 

mehmood-asghar-chaudhry

اٹلی میں میری پہلی جاب ایک فیکٹری میں تھی ۔ایک دن فیکٹری کے مالک نے مجھے اپنے دفتر بلایا اور کہنے لگا کہ تمہیں ایک کورس پر بھیج رہا ہوں میں نے پوچھا کیسا کورس ؟ دفتر میں بیٹھی اس کی بیوی بڑبڑائی’’نرا فضول خرچہ ‘‘ یہ اٹلی کا ورک ڈیپارٹمنٹ پاگل ہوگیاہے ۔ ہر روز کوئی نہ کوئی نیا قانون اور نیا خرچہ آجاتا ہے ان کا کہنا ہے کہ فیکٹری میں کوئی ایک ایسا شخص ضرور ہونا چاہیے جس نے سیفٹی اور انٹی فائرایکٹ کا کورس کیا ہوا ہو۔کورس کے لئے ورک ڈیپارٹمنٹ کے سنٹر پہنچا تو کلاس روم میں داخل ہوتے ہی سب سے پہلی حیرانی یہ ہوئی کہ اس میں نوجوان لڑکیوں کی کثیر تعداد موجود تھی۔گہرے کالے اور سنہری بالوں والی، نیلی اور شربتی آنکھوں والی ،گورے اور گلابی گالوں والی ، بالوں کی تراش خراش اور میک اپ سے وہ مجھے کوئی ماڈلز لگیں میں سمجھا میں کسی غلط کلاس روم میں آگیا ہوں۔ میری عمر اس وقت بائیس سال کے قریب تھی۔ اس عمر میں ویسے بھی ہر لڑکی خوبصورت لگتی ہے ۔میں نے کنفرم کرنے کے لئے انسٹرکٹر سے پوچھا کہ کیا یہ آگ بجھانے والا کورس ہی ہے اس نے اثبات میں سرہلایا تو میں نے کہا یہ تو آگ لگانے والا کورس لگ رہا ہے ۔
میری ساتھ والی سیٹ پربھی ایک بلا کی حسین لڑکی بیٹھی تھی اس کی نازک مخروطی انگلیاں دیکھ کر میں نے سوچا یہ مزدور کیسے ہوسکتی ہے ، میں نے ہمت کرکے اس سے پوچھ ہی لیا’’ کیا آپ ویلڈنگ کاکام کرتی ہیں ‘‘اپنی موٹی موٹی آنکھوں کو پھیلا کر کہنے لگی نہیں میرا اپنا بیوٹی پارلر ہے۔‘‘ پتہ چلا کہ ان خواتین کی اکثریت مزدور نہیں تھی بلکہ وہ اپنے ہیئر سیلون یا بیوٹی پارلر چلاتی تھیں لیکن حکومت نے انہیں بھی مجبور کیا تھا کہ وہ یہ کورس کر کے آئیں ورنہ جرمانہ ہو سکتا تھا۔ لیکچر شروع ہوا تواس میں کئی عملی مظاہرے بھی کئے گئے کہ اگر کوئی زخمی ہوجاتا ہے تو اس کی مرہم پٹی کیسے کی جانی چاہئے میری ساتھ والی لڑکی کو انسٹرکٹر نے کہا کہ اس کا بازو پکڑ کر پٹی باندھنے کا مظاہرہ کر و۔ مجھے بہت انتظار تھا کہ ابھی انسٹرکٹر ہمیں عملی طور پر یہ بھی سکھائے گا کہ اگر کوئی شخص بے ہوش ہوجاتا ہے تو اسے ہوش میں کیسے لانا ہے لیکن اس نے ایسا کوئی مظاہرہ نہیں کروایا۔اتنے بچگانہ خیالات میں بھی مجھے اس کی چند باتیں یاد رہ گئیں جو آج تک ذہن سے محو نہیں ہوئیں
انسٹرکٹر نے ہمیں تین اصول بتائے۔اس کا کہنا تھا کہ جدید تحقیق یہ ثابت کرتی ہے کہ ہر حادثہ ایک قتل ہوتا ہے جو کسی نہ کسی کی مجرمانہ غفلت کی وجہ سے ہوتا ہے ۔ دوسرا اصول اس نے یہ بتایا کہ ہر حادثہ کا شکار ہونے والا حادثے سے پہلے یہی سوچتا ہے کہ ایسا آج سے پہلے کبھی نہیں ہواجبکہ اس کا یہ خیال بعد میں غلط ثابت ہوتا ہے اور تیسرا اور اہم اصول یہ ہے کہ حادثہ والی جگہ کو فوراً خالی کراناچاہیے ۔ غیر متعلقہ لوگوں کووہاں سے فوراً ہٹادینا چاہئے کیونکہ کوئی بھی حادثہ غیر تربیت یافتہ لوگوں کو اپنے لپیٹ میں لے سکتا ہے
میں سمجھتا تھا کہ یہ سیکورٹی اینڈ سیفٹی لا ء کے کورسز صرف فیکٹریوں یا دفاتر وغیرہ کے لئے مخصوص ہوں گے لیکن بعد میں جب سکول میں داخلہ لیاتو پتہ چلا کہ ہر سکول میں بچوں کی نرسری جماعت سے لیکر یونیورسٹی تک اساتذہ کے لئے ضروری ہے کہ وہ بچوں کو الارم بجا کر یہ ٹریننگ دیں گے کہ اگر سکول میں آگ لگ جائے یا کوئی قدرتی آفت آجائے تو بلڈنگ کو فوراًخالی کرنا ہے ، ہر ہوٹل، ہر سپر مارکیٹ ، ہر سرکاری و پرائیویٹ محکمہ کے دفتر کی عمارت کے باہر ایک اسمبلی پوائنٹ ہوتا ہے۔ جب بھی کوئی شخص وہاں جاب شروع کرتا ہے تو کمپنی کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ اسے سب سے پہلے بتایا جاتا ہے کہ آگ لگنے یا کسی قدرتی آفت کے فوراً بعد ایمرجینسی ایگزٹ کہاں ہے اور اسمبلی پوائنٹ کہاں ہے جہاں سب اکٹھا ہوں گے ۔یورپ کے چھوٹے سے چھوٹے گاؤں میں بھی ایسے اسمبلی پوائنٹ ہوتے ہیں ۔
یورپ میں کسی بھی بلڈنگ کی بالائی منزلوں کی کسی بھی کھڑکی کے باہر لوہے کی جالیاں نہیں لگا ئی جا سکتیں ۔ اگر آپ کوئی ہال بناتے ہیں مسجد یا کوئی ایسی عمارت بناتے ہیں جس میں لوگوں کی زیادہ تعداد جمع ہو سکتی ہے تو ضرور ی ہے کہ اس میں ایسے گیٹ لگائے جائیں جن پر ایک ہینڈل لگا ہوتا ہے جس کو صرف دبانے سے ہی وہ اندر سے کھل جاتا ہے ایسا گیٹ نہ ہونے کی صورت میں علاقائی انتظامیہ آپ کی اس عمارت کو پاس ہی نہیں کرے گی ۔
بعد میں جب ٹریڈیونین کے ساتھ کام شروع کیا تو پتہ چلا کہ یورپی یونین کے ہیلتھ اور سیکورٹی لا ء کے مطابق ہر فیکٹری یا دفتر جس میں 15سے زیادہ مزدورکام کرتے ہوں وہاں دو ذمہ دار ایسے ہیں جنہوں نے ہیلتھ اور سیکورٹی کا ایشو دیکھنا ہے ایک مالک کی جانب سے ہوگا جبکہ دوسرا مزدوروں کی جانب سے باقاعدہ ووٹ لیکر منتخب ہوتا ہے تاکہ اگر کسی جگہ ہیلتھ اینڈ سیکورٹی کا خیال نہیں رکھا جا رہا تو اس کے خلاف شکایت کی جا سکے یورپ میںآپ اگر ماہر الیکٹریشن نہیں تو آپ ایک بلب تبدیل نہیں کر سکتے ، آپ اپنے گھر کا انٹینا تبدیل نہیں کر سکتے ، آپ بغیر حفاظتی اقدامات کے گھر کے باہر پینٹ نہیں کر سکتے، حتی ٰ کہ آپ مستری مزدورتک نہیں لگا سکتے
احمد پور شرقیہ میں 164افرا د کا جل کر مرجانا پاکستان کا پہلا واقعہ نہیں ہے اس سے پہلے کراچی بلدیہ ٹاؤن کی ایک فیکٹری میں 289افراد جل کر ہلاک ہوگئے تھے ۔ لاہور ایل ڈی اے کی عمارت میں آگ سے آٹھ لوگ ہلاک ہوگئے تھے ۔گجرات میں ایک ویگن میں آگ لگنے سے 16چھوٹے بچے جل کرہلاک ہوگئے تھے گزشتہ سال دسمبر میں ایک ہوائی جہازمیں جنید جمشید سمیت48افراد ہلاک ہوئے ۔ اس طرح ہر روز ٹریفک حادثات میں بیسیوں لوگ مرتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہم نے بحیثیت قوم ہر حادثے کے بعدبقول شاعر یہ جاننے کی کبھی کوشش کبھی نہیں کی کہ
وقت کرتا ہے پرورش برسوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حادثہ ایک دم نہیں ہوتا
ہمارے لیڈر ہر حادثے کے بعد صرف بیس بیس لاکھ کے اعلانات کرتے ہیں ، ہمارے لوگ ہر حادثے کو خدا کی رضا سمجھتے ہیں ، ہماری سیاسی پارٹیاں لاشوں پر پوائنٹ سکورنگ کرتی ہیں ، ہمارے سکولوں کے نصاب میں ہیلتھ اینڈ سیکورٹی کا کوئی مضمون شامل نہیں ہوتا ، ہمارے قلم کارکی تحریروں میں اس موضوع پر کم ہی طبع آزمائی کی جاتی ہے ، ہمارے ٹی وی پروگراموں میں شاید ہی کوئی پروگرام عوام کی سیکورٹی اور ہیلتھ کی تربیت پر کیا جاتا ہو ۔ ہماری این جی اوز اس موضوع پر شاید ہی کوئی سیمیناریا ورکشاپ کرتے ہیں ۔ یہ تو آگ کا حادثہ تھا ہمارے ہاں تو دہشت گردی کا واقعہ ہوجائے تو بریکنگ نیوز والا میڈیا جائے واردات پر سب سے پہلے پہنچ جاتا ہے کوئی پولیس ،کوئی ادارہ اپنی کاروائی کئے بغیر کیسے لوگوں کو اجازت دے دیتا ہے کہ وہ وہاں پہنچیں ۔مانتا ہوں کہ ہر بات کا الزام حکومت کو نہیں دیا جا سکتا لیکن مینجمنٹ بہرحال انتظامیہ کی ہی ذمہ داری ہوتی ہے ۔ قومیں حادثوں سے سیکھتی ہیں اب ہمیں اجتماعی طور پر تربیت سازی کی طرف توجہ دینا ہوگی ، اساتذہ ، ڈاکٹرز ، علماء ، این جی اوز، ہر ایک کو مشترکہ لائحہ عمل اپنانا ہوگا ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *