سلمان رسول کی نعتیہ شاعری

بشکریہ : محمد خاور

سلمان رسول سےمیرا تعارف فیس بک پر ہی ہوا ۔ اور ا ب سوچتا ہوں اچھا ہی ہوا۔ رسمی جملہ دل کی سچائی سے کہنے پر مجبور ہوں ۔ سلمان رسول ایک اچھے شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ قابل ستائش دوستانہ مزاج رکھتے ہیں ۔ ان کی اس خوبی کی وجہ سے میں بھی ان کےحلقہ ءِ دوستاں میں جا پڑا۔

شاعری کے حوالے سے ایک گفتگو میں ان کے ایک جملے نے چونکا دیا ۔ موصوف فرماتے ہیں ایک غزل پر کام کر رہا ہوںیہ اس بات کی علامت تھی کہ سلمان رسول وادی تخیل میں بے لگام نہیں ہیں ۔ لاشعور سے جو مصرع آتا ہے وہ اسے من وعن قبول کرنا ضروری نہیں سمجھتے ۔ بلکہ شعر میں اپنا شعور بھی ڈالتے ہیں ۔ مجھے ایسا لگتا ہے کہ یہ خوبی حمدیہ و نعتیہ شاعری کا لوازمہ خاص ہے ۔

salman rasool

سلمان رسول کی صرف ان دس نعتوں ہی سے ان کی ایک اور خوبی " بحروں کے استعمال " کا اندازہ بھی ہوتا ہے۔ ۔زمانے کا تغیر ان کی بحروں کی رنگا رنگی اور ان کی ذات کا ٹھہراو ان کی استعمال کردہ بحروں کے داخلی آہنگ میں نظر آتا ہے ۔ دس میں سے تین نعتیں

ارض و سما کی بزم میں ، ہوتا مرا بھی نام خاص
دہر کے اجالوں کا ، جوبن آپ کے عارض
مہرو مہ و انجم کی ، تنویر کا وہ باعث

شکستہ بحروں میں ہیں ۔ جن کے درمیان ایک عروضی وقفہ آتا ہے ۔ یہ وہ ٹھہراو جو مجھے ان کی ذات میں بھی نظر آتا ہے

کسی شاعر کی 10 نعتوں سے اس کے اسلوب کا تعین نہیں ہوسکتا ہے ۔ ہاں اس کی شاعرانہ روش کی سمت نمائی ضرور ہو سکتی ہے ۔ میں نے ان دس کلاموں کو بغور پڑھا ہے ۔ یہ تمام نعتیں طبع زاد معلوم نہیں ہوتیں ۔ ان کے مطالعہ سے میں خود کو اس بات پر متفق پاتا ہوں کہ اگر سلمان رسول تھوڑی سے محنت اور کریں تو ان کے بہت سے اشعار عمدہ نعت گوئی کی امثال کے طور پر پیش کیے جا سکتے ہیں ۔ کیونکہ سلمان رسول کی حمدیہ و نعتیہ گوئی میں جذبات، مضمون اور شعریت میں ایک خوبصورت توازن ہے ۔ وہ کہیں بھی جذبے سے مغلوب ہوکرنعت کو فقط استغاثے یا مناجات میں داخل کرتے ہوئے اورمضمون کو بچاتے ہوئے شعریت کو ہاتھ سے کھوتے ہوئے نظر نہیں آتے ۔ یہی وجہ ہے کہ صرف دس نعتوںمیں بھی کچھ ایسے اشعار ہیں جو ضرب المثل ہونے کی خوبی رکھتے ہیں ۔ خاص طور پر یہ شعر ۔

جہاں میں جو عزّ و جاہ چاہے
حضورﷺ کو بے پناہ چاہے

اور آخر میں سلمان رسول کی ایک نعت سے چند اشعار

یہ جو شہ کار سے محبت ہے
گویا فن کار سے محبت ہے

جس میں حبّ رسولِ پاک نہ ہو
مرنا بہتر ہے ایسے جینے سے

شہر ِ خوباں نہیں مجھے تو بس
"شہر سرکار سے محبت ہے"

ہے یہ تمثیلِ گیسوئے احمد
سو شبِ تار سے محبت ہے

تیرے کوچوں سے، تیری گلیوں سے
تیرے بازار سے محبت ہے

جس میں مدحت کا وقت ملتا رہے
ایسے بیوپار سے محبت ہے

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *