منافقت

محمد طاہرM tahir

منافقت نے ہی اس گریز کو تحفظ دے رکھا ہے کہ یہ وقت تاریخ سے بحث کا نہیں۔بس اس کے بہاؤ میں بہہ جانے کا ہے۔ کراچی کا اپنا اور اس سے متعلق ملک کا ایک مخصوص ماضی ہے۔ جو اس کے حال سے جزوِلاینفک طور پر جڑا ہے۔ درحقیقت کراچی کا بدقسمت امن مجرموں اور دہشت گردوں کی دستبرد میں نہیں بلکہ حکمرانوں کے سیاسی مقاصد کی تحویل میں ہے۔ دہشت گردوں اور مجرموں سے تو یہ بدقسمت امن حاصل کیا جاسکتا ہے۔مگر کارِ حکمرانی کی طاقتور نحوست سے یہ حاصل نہ کیا جاسکے گا۔ اب ایم کیوایم اور تحریکِ انصاف آمنے سامنے ہے۔ سانحہ بلدیہ ٹاؤن پر ایک زبردست غل غپارہ برپا ہے۔مگر یہ منظر بھی نیا نہیں۔ تمام جماعتوں کے پاس عبدالرحمان ملک ہوتے ہیں۔ مسلم لیگ نون کے پاس یہ جنابِ اسحاق ڈار کی صورت میں ہے۔ بس ذرا شکل وصورت ہی الگ ہے۔ مگر حکمرانی کے تیور وہی کے وہی ہیں۔ جوڑ توڑ کی خوبو بھی وہی ہے۔ پھر کراچی میں امن و امان کیسے بحال ہو؟ ملک کے مقتدر حلقوں کے پیشِ نظر کراچی طاقت کی بساط کا ایک شہ مات دینے والا مہرہ ہے۔ جہاں اداروں کے اہم ترین افراد بھی ٹھیک سیاست دانوں کی طرح ’’شوقِ تجارت‘‘ پورا کرتے ہیں۔ گاہے خیال آتا ہے کہ 1992 سے اب تک کراچی آپریشن میں ملوث اُن افسران کی ایک فہرست شائع کر دی جائے جو زمینوں کے کاروبار میں ملوث پائے گئے، پانی اور مٹی بیچتے رہے،تعمیراتی صنعت سے وابستہ رہے اور جن میں سے کچھ پر تو اغوا برائے تاوان تک کے الزامات تک لگے۔آج اُن ریٹائرڈ افسران کے بچے جب کراچی کی سڑکوں پر اونچی گاڑیوں میں فراٹے بھرتے ہیں۔ دبئی کی سیریں کرتے ہیں۔ خرید وفروخت میں جدی پشتی امراء کے بچوں کو شرماتے ہیں۔بیرونِ ملک تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ بے پناہ دولت کی فراوانی سے اجتماعی زندگی کے سماجی تارپود میں ترغیب وتحریص کا سامان کرتے ہیں تو حیرت ہوتی ہے کہ اس ملک کو کہاں کہاں سے جراحت کی ضرورت ہے۔ ہائے اُس سرجن کا کیا کریں جسے خود آپریشن ٹھیٹر لے جانے کی ضرورت پہلے ہو۔اگر اہلِ کراچی مایوس ہیں تو یہ مایوسی بہت ہی مدلل ہے۔ یہ غل غپاڑے کا موضوع نہیں! یہ افتخار عارف نے کیا کہا ہے ،افسوس !
شکل بننے نہیں پاتی کہ بگڑ جاتی ہے
نئی مٹی کو نئے چاک سے خوف آتا ہے
سانحہ بلدیہ ٹاؤن کے بعد اب بارہ مئی کا ملزم بھی نوے روز ہ سپردی میں ہے۔ شنید یہ ہے کہ ایک کے بعد ایک ابھی چند دنوں تک گرفتار کئے جائیں گے۔کچھ فرقہ وارانہ قتل وغارت گری پر سیاسی ہنر آزمائی کے داؤپیچ بھی منظر عام پر لانے کے مشورے ہیں۔بلدیہ ٹاؤن اور 12؍مئی کے سانحات ہی نہیں۔ بولٹن مارکیٹ آتشزدگی اور عباس ٹاؤن دھماکے کے ذمہ داران تک بھی پہنچنے کے اشارے مل رہے ہیں۔مگر پھر کیا ہو گا؟ اس کا جواب بھی وہی ہے کہ اس سے پہلے کیاہوتا رہا ہے۔ ہم اپنی پُرانی ہی عادتوں سے اپنے مستقبل کو ماضی سے مختلف کیسے بنا پائیں گے۔ اگر ہمارا مستقبل ماضی سے مختلف ہے تو اس کی گواہی ہمارا حال دے گا۔ حال میں ہمارا بدلاؤ ہی ماضی کے بہاؤ کومستقبل بننے سے روکے گا۔ مگر دوسری طرف کا منظر وہی پُرانا ہے۔ اداروں کے معاملات جوں کے توں ہیں۔ (تفصیلات کا یہ موقع نہیں) اُدھر ایوانِ بالا کے انتخابات کے لئے زورشور سے جوڑ توڑ جاری ہے۔ جنابِ زرداری پھر اپنے تاجرانہ ہنر آزمارہے ہیں۔عبدالرحمان ملک اپنا الہ دین کا چراغ لے کر لندن پہنچ چکے ہیں۔ تحریکِ انصاف پر براہِ راست حملہ نہ ہوتا تو شاید وہ بھی میدان میں نہ کودتی۔جیسا کہ اے این پی، جمعیت علمائے اسلام ، مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی نے کھلا گریز کیا اور خاموشی شعار کی ہے۔ تحریکِ انصاف کی حالتِ اضطرار کراچی کے معاملے میں پہلے سے ہی سامنے ہے۔ ایم کیو ایم کا یہ الزام، الزام نہیں حقیقت ہے کہ تحریکِ انصاف اپنے جلسوں کے لئے ایم کیوایم سے مدد کی طالب رہی۔ بس اس میں ذرا سا اضافہ یہ ہے کہ اُن جلسوں میں ایم کیو ایم نے جو ’’امداد‘‘ دی وہ تحریکِ انصاف کی التجا پر نہیں۔ بلکہ اُسی’’ اُنگلی والی سرکار‘‘ کی ایما پر تھی۔ اب جو ہنگامہ برپا ہے وہ کچھ’’ خطابی بدتمیزیوں‘‘ کا جواب ہے جو سرکار کے طبعِ نازک پر گراں بار ہوا ہے۔ یہ نکتہ غلط نہیں اُٹھایا گیا کہ بلدیہ ٹاؤن کا واقعہ 2012 کا ہے۔تمام حقائق کاغذوں پر اوائل 2013 میں محفوظ ہو چکے تھے۔ واقعے میں ملوث کسی بھی ذمہ دار پر براہِ راست کوئی ہاتھ ہی نہیں ڈالا گیا۔ وہ تین کا ٹولہ جو ایک اعلیٰ اختیاراتی مرکز میں بیٹھ کر اس پوری آگ کو بھڑکانے کے بعد اُس پر اپنے ہاتھ تاپ رہا تھا۔ اُس کا ذکر صرف نجی محفلوں تک محدود رہا اور اب بھی یہ حقائق بالواسطہ روایتوں کے طفیل منظرِ عام پر لائے گئے۔ اختیارات کے اُن بے حس مراکز کے بارے میں لغت کے جتنے بھی تُرش اور شرمناک الفاظ استعمال کئے جائے مافی الضمیر ادا نہ ہو سکے گا کہ جنہیں 259 افراد کی آگ سے ہلاکت بھی جھنجھوڑتی نہیں۔ جو خاموشی کی چادر تانے کراچی کے وسائل پر اپنی پیٹ کی آگ کو ٹھنڈا کرنے پر تُلے بیٹھے رہتے ہیں۔ ایسے لوگ ’’ریاست‘‘ کے نام پر ہم سے وفاداری مانگتے ہیں۔ ریاستوں کی تاریخ میں شاید ہی ایسا کوئی منظر کبھی نظر آیا ہو کہ حُب الوطنی کو ایک مالِ تجارت بنا دیا گیا ہو۔ ان حقائق کو منظرِ عام پر لانے والوں سے پہلا سوال ہی یہ پوچھا جانا چاہئے کہ اُنہوں نے ان حقائق کو اب تک کیوں چھپایا ؟کیا یہ لوگ تعزیراتِ پاکستان کی شق 201 کے مجرم نہیں جو ثبوت وشواہد کو چھپانے کے مرتکب ہوئے جس سے مجرم ہی نہیں جرم کی نوعیت تک چھپی رہی۔کیا اس ملک میں ایک منصفانہ سماعت کے لئے 259افراد کا مرجانا بھی کافی نہیں؟ ساتھ ہی یہ سوال بھی اُٹھایا جانا چاہئے کہ ایک ریٹائرڈ جسٹس کی سربراہی میں قائم اُس انکوائری رپورٹ کی کیا وقعت تھی جس میں اس شرمناک دہشت گردی کو ایک حادثہ قرار دے کر اس پر مٹی ڈال دی گئی تھی۔ تب پوری سرکاری مشینری ایک خاص طرح سے بروئے کار آئی اور حقائق جانچنے کے تمام نظام کو اپنی ڈھب پر لانے میں مددگار رہی۔ اگرکسی ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں قائم انکوائری رپورٹ بھی قابلِ اعتبار نہ رہے اور جج کی سربراہی بھی حقائق کی تلاش کو مستند نہ بنا سکے تو ایسے نظام پر صرف لعنت ہی بھیجی جاسکتی ہے۔ یہ سارا نظام اور اُس کے ذمہ داران تعزیراتِ پاکستان کی شق 201 کے کھلے مجرم ہیں۔ اگر سانحہ بلدیہ ٹاؤن سے اُٹھنے والے اصل سوالات کو نظرانداز کردیا گیا تو امید کی معمولی کرن بھی باقی نہیں رہے گی۔ اگر مفادات سے آلودہ لاچاری کا یہ حال ماضی کومستقبل میں بھی دہراتاہے تو اس دفعہ نظام نہیں ریاست مایوسی کا ہدف بنے گی۔
سوال وہی ہے کہ ہمارا اصل مسئلہ کیا ہے؟ دراصل جرائم اور دہشت کے کیڑوں نے ہمارے اجتماعی اخلاقی بحران کے گندے نالوں اور قومی نفاق کے جوہڑ میں جنم لیا ہے۔ یقین کیجئے! ہمیں طالبان اور سانحہ بلدیہ ٹاؤن سے بڑا مسئلہ ریاست کی راست روی کا درپیش ہے۔ پہلے مسئلہ یہ تھا کہ اچھے اور بُرے طالبان۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے دہشت گرد اور تمہارے دہشت گرد ۔ منافقت کا بوجھ بہت بڑا ہے۔ اور یہ ہر ایک کے کندھے پر دھرا ہے۔ قانون تفریق کو ختم کرتا ہے۔ یہاں قانون کی بالادستی کے نام پر جو غیر آئینی فوجی عدالتیں قائم کی جارہی ہیں، وہ دہشت گردی کے واقعات کی تفریق پر کھڑی ہیں۔ جیسے ہی بلدیہ ٹاؤن کا واقعہ فوجی عدالتوں میں جانے کا رستہ بنے گا تو پھر ماڈل ٹاؤن کا واقعہ بھی اپنا راستہ بنا لے گا۔ تفریق ، پر قائم ریاستی انتظاما ت مایوسی کو بڑھاتے ہی رہیں گے۔اداروں کے ٹکڑاتے مفادات کی قیمت ملک اپنی قیمت پر چکاتا ہی رہے گا۔ انصاف کی قسمیں بناکر قانون کا رہا سہا اعتماد بھی جاتا رہے گا۔ منافقت نے گریز کو تحفظ دیا ہے ۔ یہی وقت ہے تاریخ سے بحث کی جائے اور حال کو بدل لیا جائے ۔ تاکہ ماضی ہمارے آئندہ کل کے راستے میں سانپ بن کر بیٹھ نہ سکے

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *