نوجوان کیا کر رہے ہیں؟

سعدسہیل

saad sohail

’’بیکار مباش کچھ کیا کر
پجامہ ادھیڑ کر سیا کر‘‘
بات کی جائے وقت کی تو وہ کسی کا محتاج نہیں۔یہ ایک ایسا پہّیہ ہے جو خود توآگے قدم تو بڑھاتا رہتا ہے لیکن عمر بھی گھٹاتا رہتا ہے۔اس چیز کو سمجھنے والے اس با ت کا خیال رکھتے ہیں کہ انہیں اپنا فارغ وقت کن مثبت کاموں میں سرف کرنا چاہیئے تو نہ صرف کامیابی انکے قدم چومتی ہے بلکہ وہ معاشرے میں تعاون کرنے میں سرِ فہرست ہوتے ہیں۔لیکن ہمارے نوجوان اپنا فارغ وقت کہاں گزارتے ہیں اسکا اندازہ انکے کاموں سے لگایا جاسکتا ہے چاہے ان نوجوانوں کی سرگرمیاں مثبت ہو یا منفی، تعمیراتی ہو یا تخریبی محض ان سب کا انحصارنوجوانوں کے عمل پر ہے۔آج کے دور میں جہاں موٹرسائیکل نے سواری کو آسان بنادیا ہے وہی ہمارے نوجوان نسل نے اسکا استعمال رائڈنگ اور ون ویلنگ جیسے جان لیواسرگرمیوں میں محض تفریح اور دکھاوے کیلئے شروع کردیا ہے اور نہ جانے ان حرکات کرنے پرانکو اپنی جان جانے کاڈر نہیں لگتا۔ایک رپورٹ کے مطابق ہر سال دنیا بھر میں19,000موٹر سائیکل سوارروز حادثے میں زخمی یا ہلاک ہوجاتے ہیں جن میں اکثریت نوجوانوں کی ہے جو ایک بہت بڑا المیہ ہے۔
ہمارے نوجوانوں کے کچھ منفرد شوق بھی ہیں جیساکہ شیشے پینے کی لت جس نے نوجوانوں کو اپنے احصار میں لپیٹ لیا ہے اور اس اب اس کو فیشن کے طور پر لیا جاتا ہے، اسکا استعمال صحت کیلئے کافی مضر اور خراب ہوتا ہے۔یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ لوگوں میں غلط فہمی بیٹھ چکی ہے کہ شیشا سگریٹ سے زیادہ نقصان دہ نہیںیہ بلکل غلط سوچ ہے۔ایک سروے کے مطابق کالج اور جامعات کے طلبہء کی بڑی تعداد شیشے کی لت میں مبتلا نظر آتی ہے جس میں انکی عمریں20سے25سال کے درمیان ہے اوراسکے برعکس عالمی ادارہ صحت کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 22236فیصدنوجوان لڑکے اور 2229فیصد نوجوان دوشیزہ نشے کے عادی ہے۔
مزید بات کی جائے وقت گزاری کی تونوجوانوں کی کچھ اور بھی دلچسپیاں ہیں جن میں ویڈیو گیم کھیلنااور اب ٹیکنولوجی کے اس جدید دور میں انٹرنیٹ کی فراہمی نے دنیا کو عالمگیریت میں مبتلا کردیا ہے ایسے میں ان چیزوں سے ایک الگ خیالی دنیابنتی جارہی ہے جس میں نوجوان اپنے آپکوکو سورما سمجھ بیٹھے ہیں۔آج کا نوجوان مکمل آزادی کا خوائش مند نظر آتا ہے اس لیئے وہ اب کہیں بھی جانازیادہ تر اپنے دوستوں کے ساتھ پسند کرتا ہے بجائے اب اس کہ وہ اپنے والدین ، عزیز واقارب یا اساتذہ کے ساتھ کہیں جائے، ایک شطر بے مار قسم کی آزادی جاتا ہے۔آزادی بازاتِ خودایک اچھی چیز ہے اور انسان کا بنیادی حق بھی ہے لیکن نوجوانوں کو اس بات کا خیال رکھنا چاہیئے کہ آزادی کی بھی کوئی حد ہوتی ہے۔ حد سے زیادہ آزادی آگے چل کرخود انکی شخصیت کی تعمیر اور مستقبل کیلئے مہلک ثابت ہوسکتی ہے۔
بقولِ علامہ اقبال:
’’عقابی رُوح جب بیدار ہوتی ہے نوجوانوں میں
نظر آتی ہے اس کو اپنی منزل آسمانوں میں‘‘
لیکن کبھی بھی پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتی ، ہمارے نوجوانوں کی ایک قابلِ ذکر تعداداپنا فارغ وقت ایسی سرگرمیوں میں بھی گزارتی ہیں جو مثبت بھی ہے اور تعمیری بھی اور انکے مستقبل کیلئے سودمند بھی۔کچھ نوجوان سوشل میڈیا کا مثبت استعمال بھی کرتے ہیں ، ان لوگوں کا بنیادی مقصدپاکستان کے بہترین امیج کو اُبھرنا ہے۔ محض یہ آپ پر انحصار کرتا ہے کہ اپنا وقت کن سودمند کاموں میں سرف کیا جائے یا منفی کاموں میں گزار کر وقت کا ضیاء اور زندگی برباد کی جائے-

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *