فطرت کے پجاری

ata ul rehman saman

مسافر کو پہنچنا تو تحمل نگر تھا مگر راستہ بھول کر گھومتا پھرتا ایک ایسی بستی میں پہنچ گیا کہ ماحول جہاں کا دنیا جہان سے الگ اور نرالہ تھا۔ بستی میں داخل ہوا تو خود کو عجب دنیا میں پایا ۔سنسان گلیاں ، نہ بندہ نہ بندے کی ذات۔قبرستان جیسا سکوت اور خامشی ۔ ایسے میں کیکر کے درختوں کے پتوں سے گزرتی تیز ہوا سے پیدا ہونے والی بین کرتی آوازیں ماحول کو مزید پر اسرار بنا رہی تھیں۔
گلیوں اور گھروں میں ہر جانب کیکر (جسے ببول بھی کہتے ہیں) کے د رخت استادہ تھے۔ ہر گھر کے باہر کیکر کے نیچے کی جگہ کو صاف کر کے تنے کے ساتھ ایک جگہ بنائی گئی تھی جہاں بجھے ہوئے چراغ پوجا پاٹ کی گواہی دے رہے تھے ۔ پختہ گلیوں میں خون کے جا بجا دھبے خوف اور تجسس کی صورت مسافر کی روح و بدن میں سرایت کرتے چلے جا رہے تھے۔ ایک عجب نوع کی بوفضا میں چھائی ہوئی تھی۔ پیاس کی شدت کے باعث مسافر کا حلق خشک ہوا جاتا تھا ۔ مگر پانی کس سے مانگتا؟ یہاں تو کوئی موجود ہی نہیں تھا۔گھروں کے دروازے بند تھے تا ہم بعض دروازے کھلے تھے۔ پیاس کی شدت برداشت سے باہر ہوئی تو اُس نے گلی میں ایک دروازے کا رخ کیا ۔ ادھ کھلے دروازے پر متعدد باردستک دینے پر جب کوئی جواب نہ ملا تو مسافر نے درواز ے کو تھوڑا سا کھول کر اندر جھانکا تو کیا دیکھتا ہے کہ چھوٹے سے صحن میں تین چار انسانی پنجر پڑے ہوئے ہیں۔گلی کی مانند اندر صحن بھی خون آلود تھا۔ اُس نے سرعت سے کواڑ بند کئے اور تیز قدموں سے آگے بڑھنے لگا۔ خوف کی ایک یخ بستہ لہر اُ سے اپنی ر یڑھ کی ہڈی میں اتر تی محسوس ہو رہی تھی۔ وہ ایک لمحے کے توقف کے بغیر اِس آسیب زدہ بستی سے نکلنا چاہتا تھا اور دل ہی دل میں تحمل نگر دیکھنے کے شوق کو کوس رہا تھا۔

Image result for humen after deathکچھ آگے بڑھا تو دیکھا کہ گلی کے دونوں جانب کیکر کے درختوں کے نیچے انسانی ہڈیاں اور ڈھانچے بکھرے پڑے تھے۔ بستی سے باہر پہنچا تو وہ ہانپ رہا تھا۔ کمر پر ہاتھ رکھ کر وہ کچھ دیر سستاتا رہا۔ ذرا دیر میں وہ پھر راستے پر گامزن تھا۔ بستی سے باہر جانے والی پگڈنڈی پر چلتے ہوئے وہ جلد از جلد اس جہانِ خواب سے دور نکل جانا چاہتا تھا۔ آسیب زدہ سناٹا ، کیکر کے درختوں کی بہتات، گھروں کے سامنے کیکر کے درختوں کے نیچے بجھے ہوئے چراغوں کے آثار ، گھروں اور گلیوں میں انسانی لاشوں کے ڈھانچوں کے مناظراُس کے خیال کا دامن نہیں چھوڑ رہے تھے۔
بستی سے باہر دور پگڈنڈی کے ساتھ ایک جھونپڑی دکھائی دی تو پھر سے پیاس کا احساس جاگا ۔ قریب پہنچا تو دیکھا کہ جھونپڑی کے باہر گھاس پر ایک بوڑھا آدمی بیٹھا تھا ۔ مسافر قر یب تو بوڑھے نے پوچھا ،’’ کون ہو بھئی ؟ مسافر ہوں با با جی۔ پیاس بہت لگی ہے کیا پانی مل سکتا ہے ؟ مسافر نے تھکے ہوئے لہجے میں جواب د ینے کے انداز میں سوال کیا۔بوڑھے آدمی نے مسافر کو گھاس پر بیٹھنے کااشارہ کیا اور خود پانی لینے کے لئے جونپڑی میں چلا گیا ۔ مسافر درخت سے ٹیک لگائے نیم دراز ہو گیا ۔ کچھ لمحے قبل درپیش عصاب شکن کیفیت نے اُس کے بدن کی ساری توانائی نچوڑ لی تھی۔ چند لمحے پہلے کے منظر اُس کی آنکھوں میں پھر سے تازہ ہونے لگے۔ پانی پی لو بیٹا ، اچانک بوڑھے آدمیکی آواز نے اُسے جگا دیا۔ بوڑھا آدمی مٹی کے پیالے میں پانی لئے کھڑا تھا۔اُس نے برتن ہاتھوں میں لے کر ایک ہی سانس میں پانی حلق سے اتار لیا۔
بوڑھا آدمی اُس کے قریب ہی بیٹھ گیا۔ مسافر کی آنکھو ں میں موجود حیرت اور سوالات کو بھانپتے ہوئے بوڑھے آدمی نے بات کا آغاز کرتے ہوئے مسافر کی طرف ایک سوال اچھالا۔ بیٹا ٹھیک تو ہو۔ لگتا ہے سفر نے تھکا دیا ہے۔ کہاں جانے کا ارداہ ہے؟ پانی پینے کے بعد مسافر کافی سنبھل چکا تھا۔ ’’مجھے تحمل نگر جانا تھا مگر میں راستہ بھول گیا ۔ ہاتھ سے پیچھے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہنے لگا ،’’ اس بستی کی طرف نکل آیا تھا ۔ کوئی راستہ بتانے والا نہیں ملا ۔ آپ ہی رہنمائی فرما دیں۔ تحمل نگر کو کون سا راستہ جاتا ہے۔ اُس نے شفقت بھری نظروں سے مسافر کو مسکرا کر کہا ۔ تم ٹھیک راستے پر آ گئے ہو۔یہی راستہ تحمل نگر کو جاتا ہے۔کوئی دو کوس چلنے کے بعد جب تمہیں مختلف اقسام کے درخت اور پودے نظر آئیں تو سمجھ لینا کہ تحمل نگر کی حد شروع ہو گئی ۔‘‘ ’’با با جی یہ پچھلی بستی کا نام کیا ہے ۔‘‘ ’’ ہے نہیں تھا ۔ جب یہ بستی تھی تو اِس کا نام فطرت آباد تھا ‘‘ بوڑھے نے جواب دیا ۔ مسافر کے ذہن میں موجود حیرت ،سوا لات کی صورت ڈھل رہی تھی۔پوچھنے لگا،’’ با با جی میں نے فطر ت آباد کی گلیوں میں جو منظر دیکھا ہے ۔ وہ کیا تھا؟ بوڑھے آدمی کے چہرے پر افسردگی کا تاثر ابھر آیا۔ آہ بھر کر بولا،’’ بیٹا یہ ویرانی کبھی انسانوں سے بھری خوبصورت بستی تھی۔ ‘‘ مسافر کے دل میں تحیر و جستجو جاگنے لگی تھی۔ پوچھنے لگا ، ’’ یہ کیونکر ہوا ؟بوڑھا آدمی گویا ہوا، ’’ یہ بستی اور ارد گرد تمام دیگر بستیوں میں فطرت کو پوجنے والے لوگ بستے ہیں۔ فطرت آباد کے لوگ بھی ایسے ہی تھے۔ کوئی کیکر کو پوجتا تو کوئی نیم کے پیڑ کی عبادت کرتا ۔کسی کے نزدیک پیپل کا درخت مقدس تھا تو کوئی آم کے پیڑ کے نیچے چراغ جلاتا۔ لوگ اپنی مرضی ، سہولت اور آزاد ی سے بلا روک ٹوک فطرت کے کسی بھی مظہر کی عبادت کیاکرتے تھے۔ ہر شخص دوسرے کے مقدس درخت یا پودے کا احترام اپنے مقدس پودے کی مانند ہی کیاکرتا تھا۔‘‘ ’’پھر یہ کیسے ہوا؟ یہاں تومرے ہوئے انسانوں کے پنجر پڑے ہیں۔‘‘ مسافر نے بیچ میں ایک سوال اور داغ دیا۔ جواب میں بوڑھا آدمی کہنے لگا ۔ کوئی تین دہائیاں قبل بستی کا مزاج تبدیل ہونے لگا ۔ یہاں پر کیکر کی پوجا کرنے والوں کی اکثریت تھی۔ بستی کا راجا بھی کیکر کی پوجا کرنے وا لوں میں سے تھا۔اس کو لگا کہ سب لوگوں کو کیکر کی پوجا کرنی چاہئیے۔ چنانچہ اُس نے اعلان کیا کہ ہم سب لوگ فطرت کے ماننے والے ہیں۔ کیوں نہ ہم سب لوگ صرف ایک پودے کی پرستش کریں۔ اِس طرح ہم میں زیادہ یکجہتی اور اتحاد ہو گا ۔راجا نے اپنے کارندوں سے کہا کہ اس بارے میں اقدا مات کئے جائیں کہ سب لوگ ایک ہی درخت کی پوجا کریں۔ چنانچہ اہل کاروں نے کیکر کے سدا بہار ہونے اور دیگر خواص کے باعث دیگر درختوں سے ز یادہ مقدس اور بر ترہونے کا پرچار شروع کر دیا ۔ کیکر کی ٹہنی کاٹنے پر سزا دی جانے لگی۔ کیکر کی شاخوں کو بکریوں کا چارا بنانے سے منع کر دیا گیا۔ یہ سب آہستہ آہستہ ہو رہا تھا ۔ دیگر درختوں کے ماننے والے گا ہے گاہے اس پر احتجاج کرتے مگر راجا اِ ن کے تحفظات کو نظر انداز کر دیتا۔ پھر یوں ہوا کہ آندھی کے باعث کوئی کیکر کا درخت گر گیا تو کیکر کے ماننے والوں نے اِس کا ذمہ دار دیگر درخت کی پوجا کرنے والوں پر لگا کر دیگر درختوں کو اکھاڑ دیا۔یہ رجحان بھی پروان چڑھا کہ کسی کی جائیداد (گھر ، دکان یا دیگر)پر قبضہ کرنے کے لئے اُس پر کیکر کے درخت کی شاخ کاٹنے یا درخت کو نقصان پہنچانے کاالزام عائد کر کے لوگوں کو مشتعل کیا جاتا۔ اس آڑ میں مخالف فریق کا گھر جلا دیا جاتا اور بعض صورتوں میں اُس کے ہم عقیدہ افراد کے ساتھ بھی وہی سلوک روا رکھا جاتا ۔ اُن کے ساتھ معاشرتی تعلقات توڑ لئے جاتے ۔‘‘ ایسے میں شکار ہونے والے کیا کرتے؟ مسافر نے پوچھا۔بوڑھے نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا،’’ بیٹا ایسی صورت میں اُن لوگوں کے پاس بستی چھوڑ کر تحمل نگر میں پناہ لینے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوتا تھا۔
بیٹا! نفرت ، تعصب و امتیازکی کوئی حد تھوڑا ہی ہوا کرتی ہے۔چنانچہ چند برس بعد صورت حال یوں ہوئی کہ بستی میں صرف کیکر عقیدہ کے حامل افراد کو دکان بنانے کی اجازت دی جانے لگی ۔ یہ تو ابھی ابتدا تھی ۔ کیکر کے علاوہ پودوں کی پوجا کرنے والے بعض دور اندیش لوگ بستی سے نقل مکا نی کر کے تحمل نگر آباد ہو نے لگے۔ رفتہ رفتہ کیکر کے علاوہ در ختوں کوماننے والے ختم ہو گئے۔ کیکر کے علاوہ سب درخت ختم کر دئیے گئے ۔ یہاں ہر طرف مختلف اقسام کیکر ہی کیکر دکھائی دیا کرتے تھے۔ کوئی جنگلی، کوئی پہاڑی، کوئی چوڑے پتے والا تو کوئی باریک پتے والا غرض ہر طرف قسم قسم کے کیکروں کا راج تھا ۔ ایک روز پہاڑی کیکر کی پوجا کرنے والوں نے کہا کہ بستی ابھی بھی یک رنگی ، اتفاق اور ہم آہنگی کے تاثر محروم ہے۔چنا نچہ اگر بستی میں ہر جگہ پہاڑی کیکر ہوں تو بستی میں اتفاق اور یک رنگی کا مظہر خوب دکھائی دے گا۔ دوسری طرف دیسی کیکر کی پوجا کرنے والوں کا موقف تھا کہ دیسی کیکر ہما ری سر زمین کا ہے ۔ ہم پہاڑی کیکر (جو دوسری سرزمین کا ہے ) کے مقابلے میں دیسی کیکر کو رد نہیں کر سکتے۔ کیکر کی دیگر قسموں کا عقیدہ رکھنے والوں نے بھی اپنے اپنے کیکر کی حفاظت کرنے اور اُس کی پوجا کرنے پر ثابت قدم رہنے کا اعلان کر دیا ۔ پہاڑی کیکر کی پوجا کرنے والوں نے دیسی کیکر وں کے خلاف ایک مہم شروع کر دی۔اِس مہم میں انہیں راجا کی پشت پناہی حاصل تھی۔ پہلے پہل ایک دوسرے کے کیکر کاٹنے کا عمل شروع ہوا جو عبادت گزاروں کو صفحہ ہستی سے ختم کرنے کی صورت اختیار کر گیا۔ آخر آخر میں گلی کوچوں میں ایسا قتل عام ہوا کہ کوئی زی النفس زندہ نہ بچا ۔ بوڑھے بات ختم کر کے ایک ٹھنڈی آہ بھری۔ مسافر نے فطرت آباد کی تباہی کی کہانی سنی تو اُس کی ذہن کی ساری گتھیاں سلجھنے لگیں۔ بوڑھا آدمی کہنے لگا بیٹا مجھے حیرت ہے کہ خود کو فطرت کے پجاری کہنے والے فطرت سے کتنی دور تھے۔ وہ کیسے ؟ مسافر نے بو ڑھے آدمی کی بات نہ سمجھتے ہوئے سوال کیا۔ وہ یوں کہ ایک نظر فطرت پر غور کرو تو پتہ چلے گا کہ فطرت میں تنوع ہے ، برداشت ہے اور گنجائش ہے۔ یہاں تو ایک سبز رنگ میں اتنی وسعت (تنوع)ہے کہ ایک پودے کا سبز رنگ دوسرے سے نہیں ملتا مگر سبز ہے۔ گھاس کا سبز ، گلاب کا سبز کیکر کا سبز غرض ہرسبز رنگ کا مختلف شیڈ ۔ تعجب ہے کہ فطرت کی پوجا کرنے والوں میں فطرت کے بنیادی اوصاف گنجائش، تنوع، قبولیت ، برداشت اور غائب تھے۔ وہ فطرت کو مانتے تھے مگر فطرت کی نہیں مانتے تھے۔چنانچہ ہنستی کھیلتی بستی اب صفحہ ہستی پر ہی نہیں ہے۔ دوسری طرف چند کوس کے فاصلے پر موجود تحمل نگر میں بھی فطرت کے پجاری ہیں۔ مگر یہاں کوئی کسی کو اپنے پودے کی پو جا کرنے کا حکم مسلط نہیں کرتا۔ ایک دوسرے کا احترام ہے۔ ایک دوسرے کے مقدس درخت کا احترام ہے۔ یہاں وہ لوگ بھی قابل احترام ہیں جو کسی پودے کی پوجا نہیں کرتے ۔ تحمل نگر حقیقی معنوں میں فطرت کا مظہر ہے۔ جہاں ہر کسی کے لئے گنجائش، قبولیت اور احترام ہے۔ چنانچہ وہ لوگ جو فطرت آباد سے نقل مکانی کر کے تحمل نگر آ گئے تھے سلامت ، محفوظ اور بحال اور خوشحال ہیں۔ وہ بستی جہاں اپنے عقیدے کی بنیاد پر دوسروں کے لئے گنجائش ختم کی جائے وہاں زندگی کی گنجائش بھی ختم ہو جاتی ہے۔ بوڑھے نے بات ختم کی تو مسافر اٹھا اور تحمل نگر کے راستے پر ہو لیا۔کیونکہ تحمل نگر ہی زندگی کا ، بحالی کا ، سلامتی کا ، خوشحالی کا اوربنیادی انسانی آزادیوں کی حفاظت کا راستہ تھا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *