عظیم پاکستانی نژاد

رانا علی زوہیب 

rana ali zohaib

پاکستان اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمتوں سے ایک نعمت ہے ، یہ وہ دھرتی ہے جس پہ کسی قسم کی کوئی نظر نہیں آتی ، وہ تعلیم کا میدان ہو ، وہ ٹیلنٹ کا میدان ہو پاکستانی کسی سے کم نہیں ، لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ کیا ٹیلینٹڈ لوگوں کو انکا حق دیا جاتا ہے یا نہیں ، بات فوج کی کریں تو ایم ایم عالم جیسا عظیم فائٹر پائلٹ عطا کیا ، اس دھرتی نے وہ سپوت پیدا کیے جو میدان جنگ ہو ، تعلیم کا ہو ، کھیل کا ہو ، ٹیکنالوجی کا ہو ، نہ پاکستان اور نہ پاکستانی کسی سے کم ہیں اور نہ کسی سے پیچھے ہیں ۔ بد قسمتی سے ہمارے ملک کی نوجوان قیادت یا تو سیاست کی بھینٹ چڑھا دی جاتی ہے یا اگر کوئی پڑھ جائے تو ڈگریاں ہاتھ میں تھمائے نفسیات کا شکار ہوجاتی ہے کہ نوکری نہیں ہے ، اگر کہیں ہے تو جیب میں اتنے پیسے نہیں کہ رشوت دے کر نوکری حاصل کر سکیں ، لیکن ان حالات میں بھی وہ لوگ ، وہ نوجوان قیادت جس کو اپنے ہنر ، اپنی تعلیم اور سخت محنت پر ناز ہوتا ہے وہ اپنے لیے راستہ بنا ہی لیتے ہیں ، اور پھر ایسا راستہ بناتے ہیں کہ ترقی انکا راستہ تکتی ہے ، راستے خود بخود صاف ہونے لگتے ہیں اور وقت ہے کہ انکو اپنی آغوش میں لیے صرف اور صرف ترقی کی طرف لے جاتا ہے جو ملک و قوم کے لیے فخر اور اپنے ماں باپ کے لیے بھی کسی عظیم نعمت سے کم نہیں ہوتے ۔ آج یہاں ذکر ایک ایسے نوجوان کا کرنا چاہتا ہوں جس نے محنت کے بل بوتے پر اپنی فیملی کا سر فخر سے بلند کیا ۔ 20 جنوری 1982 کا سورج ضلع شیخوپورہ کے ایک گاؤں ننگل وارث خان کے لیے ایک ایسا شاہکار لے کر ابھرا جسکا نام ’’خرم شہزاداکبر‘‘ ہے ۔ راجپوت خاندان میں پیدا ہونے والا یہ بچہ آگے جاکر اتنی ترقی کرے گا کسی نے سوچا تک نہ تھا ، سوچا اسلیے نہیں تھا کہ اس وقت تعلیم کا کسی کو پتا نہیں تھا ، بہت کم لوگ تھے جو اپنے بچوں کو وہ تعلیمی سہولتیں فراہم کر سکتے تھے جو حقیقت میں ایک ضرورت ہوتی ہے ۔ خرم شہزاد اکبر نے جب راجپوت خاندان میں آنکھ کھولی تو خوشیاں پھولے نہ سمائی تھی ۔۔تھوڑا سا ہوش سمبھالا اور بستہ کمر میں باندھا اور نکل پڑا اپنی منزل کی جانب۔ ابتدائی تعلیم نجی سکول سے حاصل کی ، کالج کا وقت آیا تو بدملہی کے اسلامیہ کالج سے اپنی کالج کی تعلیم کی حاصل کی ، آج وہ کالج اس حال میں ہے کہ وہاں جانا تو دور اس کالج کے مین گیٹ کا دروازہ ہی نہیں ، مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ایک دفعہ میں نے اپنے باپ سے کہا مجھے بھی اسلامیہ کالج بدوملہی جانا ہے تو انہوں نے کہا کہ بیٹا اب اس کالج میں کچھ نہیں ہے بہتر ہوگا تم لاہور چلے جاؤ اور وہاں اپنی تعلیم جاری کرو ۔۔ لیکن اس اسلامیہ کالج نے خرم شہزاد جیسا عظیم انسان بنایا اور اسے ترقی کی راہ پر گامزن کیا ۔ وقت اور حالات بدلتے گئے ، تعلیم میں لگاؤ مزید بڑھنے لگا ، خرم شہزاد نے مزید تعلیم کی خواہش ظاہر کی تو باپ نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے بیٹے کو لاہور گورئمنٹ کالج آف سائنس وحدت روڈ سے بی ایس سی کرنے کی اجازت دی۔ خرم شہزاد نے بی ایس ای کا امتحان پاس کیا اور پھر اسکے بعد ایم بی اے کا امتحان پنجاب ہونیورسٹی سے پاس کیا اور یوں ایک گاؤں کا لڑکا اور اس گاؤں کا لڑکا جہاں لڑکوں کو اپنے بہتر مسقبل کی کوئی آس یا امید نظر نہیں آتی جب تک وہ گاؤں چھوڑ نہ دیں ایک عظیم اور کامیاب انسان بنا ۔ تعلیم مکمل کی تو 2005 میں ایک پرائیویٹ کمپنی میں پروڈکٹ سپیشلسٹ کے طور اپنی نوکری کا آغاز کیا ۔ خرم شہزاد نے جس طرح اپنی تعلیم نہایت ایمانداری سے حاصل کی ویسے ہی انہوں نے اپنے کام میں بھی ایمانداری دیکھائی اور رتھوڑے ہی وقت میں اس کمپنی کے سب سے بہترین ایپملائی قرار پائے ۔ انکی انتھک محنت کی بدولت انکو مختلف قسم کے ایوارڈز سے نوازا گیا جس میں سر فہرست یہ شامل ہیں ، خرم شہزاد کو سب سے پہلا ایوارڈ ’’ سٹار ایوارڈ 2009 ، آرتھوکون ایوارڈ 2010 ، میپ ایکسیلینٹ ایوارڈ 2010 ، سپیشل سپورٹ ایوارڈ 2010 اور میپ سٹار اکیڈمی ایوارڈ 2011 سے نوازا گیا ۔ چھوٹی سے عمر میں ترقی کی اتنی منزلیں طے گئی جس نے نہ صرف ماں باپ بلکہ پورے خاندان کا نام روشن کردیا ۔ خرم شہزاد کی محنت کو سراہتے ہوئے کمپنی نے 2013 میں خرم شہزاد کو سعودی عرب مائیگریٹ کردیا ۔ یہ خبر جب گھر والوں کو پتا چلی تو خوشی تو ہوئی لیکن ساتھ ہی بیٹے کا گھر سے اور ملک سے دور اپنے فیملی ممبرز سے دور جانا ماں کو تھوڑی دیر کے لیے غمزدہ کرگیا ، لیکن بیٹے کی ترقی کو دیکھ کے ماں باپ نے خوشی خوشی خرم شہزاد کو سعودیہ جانے کی اجازت دے دی۔۔ خرم شہزاد اپنے بیوی بچوں کے ساتھ سعودیہ شفت ہوگئے اور پہلے سے زیادہ جنون اور محنت سے کام شروع کیا ۔ انکے کام کی جتنی تعریف کی جائے اتنی کم ہے ۔ 2013 سے 2016 اپنی فیملی سے دور خرم شہزاد نے انتہائی محنت سے کام کیا اور نہ صرف کمپنی بلکہ پورے سعودیہ اور جیسی دوسری کمپنیوں کے ساتھ مقابلہ کر کے اپنی کمپنی کو اس لیول پہ لے گئے جہاں صرف ایک ایماندار انسان ہی لے کے جا سکتا ہے ۔ 2016 کے آخر میں کمپنی کے خرم شہزاد اکبر کو انکے کام اور محنت کو سامنے رکھتے ہوئے ایک ایسے عہدے کے لیے سیلیکٹ کیا جہاں ایک عام انسان سوچ بھی نہیں سکتا ، خرم شہزاد اکبر کو ’’Revison Lead-Joint Reconstruction Middle East‘‘ بنا دیا گیا ۔ یعنی خرم شہزاد اکبر کو مڈل ایسٹ کے جتنے ممالک ہیں جس میں تقریبا 17 ممالک آتے ہیں انکا ری ویژن لیڈر بنا دیا گیا ۔ یہ اتنا بڑا عہدہ کسی نعمت سے کم نہیں ۔ اس سلسلے میں جب انکے اہل خانہ سے بات ہوئی تو خرم شہزاد کی ماں کا کہنا تھا کہ بیٹے کی اتنی بڑی اچیومنٹ پہ بہت خوش ہوں اللہ کے حضور دعا گو ہوں کہ اسکی نیت کی بدولت اللہ اسے مزید ترقی دے ۔ یہ تھی کہانی ایک ایسے نوجوان کی جس نے ہر قسم کے حالات کا مقابلہ کیا اور محنت کرنا نہیں چھوڑی ۔ اکثر اوقات یہ سننے میں آیا ہے کہ پڑھ کر کیا کرنا ہے پڑھائی کرلی تو نوکری نہیں ملے گی ، ابھی سے مزدوری کرتے ہیں وقت گزر جائے گا ، لیکن نیت صاف ہو ، پوری لگن سے محنت کی جائے تو پاکستان کا کوئی بھی بچہ خرم شہزاد کی طرح اپنے ملک و قوم کا نام روشن کر سکتا ہے ۔خرم شہزاد اکبر مثال ہے پاکستان کے لوگوں کے لیے ، وہ مثال ہے ان لوگوں کے لیے جو محنت نہیں کرتے بلکہ اس انتظار میں رہتے ہیں کہ کوئی فرشتہ آسمان سے اترے گا اور انکو ترقی پر لے جائے گا ۔ لیکن خرم شہزاد نے یہ ثابت کیا کہ زندگی میں کچھ پانے کے لیے محنت کرنا پڑتی ہے ۔ اللہ ہم سب کو خرم شہزاد جیسی محنت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔۔۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *