پاکستانی قوم کو مبارک ہو!

عطاء الحق قاسمیA_U_Qasmi_converted

وزیراعظم نوازشریف کی قیادت میں وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے قوم کو ایک بڑی خوشی سے ہمکنار کیا ہے، مگر اس کی تفصیل سے پہلے کچھ دوسری باتیں :
مجھے زندگی میں کوئی چھوٹی سے چھوٹی خوشی ملے تومیں اس خوشی سے کئی گنا زیادہ خوش ہوتا ہے۔ مگر گزشتہ روز تو مجھے ایک ایسی خوشی ملی، جو میری زندگی کی سب سے بڑی خوشی تھی اوربرس ہا برس سے میرے اس یقین کا ثبوت بھی کہ پاکستان اور اس کے عوام کی ہتھیلیوں پر ایک سنہری مستقبل کی بہت گہری لکیر موجود ہے، چنانچہ میں اپنی زندگی کے کسی موڑ پر پاکستان کے شاندار مستقبل سے کبھی مایوس نہیں ہوا، میری یہ بے پناہ خوشی راجوعہ (چنیوٹ) میں لوہے کی تلاش کرتے کرتے سونے، تانبے اور چاندی کے ذخائردریافت کرنے کے حوالے سے ہے، جن کی مالیت کا اندازہ ماہرین معدنیات ہزاروں ارب ڈالر لگاتے ہیں۔ جب وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف ہمیں یہ ذخائر دکھانے کے لئے اپنے ہیلی کاپٹر میں چنیوٹ لے کر گئے تو میں نے محسوس کیا کہ مایوسی سے بجھی بعض آنکھوں میں بھی امید کی چمک سی آگئی ہے، شہباز شریف کی خوشی تو دیدنی تھی، وہ ان لمحوں میں میٹرک کے اس نوجوان کی طرح ہوائوں میں اڑتے نظر آرہے تھے جس نے امتحان کا نتیجہ آنے پر پورے علاقے میں اول پوزیشن حاصل کی ہو اور واقعی ایسا ہی تھا، 2007ء میں جنرل پرویز مشرف پاکستان کے مدارالمہام تھے اور پنجاب میں چودھری پرویز الٰہی وزیراعلیٰ تھے، جب ان معدنی خزانوں کی بھنک کان میں پڑی تو ایک فراڈیئے کو بغیر ٹینڈر کے اس کا ٹھیکہ دے دیا گیا، 2008ء میں شہباز شریف وزیراعلیٰ بنے تو انہوں نے عدالت سے رجوع کیا اور عدالت عالیہ نے اس فرم کو اوراسکے فرنٹ مین دونوں کو فراڈ قرار دیا جس پر شہباز شریف نے ایک نیا بورڈ آف گورنرز بنایا جس کا چیئرمین ہمارے قابل فخر سائنسدان ڈاکٹر ثمر مبارک مند کو بنایا گیا، شہباز شریف نے ان خزانوں کی ’’تقریب رونمائی‘‘ میں مجھے مخاطب کر کے کہا کہ عطاء الحق قاسمی صاحب اگر میں ان بڑے بڑے لوگوں کے نام بتا دوں جنہوں نے گزشتہ بورڈ کے ارکان کی سفارش کی تھی تو آپ کو غش آجائے، بہرحال اس کے بعد ٹینڈر کئے گئے جن میں چین اور جرمنی اول اور دوم آئے اورپھر وہ تمام سروے اور اس نوع کی دیگر ضروری کارروائیاں کی گئیں جن سے ذخائر کے معیار اورمقدار کا اندازہ لگایا جاسکے، اور اب وہ مقام آگیا جب قوم کو خوشخبری سنائی جاسکتی تھی۔
چنانچہ لاہور سے وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف اور اسلام آباد سے وزیراعظم پاکستان محمد نوازشریف چنیوٹ پہنچے اور جس زمین پر صدیوں سے فصلیں بوئی جارہی تھیں، ان فصلوں کے نیچے ہزاروں ارب ڈالر کی معدنیات پاکستانی قوم کی منتظر تھیں، وزیراعلیٰ اور وزیراعظم یہ منظر دیکھنے اور قوم کو یہ خوشخبری سنانے کے لئے یہاںآئے تھے، اس موقع پر شہباز شریف اور نوازشریف دونوں نے ایک بڑے مجمعے کے سامنے تقاریر بھی کیں، شہباز شریف کی تقریر ان کی زندگی کی بہترین تقریروں میں سے ایک تھی، جو بہت زیادہ شادمانی اور پرجوش جذبوں کے باوجود نپے تلے الفاظ پر مشتمل تھی، لفظوں کا تلفظ بھی ایسا تھا کہ لگتا تھا انہوں نے ایم اے اردو کیا ہوا ہے۔ دوسری طرف وزیراعظم پاکستان محمد نوازشریف کے حوالے سے میں نے ہمیشہ یہ محسوس کیا ہے کہ وہ جب کبھی پڑھے لکھے لوگوں کے درمیان زبانی تقریر کرتے ہیں وہ ایک سیاست دان کی نہیں ایک سٹیٹس مین کی تقریر ہوتی ہے۔ یہاں بھی ان کی تقریر بلکہ گفتگو اسی معیار کی تھی۔ ان دونوں عمائدین کی طرف سے ایک ہی بات کہی گئی اور وہ یہ کہ اس خزانے سے صرف پنجاب کو فائدہ نہیں ہوگا بلکہ پاکستان کے 18 کروڑ عوام اس سے مستفید ہوں گے، وزیراعظم نوازشریف نے کہا کہ جب یہ منصوبہ مکمل ہوگا تو کشکول کو زمین میں ہزاروں فٹ گہرا دفن کر دیا جائے گا، اس کے بعد امداد لینے والوں میں نہیں، امداد دینے والوں میں سے ہوں گے!
ایک بات اور! پاکستانی قوم میں ایسے بے شمار لوگ موجود ہیں جن کی اپنے وطن سے محبت محض جذباتی نوعیت کی نہیں بلکہ انہوں نے اپنی زندگیاں پاکستان کو ایک خوبصورت ملک بنانے کے لئے وقف کی ہوئی ہیں۔ مجھے یہ سن کر مسرت آمیز حیرت ہوئی کہ ڈاکٹر ثمر مبارک مند اپنے فرائض اعزازی طور پر انجام دے رہے ہیں اسی طرح سیکرٹری معدنیات ڈاکٹر ارشد محمود کی انوالومنٹ اوراس منصوبے میں ان کی محنت، ملازمت کا ’’شاخسانہ‘‘ نہیں تھی بلکہ اسکے پیچھے وہی جذبہ کار فرما تھا جس کی طرف میں نے اوپر کی سطور میں اشارہ کیا ہے۔
اس موقع پر میرے دل میں کچھ خدشات بھی ابھر رہے ہیں جن میں سے سرفہرست یہ ہے کہ معدنیات کے اتنے بڑے ذخیرے کی دریافت پر کہیں کوئی غیر ملکی لابی ہمیں اس نعمت سے محروم کرنے کے لئے سرگرم عمل نہ ہو جائے۔ جس کی کئی صورتیں ہوسکتی ہیں، غیر ملکی ماہرین کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا جاسکتا ہے، حکومت کو غیرمستحکم کرنے کی مذموم کوششیں کی جاسکتی ہیں تاکہ شہباز شریف نے جن لٹیروں سے یہ خزانہ واپس لیا ہے، دوبارہ نئے لٹیروں کے ہاتھ نہ آجائے۔ سو قانون نافذ کرنے والے اور پاکستان کے استحکام کے ضامن اداروں کو اب پہلے سے زیادہ چوکس ہونا ہوگا، ایک گزارش ان دوستوں سے جو قوم کو مایوس کرنے میں لگے رہتے ہیں، اور وہ یہ کہ کم از کم تھوڑے سے عرصے کے لئے وہ مایوسی کو آرام کرنے دیں، یہ بیچاری تھک گئی ہوگی!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *