انتخابات کا ہنگامہ

"کالم نگاروں کی قلابازیاں" کے اس سلسلے میں قارئین کی دلچسپی کے لیے مختلف کالم نگاروں کے پرانے کالمز پیش کیے جاتے ہیں تاکہ قارئین کو اندازہ لگانے میں آسانی رہے کہ کالم نگاروں نے کس کس موقع پر اپنا بیانیہ تبدیل کیا(- اس سلسلے میں آج ایاز امیر صاحب کا 23مارچ2013 کا کالم پیش خدمت ہے)

ayaz amir
سیاست کے معمول کے معاملات اکتا دینے والے اور بے کیف ہوتے ہیں … عہدوں کے حصول کے لئے قلابازیاں ، افسران کے تبادلے اور تعیناتی اور مال بنانے کے نت نئے حربے… اور ان سے سرانڈ کی بو آتی ہے۔تاہم انتخابات کا ہنگامہ گھر کی رونق قائم رکھتا ہے ، بلکہ میرا خیال ہے کہ انتخابات جیسی ہنگامہ خیز چیزیں بہت کم ہوتی ہیں۔ اب جبکہ ملک میں انتخابات کا میدان سجنے والا ہے، تمام سستی اور کاہلی ہوا ہو چکی ہے جبکہ بہت سوں کی نبض کی رفتار معمول سے تیز اورسانسوں کی ترتیب برہم ہے، ہر کوئی اس جوش و خروش کی تمازت کو محسوس کر رہا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ انتخابات معمول کے مطابق ہوتے ہیں… وہی جھوٹے وعدے، وہی بے بنیاد تسلیاں، وہی زمین و آسمان کے قلابے ملا دینے والے انقلابی دعوے، تاہم اس ہنگامے سے ہر کوئی محظو ظ ہوتا ہے، اور یہی ان کا سب سے اچھا پہلو ہے۔
انتخابات کے بعد ، جب بے کلی دل کی دنیا اداس کر دیتی ہے تو جی چاہتا ہے کہ بنجاروں والا چغہ پہنوں،کچھ ضروریات ِ زندگی ساتھ رکھوں ، جیسا کہ لیپ ٹاپ اور کریڈٹ کارڈز ، اور جوگی بن کر بن باس لے لوں۔ تاہم انتخابات کا ڈھول بجتے ہی من کا جوگی جنگل کو تیاگ دے کربستی میں بسیرا کرتاہے اور پھر…”اس بے وفا کا شہر ہے اور ہم ہیں دوستو“۔ ایسا لگتا ہے کہ گزرتے وقت کے لمحوں نے مجھے بھی کچھ عقل سکھا دی ہے۔ معمول کی زندگی میں سستی ہی من پسند مشغلہ ہے لیکن انتخابی عمل کا آغاز ہوتے ہی کاہلی کی چادر اتار پھینکتاہوں اور ان نایاب مواقع پر اتنی صبح اٹھتا ہوں کہ اپنے لئے چائے یا کافی بھی خود ہی بنانا پڑتی ہے۔ اس کے بعد تخیلاتی اسپ ِ تازی کو برقی زین پہناتے ہوئے اس کا رخ سمر قند کی سنہری شاہراہ کی طرف موڑ کر لگام ڈھیلی کر دیتا ہوں۔ ایسا لگتا ہے کہ انجانی منزلیں اس کی ٹاپوں کی صدا سن کر سنگ ِ میل کی طرح چشم براہ ہیں اور آفاق کی شیشہ گری کسی پرعزم مگر جدت پسند کاریگر کے ہاتھ آگئی ہے۔
میں نے سب سے پہلا الیکشن1997 میں پنجاب کی صوبائی اسمبلی کی نشست کے لئے لڑا۔ جب مجھے پتہ چلا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) مجھے ٹکٹ دے رہی ہے تو جذبات آسمان سے باتیں کرنے لگے، لیکن برا ہو عقل کا کہ اس نے نہایت سنگ دلی سے ان کی مزید ”گفتگو “ میں دخل اندازی کرتے ہوئے اعلان کیا کہ بنک میں ایک پائی بھی نہیں ہے ، الیکشن کیسے لڑو گے ؟غور کیا تو حقائق سیاسی معرکے کے لئے نہایت حوصلہ شکن تھے۔ میرا چکوال کا گھر نہایت خستہ حالت میں تھا اور اس کا کچن انتخابات کے لئے درکار ضیافت سے قاصر تھا۔ تاہم سنہری منزلیں مجھے ایسے پکار رہی تھیں کہ میں نے تمام شکوک و شبہات کو بالائے طاق رکھا اور اپنے کریٹ کارڈ پر ایڈوانس لے لیا۔ اگلے روز میں اپنے کاغذات ِ نامزدگی داخل کرانے تلہ گنگ چلا گیا۔ یہ سارا کھیل میرے لئے نیا تھا ، چنانچہ میں بہت پر امید تھا۔ میرا انتخابی حریف ، اگرچہ میری عمر کا ہی تھا لیکن ایک تو اس کے پاس وسائل زیادہ تھے اور دوسرے یہ میدان اس کے لئے نیا نہ تھا اور وہ اس سے پہلے بھی صوبائی وزیر رہ چکا تھا، اس لئے وہ اس کھیل کو جانتا تھا۔ میں نے 1982 ماڈل کی کار میں انتخابی مہم چلائی ۔ سیاسی بساط پر نظر رکھنے والے جانتے ہیں کہ یہاں مہرے کا مقام اور طاقت دیکھی جاتی ہے اور 82 ماڈل کی کار یقیناً کسی مقام کی غمازی نہیں کرتی تھی۔ پاکستان کی انتخابی سیاست میں تو مہنگی گاڑیاں( معاف کیجیے گاڑیوں والے) ہی قدم رکھ سکتی ہیں۔ تاہم میں اور میرے ساتھیوں نے رات دن ایک کر دئیے۔ اس کے علاوہ میرے آ بائی گاؤں بھگوال اور قرب و جوار کے دیہات کی یونین کو نسلوں سے مجھے بے پناہ حمایت ملی اور پھر اُن حالات میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ کے ساتھ ناکامی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ تاہم الیکشن جیتنے کے بعد سیاسی عمل سے اتنا دل گرفتہ ہوا کہ میں نے ایک سال بعد ہی اپنی صوبائی اسمبلی کی نشست سے استعفیٰ دے دیا۔ اس دوران میں صحافت سے بھی دور رہا اور مرحوم خالد حسن صحافت کو دنیا کا دوسرا قدیم ترین پیشہ قرار دیتے تھے(پہلے قدیم ترین پر منٹو صاحب کافی کچھ لکھ چکے ہیں)۔ اس کے بعد مشرف کا دور آیا ۔ اس نے بہت سے سیاسی معروضے بدل دیے۔ ان بدلتے ہوئے حالات نے ق لیگ کے سیاست دانوں کو قومی سطح پر لا کھڑا کیا۔
2002 کے انتخابا ت میں، میں نے پھر حصہ لیا۔ اس مرتبہ میرے پاس 86 ماڈل کی کار تھی۔ انتخابی اخراجات کے لئے میں نے اخبار ، جس کے لئے میں اُ س وقت لکھتا تھا، سے 33 فیصد سود پر قرض لیا۔ یہ خون آشامی (اس قرض کو اس کے سوا اور کیا کہا جائے؟) اپنی جگہ پر، سیاسی حالات بھی میرے خلاف تھے کیونکہ ق لیگ کے تمام ناظم ، جن کو بے پناہ اختیارات مل چکے تھے اور سیاست میں نووارد رہنما سب میرے خلاف تھے۔ اس کے علاوہ کچھ نادیدہ فرشتے بھی انتخابات میں میرے خلاف کارروائیوں میں ملوث محسوس ہوئے۔ اس کے علاوہ دائیں بازو کی جماعتوں نے الگ پلیٹ فارم بنا کر نواز لیگ کے ووٹ تقسیم کردیے۔ ان سب مشکلات کے باوجود(جن میں سب سے بڑی مشکل چھیاسی ماڈل کی کار تھی) میں صرف پندرہ سو ووٹوں سے ہارا اور ایسا لگتا تھا کہ اگر فرشتے میرے خلاف مخالفین کے پلڑے میں اپنا وزن نہ ڈالتے تو نتائج مختلف ہوتے ۔ بہرحال اس کے بعد قرض کی واپسی ایک دل شکن عمل تھا۔ اس کے بعد 2008 کے انتخابات کا مرحلہ آیا ۔ اب تک صحافت نئے پیمانوں میں ڈھل چکی تھی اور پھر بیتے ہوئے ماہ و سال نے میرے دست و بازو بھی مضبوط کر دئیے تھے۔ اب میں پہلے سے زیادہ پر اعتماد خم ٹھونک کر میدان میں اتر سکتا تھا۔ بہرحال اب بھی رقم کے لئے بنک سے قرض لینے کی ضرورت پیش آسکتی تھی۔ تاہم اُن انتخابات میں مجھے ایک پائی بھی خرچ نہیں کرنا پڑی۔ میرے دوستوں اور حامیوں نے تمام اشتہاری مہم چلائی اور مجھے پہلی مرتبہ پتہ چلا کہ مہنگی گاڑیوں میں انتخابی مہم چلانا کسے کہتے ہیں اور مسلح گارڈز کے درمیان انسان خود کو کیا محسوس کر تا ہے۔اس پر مستزاد، پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ نے میری کامیابی کو اس طرح یقینی بنایا کہ میں نے پنجاب کے کسی بھی قومی اسمبلی کے حلقے سے کامیاب کسی بھی امیدوارسے زیادہ ووٹ حاصل کئے تھے۔ میرے انتخابی حریف نے بھی بہت زیادہ ووٹ حاصل کیے ۔ اس کا مطلب یہ چکوال میں ووٹنگ ٹرن آؤٹ بہت زیادہ رہا۔
گزشتہ پانچ برسوں کے دوران ایک مرتبہ پھر بے کلی اور اکتاہٹ کا شکار رہا ہوں۔ قومی اسمبلی ایک اچھی جگہ ہو سکتی تھی لیکن ایسا نہ ہوا۔ تاہم اب وہ باب بند ہو گیا ہے،ہماری سیاسی کتاب کا ایک اورصفحہ پلٹے جانے کا وقت آگیا ہے۔ اب ایک مرتبہ پھر گلوں میں رنگ بھرتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں جبکہ رنگیلی نوبہار ہر طرف اپنے ڈیرے ڈالے ہوئے ہے۔ اب تک سب کو انتخابات کے انعقاد کا یقین ہو چکا ہے۔ میں ایک مرتبہ پھر ضروری تیاریوں میں مصروف ہوں جس میں سب سے اہم اپنی پرانی پراڈو گاڑی کی مرمت شامل ہے اور اس مرمت کا سب سے اہم پہلو گاڑی میں میوزک سسٹم کو ٹھیک کرانا ہے کیونکہ انتخابی مہم ویگنر کے بغیر نامکمل رہے گی۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ اس پاکستان بہت سے مسائل کا شکا ر ہے۔ تاہم اب عوام کے پاس ایک موقع ہے کہ وہ اپنے ووٹ کا درست استعمال کریں۔ اس وقت ہمیں پاکستان میں دقیانوسیت کی گھٹن زدہ فضا کی بجائے تازہ ہوا کے جھونکے کی ضرورت ہے ۔ انتخابی عمل اس کا ایک موقع فراہم کرتا ہے۔ کیا ہمیں تنگ نظری میں مقید پاکستان چاہئے یا مسٹر جناح کے لبرل نظریات کا حامل پاکستان ؟ اس فیصلے کی گھڑی آن پہنچی ہے۔ ڈیگال کا کہنا ہے کہ سیاست میں یا تو وطن کو دھوکہ دینا پڑتا ہے یا عوام کو۔ میرا خیال ہے کہ وطن کو دھوکہ نہیں دینا چاہیے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *