یورپی شہریوں کی آف شور آمدن 

mehmood-asghar-chaudhry

دنیا بھر کی حکومتیں ٹیکس فراڈ کرنے والوں کے خلاف گھیرا تنگ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں ۔جن یورپی ممالک میں کساد بازاریوں نے شہریوں کی زندگی اجیرن کی انہوں نے اس کا حل یہ نکالا کہ وہ تلاش رزق میں امیر یورپی ممالک میں منتقل ہو گئے چونکہ فری موومنٹ کا قانون انہیں اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ وہ 27ممالک میں کسی بھی ملک جا کر کام کر سکتے ہیں اور رہائش اختیار کر سکتے ہیں اس لئے انہوں نے اس قانون سے استفادہ حاصل کرتے ہوئے نقل مکانی میں عافیت جانی ۔ لیکن بعض شہریوں نے اس سلسلے میں تھوڑی چالاکی کا مظاہرہ کیا ۔ چونکہ کم وبیش سبھی یورپی ممالک میں یہ قانون ہے کہ بے روزگار ہونے کی صور ت میں شہریوں کو بے روزگاری الاؤنس ملتا ہے تو ان شہریوں نے اپنے ممالک میں بے روزگاری الاؤنس اپلائی کیے اور اپنی حکومتوں سے اس کی مد میں ملنے والا فنڈ لینا شروع کر دیا اور دوسرے یورپی ملک میں جا کر وہاں کام کرنا شروع کر دیا اور کام سے متعلقہ تمام مالی فوائد یا سوشل بینیفٹس وہاں بھی لینے شروع کر دئے ، جوگزشتہ برسوں میں تو کسی پریشانی کا سبب نہیں بنا لیکن وہ اس سال یعنی 2017ء سے ایک نئے قانون کے تحت مشکلات کا شکار ہو سکتے ہیں
گزشتہ بیس سال سے دنیا کی بڑی معاشی ریاستیں آپس میں ایسے معاہدے سائین کرتی رہی ہیں جن کی مدد سے وہ ایسے شہریوں کی معلومات کا آپسی تبادلہ کرتے رہتے ہیں جن کے اثاثے ایک سے زیادہ ممالک میں ہوتے ہیں لیکن سن 2014ء میں اکاون ایسی ریاستوں نے ایک معاہدہ سائین کیا تھا جس کے تحت وہ ایسے تمام بنک اکاؤنٹ ہولڈرز کی تفاصیل کا آپس میں تبادلہ کرتے ہیں جن کے اکاؤنٹس ایک سے زیادہ ممالک میں ہیں ۔ اس قانون پر دستخط کرنے والے کچھ ممالک ستمبر2017ء تک اور کچھ ممالک ستمبر2018ء تک اپنے بنک صارفین کی معلومات ایک دوسرے سے شیئر کرنے کے پابند ہوں گے یہ معلومات ایک سسٹم کے تحت خود بخود شیئر ہوں گی اور متعلقہ ممالک کے بنک اپنے ٹیکس ڈیپارٹمنٹ کو ان کی معلومات دینے کے پابند ہوں گے یاد رہے کہ پاکستان بھی اس معاہدہ کا سگنٹری ہے اور ستمبر2018ء کو اس معاہدہ کے اطلاق کا پابند ہوگا ۔
اب دنیا بھر کے ممالک میں رہنے والے شہری اپنے بنک اکاؤنٹس میں اپنی آمدن چھپانے میں مشکلات کا شکار ہوجائیں گے۔ برطانیہ میں چونکہ ستمبر2017ء سے ہی بنکوں کو اپنے اکاؤنٹ ہولڈرزکی تفصیل برطانیہ کے ٹیکس ڈیپارٹمنٹ کو دینا ہے اس لئے برطانوی بنک ایسے تمام’’ نان یوکے‘‘ شہریوں کو خط بھیج رہی ہے جو دوسرے ممالک میں بھی اپنے اکاؤنٹ رکھتے ہیں او ر ان سے معلومات اکٹھی کر رہی ہیں اس لئے ایسے یورپی شہری جو ایک سے زیادہ ممالک میں سوشل فوائد لے رہے ہیں اور اپنا ٹیکس فائل کرتے ہوئے اپنے اثاثے دوسرے ممالک میں چھپا رہے ہیں۔ یا دوسرے ممالک سے بھی تنخواہ یا الاؤنسز وصو ل کر رہے ہیں اور ان کا کوئی ذکر اپنے برطانوی ٹیکس ریٹرن میں نہیں کر رہے وہ اس سال سے مشکل کا شکار ہو سکتے ہیں اسی لئے برطانیہ میں رہنے والے اسپین اور اٹلی کے شہریوں کو بنک کی جانب سے لیٹر ملنا شروع ہو گئے ہیں جن میں بنک نے ان سے تفصیل پوچھی ہے کہ وہ کون سے ممالک میں ٹیکس سے وابستہ معاملات میں قانونی طور پر مقیم ہیں۔ یعنی وہ کون سے ملک میں رہ رہے ہیں کام کر رہے ہیں اور متعلقہ ممالک میں اپنا ٹیکس فائل کرنے کے پابند ہیں ۔ بنکوں کو قانونی طور پر اس سال ستمبر تک اپنی حکو متوں کے ٹیکس ڈیپارٹمنٹس کو ان صارفین کی ا کاؤنٹ تفصیل بھیجنا ہوگی اس کے بعد متلعقہ ممالک کے ٹیکس ڈیپارٹمنٹ کے لئے یہ اندازہ لگانا مشکل نہ ہوگا کہ متعلقہ صارف اپنے اثاثے چھپا رہا تھا یا کون کون سے مالی فوائد لے رہا تھا ۔
یورپ بھر میں رہنے والے شہریوں کے لئے بہتر یہی ہے کہ وہ کسی بھی قسم کے سوشل بینیفٹس وصول کرتے ہوئے’’روٹیاں گھی والی اوروہ بھی دو دو ‘‘سے اجتناب کریں کیونکہ رقم وصول کرتے ہوئے تو اتنی تکلیف نہیں ہوتی لیکن اگر جرمانہ واپس کرنا پڑ جائے تو بہت مسئلہ ہوسکتا ہے ۔ یورپی شہریوں سے یہی التماس کروں گا کہ پنجابی کا ایک شعر ہے کہ ایک پاسا رکھ ماہیا تے نہیں رہندے دو پاسے ‘‘ اس لئے دل سے فیصلہ کر لیں کہ آپ کون سے ملک میں رہ رہے ہیں اور وہیں اپنے ٹیکسز وصول کرتے ہوئے اپنے اثاثے ظاہر کریں
اسی طرح اٹلی میں رہنے والے شہریوں کو ایک نئی پریشانی کا سامنا کرنا پڑ گیا ہے ۔ اسی سال یکم جولائی سے اطالوی حکومت نے جرمانوں ، قرضوں اور ٹیکسز کی وصولی کا نیا حل ڈھونڈنکالاہے انہوں نے جرمانوں اور ٹیکس کی مد میں رقم وصول کرنے والے کے لئے ایک نیا نیا ادارہ بنایا ہے جس کو پچھلے سال 22اکتوبر 2016کے قانون نمبر225کے تحت لامحدود اختیارات دے دئیے ہیں جن میں سب سے خطرناک اختیار یہ ہے کہ اب اس ادارے کو اپنی رقم کی وصولی کے لئے کسی عدالت میں جانے کی ضرورت نہیں ۔ وہ کسی بھی شہری سے اس کے ذمہ واجب الادا جرمانہ ، قرضہ یا ٹیکس برائے راست اس کے بنک اکاؤنٹ سے لے سکے گا اسے یہ قانون اس بات کا اختیاردیتا ہے کہ وہ نہ تو عدالت جائے ، نہ کیس کرے اور نہ ہی کسی جج کی اجازت طلب کرے ۔ وہ برائے راست اس شہری کے بنک اکاوئنٹ سے متعلقہ جرمانہ کی رقم وصول کر لے گا۔
البتہ قانون میں یہ بات لکھی ہوئی ہے کہ یہ قانون صرف سنگل بنک اکاؤنٹ پر لاگو ہوگا اور اس کا اطلاق ایک سے زیادہ بندوں کے جوائنٹ اکاؤنٹ پر نہیں ہوگا ۔ نئے قانون کے تحت متعلقہ ادارے کو یہ اختیار بھی ہوگا کہ وہ اٹلی کے ورک اینڈ پنشن ڈیپارٹمنٹ سے ہر شہری کی تنخواہ یا پنشن کی معلومات لیکر بنک سے ہی اس کے تنخواہ یا پنشن میں سے ہی جرمانے یا قرضے کی رقم لے سکے گا اور اس سلسلے میں بھی اس کو کسی عدالتی کاروائی یا کسی جج سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہوگی ۔
اس قانون کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ متعلقہ ادارہ مقروض شہری کو ایک خط لکھے گا ۔ اس سے قرض یا جرمانے کا مطالبہ کرے گا ۔ اور اگر 60کے اندر اندر وہ شہری اپنا جرمانہ یا قرضہ ادا نہیں کرتا ۔ تو اس کو مزید ساٹھ دن کا موقع دے گا کہ وہ اپنا قرض ادا کر دے ۔ لیکن اگر پھر بھی وہ اپنا جرمانہ یا حکومت کے ذمہ واجب الادا رقم کی ادائیگی نہیں کرتا تو پھر اس ادارے کو اختیار ہو گا کہ وہ اس کی بنک اکاؤنٹ ، تنخواہ یا پنشن سے برائے راست اپنی رقم وصول کر سکے گا ۔ اسے کسی عدالت جانے کی یا کسی جج سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہو گی ۔یہ اداراہ شہریوں کو ساٹھ دن کے اندر ادائیگی کا کہے گا ۔اگر کوئی شہری اپنا جرمانہ، ٹیکس یا قرضہ ساٹھ دن میں ادا نہیں کرتا تو یہ ادارہ خودبخود بنک سے وہ رقم لے سکے گا اور اسے کسی عدالت یا جج سے اجازت لینے کی قانونی ضرورت نہیں ہوگی۔
البتہ اگر وہ شہری چاہے کہ اس کی رقم پر برائے راست حملہ نہ ہو تو اسے یہ اختیار ہوگا کہ وہ ساٹھ دن کے مدت ختم ہونے سے پہلے اس ادارے سے رابطہ کرلے اور ان سے آسان اقساط میں ادائیگی کا وعدہ کر لے تو پھر اگر وہ معاہدے کے مطابق اپنی پہلی قسط ادا کر دے تو اس کا اکاؤنٹ بلاک نہیں کیا جائے گا ۔ یاد رہے کہ اٹلی ویورپ میں کم وبیش سبھی ملازمین کی تنخواہ و پنشن بنک ا کاونٹ میں ہی آتی ہے اس لئے اب جرمانے و سرکاری قرضے سے بھاگنا ممکن نہیں ہوگا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *