جے آئی ٹی کے واجد ضیاء نے اپنے کزن کی جس کمپنی کو تحقیقات کا کام دیا اس کمپنی کی حقیقت کھل گئی

سپیشل رپورٹ

wajid zia

جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاء نے اپنے کزن اختر ریاض راجا کا ساتھ دیا اور انہیں انگلینڈ میں کام دلوایا اور ایسا کرنے کے لیے اس حقیقت کو مخفی رکھا گیا کہ ان کی لاء فرم بہت نقصانات سے دو چار رہی ہے اور کبھی کسی مالی یا فورینزک تفتیش میں شامل نہیں رہی۔
واجد ضیا کا کہنا ہے کہ اختر راجہ نے جے آئی ٹی کو 35 فیصد ڈسکاونٹ دیا لیکن انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ انہوں نے اپنے کزن کو ٹوٹل کتنی رقم ادا کی۔ جے آئی ٹی سے تعلق رکھنے والے ذرائع کے مطابق اختر راجہ کو ایسی دستاویز پاکستان بھیجنے پر جو پہلے ہی پبلک ڈومین میں موجود تھیں 49000 پاونڈ ادا کیے گئے۔اخترراجہ کے ایک فیملی ممبر کے مطابق انہوں نے پروفیسر احمد رفیق اختر کو برطانیہ کا دورہ کرنے کے لیے تمام سہولیات فراہم کیں اور انہیں ملک کے مختلف حصوں کی سیر کروائی۔ تب سے اختر راجہ ایک پیر کا کام کرتے ہوئے اپنے مریدوں کو تعویز دے رہے ہیں نہ کہ ایک پروفیشنل وکیل کا کام کر رہے ہیں۔ یہ بھی مصدقہ اطلاع ہے کہ اختر راجہ کی بیوی ثمینہ راجا اپنے خاوند کی طرح پی ٹی آئی کی ممبر ہیں اور باقاعدہ تنخواہ وصول کرتی ہیں لیکن دونوں نے اپنے فیس بک اکاونٹ اس وقت سے معطل کر رکھے ہیں جب سے اختر راجا کا نام میڈیا میں آیا۔
ایک تفتیش کے مطابق اختر راجہ نے بہت سی کمپنیاں قائم کیں اور پھر انہیں نقصان کی وجہ سے بند کر دیا گیا یا پھر ان کے اکاونٹس معطل کر دیے گئے۔ شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ اختر راجہ کی موجودہ لاء فرم کوئیسٹ سولیسیٹرز بھی نقصان میں چل رہی ہے اور اس کا باقاعدہ کوئی آفس بھی موجود نہیں ہے جو کو ہر پروفیشنل سولیسیٹر فرم کے پاس ہونا چاہیے۔
اختر راجہ نے کوئیسٹ لاء لمیٹڈ (08450611) 19 مارچ 2013 کو قائم کی جس کا پتہ مندرجہ ذیل تھا: 170 چرچ روڈ میشام، سرے، انگلینڈ سی آر 4، 3 بی ڈبلیو۔ یہ کمپنی آج بھی ایکٹو ہے اور واجد ضیا نے اسی کمپنی کا استعمال کیا ہے۔ گزشتہ کل کمپنیز ہاوس نے بتایا کہ اختر راجہ نے اپنی کمپنی کے اکاونٹس (ڈومینٹ) حالت میں 31 مارچ 2016 کو کمپنیز ہاوس کے سامنے پیش کیے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ واجد ضیا نے سپریم کورٹ کو یہ نہیں بتایا کہ وہ قومی خزانے کی رقم سے اپنے کزن کی ایک ڈورمنٹ کمپنی کا استعمال کر رہے ہیں۔اختر راجہ اس وقت واحد پریکٹیشنر سولیسیٹر کی حیثیت سے کوئیوسٹ سولیسسیٹرز میں کام کر رہے ہیں اور صرف ایک خاتون ان کے ساتھ کام کر رہی ہیں ۔ اس چیز کی تصدیق ان کی کمپنی ویب سائٹ http://quistlaw.com/سے کی جا سکتی ہے ۔ صاف ظاہر ہے کہ اخترراجہ کی فرم ایک اچھی پروفائل کی حامل فرم نہیں ہے جسے اہم فرائض کی نگرانی کا کام سونپا جا سکے۔

لاء سوسائٹی کی ویب سائٹ پر موجود پروفائل میں ایسی معلومات موجود ہیں جس سے پتا چلتا ہے کہ اس فرم میں ایک ہی شخص کام کرتا ہے اور یہ فرم ایک 'ون مین شو' ہے۔ http://solicitors.lawsociety.org.uk/?Pro=Trueاختر راجہ نے کوئیسٹ ہیومن رائٹس پراجیکٹ لمیٹڈ کا اندراج مندرجہ ذیل پتہ سے کروایا: 170 چرچ روڈ، میشام، سرے، انگلینڈ سی آر 4، 3 بی ڈبلیو۔ لیکن ایک تحقیق کے مطابق اس پتہ پر 49 کمپنیاں درج ہیں۔

انہوں نے کمپنیز ہاوس میں اپنی کمپنی کے اکاونٹس ٹوٹل سمال کمپنی اکاونٹس کے نام سے درج کروائے جو 30 ستمبر 2016 تک قائم کیے گئے تھے۔ بینک میں موجود کیش 7170 پاونڈ دکھائی گئی ہے لیکن کمپنی کے قرض دار کمپنی سے 8426 پاونڈ کی رقم کے طالب ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ کمپنی 717 پاونڈ خسارے میں ہے۔

https://beta.companieshouse.gov.uk/company/09761995

اختر راجہ نے اسی ایڈریس (12ویں فلور، دی براڈ گیٹ ٹاور، 20 پرائم روز سٹریٹ لندن ، یونائیٹڈ کنگ ڈم ای سی 2 اے 2 ای ڈبلیو) پر 2020 ویزاز لمیٹڈ کے نام سے ایک کمپنی رجسٹر کروائی جس ایڈریس پر کوئیسٹ سولیسیٹر نام کمپنی قائم ہے۔ ان کی کمپنی 13 اگست 2012 سے 22 مارچ 2016 تک ایکٹو رہی اور پھر بند کر دی گئی۔ انہوں نے اپنی کمپنی کے اکاونٹس کمپنیز ہاوس میں درج کروائے جو 31 اگست 2014 تک کھولے گئے تھے اور اب 'dorment' حالت میں تھے۔

کمپنیز ہاوس کے بارے میں معلومات کے لیے مندرجہ زیل لنک پر کلک کیجیے۔
https://beta.companieshouse.gov.uk/company/08450611
واجد ضیا نے پہلے سے ہی یہ بیان دیا ہے کہ" لاء فرم کی پرفارمنس سے متعلق انہوں نے کہا تھا کہ اس نے نہ صرف ہمیں قانونی معاونت فراہم کی ہے بلکہ فورینزک ایکسپرٹ رابرٹ ڈبلیو ریڈلی کی ماہرانہ رائے حاصل کرنے میں بھی ہمارے ساتھ پورا تعاون کیا ہے۔ " یہ دستاویز اس چیز کی تصدیق کرتی ہے کہ ان کے کزن اختر ریاض راجا نے نہ صرف جے آئی ٹی کو قانونی معاونت فراہم کی بلکہ فورینزک رپورٹ حاصل کرنے میں بھی ان کی مدد کی اور یہ رپورٹ ان کی تجویز کردہ کمپنیم سے حاصل کی گئی۔کمپنی کی ہاوس ویب سائٹ پر دی گئی تفصیلات کے مطابق فورینزک ڈاکومنٹ لیباریٹری لمیٹڈ میں صرف دو افراد کام کرتے ہیں اور یہ ایک ابتدائی نوعیت کی کمپنی دکھائی دیتی ہے۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ کمپنی اس قدر وسائل سے مالا مال نہیں ہے کہ اسے ڈاکومنٹس کی کریڈیبلٹی کو جانچنے کے لیے اور ایک اچھی اور مناسب فورینزک رپورٹ تیار کرنے کےلیے استعمال کیا جا سکے ۔یہ بات قابل توجہ ہے کہ ان کی ویب سائٹ کے مطابق ان کی کمپنی میں لیبارٹری کے لیے صرف ایک کمرہ منتخب کیا گیا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *