بہت زیادہ جنسی عمل کرنے سے انسان ایسا ہوجاتا ہے،نئی سائنسی تحقیق نے چونکا دیا

Image result for sad couple

ایک عام تاثر پایا جاتا ہے کہ ازدواجی فریضے کی بکثرت ادائیگی سے انسان زیادہ خوش رہتا ہے۔ ماضی میں کئی تحقیقات سے بھی یہ ثابت ہو چکا ہے کہ خوشی اور جنسی تسکین کا آپس میں گہرا تعلق ہے مگر امریکہ کی کارنیگی میلن یونیورسٹی کے ماہرین نے اس تاثر اور تمام سابق تحقیقات کو غلط ثابت کر دیا ہے۔ برطانوی اخبار ”دی انڈیپنڈنٹ “ کی رپورٹ کے مطابق سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ”جنسی لذت کا زیادہ حصول آدمی کو خوشی نہیں دیتا بلکہ الٹاغمگین کر دیتا ہے۔“ سائنسدانوں نے اپنی اس تحقیق کے لیے کچھ شادی شدہ جوڑوں کے جنسی معمولات اور ان کی خوشی کے معیار کو جانچا اور پھر انہیں دو گروپوں میں تقسیم کر دیا۔ ان میں سے ایک گروپ کو اپنے جنسی عمل کو بڑھانے کو کہا گیا جبکہ دوسرے کو اپنے سابقہ معمول پر کاربند رہنے کو کہہ دیا گیا۔ کچھ عرصہ بعد دونوں گروپوں کی خوشی کا معیار پھر جانچا گیا تو پتا چلا کہ زیادہ جنسی عمل میں مصروف رہنے والے گروپ کے افراد کا خوشی کا لیول کم ہو چکا تھا جبکہ دوسرے گروپ کا لیول اسی جگہ برقرار تھا۔ تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ پروفیسر جارج لیوینسٹین کا کہنا تھا کہ ”تمام سابق تحقیقات میں ماہرین نے ایک پہلو کو نظرانداز کر دیا تھا۔ انہوں نے یہ جاننے کی کوشش نہیں کی کہ خوشی اور جنسی لذت میں اصل محرک کیا ہے اور اس کا نتیجہ کون سا ہے، یعنی کیا خوشی انسان کو جنسی عمل کی طرف مائل کرتی ہے یا جنسی عمل انسان کو خوشی دیتا ہے؟ جنسی تسکین کے علاوہ بھی کئی ایسے عوامل ہیں جو ہماری خوشی کا تعین کرتے ہیں، ان میں آمدنی، رہائش کی جگہ اور عمروغیرہ شامل ہیں۔جس طرح یہ بات قرین قیاس ہے کہ جنسی لذت خوشی پر اچھے اثرات مرتب کرتی ہے، اسی طرح یہ بات بھی قرین قیاس ہے کہ خوشی جنسی عمل کو متاثر کرتی ہے۔“

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *