اینکر پرسن بننے کے گُر

yasir pirzada

میں پاکستانی میڈیا کے اینکر پرسنز کا بڑا مداح ہوں، خاص طور سے اُن لوگو ں کاجو جینوئن صحافی ہیں اور برسوں کی ریاضت کے بعد جنہوں نے یہ مقام حاصل کیا ہے ۔ بطور اینکر پرسن کیمرے کے سامنے لائیوکسی بھی موضوع پرفی البدیہ گفتگو کرنا کوئی آسان کام نہیں ، خاص طور سے اگر آپ کو روزانہ یہ کام کرناپڑے ۔بہت سے میڈیا اور اینکر پرسنز سے میری نیاز مندی ہے اور اکثر میں اُن کی زبانی یہ سنتا رہتا ہوں کہ کس طرح چندلوگ اپنے غیر پیشہ وارانہ رویے کی وجہ سے پاکستانی میڈیا کی بدنامی کا باعث بنتے ہیں ۔ یہ کالم ایسے ہی اینکر پرسنز کے بارے میں ہے ۔
جیسا کہ آپ پچھلے ابواب میں پڑھ چکے ہیں کہ ایک اچھا کالم نگار بننے کے لئے کس قسم کی خصوصیات کا ہونا ضروری ہے ، اب ہم آپ کو ایک کامیاب اینکر پرسن بننے کا طریقہ بتائیں گے ۔سب سے پہلے بازار سے ایک کلو واشنگ پاؤڈر منگوائیں ، اسے ایک پانی سے بھرے ٹب میں ڈال دیں، خیال رہے کہ ٹب کا سائز اتنا ضرور ہو کہ آپ اس میں آرام سے بیٹھ کر خود کو تیرتا ہوا محسوس کریں ، اگر ایسا ٹب گھر میں نہ ملے تو کسی کیٹرنگ سروس والے سے عاریتاً مانگ لیں ، اُن کے پاس برتن دھونے کے لئے ایسے ٹب موجود ہوتے ہیں ۔ٹب میں واشنگ پاؤڈر ڈالنے کے بعد اُس میں بیٹھ جائیں اور اپنے جسم سے سارے داغ اچھی طرح رگڑ کر دھو ڈالیں۔ یقیناًاس عمل میں کچھ تکلیف محسوس ہوگی مگرفائدہ اس کا یہ ہوگا کہ تھوڑی ہی دیر بعد آپ کسی نومولود کی طرح اُجلے اور بے داغ بن کر باہر نکلیں گے ، اینکر پرسن بننے کے لئے یہ ایک بنیادی شرط ہے ۔ضروری نوٹ:کچھ لوگ اینکر پرسن بننے کی خوشی میں جذباتی ہو جاتے ہیں ،اُن کے لئے ہدایت ہے کہ ٹب سے نکلنے کے بعد کپڑے پہننا مت بھولیں ۔اب آئیے اُن ضرو ری ٹپس کی طرف جو اینکر پرسن بننے میں آپ کی مدد کریں گی۔
ٍ جن دنوں الیکٹرانک میڈیا نیا نیا جوان ہو رہا تھا اُن دنوں مجھے بھی اینکر بننے کا شوق چرایا، ایک نئے ٹی وی چینل نے اشتہار دیا کہ انہیں اینکر پرسنز کی ضرورت ہے ، خواہش مند نوجوان انٹر ویو کے لئے فلاں تاریخ کو حاضر ہو جائیں ، شرائط چونکہ خواہش مندی اور نوجوانی کی تھیں اور میں دونوں پر پورا اترتا تھا سو دی گئی تاریخ پر انٹر ویو کے لئے چلا گیا۔پینل میں بیٹھے اصحاب نے تنقیدی نظروں سے میرا جائزہ لیا ، اُن دنوں میں قد آدم گالی ہوا کرتا تھا ، پھر اچانک ایک صاحب بغیر سلام دعا کے بولے کہ سمجھئے آپ اینکر ہیں اور کیمرہ آن ہے تو بتائیے کیسے پروگرام کریں گے اور ساتھ ہی چٹکی بجا دی جو گویا ’’لائیو‘‘ ہونے کا اشارہ تھا ۔میرے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے ، بدقت تمام میں نے حواس مجتمع کئے اور بڑی مشکل سے چند فقرے بولے جو عموماً پروگرا م کے شروع میں میزبان بولتا ہے ۔ یہ ایک نہایت احمقانہ پرفار منس تھی اور اِس کا وہی نتیجہ نکلا جو نکلنا چاہئے تھا۔اب چونکہ میں اِس عمل سے گذر کر کندن بن چکا ہوں سو نئے آنے والوں کو اینکر بننے کے ایسے شاندار مشورے دے سکتا ہوں جو کسی کتاب میں نہیں ملیں گے۔ لہذاآپ اگر اینکر بننا چاہتے ہیں تواِن مشوروں کا تعویذ بنا کر گلے میں ڈال لیں اور روزانہ رات کو آدھ پاؤ دودھ میں سونف اور دار چینی کے ساتھ ڈبو کر پئیں ، انشااللہ ایک ہفتے میں چینل کا مالک آپ کے قدموں میں ہوگا۔
۱۔ سب سے پہلے تو اپنے ذہن سے یہ مغالطہ دور کر لیں کہ اینکر بننے کے لئے صحافی ہو نا ضروری ہے ، یہ فرسودہ بات ہے، اس کے لئے صرف بندہ ہوناضروری ہے( بعض صورتوں میں تو اُس کی ضرورت بھی نہیں لیکن یہ ذکر فی الحال مناسب نہیں) ۔اگرآ پ نے ایم اے صحافت ، جسے آ ج کل با رعب بنانے کے لئے ماس کمیونیکیشن کہتے ہیں ، کر ہی لیاہے تو کوئی مضائقہ نہیں ، فوراً بغیر تنخواہ کے کوئی ایسا چینل جوائن کر لیں جس کا مالک پارٹ ٹائم گیزر ٹھیک کرنے کا کام بھی جانتا ہو، ایسے چینل میں آپ کو اینکر پرسن کے طور پر جلد ہی پروگرام مل جائے گا ۔ بے صبری کا مظاہرہ بالکل نہ کریں اور اُس دن کا انتظار کریں جس دن اُس چینل کا کوئی اینکرفاقوں سے تنگ آکر چینل چھوڑ جائے ۔ اُس روز آپ نے چینل کے مالک کو یہ باور کروانا ہے کہ نیا بند ہ رکھنے کی بجائے آپ کے بے پناہ ٹیلنٹ سے کام لے، ہو سکے تو اُس دن ایسی دوائیں کھا کر جائیں کہ آپ کے بدن سے شعائیں نکلتی محسوس ہوں ، خدا نے چاہا تو کام بن جائے گا اور آپ کو بطور اینکر پرسن اپنے کیرئیر کا پہلا پروگرام کرنے کا موقع مل جائے گا۔اب میں ایک نہایت اہم بات بتانے لگا ہوں ، اسے دھیان سے سنیں ۔جونہی آ پ کو پروگرا م ملے اُس میں چینل کے مالک کو اپنا مستقل تجزیہ نگار بنا لیں، آپ کا پروگرام کبھی بند ہو گا اور نہ آپ کو تبدیل کیا جائے گا۔اِس بات کی پرواہ بالکل نہ کریں کہ چینل کے مالک کو کسی بات کی الف بے بھی معلوم ہے یانہیں ، آپ نے اُس کی ہر بات پر یوں سر ہلانا ہے گویا آپ کے سامنے ہنری کسنجر بیٹھا ہے ۔
۲۔ جب آپ چھوٹے چینل پر کام سیکھ جائیں تو فوراً ادھر ادھر نگاہ دوڑائیں او ر کسی ایسے میڈیم چینل کو جوائن کر لیں جہاں سے بے شک آپ کو تنخواہ نہ ملے مگر آپ کے نام کے ساتھ سینئر اینکر پرسن لگ جائے اور آپ لوگو ں کو یہ بتائیں کہ آپ کو ’’توڑ ‘‘ کر لاکھوں کے پیکج پر اِس چینل میں لایا گیا ہے ۔ اب آپ کا حلیہ اور چال ڈھا ل ایک سینئر اینکر کی ہونی چاہیے ۔سب سے پہلے تو فوراً ایک مہنگا سا فو ن خریدیں اور مشہور کردیں کہ یہ چینل کی طرف سے آپ کے پیکج کا حصہ ہے ، پروگرام میں ہمیشہ سوٹ پہن کر آئیں، اس کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اپنے علاقے کے درزی سے رابطہ کرکے روز ایک نیا سوٹ پہنیں اور پروگرام کے بعد واپس کر دیں ، بدلے میں پروگرا م کے آخر میں ’’وارڈ روب‘‘ میں اس کا نام لکھوا دیں ،بس خیال رہے کہ ٹائی ٹھیک طریقے سے باندھیں سوٹ مانگے کا نہ لگے ۔ چینل کے مالک کا منت ترلا کرکے ایک شیریں آواز لڑکی کو بطور اسسٹنٹ رکھ لیں تاکہ وہ آپ کے پروگرام کے لئے مہمانوں کو فون کرکے بلائے۔یہ بہت ضروری ہے بصورت دیگر آپ کو مہمان ارینج کرنے کی مصیبت خود اٹھانی پڑے گی اور سینئر اینکر یہ کام نہیں کرتے
۔ یہ انتظامات کرنے کے بعد اب ہم پروگرام کے مواد کی طرف آتے ہیں ۔ اس چینل پر آپ کا کام نہ تو لوگوں کو لڑانا ہے اور نہ ہی مبلغ کے انداز میں کوئی درس دینا ، یہ مواقع بعد میں بہت ملیں گے ۔ اِس چینل پر آپ نے صرف وہ کام کرنے ہیں جو کسی بڑے یا معقول چینل پر ممکن نہیں ، مثلاً پولیس سمیت کسی گھر پر دھاوا بول دیں اور گھر کے مالک پر شبہ ظاہر کریں کہ وہ ہم جنس پرست ہے یا خواجہ سرا کے بھیس میں مرد ہے ، اُس کی الماری کی تلاشی لیں ، کپڑے کھنگالیں ، مائیک اس کے منہ کے آگے لے جا کر پوچھیں کہ کہیں وہ ہم جنس پرستی کا اڈہ تو نہیں چلاتا ، اسے کہیں کہ ثابت کرو تم خواجہ سرا ہو اور اس سے پہلے کہ وہ کچھ بھی ثابت کرنے کی کوشش کرے فوراً مائیک ہٹا کر ’’فتوی ‘‘صادر کردیں کہ دیکھا ناظرین اس شہر میں فحاشی کا اڈا چلایا جا رہا ہے اور انتظامیہ سو رہی ہے ۔اگر یہ فارمیٹ پسند نہیں اور ٹاک شو کرنا ہی کرنا مقصود ہو تو اپنے پروگرام میں مسکین قسم کے مہمان بلائیں جیسے کوئی استاد ، انجینئر یا کوئی شریف قسم کا ڈاکٹر اور پھر اُن کی ماں بہن ایک کردیں۔اس تکنیک کا ڈسا پانی نہیں مانگے گا اور آپ کو بہت جلد کسی بڑے چینل میں باقاعدہ تنخواہ والی نوکری مل جائے گی۔
مبارک ہو اب آپ باقاعدہ اینکر بن چکے ہیں ، سارے گُر سیکھ چکے ہیں ، اب آپ کو مزید کچھ سکھانا سورج کو انرجی سیور دکھانے کے مترادف ہے ۔ پھر بھی دو تین باتیں عرض کئے دیتا ہوں۔ کوشش کرکے اپنے سر پر ایک ایسا ریڈار لگو لیں جو بڑے لوگوں کے درمیان ہونے والی ون ٹو ون میٹنگ کی خبر لا دے ، اگر یہ ممکن نہ ہو تو پھر آپ کو تعلیم ، توانائی ، انفراسٹرکچر، خارجہ و داخلہ پالیسی ، سیکورٹی، دفاعی امور ،مذہبی معاملات اور ماحولیات سمیت ہر قسم کے شعبے کا ماہر بننے کی اداکاری کرنے پڑے گی اور اگر یہ کام بھی مشکل لگے تو سب سے آسان نسخہ بتائے دیتا ہوں، اپنے ہر پروگرام میں sweeping statementsدینے کی عادت اپنا لیں ، جیسے کہ ملک میں کہیں قانون نہیں ، اندھیر نگری ہے ، سب لوٹ مار میں مصروف ہیں ، پورے ملک میں آگ لگی ہے ، یہ بیس کروڑ بھوکے ننگے لوگوں کا ملک ہے۔۔۔۔جی کیا فرمایا ؟ سمجھ گئے ! گڈ،اب آپ ایک ایسے اینکر ہیں جو واشنگ پاؤڈر سے دھلے ہیں ، دامن پہ کوئی چھینٹ نہ خنجر پہ کوئی داغ!

کالم کی دُم: اس کالم سے اگر کسی جینوئن اور اصلی اینکر پرسن کی دل آزاری ہوئی تو میں سمجھوں گا میری ساری محنت اکارت گئی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *