"استشراق اور شریعت" کا خلاصہ

Raja Qasim Mehmood

کتاب محل لاہور نے ڈاکٹر اکرم رانا کے پوسٹ ڈاکٹریت آرٹیکلز کا اردو ترجمہ "استشراق اور شریعت" کے نام سے شائع کیا ھے۔اس کا پیش لفظ حافظ نعیم صاحب نے لکھا ھے اس میں انھوں نے انتہائی اختصار سے استشراق کی تحریک کی تاریخ کا جائزہ لیا ھے۔جو لوگ اس موضوع پر علم رکھتے ھیں وہ تو تاریخ سے واقف ھیں لیکن میرا علم اس میدان میں صفر سے بھی پیچھے ھے اس لیے حافظ صاحب کے پیش لفظ سے کچھ اہم باتیں جو میں نے نوٹ کی ھیں ان کو بیان کر رہا ھوں اور اس سلسلے میں وہ لوگ جو جاننا چاھتے ھیں ان کو کچھ واقفیت حاصل ھو جائے۔
اسلام اور عیسائیت کا تعارف میدان جنگ میں ھوا ھے،جس کی وجہ سے شروع ہی سے عیسائی مبلغین کا رویہ اسلام کے بارے میں منفی رہا،جس کے نتیجے میں دونوں مذاہب میں اختلافات کی خلیج وسیع ھو گئی،صلیبی جنگیں بھی اس سلسلے کی ایک کڑی ھیں۔عیسائی مبلغین،راہبوں اور قصہ گو پادریوں نے آپ ﷺ کی ذات پاک پر گھٹیا حملے کیے اور اس قدر دروغ گوئی سے کام لیا گیا کہ جھوٹ بھی شرمندہ ھو جائے اس میں سب سے نمایاں کردار جان آف دمشق کا تھا جو کہ آٹھویں صدی عیسوی کا ایک شخص ھے۔اس نے کہا کہ اسلام میں آپ ﷺ کی پوجا کی جاتی ھے،نیز اس نے آپ ﷺ کی ازدواجی زندگی پر بھی مغلظات بکیں،یہی باتیں بعد کے مغربی سکالرز کی تحقیق کا موضوع بن گئی۔اسکے بعد صلیبی جنگوں کا زمانہ آیا جس میں عسکری میدان میں یورپ کو اسلام سے شکست کھانی پڑھی۔اس وقت مسلمان نا صرف عسکری بلکہ علمی معاشرتی ،سماجی و ثقافتی لحاظ سے بھی یورپ پر برتری رکھتے تھے۔مساوات اور عدل و انصاف کے جو اصول مسلمانوں کے ہاں رائج تھے یورپی معاشرہ اس سے محروم تھا۔ عسکری میدان میں شکست کے بعد مغرب نے سنجیدگی سے اسلام سے نبٹنے کا فیصلہ کیا جن میں مختلف تجاویز پر غور کیا گیا جیسے کے عیسائیت کی تبلیغ کے لیے اس کے فلسفے پر مکمل عبور رکھنا ۔قرآن پاک کا دقیق مطالعہ کرکے اس کی خامیوں کا تلاش کرنا اور پھر ان پر عیسائی فلسفے کی روشنی میں بہتر نظریہ پیش کرنا تاکہ لوگ اسلام سے بدظن ھو کر عیسائیت میں داخل ھوجائیں ۔لہذا فیصلہ کیا گیا کہ مسلمانوں کا مقابلہ اب عسکری کی بجائے فکری میدان میں کیا جائے تاکہ اسلام پر تنقید کا راستہ کھولا جا سکے اس کے لیے اسلام کا مطالعہ بہت ضروری تھا اور دوسری طرف مسلم سلطنت میں کمزوریاں آنا شروع ھوگئیں تھیں۔ جو کہ استشراقی تحریک کے فروغ میں مذید معاون ثابت ھوئی۔اب اسلام ،آپ ﷺ کی ذات پاک،قرآن و حدیث اور مسلم تاریخ و تہذیب مستشرقین کی توجہ کا مرکز ٹھہری جس میں مصادر اسلامی کو مشکوک و لغو قرار دیا گیا۔آپ ﷺ کی نبوت کو بھی مشکوک بنایا گیا اور اس کو یہودیت و عیسائیت سے ماخوذ قرار دیا گیا،۔آپ ﷺ کے غزوات و سرایا کو بھی ہدف تنقید بنایا گیا اور کہا گیا کہ ان کے مقاصد معاشی تھے،عہد وسطی کا یورپ ان ہی خیالات میں کھویا رہا پھر سہولویں صدی سے لے کر آٹھارویں صدی تک عیسائی دنیا کے خیالات میں بتدریج آپ ﷺ کی بابت بہتری آئی اور پہلے کی نسبت انصاف پسندی سے کام لیا گیا اور آپ ﷺ کی تعریف و مدح میں بخل سے کام نہیں لیا گیا نیز اس دوران ان کے کام میں معروضیت نظر آتی ھے مگر اس سے پہلے کے پھیلائی ھوئی منفیت و تعصب نے کئی محت مند اذہان جو کہ غیر متعصب ھو کر لکھنا چاھتے تھے پر بھی اپنے اثرات قائم رکھے اور وہ لوگ بھی جب موقع ملتا اپنے تعصب کا اظہار ضرور کرتے۔
مستشرقین کی تاریخ صدیوں پر مشتمل ھے جان آف دمشق سے لے کر ولیم میور تک اور آج تک ایک لمبی فہرست ھے جس میں لوگوں نے اپنی صلاحیتیں اسلام اور سیرت طیبہ ﷺ کے موضوع پر صرف کیں۔مسیحی دنیا اسلام اور آپ ﷺ کی مخالفت میں اس حد تک اندھی ھو گئی تھی اس نے اسلام اور آپ ﷺ کی سیرت طیبہ کے بارئے میں بنیادی ماخذ جاننے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی۔اس سلسے میں ہر رطب و یابس جس سے ان کا مقصد پورا ھوتا تھا انھوں نے قبول کیا اس سلسلے میں مستند،غیر مستند،بنیادی و ثانوی،ناقص و غیر ناقص میں کوئی فرق نہیں برتا گیا اگر حدیث یا آپ ﷺ کے بارئے میں علامہ الدمیری کی کتاب "کتاب الحیوان" سے کوئی بات اپنے مطلب کی ملتی وہ قبول کی جاتی لیکن اگر اس کے برعکس بات امام مالک رحمتہ اللہ علیہ کی موطاؑ میں ملتی تو اس کو رد کر دیا جاتا۔ماخذ کی اس کمزوری پر بھی متاخر مستشرقین نے توجہ دلائی اور ان کی تحقیق کی کمزوری کا اعتراف کیا ۔مستشرقین میں ایسے لوگ بھی ھیں جنہوں نے خالص علم کی خاطر نیک نیتی سے اپنی زندگیاں تحقیق کے میدان میں صرف کیں ان کی علمی خدمات کا اعتراف نہ کرنا ان کے ساتھ زیادتی ھو گئی اور ان ہی مستشرقین کی وجہ سے مسلمانوں کے کئی علمی مصادر محفوظ ھیں اور اب بھی مسلمانوں نے جو کچھ بھی اس سلسے میں کیا ھے ان مستشرقین کا مقابلہ مقدار اور معیار کے مجموعی میدان میں نہیں کرسکتے۔اور انھیں تصنیفات کی اشاعت سے اسلام کی مخالفت میں کمی آئی۔پیر کرم شاہ نے ضیاء النبی میں ان مصادر کی فہرست بھی دی ھے جو کہ مستشرقین کے ہاتھوں تحقیق وترتیب کے بعد شائع ھوئے۔

مولانا شبلی نعمانی نے بھی مستشرقین کی خدمات کا اعتراف کیا ھے۔پیر کرم شاہ نے تو مستشرقین کے میلانات و رجحانات کے بارے ان کو یوں تقسیم کیا ھے۔1 خالص علم کے شیدائی 2۔متعصب یہودی اور عیسائی مستشرقین 3. ملحد مستشرقین 4. علم کو پیشہ بنانے والے 5.انصاف پسند مستشرقین اور 6. وہ لوگ جو مستشرقین تھے لیکن حق کا نور دیکھ کر اس کے حلقے میں آ گئے۔
یہ حافظ نعیم صاحب کے پیش لفظ کا خلاصہ ھے اس سے اسشراق کو تاریخ اور ان کے اسلام اور آپ ﷺ کی بابت رویہ اور اس میں آنے والی تبدیلی اور پھر ان کی اسلامی مصادر کے بارے میں تحقیقات کا پتہ چلتا ھے امید ھے جیسے جیسے مغرب اسلام کے بنیادی عقائد، قرآن مجید اور آپ ﷺ کے لیے حقیقت پسندانہ رویہ اختیار کرتا جائے گا ان پر آپ ﷺ کی عظمت اور اسلام کی حقانیت واضح ھوتی جائے گی اور ایک بہترین علمی مواد بھی ان سے میسر ھوگا۔مسلم دنیا کے اہل علم کو بھی اس بارئے میں خصوصی توجہ کی ضرورت ھے تاکہ اگر کوئی بھی اعتراض چاھے وہ علمی ھو یا بد نیتی پر مبنی ھو اس کا تحقیقی اور تفصیلی جواب دیا جا سکے
ڈاکٹر اکرام رانا صاحب کا پہلا مقالہ "استشراقیت:نوعیت اور ارتقاء" کے نام سے ھے۔استشراقیت کی اصطلاح کے بارئے میں کہتے ھیں کہ یہ مبہم اور غیر واضح ھے،فلسطینی نژاد امریکی محقق ایڈورڈ سعید نے ایک کتاب لکھی جو کہ بے شمار مصنفین کی توجہ کا مرکز بنی۔ایسے ہی برنارڈ لئیوس اس کے ناقابل فراموش ناقدین میں سے ھے۔آگے ڈاکٹر صاحب کہتے ھیں کہ استشراقیت کی اصطلاح تین مختلف مفاہیم میں استعمال ھوتی ھے اول تعلیمی مفہوم بمعنی مطالعہ مشرقیت ،دوسرا مشرقیت اور مغربیت میں امتیاز پر مبنی انداز فکر اور تیسرا مشرقیت کی تشریح میں سماجی رویہ۔ڈاکٹر اکرام رانا نے اس کے علمی پہلو پر بات کی ھے ۔اس حوالے سے وہ بتاتے ھیں کہ 1973 میں پیرس میں مستشرقین کی ایک کانگریس کے دوران مستشرقین کی اصطلاح کو ختم کرنے کی بات کی گئی مگر یہ علمی اور عملی طور پر اب بھی موجود ھیں۔ مغربی مستشرقین نے عربی اور اسلامی تعلیمات کو اپنی توجہ کا مرکز بنایا اور اس میں کئی گراں قدر تصانیف بھی منظر عام پر آئیں۔کئی نسلوں نے اس پر غیر معمولی محنت کی ھے اور اس کے نتائج بھی ان کو ملے ھیں۔مسلسل کام کی وجہ سے استشراقیت ایک نظام علم بن گیا۔ایڈورڈ سعید کے مطابق استشراقیت کا آغاز 18ویں صدی سے شروع ھوا جبکہ ڈاکٹر اکرام رانا صاحب کہتے ھیں کے استشراقیت کا آغاز ساتویں صدی عیسوی میں شروع ھو گیا تھا جب اسلام عرب سے نکل کر باقی دنیا میں پھیلنا شروع ھو گیا تھا تب عیسائیت نے اسے اپنے لیے خطرہ محسوس کرتے ھوئے اس کا تدارک کرنے کی کوشش کی۔امریکی فلسفی نارمن ڈئنیل کہتے ھیں کہ عیسائی اسلام کی کچھ باتیں مانتے تھے لیکن فقط اتنی جتنی وہ ماننا چاھتے تھے ویسے مجموعی طور پر اسلام سے اپنی ناپسندیدگی وہ چھپا نہیں پائے اس لیے جب بھی عیسائیوں نے اسلام کو پیش کیا حلیہ بگاڑ کر پیش کیا۔از منہ وسطیٰ میں عیسائی اسلام سے اس درجہ لاعلم تھے کہ انھوں نے کہا کہ آپ ﷺ مسلمانوں کے معبود ھیں اور یہ نظریہ 1700ء تک مبہم انداز میں موجود رہا۔ جان آف دمشق جو کہ بنو امیہ کی حکومت میں سرکاری ملازم تھا اس نے اسلام کا مطالعہ کیا،پھر اس نے ملازمت ترک کی اور فلسطین کے ایک گرجے میں بیٹھ کر اسلام مخالف کتابیں لکھنے لگا اس کی وفات 749 عیسوی کی ھے اور اسی ہی کی کوششوں سے استشراق کی تحریک نے جنم لیا۔ فرانسیسی مورخ میکسم روڈنسن اس بات کا اعتراف کرتے ھیں کہ 14 ویں صدی عیسوی تک لاطینی مصنفین نے آپ ﷺ کی حیات طیبہ پر درست تفصیلات کو نظر انداز کیا۔اس سلسلے میں پیٹر جو کہ اسی زمانے کا شخص تھا اس نے اسلام کے بارئے میں ٹھوس شواہد اکٹھے کرکے ان کی اشاعت کی پھر 1143 عیسوی میں رابرٹ کیتانی نے قرآن پاک کا لاطینی زبان میں مکمل ترجمہ کیا اور اس کے پیچھے غرض یہ تھی کہ قرآن کریم کی خامیوں کو تلاش کرکے عوام کے سامنے لایا جائے تاکہ لوگ اسلام سے تائب ھو کر عیسائیت کی طرف آئیں مگر یہ ان کے مقاصد کے حصول میں ناکام رہا۔بارہویں صدی عیسوی میں ایک محقق ولیم نے قدرے غیر جانبداری سے کام کیا اور اس نے کہا کہ مسلمان آپ ﷺ کو معبود نہیں بلکہ نبی مانتے ھیں۔اس یہ پتہ چلتا ھے کہ اس عرصہ میں یورپ میں اسلام کے حوالے سے منطقی نظریات بھی سامنے آ رہے تھے۔آپ ﷺ اور قرآن پاک کے بعد ان لوگوں نے مسلمان اہل فلسفہ جیسے کہ ابن رشد،امام غزالی،بو علی سینا اور الفارابی کو اپنی تحقیق کا موضوع بنایا۔اس وقت ان لوگوں کے مطابق اسلام بہت محدود اور آہستگی سے پھیل رہا تھا تو اس پر کئی عیسائی علماء اسلام کے مکمل فنا ھونے کا انتظار کرنے لگے۔ پھر کچھ عرصے بعد 1312ء ویانا میں عیسائی علماء کا ایک اجلاس ھوا اور اس میں کئی اہم فیصلے کیے گئے جن میں عربی زبان سیکھنے کی منظوری تھی تاکہ مسلمانوں سے براہ راست بات چیت کی جا سکے اور ان تک کتھولک عقیدے کو پہنچایا جا سکے اور اسلامی عقاید کی تردید کی جا سکے۔پھر پندرہویں صدی میں Segovia کے جان نے قرآن پاک کا نیا ترجمہ کیا اس نے پہلے ترجمے میں کئی خامیاں دیکھیں جس کو اس میں دور کرنے کی کوشش کی تھی اب ان کا ایک مقصد اور بھی تھا کہ یہ ثابت کیا جائے کے قرآن اللہ کا کلام ھے کہ نہیں ۔پھر جب 1586 میں چھاپہ خانہ کی ایجاد ھوئی تو ان لوگوں کی تحقیقات عربی زبان میں چھپیں اور ساتھ ساتھ مسلمانوں کی کتابیں جو سائنس کے موضاعات ک پر تھیں مغرب پاس پہنچ گئیں۔روڈنسن کے مطابق یہ مواد ایک تبدیلی لایا اسلام کو اب مسحیت مخالف نہیں سمجھا جاتا تھا یوں اسلام کے بارے میں معروضی طرز فکر کو فروغ ملا۔اب کئی لوگوں نے تسلیم کرنا شروع کردیا کہ آپ ﷺ ایک نبی تھے اور مسلمانوں کی رواداری کی بھی تعریف کی گئی۔G.Sale نے قرآن کا انگریزی ترجمہ کیا جو کہ روایتی اسشراقیت کی بنیاد سمجھا جاتا ھے ۔آٹھارویں صدی میں سلویسٹر ڈیساسی Silvester Desacy جو کہ فرانسیسی تھے کا نام انتہائی قابل ذکر ھے اس یورپ میں "جدید اسلامی تعلیمات" کا بانی کہا جاتا ھے یہ زیرک،نکتہ سنج اور ماہر زبان تھا یہ نتائج کے حوالے سے بہت محتاط رہتا تھا اور ایسی کوئی چیز پیش نہیں کرتا تھا جو متن میں واضح طور پر موجود نا ھو۔اسلام پر اب تک ھونے والا کام بے ربط اور غیرمنضبط تھا اس کام کو منظم و مرتب سلویسٹر ڈیساسی نے کیا۔ استشراقیت کی تاریخ میں Renan بھی ایک قابل ذکر شخصیت ھے اس نے کہا کہ اسلام جدید دور سے ہم آہنگ ھونے کی صلاحیت نہیں رکھتا مگر یہ نظریہ سید جمال الدین افغانی کے رد کے بعد قبولیت عامہ حاصل نا کر سکا۔ایک اور اہم نام ولیم میور کا ھے جس نے آپ ﷺ کی حیات طیبہ پر کتاب لکھی جس کو کئی سال تک یورپ میں معیار تسلیم کیا گیا اس میں ولیم میور نے کہا کہ اسلام نے اپنی تعلیمات عیسائیت و یہودیت سے مستعار لی ھیں اور ان کو نئی شکل میں ڈھالا ھے نیز اس نے آپ ﷺ کے نسب اور دیگر معاملات پر سولات اٹھائے جن کا جواب سرسیداحمد خان نے خطبات احمدیہ میں دیا ایسے ہی کارلائل نے آپ ﷺ کو نبی تسلیم کیا مگر نبی کی ایک اپنی تعریف وضع کی ۔ایسے ہی مغرب میں یہودی گولڈ زیہر کو اسلامی قانون پر اتھارٹی سمجھا جاتا ھے گولڈ زہیر سلویسٹر دیساسی کا ہم سبق تھا اس کے اسلامی قانون پر نظریات کو Joseph Schacht نے پھیلایا پھر ان تحریروں کو سکاٹ لیںڈ کے جان برٹن نے اپنی کتاب The Collection of Quran میں آگے بڑھایا اس نے احادیث اور ناسخ اور منسوخ کے فلسفے کے مطالعے کے بعد یہ دعوی کیا کہ معاذاللہ قرآن ایک نامکمل کتاب ھے کیونکہ اس میں چند آیات سامل نہیں ھیں۔نیز اس نے احادیث کی استناد کو بھی مشکوک قرار دیا اور ایک اور مستشرق Guillaume نے بھی اس نظریے کا پرچار کیا اور کہا کہ احادیث کا زیادہ تر متن یہودیت و عیسائیت سے مستعار لیا گیا ھے احادیث کے بارے میں یہی نظریات عیسائی مبلغ D.B Macdonald اور Gibb کے ھیں گب نے قرآن کو آپ ﷺ کی گفتگو قرار دیا ۔امریکہ میں بھی گب اور میکڈونلڈ کے خیالات کو پزیرائی ملی۔امریکی مستشرقین میں برنارڈ لئیوس کا نام قابل ذکر ھے اس نے بھی یورپی تعصب کو بیان کیا کہ اسلام عیسائیت و یہودیت سے متاثر ھے ۔ڈاکٹر صاحب پھر آخر میں اس بحث پر یہ نتیجہ نکالتے ھیں کہ مغربی علما نے پہلے آپ ﷺ اور قرآن کو موضوع مطالعہ بنایا،پھر مسلم فلسفیوں کے افکار کا مطالعہ کیا پھر زبانوں پر توجہ مرکوز کی،پھر19 ویں صدی کے نصف تک مغرب نے اسلامی قانون اور اصولوں کو نہیں پڑھا تھا جس پر انھوں نے بعد میں زور دیا۔

یہ ڈاکٹر اکرام رانا صاحب کے پہلے مقالے میں میری نظر میں آئے اہم نکات ھیں جن کو میں نے یکجا کردیا ھے دیکھا جا سکتا ھے کہ کیسے وقت کے ساتھ ساتھ مستشرقین کا رویہ بدلتا گیا اور اسلام کے بارئے میں کئی غلط فہمیوں کی تردید خود انھیں کی صف میں موجود لوگوں نے دور کیں اور اپنے پیشروؤں کے تعصب اور غلطی کا اعتراف کیا
دوسرے مقالے میں مستشرقین کی تعریف میں ایڈورڈ سعید کا سہارا لیا ھے جس کے مطابق ہر وہ شخص جو مشرق کے بارے میں پڑھتا اور لکھتا ھے چاھیے اس کا تعلق عمرانیات سے ھو یا بشریات سے۔اس تعریف سے معلوم ھوتا ھے کہ استشراق کا ہدف صرف اسلام نہیں بلکہ پورا مشرق اور مشرقی علوم ھیں۔مگر اس کتاب میں خصوصیت سے شریعت کے بارے میں استشراق کے رویے اور تحقیق کی ھے لہذا ہم بھی اس تک اپنے آپ کو محدود رکھیں گے۔مستشرقین میں گولڈ زہیر کے بارے میں ڈاکٹر صاحب کہتے ھیں کہ اسے مغرب میں اسلامی علوم کا بانی کہا جاتا ھے ۔فقہ اور شریعت میں فرق بیان کرتے ھوئے ڈاکٹر صاحب نے لکھا ھے کہ
" شریعت کا دائرہ کار کا تعین اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے کیا فقہ کی عمارت سعی انسانی پر استوار ھوتی ھے گویا اس کا زیادہ تر انحصار قرآن وسنت کی تشریح پر ھے" (ص-44)
گولڈ زہیر جو کہ ہنگری کا یہودی تھا وہ اسلام کو خالص مذہب نہیں سمھجتا بلکہ یہ کہتا ھے کہ اسلام یہودیت سے مستعار لیا گیا ھے پھر یہ بھی تسلیم کرتا ھے کہ مدینہ منورہ کی ریاست میں آپ ﷺ نے وراثت اورجائیداد کے قانون کا نفاذ کیا جن کی روشنی میں اسلامی فقہ کی قانون سازی ممکن ھوئی۔بعد میں بنوامیہ کے دور میں پیچیدہ مسائل کے حل کے لیے عدالتی فیصلوں مین عقل و دانش کا سہارا لیا۔ اس نے یہ بھی محسوس کیا کہ یہودیت کی طرح اسلام میں بھی قرآن کے علاوہ ایک اور چیز ھے جو کہ شریعی طور پر تقدس کی حامل ھے یعنی کہ سنت۔پھر احادیت کے بارے میں گولڈ زہیر کا خیال ھے کہ اس میں بڑے پیمانے پر ردوبدل ھوا اور ہر مسلک نے اپنی تائید میں احادیث گھڑی جس کو محدثین نے بھی محسوس کای جس کے لیے انھوں نے بہت عرق ریزی سے مستند احادیث کو مشکوک سے علیحدہ کیا۔گولڈ زہیر خود بھی احادیث کا وسیع مطالعہ کا دعویٰ کرتا ھے اور کہتا ھے کہ چھ مجموعوں میں سے صرف دو مستند ھیں۔یعنی کہ وہ کچھ احادیث کی استناد کو تسلیم کرتا ھے۔اسلامی فقہ کو رومی قانون سے متاثر قرار دیتا ھے اس بات کا ڈاکٹر حمیداللہ اور ڈاکٹر محمود غازی نے جواب اپنے خطبات میں دیا ھے اور اس بات کو غلط ثابت کیا ھے کہ اسلامہ فقہ رومن لاء سے متاثر ھے لیکن میں سمھجتا ھوں کہ بالفرض فقہ رومن لاء سے مطابقت رکھتی ھے تو بھی کوئی برائی نہیں بطور قانوں کسی بھی چیز سے استفادہ کیا جا سکتا ھے جو آپ کے اپنے اصولوں کے خلاف نا ھو۔اجماع کے بارے میں گولڈ زہیر کہتا ھے کہ یہ پہلے معاشرے کا اجماع تھا بعد میں اسے فقط علماء کے کے اتفاق تک محدود کرلیا گیا۔
ایک اور اہم مستشرق جس کا ڈاکٹر صاحب نے ذکر کیا ھے میکڈونلڈ جو کہ گولڈ زہیر کا ہم عصر تھا اس نے بھئ اسلامی فقہ اور اس کی نشوو نما پر بحث کی ھے اس کے نزدیک اسلامی فقہ کا دائرہ بہت وسیع ھے۔وہ اعتراف کرتا ھے کہ آپ ﷺ انصاف پر مبی فیصلے کرتے تھے اور آپ ﷺ کی ہدایت کا منبع وحی الہی تھی اور جہاں رواجی قانون موزوں ھوتا آپ ﷺ اس کے مطابق فیصلہ فرماتے ۔میکڈونلڈ بنو امیہ کو الزام دیتا ھے کہ انھوں نے سیاسی مقاصد کے لیے احادیث گھڑیں وہ تمام کے تمام احادیث کو وضعی کہتا ھے ایسے ہی قیاس (رائے) کی دلیل حدیث معاذ رضی اللہ عنہ کو بھی وہ گھڑی ھوئی کہتا ھے ویسے وہ کہتا ھے کہ یہ رومی قانون قدرت ھے جس کو اسلام نے استحسان اور استصلاح کی اصطلاح سے یاد کیا جاتا ھے۔۔قرآن کے بارے میں اس کا خیال تھا کہ یہ آپ ﷺ کے روحانی حالات کا مجموعہ ھے۔
تیسرا اہم مستشرق گب (Gibb) ھے جس کا ڈاکٹر اکرام رانا صاحب نے ذکر کیا ھے۔یہ اسکندریہ میں پیدا ھوا تعلیم ایڈنبرا میں حاصل کی۔اس کے بعد پہلے آکسفورڈ اور پھر ہاورڈ یونیورسٹی میں پڑھاتا رہا۔یہ اسلامی تہذیب اور قانون کا مداح تھا،ساتھ یہ بھی خیال کرتا تھا کہ اسلامی قانون رومن قانون سے مستعار لیا گیا ھے مگر یہ رومی قانون سے زیادہ جاندار ھے ،قرآن کے بارے میں کہتا ھے کہ یہ آپ ﷺ کے بیس سال میں دئیے گئے خطبات کا مجموعہ ھے سنت کے بارے میں اس کا خیال تھا کہ یہ گھڑی ھوئی ھے،ظاہر بات ھے ان باتوں سے اس کی کسی صورت اتفاق نہیں کیا جا سکتا ۔اجماع علماء کو بھی وہ مسلمہ حیثیت نہیں دیتا جبکہ عوامی خواہشات کو اہمیت دیتا ھے۔وہ اجماع کو اجتہاد کا حصہ سمھجتا ھے وہ اس کا مطلب سوچ کی آزادی نہیں لیتا اس کے نزدیک اس کا معنی مخصوص صورتحال میں قرآن و سنت کی نص کی صیح معنویت کو ملحوظ خاطر رکھا جائے کہ اس سادہ اور بین سچائی سے انحراف نہ ھو۔
چوتھا مستشرق شاخت (J.Schacht) ھے جس کا مقالہ گولڈ زہیر کی طرح مغرب کے لیے گائیڈ لائن ثابت ھوا،اس کے ساتھ امریکہ میں بھی اس یہ گائیڈ لائن ثابت ھوا۔شاخت اسلامی قانون کو اسلامی سوچ کا خلاصہ کہتا ھے اسے اسلامی عملی زندگی کی ایک واضح مثال کہنے کے باوجود کہتا ھے کہ اسلامی قانون کا ماخذ قرآن نہیں بلکہ بنو امیہ میں ھونےوالے انتظامی اور مقبول فیصلوں کے ذریعہ عمل پزیر ھوا۔آپ ﷺ کے قانونی اختیار کا بھی قائل نہیں تھا کہتا تھا کہ آپ ﷺ کو صرف مذھبی اور سیاسی اختیارات حاصل تھے،یہ بات اس کی سراسر خلاف حقیقت ھے خیال ھوتا ھے کہ یہ صیحح طرح اسلام کے تصور رسالت سے واقف نہیں تھا ورنہ ایسی بے بنیاد اور لغو بات نہ کہتا۔۔قیاس،استصلاح اور استصحاب کے بارے میں کہتا اس کی بنیادیں رومن یونانی نوعیت کی ھیں۔اجماع کے بارے میں یہ کہتا ھے کہ اگر معاشرے کا ھو تو یہ بیرونی اثر سے آزاد ھوتا ھے لیکن اگر یہ علماء کے مابین ھو تو اس پر بیرونی اثر نظر آتا ھے احادیث کے بارے میں بھی اس کی رائے باقی مستشرقین سے ملتی ھے کہ ان کو مستند ماننا مشکل نظر آتا ھے۔شاخت کے اس نظریے کو بعد میں پاورز (Powers) اور کولسن (Coulson) نے مسترد کر دیا کہ قرآن اور اسلامی قانون کی ساخت میں عدم تسلسل ملتا ھے۔
ڈاکٹر صاحب کہتے ھیں کہ گب اور میکڈونلڈ سنت کے تاتر کو تو مانتے ھیں مگر اس میں وضع اور تضاد کے سختی سے قائل ھے انھوں نے خود اس موضوع پر کام نہیں کیا بلکہ اپنے ہمعصر لوگوں کے خیالات اپنا لیے اور میکڈونلد نے تو واضح طور پر گولڈ زہیر کے خیالات اپنا لیے کہ بنو امیہ نے حدیث میں جعلسازی کی۔ان چاروں مستشرقین کا خیال تھا کہ اسلامی قانون پر رومن لاء کے اثرات ھیں اور یہ ان سے مستعار لیا گیا ھے جبکہ ایک اور مستشرق فٹزجیرالڈ (Fitzgerald) نے ان کی تردید کی اور کہا کہ مغرب کے رومن لاء کے لیے یہ ممکن نہ تھا کہ وہ اسلامی قانون کی تشکیل میں کوئی اثر ڈالے۔محسوس ھوتا ھے کہ وقت کے ساتھ جیسے جیسے علم اور تحقیق میں اضافہ ھوتا رہا مستشرقین کے تعصب کا جذبہ بھی مانند پڑتا گیا اور ان میں حقیقت پسندی کا رجحان بڑھتا رہا۔
امریکہ میں اصول فقہ کا تعارف دو ذرائع سے ھوا ایک مشرق قریب کے لوگوں سے جیسے کہ فلپ کے ہیٹی،فرحت جے زیدہ اور جارج مکدیسی دوسری یورپی متشرقین جیسے کہ گولڈ زہیر،میکڈونلڈ،گب اور شاخت وغیرہ۔ فلپ کے ہیٹی پرنسٹن یونیورسٹی ،یں سامی ادبیات کا تاحیات پروفیسر رہا مغرب میں اس کی شہرت ماہر اسلامیات رہی ھے یہ اسلام کی بابت اس حد تک متعصب اور جانبدار یا پھر لاعلم تھا کہ قرآن پاک اس کے مطابق عیسائیت،یہودیت اور بت پرست عرب کلچر سے تشکیل پایا (العیاذ باللہ)،سنت اور اجماع کو اسلامی قانون کا دوسرا اور تیسرا ماخذ گوکہ یہ تسلیم کرتا ھے مگر ساتھ یہ بھی کہتا ھے کہ یہ اختراعی ھیں تاکہ عبادات کی شدت کو کم کیا جا سکے وہ یہ بھی تسلیم کرتا ھے کہ بعض احادیث کی تعلیمات اور معجزات جو آپ ﷺ سے منسوب ھیں بلکل وہی ھیں جو سیدنا عیسیٰ علیہ السلام سے منسوب کیے جاتے ھیں۔فرحت جے زیدہ پرنسٹن یونیورسٹی میں ہیٹی کے ماتحت عربی معلم تھا،وہ ماہر قانون اور ماہر گرائمر بھی تھا اس نے اسلامی قانون کا مطالعہ کیا اور اس پر لکھا۔اس نے مثالوں سے ثابت کیا کہ "عرف" فقہ کے ابتدائی فیصلوں پر اثرانداز ھوا شریعت اسلامیہ کا دیگر نظام پر غالب آنے کے بارے میں وہ تحفظات رکھتا تھا۔جان میکدیسی بھی ایک اہم شخصیت ھے جس نے مسلم قانونی نظام کا تفصیلی مطالعہ کیا اس نے پینسلوانیا یونیورسٹی میں پڑھایا اس کے مطابق مسلم ییومنزم اور علم کلام کے اوپر یونانی فلسفے کا اثر ھے۔اصول فقہ کی اصطلاح کے بارے میں یہ کہتا ھے کہ اس کے ہر دور میں وہ معنی نہیں تھے جو بعد میں اس سے منسوب ھوئے،دسویں صدی میں اس بات کی شہادت ملتی ھے کہ اس کا معنی و مفہوم اس طرح کیا گیا کہ نہ صرف مادی مسائل کے علم کی وضاحت کرے بلکہ سنجیدہ اور اہم قانونی معاملات کی شرح بھی اس کے مفہوم میں شامل کرلی گئی۔مغربی علماء میں ہرگرونجے کی اہمیت گولڈ زہیر سے کم نہیں ہرگرونجے کو ہالینڈ میں اسلام کے قانونی مطالعہ کا بانی کہا جاتا ھےاس کی زندگی کا بیشتر حصہ انڈونیشیا میں سامراجی آبادکار کے طور پر گزرا۔اس کے نزدیک قرآن محض خدا کا کلام ھے البتہ سنت اس کی نزدیک الہامی نہیں یہ بعد میں پروان چڑھی،اجماع کو یہ قانونی ڈھانچے کے لیے اہم کہتا ھے،یہ کہتا ھے کہ اجتہاد کا عملی طور پر بند نہیں ھوا کیونکہ کئی علماء نے اندھی تقلید کی مخالفت کی۔ایک اور مستشرق اینڈرسن کے مطابق اسلامی قانون الہامی اور غیر متبدل سمجھا جاتا ھے تاہم وہ یہ بھی دعوی کرتا ھے کہ اسلامی قانون اپنی روح کے لحاط سے سخت بے لچک ھے۔اس کے بعد ڈاکٹر صاحب نے کولسن کا ذکر کیا ھے جس نے شکاگو یونیورسٹی میں فکر اسلامی پر خطبات دئیے اس نے کہا کہ اسلامی قانون معاشرے سے دور اور تخیلات پر مبنی ھے،اسے مغربی قانون اور اسلامی قانون کے فرق کا پتہ تھا مغربی قانون معاشرے کے تابع ھے جبکہ اسلامی قانون کا مقصد معاشرے کو کنٹرول کرنا ھوتا ھے۔امریکہ میں اسلامی قانون سے دلچسپی 1948 میں پیدا ھوئی اس کی ضرورت معاشی تعلقات کی وجہ سے پیش آئی۔ایک اہم شخصیت چالس کٹلر ٹوری کی ھے اس نے تھیوڈور نولڈیکے سے تعلیم و تربیت حاصل کی۔یہ کہتا ھے کہ اسلامی قانون یہودی کتب سے اخذ کیا گیا ھے مگر یہ اپنے اس دعوی کی مثالیں دینے سے قاصر رہا بعد میں یہ عرب جاہلیت سے مثالیں تلاش کرنے لگا مگر یہ اسلامی قانون پر مسیحی اثرات کا انکار کرتا ھے کہتا ھے کہ آپ ﷺ عیسائیوں کے بارے میں بہت کم جانتے تھے اور ایسا ہی معاملہ عیسائی کتب کے بارے میں تھا۔اس کے بعد ڈاکٹر صاحب نے ڈیوڈ ایس پاورز کو امریکی دانشوروں میں نمایاں حیثت کا حامل بتایا ھے جس کو قرآن اور حدیث میں دلچسپی تھی،اس نے کہا کہ مسلم معاشرے کے پاس بہت سی قرآنی آیات اور احادیث اصل حالت میں نہیں اور ایسے ہی بہت سی آیات و احادیث کے صیحح مفہوم سے نا آشنا ھے،اس نے کہا کہ کچھ لوگوں نے قابل اعتراض آیات کی اہمیت کو کم کرنے کی کوشش میں قرآن کے متن میں تبدیلیاں کردیں (العیاذباللہ)یہ یقینا اسلام کے قانون ناسخ و منسوخ سے ناواقف تھا ورنہ ایسی بے بنیاد اور بے تکی رائے ہرگز قائم نہ کرتا۔۔ڈیوڈ فورٹ نے شاخت کی حمایت جبکہ کولسن کے نظریہ کی مخالفت کی اس نے کہا کہ زمانہ قبل اسلام کا عربی قانون وہ لوح ھے جس پر قرآن نے زیادہ ترقی یافتہ اخلاقی اور قانونی اصول تحریر کیے۔آگے ڈاکٹر صاحب نے ایک اور شخصیت ڈینی کا ذکر کرتے ھیں کہ وہ مستشرقین کے ناقص فہم سے واقف تھا اس لے اس نے اعتراف کیا کہ قرآن معتبر اور آپ ﷺ کے منہ سے ادا شدہ ھے قرآن تاریخی ریکارڈ یا خود نوشت نہیں ھے۔اس کا یہ اعتراف حق لائق تحسین ھے لیکن ڈاکٹر صاحب کہتے ھیں کہ ڈینی کی علوم اسلامیہ پر کتب انڈر گریجوٹ طلباء کے لیے لکھی گئی تھیں۔اسلامی فقہ پر وائس کا کام بھی مغربی زبان میں ھونے والا سب سے جامع کام کام ھے وہ امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ کو اسلام کی نظریاتی فقہ کی سب سے بڑی ہستی تسلیم کرتا ھے۔اس کے خیال میں شریعت کے ذریعہ ہی انسان کو دانش حاصل ھوتی ھے حنفی فقہاء کی فہرست میں الشاشی،الکرخی،ابوبکر الحصاص اور بزدوی رحمہم اللہ علیہم کو بیان کرتا ھے اور بزدوی کے کام کو آنے والی نسلوں کے لیے معیار قرار دیتا ھے اس سے ڈاکٹر اکرم اس سے یہ نتیجہ نکالتے ھیں کہ اس نے امام حصاص کا مطالعہ نہیں کیا اس میں وائس کا اپنا قصور نہیں بلکہ اس نے فقہ کی نظری روایت کا مطالعہ علامہ آمدی کو مد نظر رکھ کر کیا۔وائس نے امام غزالی کے نظریہ تواتر پر بھی گفتگو کی ھے آخر میں اعتراف کرتا ھے اسلامی وحی کی بنیاد ناقابل تسخیر ھے۔ایک اور مصنفہ جینٹ ویکن نے امام ابن قدامہ حنبلی کی کتاب کے ترجمے پر کام کیا ھے اور بتاتی ھے کہ کس طرح کوئی خدائی حکم فرض،واجب،مستحب یا مندوب کا درجہ حاصل کرتا ھے۔اس مقالے کے آخر میں خلاصہ بحث میں ڈاکٹر صاحب یہ نتیجہ نکالتے ھیں کہ مغربی علماء اس نظریے کے حامی ھیں کہ اسلامی قانون خارجی عناصر سے متاثر ھے وہ قرآن کو الہامی تسلیم کرنے کو تیار ھیں مگرحدیث کو نہیں ،اجماع سے مراد وہ معاشرے کا اجماع مراد لیتے ھیں نا کہ علماء اسلام کا۔
ان دونوں مستشرقین کا شمار ان چند سکالرز میں ھوتا ھے جنہوں نے فقہ اسلامی پر کام کیا ھے،فقہ اسلامی سے مستشرقین کی دلچسپی کی وجہ اس ضابطہ حیات ھونا ھے جو کہ پیدائش سے مرنے تک راہنمائی کرتی ھے۔جیمز کولسن لندن یونیورسٹی میں مشرقی قوانین کا پروفیسر تھا،وہ شہری قانون میں مہارت رکھتا تھا،اس کی کتابیں اور مقالات تقابلی مطالعے میں ڈوبے ھوئے ھیں۔ااس کی تحریروں میں مذہبی تعصب اور اسلام دشمنی دیگر مستشرقین کے مقابلے میں کم نظر آتی ھے۔وہ اسلامی قانون کا مطالعہ ایک زندہ قانونی نظام کے طور پر کرتا ھے،اس نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ آپ ﷺ کے وصال کے بعد جب وحی کا سلسلہ رک گیا تو اسلامی شریعت جس اعلیٰ معیار تک پہنچ گئی تھی وہ قائم رہی اس میں تغیر و تبدل کی گنجائش نہ تھی۔اسلامی قانون سازی کے دائرے میں قرآن کریم کے کردار کے بارے میں لکھتا ھے کہ یہ اسلامی اخلاق کے اصولوں کی تعبیر و ترجمانی کے سوا کچھ نہیں،وہاں وہ یہ بھی تسلیم کرتا ھے کہ اسلامی قانون ان قواعد کا مجموعہ ھےجو اللہ کی طرف سے وحی کردہ ھیں،ڈاکٹر اکرم صاحب کے نزدیکقرآن کریم کے قانون سازی میں کردار کے بارے اس کے نتائج تضاد کا شکار تھے۔
آحادیث کے میدان میں کولسن کا موقف کافی دلچسپ ھے وہ کہتا ھے کہ آپ ﷺ کو مدینہ میں حکومت کے دوران بہت سے قانونی مسائل کا سامنا کرنا پڑا خصوصا ایسے مسائل جن کو قرآنی احکام کی روح چھیڑتی ھے یعنی کے وحی کے امین اور قرآن کے عام اور مجمل نصوص کی تفسیر کرنے والے کی حیثیت سے،پھر کہتا ھے کہ دوسری صدی ہجری میں سنت سے مراد فقہی آراء کے وہ مجموعے مراد ھوتے جو کسی خاصی فقہی مکتب کے علماء کا اتفاق ھوتا تھا۔وہ آحادیث کے وضعی ھونے کا قائل تھا کہ محدثین نے اپنے مسلک کی تائید میں انھیں گھڑا،لیکن اس کو اپنے دعوی کی کمزوری کا احساس ھو جاتا ھے اور وہ تسلیم کرتا ھے احکام کے متعلق احادیث کا ایک حصہ تو ان افعال و کلمات کی اصل کے عین مطابق ھے جو آپ ﷺ سے صادر ھوئے،مگر اس محفوظ حصہ کو گھڑے ھوئے اقوال کے مرکب نے ڈفانک دیا تھا۔ڈاکٹر اکرم رانا صاحب کہتے ھیں کہ کولسن کے نظریات اکابر مستشرقین سے انوکھے تو نہیں مگر قرآن و حدیث کے کئی پہلووں پر وہ نئی توجیہات کا اظہار ضرور کرتا ھے۔
پرقفیسر اینڈرسن قانون شہادت پر بین الاقوامی شہرت کا حامل سکالر تھا،اسلامی قانون پر مغرب میں اسے اتھارٹی تسلیم کیا جاتا ھے،وہ کہتا ھے کہ اسلامی قانون کی فطرت کو سمجھنا بہت ضروری ھےجو کہ مغربی قانون سے مختلف ھے،مغربی قانون کی بنیاد مذہب پر نہیں جبکہ اسلامی قانون کی بنیاد مذہب پر ھے۔اینڈرسن کے نزدیک یورپی قانون رومن لاء سے اخذ ھوا ھے جس کو وقت کے ساتھ ڈھالا جا سکتا ھے،جنکہ مسلمانوں کے سامنے فیصلہ کرنے سے پہلے برائی اور اچھائی رکھ دی گئی ھے جس سے وہ اپنے پسند سے محروم کردئیے گئے ھیں۔۔پھر ان دونوں قوانین میں
دوسرا بڑا فرق یہ ھے کہ مغربی قانون چیزوں کو عارضی طور پر پرکھنے کے لیے ھے،یہ مسائل کا عارضی حل نکالتا ھے ،جب کہ اسلامی قانون میں جاھے وہ عبادات ھوں یا معاملات ان میں انسانی زندگی کا ہر پہلو موجود ھے،اس کے نزدیک اسلامی قانون،قانون کم اور فرائض کا مجموعہ زیادہ ھے۔
تیسرا بڑا فرق مغربی قانون آہستہ آہستہ وجود میں آیا اس قانون نے رسم و رواج سے جنم لیا جبکہ اسلامی قانون خدا کی طرف سے نافذ کیا گیا اس میں انسان کا کوئی عمل دخل نہیں۔
ایںڈرسن کے بیان کردہ فرق بہت واضح ھے مگر حیرت ھے مغرب کے ان لوگوں پر جو اتنے بنیادی فرق کے باوجود فقہ اسلامی کو رومن لاء سے ماخوذ مانتے ھیں۔ اینڈرسن اسلامی قانون کو جدید دور کے تناظر میں ذکر کرتے ھوئے کہتا ھے مسلمانوں کی بیویوں کے پاس شادی ختم کرنے کا کوئی قانونی طریقہ نہیں ھے یہ حق صرف مرد کے پاس ھے،جب شوہر کو کوئی بیماری یا پاگل پن وغیرہ ھو تو بیوی آزاد ھو سکتی ھے ورنہ نہیں۔1915 میں مالکی فقہاء سے استفادہ کرتے ھویے قانون سازی کی گئی اور بیویوں کو طلاق کا حق دیا گیا جبکہ حنفی فقہاء اس کے مخالف ھیں۔
ڈاکٹر اکرم ایک اسلامی قانون کی بابت بہت عمدہ بات کرتے ھیں کہ اس کے مزاج میں بیک وقت دو متضاد خصوصیات پائی جاتی ھیں ایک طرف یہ غیر متغیر اور ثابت شدہ قانون ھے زمان و مکان یا انسانی معاشرے کی کوئی تبدیلی اس پر اثر انداز نہیں ھوتی لیکن زندگی کے بدلتے حالات کی تنظیم کے لیے یہ اپنے اندر کافی لچک اور وسعت بھی رکھتا ھے ۔انسانی زندگی کا سب سے بڑا مسلہ کھانے پینے کا ھے اسلام نے اس میں بہت دخل دیا ھے مگر اس دخل کی نوعیت بھی جدا ھے،اسلام نے چند حرام اشیاء متعین کردیں ھے اس کے علاوہ سب حلال ھیں،جب تک کہ ان کی حرمت نص سے ثابت نا ھوجائے۔ایسے ہی سیاسی زندگی کی بابت اسلام بنیادی اصول طے کردیتا ھے کہ حاکمیت رب کریم کو حاصل ھوگی،قانون کا ماخذ شریعت ھوگی اور کاروبار حکومت چلانے والے اہل تقوی اور امین ھوں،جہاں شریعت الہی کی کوئی واضح ہدایت موجود نا ھوں وہاں سارے معاملات شوری کے ذریعے طے کئے جائیں۔۔
ایک مستشرق جان برٹن جو کہ برطانیہ کی ایک یونیورسٹی کا پروفیسر تھا،اس نے قرآن کی تدوین اور حفاظت پر ایک کتاب لکھی وہ بہت زیرک اور چالاک انسان تھا،اس نے اپنے کام کو جوزف شاخت کے کام کا تسلسل بتایا حالانکہ شاخت کا کام حدیث پر اور اس کا کام قرآن کے اوپر تھا۔اس نے قرآن کریم کی ناسخ و منسوخ کے نظریے کو بنیاد بنایا اور کہا کہ قرآن کریم کی تدوین میں مصحف میں کچھ آیات جمع ھونے سے رہ گئی۔اس نے نسخ القرآن کی تین اقسام بیان کی ھے
1. نسخ الحکم دون التلاوۃ: یعنی قرآن کریم میں کچھ آیات ایسی نازل ھوئی ھیں جن کا حکم منسوخ ھیں مگر تلاوت باقی ھے۔ یہاں پر ایک بات ڈاکٹر اکرم رانا صاحب نے شاہ ولی اللہ کی الفوذ الکبیر کے حوالے سے لکھی ھے کہ بعض مفسرین کے نزدیک آیات منسوخہ کی تعداد 500 ھے جبکہ ڈاکٹر صاحب کی اپنی تحقیق کے مطابق آیات منسوخہ کی تعداد 5 ھے۔500 آیات والی بات ویسے درست معلوم نہیں ھوتی ممکن ھے الفوذ الکبیر میں یہ بات الحاقی ھو۔
2. دوسری قسم "نسخ التلاوۃ دون الحکم" اس سے مراد ایسی آیت جس کی تلاوت منسوخ ھے مگر حکم باقی ھے جیسے کہ رجم کے بارے میں آیات
3. نسخ الحکم و التلاوۃ : وہ آیات جن کی تلاوت اور احکام دونوں منسوخ ھے۔ایسی آیات کا تعین کرنا بھی مشکل ھے اس لیے ڈاکٹر اکرم رانا نے اس کی تفصیل نہیں بتائی۔
قرآن کی قرات کے اختلاف پر آسٹریلوی مستشرق آرتھر جیفری نے کام کیا جس کا جائزہ ڈاکٹر اکرم چوہدری صاحب نے لیا ھے،وہ لکھتے ھیں کہ جیفری کو اچھی طرح معلوم تھا کہ اسلام قرآن کے بغیر قطعی طور پر زندہ نہیں رہ سکتا،اس کے برعکس عیسائیت بائیبل کے بغیر زندہ رہ سکتی ھے۔شاید اس وجہ سے اس نے قرآن کی قرات کے اختلاف پر خصوصی طور پر کام کیا۔
آخری مضمون اساعیل ابراہیم نواب صاحب کا ھے۔جس میں استشراق کی تاریخ کا جائزہ لیا ھے،وہ لکھتے ھیں کہ 16ویں صدی میں چرچ کی داخلی لڑائی پر فریقین اپنے خبث باطن کی وجہ سے اسلام کو بیچ میں گھسیٹ لائے۔17 ویں صدی میں Henry Stubbe جیسے چند اہل علم نے جرات کا مظاہرہ کیا،انھوں نے اسلام اور آپ ﷺ کے بارے میں بے لاگ تحریریں رقم کیں مگر وہ ان کو شائع کرنے کی ہمت نہیں کرسکے خود Stubbe کی تصنیفات 20ویں صدی سے پہلے منظر عام پر نہ آسکیں۔روشن خیالی نے مغرب میں بے شمار لوگوں کو مذھبی تعصب توڑنے پر آمادہ کیا اور انھوں نے اسلام اور آپ ﷺ بارے میں معروضیت اور احترام کے ساتھ مطالعے کا آغاز کیا،ایسے میں کچھ لوگ ایسے میں تھے جو محض اہل کلیسا کو چڑانے کے لیے اسلام اور آپ ﷺ کی تعریف کرتےتھے۔پھر کچھ مستشرقین اسلام کے مطالعے کی وجہ سے مسلمان بھی ھویے جیسے کہ مارٹن لنگس،تھامس ارونگ وغیرہ۔ کئی مستشرقین نے مسلم عیسائیت تعلقات خراب کرنے میں پورا کردار ادا کیا اور اپنے تخریبی مواد سے اس خلیج کو مذید وسیع کیا۔مگر مغرب میں بھی سنجیدہ اور مخلص لوگ موجود ھیں جن میں سب سے بڑی مثال Karen Armstrong ھے جو کہ ایک صاف ذھن اور صاحب مطالعہ شخصیت ھیں۔مستشرقین اسلام یا آپ ﷺ کے بارے میں کوئی بھی رائے اپنے ثقافتی،مذھبی اور تاریخی پس منظر کے تحت لکھتے ھیں اس لیے اس کا ذھن میں ھونا بہت ضروری ھے۔
استشراق کے ابتدائی مطالعے کے لیے یہ کتاب کافی معاون ھے،اگر کوئی شخص استشراق پر معلومات حاصل کرنا چاھے تو یہ کتاب کافی معاون ثابت ھوسکتی ھے حالانکہ اس میں صرف ایک پہلو "شریعت" کے بارے میں ھے لیکن مجھے اس سے کافی معلومات ملیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *