تجاہل عارفانہ 

ڈاکٹرعثمان غنی

Dr. usman ghani

اصلاح کی ابتداء اپنے گریباں سے ہوتی ہے ،جب گریباں کا خیال ذہن میں آجائے تو پھر اس میں جھانکنا آسان ہو جاتا ہے ،اپنا گھر ہمیشہ خشت اول ثابت ہوتا ہے محلے کی باری بعد میں آتی ہے ،خود کو بطو ر مثال پیش کرنا وقت کی سب سے بڑی مثال ہوتی ہے،نبی کریم ﷺ کی زندگی ہمارے لیے سب سے افضل مثال ہے ، ضرورت ایسے حالات پیدا کرنے کی ہے جہاں ہر ممکن طور پر قانون کی حکمرانی (Rule of Law)کو یقینی بنایا جا سکے ،جہلم سے تعلق رکھنے والے صاحب اسلوب شاعر سید انصر نے کس خوبصورتی سے معاشرتی منظر کشی کی ہے
توخلوتوں میں انہیں دیکھ لے ،تو ڈر جائے
یہ جتنے لوگ یہاں پارسا بنے ہوئے ہیں
موجودہ دور میڈیا کا دور ہے ،پرنٹ میڈیا کو ، انگریزی والی میڈیا کی پہلی ڈگری گردانا جا سکتا ہے پرنٹ میڈیا کی اہمیت ہر دور میں مسلمہ رہی ہے ،صحافی کو اپنی جان پر کھیل کر سٹوری فائل کرنی پڑتی ہے ،اس کی پاداش میں ’’یار‘‘لوگوں کی طرف سے قید و بند کی صعوبتوں کو صحافیوں کو اپنے ماتھے کا جھومربنانا پڑتا ہے ریٹنگ کے زعم میں مبتلاہمارا خبطی الیکٹرانک میڈیا کا تعلق میڈیا کی دوسری ڈگری سے ہے جتنی ریٹنگ زیادہ ہو گی ملٹی نیشنل کمپنیوں کے اشہارات کی بھر مار بھی اتنی زیادہ ہو گی درآں حالیکہ ریٹنگ کا چکر آگے نکل چکا ہے اور صحافت کی اخلاقی قدریں کسی تاریک گلی میں مقید ہیں ،میڈیا کی تیسری اور قطعی ڈگری سوشل میڈیا ہے جس تک موجودہ دور میں رسائی ہرکس و ناکس کی ہے آپ کسی بھی وقت اس کی فیوض و برکات سے مستفید ہو سکتے ہیں ،اس کو زیر دام لانے کے لیے استعمال کرنے والے کا زیادہ پڑھا لکھا ہونا بھی درکار نہیں اظہار رائے کی آزادی کا کھلم کھلا اظہار یہاں دن کے چوبیس گھنٹوں میں جاری رہتا ہے وقت کی کسی بھی گھڑی اپنی من مر ضی کے سٹیٹس اپ لوڈ کیے جا سکتے ہیں تصویر یں شیئر کی جا سکتی ہیں ،مختلف انواع کی ویڈیو ساری دنیا میں پھیلائی جا سکتی ہیں اپنے جاننے والوں کی خیر وعافیت بہت آسانی سے معلوم کی جا سکتی ہے مزید براں چند سیکنڈوں کے اندر انہیں اپنا حال دل سنایا جا سکتا ہے ۔بلکہ کچھ نہ جاننے والوں کو اگر کوئی دل کی بات پہنچانا مقصود ہو تو یہ بھی قطعاً کوئی مشکل کام نہیں ،اظہار رائے کی آزادی کا دامن یہاں نہایت و سیع و عریض ہے’’ تو گویا بھی میرے دل ہے ‘‘کے مصداق آپ کسی جھجک کے بغیر ،سوشل میڈیا کی سہولت سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں بعض اوقات لوگ طنع تشنیع والے کرخت جملوں کا سہارا لیتے ہیں وجہ یہ کہ کوٹ آف کنیٹمٹ کی لاٹھی کا برسنا یہاں شاذ ہی دیکھا گیا ہے اور شاید آپ کی روز مرہ کی دانائی سے فیض یاب ہونے والا آپ کو جانتا بھی نہ ہو مگر یہ ’’پیغام محبت ‘‘تو سب تک کسی نہ کسی صورت میں پہنچ رہا ہوتا ہے اس صدی میں لوگوں کے لیے بہر حال کئی انواع کی آسانیاں پیدا ہو چکی ہیں ،سوشل میڈیا کے ذریعے آپ کسی کو بھی چند لمحوں میں مسند شہرت پر فائز کر سکتے ہیں اسی طرح سوشل میڈیا کی Appsکا استعمال مسند شہرت پربٹھانے کے متضاد کے طور پر بھی ہوتا ہے ،بات اپنے اپنے زبان کے ذائقہ کی ہے، اگر عزت اور ذلت کی ذمہ داری اس ذات نے اپنے پاس نہ رکھی ہوتی تو ناجانے کتنی قیامتوں سے روزانہ گزرنا پڑتا، ابھی رمضان کے ابتدائی دنوں کی بات ہے جب سوشل میڈیا پر فروٹ مافیا کی کمر توڑ مہنگائی کے خلاف تین روز ہ کمپین نہایت کامیاب رہی ،معاملہ عبادات میں خشوع و خضوع پر توجہ دینے کا ہو یا اشیاء خور دونوش کی قیمتیں بڑھانے کا رمضان کے مقدس مہینے میں یہ دونوں چیزیں اپنے بام عروج پر پہنچ جاتی ہیں ۔آج سوشل میڈیا اپنے مثبت پہلوؤں کے لحاظ سے سب سے آگے نظر آتا ہے ای ٹیکنالوجی (E-Technology)نے کاروباری بندش کی کئی گرہیں کھول دی ہیں ،آپ گھر بیٹھے بٹھائے اپنا کاروبار چمکا سکتے ہیں،ترقی یافتہ ممالک میں E-Governmentکی حکمرانی ہے ،ہم مگر ایسے کاموں سے کوسوں دور رہنے میں ہی عافیت محسوس کرتے ہیں ،سیاسی جماعتیں بھی سوشل میڈیا کے استعمال میں کسی سے پیچھے نہیں ہر پارٹی کے میڈیا سیل عقابی نگاہوں سے حالات و اوقات کا جائزہ لے رہے ہوتے ہیں ن لیگ کا میڈیل سیل زیادہ توجہ کا محور بنا رہتا ہے البتہ پی ٹی آئی کے ٹائیگرز بھی کسی سے پیچھے نہیں ،سوشل میڈیا کا پلیٹ فارم اب کالعدم جماعتیں اور تنظیمیں بھی پوری دیدہ دلیری کے ساتھ استعمال کر رہی ہیں یاد رہے کہ حکومت نے 64 مشتبہ تنظیموں اور جماعتوں کو کالعدم قرار دیا تھا مگر ان میں سے 40سے زائد تنظیمیں سوشل میڈیا پر اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہیں APSکے اندوہناک سانحہ کے بعد وقت کی تمام سول اور ملٹری قیادت نے بیس نکاتی نیشنل الیکشن پلان پرمکمل عمل درآمد کے لیے اتفاق کیا تھا جس میں بیس میں سے کم و بیش چار نکات انتہا پسندی ،فرقہ واریت ، دہشتگردی اور اس کے سہولت کاروں کے قلع قمع کی نوید سناتے ہیں ایسا بدقسمتی سے قطعی طور پرنہیں ہو سکا ،آپریشن ضرب عضب کے بعد آپریشن رد الفساد جاری ہے ،دہشت گردوں اور ان کے سہولت کار وں کی کمر توڑ ی جا چکی ہے اس کا واضح ثبوت دہشت گردوں کی ماضی میں کی جانے والی کاروائیوں سے کیا جا سکتا ہے بیس نکاتی نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کے لیے بہر حال مزید گنجائش موجود ہے کراچی اور کوئٹہ میں یہ نیٹ ورک سب سے زیادہ متحرک بتایا گیا ہے جس سے اندازہ لگانا قطعاً مشکل نہیں کہ ملک دشمن عناصر اب بھی چیونٹیوں کی طرح رینگ رہے ہیں ،کراچی کے امن و امان کا بوجھ رینجرز کے کندھوں پر ہے اور کوئٹہ کی حالت بھی اس سے مختلف نہیں ،شہری امن کو سپاہ کے رول سے مستقل بنیادوں پر مشروط نہیں کیا جا سکتا ان کی اپنی پروفیشنل ذمہ داریاں ہیں ،کہنا صرف یہ تھاکہ خدمت گاروں کا اب کی بار تجاہل عارفانہ کوئی نئی بات نہیں ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *